اورنگزیب سے قتیل شفائی تک

تحریر: مدثر زیب

وہ ایک پرُ عزم انسان تھے، عشق کرنے، دوستی نبھانے، دشمنی پالنے اور دشمنی کو آخری حدوں تک اچھالنے میں اُنہوں نے ہر کام پوری دلجمعی سے کیا، قدرت کی ستم ظریفی یا اُن کی اپنی بے چارگی دیکھیں کہ وہ اپنی داستان حیات کو مکمل نہ کر سکے، وہ داستان کا مرکز و محور رہے، داستان سرا رہے اور شعروں کو داستانوں میں سموتے رہے، ایک عزم، حوصلے اور جینے کی لگن کے ساتھ جیتے رہے، وہ عاشق وارفتہ تھے مگر دامن صاف اور گریباں سلامت تھا ہاں! دوسروں کی محرومیوں کے چاک سیتے رہے

24 دسمبر 1919ء معروف شاعر قتیل شفائی کا یوم پیدائش ہے۔ خیبر پختونخوا (تب کے صوبہ سرحد) کے ضلع ہری پور ہزارہ میں پیدا ہوئے۔ ابتدائی تعلیم گورنمنٹ ہائی سکول ہری پور ہزارہ سے حاصل کی۔ اُن کی شادی 1936 ء میں ہوئی جس سے اُن کے تین بیٹے پرویز، تنویر اور نوید اور دو بیٹیاں مسرت اور ثمینہ پیدا ہوئیں۔ قتیل شفائی ہندکووان گھرانے سے تعلق رکھتے تھے۔ ماں باپ نے ان کا نام اورنگزیب رکھا تھا۔

وہ ایک پرُ عزم انسان تھے۔ عشق کرنے، دوستی نبھانے، دشمنی پالنے اور دشمنی کو آخری حدوں تک اچھالنے میں اُنہوں نے ہر کام پوری دلجمعی سے کیا۔ قدرت کی ستم ظریفی یا اُن کی اپنی بے چارگی دیکھیں کہ وہ اپنی داستان حیات کو مکمل نہ کر سکے۔ وہ داستان کا مرکز و محور رہے، داستان سرا رہے اور شعروں کو داستانوں میں سموتے رہے۔ ایک عزم، حوصلے اور جینے کی لگن کے ساتھ جیتے رہے۔ وہ عاشق وارفتہ تھے مگر دامن صاف اور گریباں سلامت تھا ہاں! دوسروں کی محرومیوں کے چاک سیتے رہے۔ وہ خود بھی شاعری کے محبوب رہے اور تمام تر بانکپن کے ساتھ خوب خوب رہے۔ ان کی شاعری اپنے وطن تو کیا غیرملک بھارت میں نصاب کا حصہ بنی۔ ان کی سحر انگیز شخصیت فلموں کا قصہ بنی، اس پر یونیورسٹیوں میں تھیسسز لکھے گئے، رسائل نے خاص نمبر شائع کئے اور مداحوں نے کتابیں تحریر کیں۔ نہایت منظم، مرتب، بااصول اور سلیقے سے زندگی گزارنے والے کو کہیں تو ادھورا ہونا تھا۔ بہت کچھ پا کے کہیں تو کچھ نا کچھ کھونا تھا۔ سو جب اپنی آپ بیتی کہنے اور گزرے برسوں، بیتے لمحوں اور کھٹی میٹھی یادوں کے ساتھ بہنے کا وقت آیا تو کہیں اور الجھ گئے۔ اور یوں یہ کتھا نامکمل رہی اور ان کی زندگی کا سفر مکمل ہو گیا۔ گویا۔۔” ہم ہی سو گئے داستاں کہتے کہتے”

یہ ذکر قتیل شفائی کا ہے جنہیں اپنے سینئرز کا ساتھ دینے اور اپنے جونیئرز کو ساتھ لے کر چلنے کا کمال بھی حاصل تھا۔ وہ اپنی یہ کہانی مندرجہ ذیل الفاظ میں کچھ اس طرح بیان کرتے ہیں۔

”میں نے جس ماحول میں آنکھ کھولی وہ اس لحاظ سے قطعاً غیرادبی اور غیرعلمی تھا کہ اس ماحول سے وابستہ لوگ، جن میں میرا اپنا خاندان بھی شامل تھا، پیسے کے پیچھے بھاگ رہے تھے اور انہیں اس چیز کا قطعاً احساس نہیں تھا کہ علم بھی زندگی کے لیے ضروری ہے اور علم سے آگے بڑھنے والا ایک راستہ ادب بھی ہوتا ہے۔ یہ اس زمانے کی بات ہے جب انگریز کا پرچم اپنی پوری شان کے ساتھ فضا میں لہرا رہا تھا اور لوگوں کو غیرملکی غلاموں کے ماحول میں اور فکر کم ہوتی تھی پیسہ کمانے کی فکر زیادہ ہوتی تھی یا پھر سرکاری دربار میں رسائی حاصل کرنے کے مواقع تلاش کرنا ان کا مطمح نظر ہوتا تھا۔ میرے خاندان کا المیہ یہ تھا کہ ہر شخص تقریباً لکھ پتی تھا لیکن تعلیم نہ ہونے کی وجہ سے ان میں سے کوئی سرکاری دربار میں اوپر تک تو نہیں پہنچ سکا مگر ان پڑھ ہونے کے باوجود مقامی میونسپلٹی کی پریذیڈنٹ شپ تک ان لوگوں میں سے گئے۔ جب میں پیدا ہوا تو اس وقت مجھ سے پہلے گھر میں کوئی اولاد نہ تھی۔ معاملہ یہ تھا کہ میرے باپ نے جب پہلی شادی کی تو کافی عرصہ تک کوئی اولاد نہ ہوئی۔ خاندان کے اور گھریلو مشورے سے انہیں مجبوراً دوسری شادی کرنی پڑی جس سے 24 دسمبر 1919ء کو میں اپنے آبائی ہری پور ہزارہ میں پیدا ہوا۔ میری پیدائش پر بہت جشن منایا گیا۔ میری تولید کے تین سال بعد میری بہن پیدا ہوئی اور خدا کا کرنا یہ ہوا کہ اسی دوران پہلی ماں سے بھی بچہ پیدا ہو گیا اور وہ ہمارے گھر میں آخری بچہ تھا۔ گویا ایک ماں سے دو اولادیں ہوئیں اور دوسری سے ایک جن کی کل تعداد تین بنتی ہے۔ میرے والد کی دو شادیوں میں کوئی معاملہ معاشقے، آوارہ گردی یا عیاشی کا نہیں تھا بلکہ ایک ضرورت کے تحت میرے والد نے دو شادیاں کی تھیں۔ اس لئے گھریلو ماحول پرسکون رہا اور دونوں مائیں ایک دوسرے کا احترام کرتی تھیں اور ایک دوسرے کے بچوں سے پیار کرتی تھیں۔ اس کے باوجود ظاہر ہے کہ دو شادیوں کی قباحتیں اپنی جگہ ہیں۔ کبھی کبھی وہ پہلو بھی سامنے آ جاتا تھا لیکن عام طور پر حالات خوشگوار ہی رہے۔ سوائے اس کے کہ میرے والد گھریلو اخراجات اور ضرورتوں کے بڑھنے کی وجہ سے کاروبار اور محنت کا سلسلہ بڑھانے پر مجبور تھے اور اس کے علاوہ انہیں ایک اور طرف جانا پڑ گیا جسے ہم شرفاء کی زبان میں اچھا نہیں کہہ سکتے اور وہ کام تھا کارنیوال سیدھے لفظوں میں ہم اسے جوا کہتے ہیں۔

میرے والد کا حلقہ احباب بڑے بڑے روسا کا تھا جو اپنے وقت کے میں بہت بڑے سرمائے سے شغف کرتے تھے۔ ان کے ساتھ جنہوں نے کارنیوال کا کاروبار شروع کیا۔ اس میں میرے والد سمیت پارٹنر تھے۔ اس کاروبار میں انہیں اچھی خاصی آمدنی ہوتی تھی جو کہ پوری طرح جائز کمائی سے کہیں زیادہ ہوتی تھی۔ اس صورت میں میری پرورش ایک امیرانہ ماحول میں ہوئی اور میں ناز و نعم میں پلا لیکن یہ ساری چیزیں ہونے کے باوجود راستے میں ایک قسمت کی دیوار بھی ہوتی ہے۔ بچپن میں ہی والد رخصت ہو گئے جن کے بل بوتے پر یہ ساری عیش و عشرت کی فضا قائم تھی۔ جب تک وہ زندہ رہے انہوں نے میری ہر خواہش پوری کی۔ پانچویں جماعت میں جب میں سکول میں بزم ادب کا سیکرٹری بنا تو انہوں نے میری پوری کلاس اور متعلقہ اساتذہ کو ایک اچھی خاصی دعوت دے ڈالی جیسے آج کل کوئی کونسلر منتخب ہو جائے۔ اسی طرح اس زمانے میں مجھے موسیقی کا شوق تھا تو انہوں نے ایک گراموفون اور اس سے متعلقہ مجھے فراوانی سے مہیا کیں۔ پھر سیاحت کا شوق ہوا تو جہاں میں نے جانا چاہا انہوں نے اس ہدایت کے ساتھ کہ اچھی کلاس میں سفر کرنا مجھے دوستوں کے ساتھ جانے کی اجازت دے دی۔

ابتدا ہی سے میرے لئے مشہور تھا کہ میں خوش لباس، خوش گفتار اور خوش خوراک ہوں۔ یہ سب چیزیں مجھے میرے والد کی طرف سے ملیں۔ انہوں نے میری تربیت کچھ اس رنگ میں غیرمحسوس طور پر کی تھی کہ انہوں نے مجھے زندگی کا قرینہ اور مجلسی آداب سکھائے۔ جب انہیں محسوس ہوا کہ میرے اندر تھوڑا سا ادب کا بھی شائبہ بھی ہے تو انہوں نے بہت سی ادبی کتابیں بھی مہیا کیں حالانکہ اس دور میں ادبی کتابیں بہت کم ہوتی تھیں۔ وہ الف لیلیٰ اور حاتم طائی وغیرہ کی کہانیاں اس بہانے سے مجھے پڑھاتے تھے کہ خود بہت کم پڑھے ہوئے تھے۔ وہ مجھے کہتے تھے میری طبیعت ٹھیک نہیں ہے اس لئے یہ کتاب پڑھ کے مجھ سنا اور یوں بہانے سے مجھے پڑھاتے تھے۔ شاعری کی صرف وہی کتابیں میرے ہاتھ آتی تھیں جو گورنمنٹ ہائی سکول ہری پور کی لائبریری میں میسر تھیں۔ اس زمانے کے گراموفون ریکارڈوں میں آج کی طرح گھٹیا شاعری نہیں ہوتی تھی بلکہ اساتذہ کا کلام ہی ہوتا تھا۔ میرے پاس جو ریکارڈ تھے ان میں زیادہ تر غالب، امیر مینائی اور ذوق کا کلام تھا۔ زیادہ تر گانے والے اساتذہ ہی کا کلام گایا کرتے تھے۔ میرے والد چن چن کے کر ایسے ریکارڈ مہیا کرتے تھے جن میں شاعری کا ایک معیار ہوتا تھا اور یوں میری ذہنی پرورش ہوتی رہی۔”

1935ء میں اپنے والد کی وفات کی وجہ سے، قتیل اپنی اعلیٰ تعلیم ترک کرنے پر مجبور ہو گئے۔ انہوں نے کھیل کے سامان کی دکان شروع کی مگر کاروبار کے ناکام ہونے کی وجہ سے انہوں نے اپنے چھوٹے سے شہر سے راولپنڈی جانے کا فیصلہ کیا۔ قتیل شفائی ہری پور کو خدا حافظ کہہ کے راولپنڈی آ گئے۔ شاعری کے پودے کی آبیاری راولپنڈی میں ہوئی اور یہ ایک درخت کی شکل اختیار کرنے لگا۔ اس زمانے میں تلوک چند محروم، عبدالعزیز فطرت، انجم رومانی، جگن ناتھ آزاد، احمد ظفر، جمیل ملک اور حسن طاہر جیسے لوگ موجود تھے۔ ان کے علاوہ وہاں ان کی ملاقات استاد حکیم محمد یحییٰ شفا صاحب سے ہوئی جو طب اور علمیت دونوں ہی میں بہت فاضل تھے۔ شفا صاحب ان کے رشتے دار بھی تھے۔ وہاں پر ہی انہوں نے پنڈی، مری ٹرانسپورٹ کمپنی میں بطور کلرک ملازمت کی۔ جب وہ پنڈی آئے تو ان کے تین بچے تھے۔ ان کے والد دس جون 1935 ء کو فوت ہوئے تھے اور1936 ء کے آخر میں ان کی شادی ہوئی اس وقت ان کی عمر 17 برس تھی۔ شادی سے پہلے دونوں نے ایک دوسرے کو دیکھا تک نہیں تھا۔

1946ء میں نذیر احمد نے انہیں لاہور بلایا جو ماہانہ ”ادیب لطیف” کے اسسٹنٹ ایڈیٹر کی حیثیت سے کام کرتے تھے جو 1936ء سے شائع ہونے والا ایک ادبی رسالہ تھا۔ ان کی پہلی غزل لاہور کے ہفتہ وار ”سٹار” میں شائع ہوئی جس کی تدوین بذریعہ قمراجنلوی ہوئی تھی۔ 1947ء میں بطور فلمی گیت نگار پاکستانی فلم انڈسٹری میں شامل ہو گئے۔ ان کے والد ایک بزنس مین تھے اور ان کے خاندان میں شعروشاعری کی روایت نہیں تھی۔ ابتداء میں انہوں نے اصلاح اور نصیحت کے لئے حکیم یحییٰ شیفہ خان پوری کو اپنی شاعری دکھائی۔ قتیل نے اپنی شاعرانہ اسم ”شفائی” ان سے اخذ کی۔ بعد میں، وہ احمد ندیم قاسمی کے شاگرد بن گئے جو ان کے دوست اور ہمسایہ تھے۔

جب حکیم شفا صاحب کی شاگردی اختیار کی تو انہوں نے اپنا نام قتیل شفائی رکھ لیا۔ ”اس زمانے میں رواج تھا کہ لاہور کا رہنے والا لاہوری، جالندھر کا رہنے والا جالندھری اور اگر استاد کا نام فاضل ہے تو فاضلی اس لئے میں نے بھی فیشن کے طور پر شفائی نام رکھا۔” ہری پور کے زمانے میں زیب تخلص تھا، راولپنڈی سے ٹرانسفر ہوکے مری آ گئے تھے۔ یہاں ان کی ملاقات پروفیسر کرم حیدری اور فیض احمد فیض سے ہوئی۔ فیض صاحب اس وقت کرنل کے عہدے پر فائض تھے۔

جنوری 1947ء میں قتیل سے لاہور میں مقیم ایک فلم پروڈیوسر، دیوان سرداری لال کی ایک فلم کے گیت لکھنے کو کہا گیا۔ پہلی فلم جس کیلئے انہوں نے دھن لکھی وہ پاکستانی فلم ”تیری یاد” 1948ء تھی۔ بعد میں کچھ وقت (1948ء سے 1955ء ) کے دورانیے کے کچھ مشہور شاعروںگیت نگاروں کے معاون گیت کار کی حیثیت سے کام کرنے کے بعد آخرکار وہ پاکستان کے ایک انتہائی کامیاب فلمی شاعر بن گئے اور انہوں نے کئی سالوں میں متعدد ایوارڈز اپنے نام کئے۔ بطور گیت نگار انہوں نے پاکستان اور بھارت کی فلم انڈسٹری کیلئے سینکڑوں گیت لکھے۔

پنڈی میں زندگی کے پہلے مشاعرے میں شرکت کی۔ سید ضمیر جعفری نے بھی ان کی بہت حوصلہ افزائی کی تھی۔13 اکتوبر 1988 کو انہیں ضمیر جعفری نے خط لکھا۔ ”پیارے قتیل السلام علیکم! میں جنگ راولپنڈی میں کالم لکھتا ہوں۔ ایک تراشا بھیج رہا ہوں۔ محبت اپنی جگہ مگر یہ واقعہ جو میں نے لکھا ہے وہ درست ہے، مبارک ہو۔اب واعظان کرام منبر پر آپ کے اشعار پڑھنے لگ گئے ہیں۔ اسے کہتے ہیں جادو کا سر پر چڑھ کے بولنا۔ امید ہے آپ بخیریت ہوں گے۔ آپ کا ضمیر”

جو تراشا انہوں نے بھیجا تھا اس کا عنوان تھا ”مجلس وعظ میں قتیل شفائی کی غزل کی اثر آفرینی” اس میں لکھا تھا کہ منبر پر وعظ کے دوران ایک واعظ نے بار بار یہ شعر پڑھا۔

چلو اچھا ہوا کام آ گئی دیوانگی اپنی

وگرنہ ہم زمانے بھر کو سمجھانے کہاں جاتے

ایک زمانے میں انہوں نے اقبال بانو سے عشق کیا تھا جس کے لئے قتیل شفائی نے خود کو سماجی اور معاشی طور پر برباد کیا تھا۔ ٹھوکر کھانے کے بعد بظاہر سنبھل گئے تھے مگر پھر ایک آدھ ادھوری ملاقات کے بعد یہ گنگنانے لگے تھے۔

بھیج رہی ہے اب تک مجھ کو چاہت کے پیغام

سانولی سی اک عورت جس کا مردوں جیسا نام

انہوں نے 75 سال کی عمر میں ایک انڈین فلمی اداکارہ سے عشق کیا۔ ان کی آب بیتی میں ذکر ہے کہ عمر کے آخری دو چار برس قتیل شفائی نے نہایت مصروف، بے حد مشغول اور ایک کھلنڈرے اور بے چین عاشق کی طرح گزارے۔ 75 سالہ قتیل شفائی یک بہ یک سترہ اٹھارہ سالہ اورنگزیب بن گیا تھا۔ قتیل اپنی شاعری اور مجھ جیسے ان گنت چاہنے والوں کے دلوں میں زندہ رہیں گے لیکن جسمانی طور پر ہم سے بہت دور چلے گئے۔ ان کی وفات کے بعد ان کی اسی محبوب رشمی کا دعوی تھا کہ قتیل میرے لئے تو مرا نہیں۔۔ وہ مرے من میں زندہ و پائندہ رہے گا۔ قتیل کی وہ قاتل ان کی تازہ شاعری کا حاصل اور ان کی عمر کے آخری برسوں کے لمحوں کی جھلمل رشمی بادشاہ تھی۔ رشمی نے قتیل کو یقین دلایا تھا کہ اب نہیں وہ پچھلے جنم میں بھی قتیل کی دیوانی اور داسی رہی ہے۔ اور پھر قتیل شفائی نے نظم کہی۔

 ”اب میں بھی جنموں کا قائل ہوتا جاتا ہوں”

11جولائی 2001 کو قتیل شفائی لاہور میں وفات پا گئے اور علامہ اقبال ٹان کے کریم بلاک کے قبرستان میں آسودہ خاک ہوئے۔

 کلام:

(١)

یوں آرہا ہے آج لبوں پر کسی کا نام ہم پڑھ رہے ہوں جیسے چھپا کر کسی کا نام

سنسان یوں تو کب سے ہے کہسارِ باز دِیدکانوں میں گونجتا ہے برابر کسی کا نام

دی ہم نے اپنی جان تو قاتِل بنا کوئی مشہور اپنے دم سے ہے گھر گھر کسی کا نام

ڈرتے ہیں ان میں بھی نہ ہو اپنا رقیب کوئی لیتے ہیں دوستوں سے چھپا کر کسی کا نام

اپنی زبان تو بند ہے، تم خود ہی سوچ لو پڑتا نہیں ہے یونہی سِتمگر کسی کا نام

ماتم سرا بھی ہوتے ہیں کیا خود غرض قتیل اپنے غموں پہ روتے ہیں لے کر کسی کا نام

(٢)

وہ دل ہی کیا جو ترے ملنے کی دعا نہ کرے

میں تجھ کو بھول کے زندہ رہوں خدا نہ کرے

رہے گا ساتھ ترا پیار زندگی بن کر

یہ اور بات مری زندگی وفا نہ کرے

یہ ٹھیک ہے نہیں مرتا کوئی جدائی میں

خدا کسی سے کسی کو مگر جدا نہ کرے

سنا ہے اس کو محبت دعائیں دیتی ہے

جو دل پہ چوٹ تو کھائے مگر گلہ نہ کرے

زمانہ دیکھ چکا ہے پرکھ چکا ہے اسے

 قتیل جان سے جائے پر التجا نہ کرے

                علاوہ ازیں قتیل شفائی کے سینکڑوں دیگر کلام ہیں جو صفحہ کی تنگی کے باعث پیش کرنے سے قاصر ہیں۔

مشاغل:

ادبِ لطیف ”لاہور سنگِ میل” پشاور کی ادارت

ابتدائی دور میں آٹھ برس تک پاکستان رائٹرز گلڈ مغربی پاکستان کی سیکرٹری شپ

پاکستان کی اولین فلم ”تیری یاد” اس کے بعد تاحیات نغمہ نگاری

ادبی اعزاز:

مجموعہ کلام ”مطربہ” پر پاکستان کا اہم ترین ادبی انعام آدم جی پرائز حاصل کیا۔

فلمی اعزاز:

مختلف فلموں کے بہترین نغموں پر 16 ایوارڈ حاصل کئے۔

نمائندگی:

امریکہ، برطانیہ، سوویت یونین، کینیڈا، فرانس، ہالینڈ اور بھارت کی ادبی اجتماعات میں پاکستان کی نمائندگی کی۔

مشاعروں کے علاوہ (تصانیف ہریالی)

ابتدائی گیتوں کا مجموعہ (گجرا )

نظموں، غزلوں اور گیتوں کا مجموعہ (جلترنگ)

نظموں اور غزلوں کا مجموعہ (روزن)

نظموں اور غزلوں کا مجموعہ (جھومر)

گیتوں کا مجموعہ (گفتگو )

غزلوں کا مجموعہ (چھتار)

غزلوں اور نظموں کا مجموعہ (پیراہن)

وہ ایک پرُ عزم انسان تھے۔ عشق کرنے، دوستی نبھانے، دشمنی پالنے اور دشمنی کو آخری حدوں تک اچھالنے میں اُنہوں نے ہر کام پوری دلجمعی سے کیا۔ قدرت کی ستم ظریفی یا اُن کی اپنی بے چارگی دیکھیں کہ وہ اپنی داستان حیات کو مکمل نہ کر سکے۔ وہ داستان کا مرکز و محور رہے، داستان سرا رہے اور شعروں کو داستانوں میں سموتے رہے۔ ایک عزم، حوصلے اور جینے کی لگن کے ساتھ جیتے رہے۔ وہ عاشق وارفتہ تھے مگر دامن صاف اور گریباں سلامت تھا ہاں! دوسروں کی محرومیوں کے چاک سیتے رہے۔ وہ خود بھی شاعری کے محبوب رہے اور تمام تر بانکپن کے ساتھ خوب خوب رہے۔ ان کی شاعری اپنے وطن تو کیا غیرملک بھارت میں نصاب کا حصہ بنی۔ ان کی سحر انگیز شخصیت فلموں کا قصہ بنی، اس پر یونیورسٹیوں میں تھیسسز لکھے گئے، رسائل نے خاص نمبر شائع کئے اور مداحوں نے کتابیں تحریر کیں۔ نہایت منظم، مرتب، بااصول اور سلیقے سے زندگی گزارنے والے کو کہیں تو ادھورا ہونا تھا۔ بہت کچھ پا کے کہیں تو کچھ نا کچھ کھونا تھا۔ سو جب اپنی آپ بیتی کہنے اور گزرے برسوں، بیتے لمحوں اور کھٹی میٹھی یادوں کے ساتھ بہنے کا وقت آیا تو کہیں اور الجھ گئے۔ اور یوں یہ کتھا نامکمل رہی اور ان کی زندگی کا سفر مکمل ہو گیا۔ گویا۔۔” ہم ہی سو گئے داستاں کہتے کہتے”

1935ء میں اپنے والد کی وفات کی وجہ سے، قتیل اپنی اعلیٰ تعلیم ترک کرنے پر مجبور ہو گئے۔ انہوں نے کھیل کے سامان کی دکان شروع کی مگر کاروبار کے ناکام ہونے کی وجہ سے انہوں نے اپنے چھوٹے سے شہر سے راولپنڈی جانے کا فیصلہ کیا۔ قتیل شفائی ہری پور کو خدا حافظ کہہ کے راولپنڈی آ گئے۔ شاعری کے پودے کی آبیاری راولپنڈی میں ہوئی اور یہ ایک درخت کی شکل اختیار کرنے لگا۔ اس زمانے میں تلوک چند محروم، عبدالعزیز فطرت، انجم رومانی، جگن ناتھ آزاد، احمد ظفر، جمیل ملک اور حسن طاہر جیسے لوگ موجود تھے۔ ان کے علاوہ وہاں ان کی ملاقات استاد حکیم محمد یحییٰ شفا صاحب سے ہوئی جو طب اور علمیت دونوں ہی میں بہت فاضل تھے۔ شفا صاحب ان کے رشتے دار بھی تھے۔ وہاں پر ہی انہوں نے پنڈی، مری ٹرانسپورٹ کمپنی میں بطور کلرک ملازمت کی۔ جب وہ پنڈی آئے تو ان کے تین بچے تھے۔ ان کے والد دس جون 1935 ء کو فوت ہوئے تھے اور1936 ء کے آخر میں ان کی شادی ہوئی اس وقت ان کی عمر 17 برس تھی۔ شادی سے پہلے دونوں نے ایک دوسرے کو دیکھا تک نہیں تھا۔

یہ بھی پڑھیں

عبدالقیوم بلالہ، سوات تا کراچی سائیکل پر سفر کرنے والے سوات کے 83 سالہ بزرگ – تحریر:عصمت علی اخون

”میری عمر کے لوگ اکثر بیمار ہوتے ہیں لیکن میرے خیال میں میری سائیکل نے …