پنجاب کے شہر لاہورمیں پشاور کا رنگ وآہنگ

تحریر: روخان یوسفزے

پروفیسرڈاکٹراباسین یوسف زئی اور فیاض خان خویشگی کے اعزاز میں دو روزہ تقریبات پذیرائی

خدائی خدمتگار تحریک میں پشتو کے شعراء و ادباء کے کردار کو فراموش نہیں کیا جا سکتا،میاں افتخارحسین

پشتو ادبی جرگہ اور اے این پی کے زیراہتمام ادبی وثقافتی تقریب کی روداد

دنیا میں وہ لوگ بڑے خوش قسمت ہوتے ہیں جنہیں اپنی قوم اور زبان کے لوگوں سمیت دیگر اقوام کے لوگ بھی دل و جان سے چاہیں اور ان کی عزت اور احترام کریں۔انہی شخصیات میں سے ایک شخصیت پشتو زبان کے معروف شاعر، ادیب، دانشور، ماہر تعلیم اور منفرد لب ولہجے کے کمپیئر پروفیسر ڈاکٹر اباسین یوسف زئی بھی ہیں جنہیں پختون قوم کے ادب ذوق اور قوم پرست حلقوں کے علاوہ دیگر زبانوں کے ادب ذوق افراد بھی اپنی توانا آواز اور ترجمان سمجھتے ہیں۔ جب سے حکومت پاکستان کی جانب سے ان کا نام صدارتی ایوارڈ برائے حسن کارکردگی کے لیے نامزد ہوا ہے اسی دن سے ان کے چاہنے والوں نے ان کے اعزاز میں تقریباتِ پذیرائی کا انعقاد کرنا شروع کیا ہوا ہے،چنانچہ خیبر پختون خوا کے مختلف اضلاع میں ان کے اعزاز میں تقریبات منعقد ہوئیں،جن کا سلسلہ ہنوز جاری ہے اور یہ سلسلہ صرف خیبر پختون خوا تک محدود نہیں رہا بلکہ صوبہ پنجاب کے شہر لاہور تک پھیل گیا اور وہاں کے پختونوں نے بھی اپنے اس ہر دلعزیز شاعر و ادیب کے ساتھ اپنی محبت کا اظہار کرنے کے لیے دو روزہ با وقار تقریبات پذیرائی کا اہتمام کیا۔دیکھا جائے تو اس سے قبل جتنے بھی پختون شعراء و ادباء کو صدارتی ایوارڈز سے نوازا گیا ان کے لئے لوگوں کی جانب سے اس قدر خوشی کا اظہار نہیں کیا گیا، جتنا پروفیسر ڈاکٹر اباسین یوسف زئی کی نامزدگی پر کیا گیا اور نہ ہی آج تک کسی دوسری ادبی اور علمی شخصیت کے اعزاز میں اس قسم کی تقریبات کا انعقاد کیا گیا۔یہ سب اس بات کا مظہر ہے کہ خود ڈاکٹر اباسین یوسف زئی بھی ایک عوام دوست، پکے اور کھرے پختون لکھاری اور لوگوں کو عزت دینے والی شخصیت ہیں۔

لہٰذا بقول شاعر
ڈک د مینے زڑہ راکڑہ چہ زڑہ درکڑم
تہ چہ سہ رانہ کڑے زہ بہ سہ درکڑم
(مجھے محبت بھرا دل دو تاکہ میں بھی تمہیں اپنا دل دے دوں،آپ کچھ نہیں دو گے تو بھلا میں کیا دوں گا)
بہرحال آتے ہیں اپنے موضوع کی جانب، مجھے شاعر انسانیت رحمان بابا کا یہ شعر بہت یاد آ رہا ہے کہ جو
جودانہ قدر یو لعل پکے پیدا کا
نور جھان واڑہ د تورو کانڑو غر دے
مفہوم اس شعر کا یہ ہے کہ ایک دانہ قدر لعل اس دنیا میں پیدا ہو جاتا ہے باقی تمام جہان سیاہ پتھروں کا پہاڑ ہے۔


اور اس شعر کا عملی نمونہ ہم نے پنجاب کے شہر لاہور میں عوامی نیشنل پارٹی پنجاب کے صوبائی کلچرل سیکرٹری اور ڈائیو بس سروس کے چیف آپریٹنگ آفیسر ساجد خان باتور کی شکل میں دیکھا۔جو پشاور کے علاقہ کاکشال سے تعلکق رکھتے ہیں اور گزتہ دس سال سے لاہور میں رہائش پزیر ہیں، یہ انہی کی محبت، محنت، خلوص اور پختون ولی کا بین ثبوت ہے کہ انہوں نے حکومت پاکستان کی جانب سے پختونوں کے ہر دل عزیز شاعر، ادیب، ماہر تعلیم اور دانشور پروفیسر ڈاکٹر اباسین یوسف زئی کی صدارتی ایوارڈ برائے حسن کارکردگی کے لیے نامزدگی اور پشتو کے عالمی شہرت یافتہ گلوکار فیاض خان خویشکی کا نام تمغہ امتیاز کے لیے نامزد ہونے پر ان کے اعزاز میں اے این پی پنجاب اور پختوادبی جرگہ لاہور کے اشتراک سے پنجاب کے شہر لاہور میں دو بہت بڑی پروقار تقریبات کا انعقاد کیا اور اس سلسلے میں اے این پی پنجاب کے صدر منظور احمد خان، صوبائی جنرل سیکرٹری امیر بہادر خان ہوتی اور پختو ادبی جرگہ لاہور کے سرپرست اعلیٰ معروف شاعر اور خاکہ نویس اقبال کوثر نے کلیدی کردار ادا کیا۔


تقریب میں شرکت کے لیے جن شعراء و ادباء کو خصوصی طور پر مدعو کیا گیا تھا اور انہوں نے بھی پروفیسر ڈاکٹر اباسین یوسف زئی کی سربراہی میں وہاں شرکت بھی کی ان میں ضلع صوابی سے پشتو کے معروف افسانہ نگار اور ادیب پروفیسر نورالامین یوسف زئی اور خود راقم جبکہ سوات سے حنیف قیس، افسرالملک افغان، شوکت سواتی، مالاکنڈ سے بخت روان عمرخیل اور پروفیسر اقبال شاکر، بونیر سے پروفیسر نواز یوسف زئی،لوئر دیر سے معروف شاعر حبیب عابد اور بنوں سے فاروق شاہ شامل تھے۔ پہلی تقریب کے مہمان خصوصی اے این پی کے مرکزی سیکرٹری جنرل میاں افتخار حسین تھے۔ وفد کے استقبال کے لیے اے این پی پنجاب کے جنرل سیکرٹری امیر بہادر خان ہوتی اور کلچرل سیکرٹری ساجد خان باتور اپنے دیگر رہنماوں کے ہمراہ موجود تھے۔ تقریب دو دِنوں اور دو نشستوں پر مشتمل تھی۔ مورخہ چھ نومبر کی شام ماروِل ہوٹل ڈی ایچ اے لاہور میں ڈاکٹر اباسین یوسف زئی کے نام مختص تھی جس کے مہان خصوصی میاں افتخار حسین تھے جبکہ نظامت کے فرائض پشتو کے نوجوان ابھرتے ہوئے معروف کمپیئر اور شاعر افسر افغان نے بہت عمدہ طریقے سے ادا کیے۔


تقریب کو اردو اور پنجابی زبان کی معروف گلوکارہ فادیہ شب و روز نے اپنی سریلی آواز سے چارچاند لگائے۔ اس موقع پر پروفیسر ڈاکٹر اباسین یوسف زئی کے فن و شخصیت، ان کی ادبی، علمی اور تعلیمی خدمات پر معروف لکھاریوں اور ادیبوں نے تفصیل سے روشنی ڈالی اور زبردست خراج تحسین پیش کیا۔ اے این پی پنجاب کے کلچرل سیکرٹری ساجد خان باتور نے تمام مہمانوں اور شرکاء کو خوش آمدید کہا اور تقریب کے مقاصد پر روشنی ڈالی۔ انہوں نے کہا کہ یہ پروگرام بارش کا پہلا قطرہ ہے اور ہماری بھرپور کوشش ہو گی کہ آئندہ بھی اس قسم کی تقریبات کا سلسلہ جاری رکھیں تاکہ یہاں آباد پختونوں کو نہ صرف ایک پلیٹ فارم پر اکٹھا کیا جائے بلکہ ان میں اپنی زبان، ادب اور ثقافت کے حوالے سے شعور بھی اجاگر کیا جائے۔


دیگر مقررین میں سے پروفیسر نورالامین یوسف زئی، اقبال کوثر، بخت روان عمرخیل، حنیف قیس، اقبال شاکر، نجیب باچا، پروفیسر نواز یوسف زئی،حبیب عابد،نجیب باچا اور خود راقم نے پروفیسر ڈاکٹر اباسین یوسف زئی کی پشتو زبان و ادب سمیت شعبہ تعلیم کے سلسلے میں دی جانے والی اور تاحال جاری ادبی، علمی اور تعلیمی خدمات پر روشنی ڈالی اور انہیں زبردست خراج تحسین پیش کیا۔ اس موقع پر ایک بہترین مشاعرہ بھی منعقد ہوا۔ تقریب کے مہمان خصوصی میاں افتخار حسین نے اس موقع پر کہا کہ باچا خان بابا کی خدائی خدمتگار تحریک میں پشتو کے شعراء و ادباء کے کردار کو فراموش نہیں کیا جا سکتا اور جس طرح اْس وقت تحریک کو شعراء و ادباء کے کردار کی اشد ضرورت تھی اسی طرح اب بھی ہے اور اے این پی پختونوں کی واحد جماعت ہے جو اپنے لکھاریوں کی قدر کرتی ہے اور اسے احترام دیتی ہے۔

انہوں نے پروفیسر ڈاکٹر اباسین یوسف زئی کو خراج تحسین پیش کرتے ہوئے کہا کہ پروفیسر ڈاکٹر اباسین یوسف زئی ہمارا قیمتی ادبی اور علمی سرمایہ ہیں اور ہمیں ان پر ناز ہے کہ انہوں نے ہر فورم پر اپنی قوم، زبان اوراپنی مٹی کے حقوق کے لیے نہ صرف بھرپور آواز اٹھائی بلکہ اس کے لیے عملی جدوجہد بھی کی اور اب بھی کر رہے ہیں۔ میاں افتخار حسین نے کہا کہ اباسین یوسف زئی کی شاعری نے پختون قوم خصوصاً نئی نسل میں اپنی زبان، ادب، ثقافت اور قومیت کے حوالے سے ایک نئی سوچ اور ایک نیا ولولہ اور رجحان پیدا کیا ہے، صدارتی ایوارڈ ان کا حق بنتا تھا اور میں سمجھتا ہوں کہ حکومتی ایوارڈ کا اباسین یوسف زئی کے نام سے منسوب ہونے پر اس ایوارڈ کی قدروقیمت میں اور بھی اضافہ ہو گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ فیاض خان خویشگی ہماری قوم کے ایک ایسی سریلی آواز کے مالک گلوکار ہیں جنہوں نے پشتو موسیقی کو ایک نئی جہت اور انفرادیت بخشی، ان کا سب سے بڑا کمال کلام کا انتخاب ہے، وہ ایسا کلام کمپوز کر کے پیش کرتے ہیں جس میں انسانیت، قومیت، محبت، رواداری اور وطنیت کا درس شامل ہوتا ہے۔


تقریب میں پختو ادبی جرگہ اور اے این پی پنجاب کی جانب سے مہمان شعراء و ادباء کو شیلڈز اور ایوارڈ بھی دیے گئے۔ بعد میں محفل موسیقی کی نشست میں فیاض خان خویشگی نے اپنی سریلی آواز کا جادو جگایا اور پروفیسر ڈاکٹر اباسین یوسف زئی کی غزلوں سے شرکاء کو خوب محظوظ کیا اور اسی طرح یہ نشست رات گئے تک جاری رہی۔ دوسرے دن یعنی سات نومبر کو ملک کے معروف دانشور اور ٹرینر قاسم علی شاہ کی خصوصی دعوت پرقاسم علی شاہ فاؤنڈیشن میں پر تکلف ضیافت اورایک خصوصی نشست کا اہتمام کیا گیا تھا۔قاسم علی شاہ عصرحاضر کے عظیم استاد اور مقبول ترین ٹرینر ہیں۔ایک نامور پبلک سپیکر،کاونسلر،لائف کوچ اور مصنف کے ساتھ بے شمار اداروں کے ایڈوائزری بورڈ کا حصہ ہیں۔مہمانوں کے پہنچنے پر ٹیم قاسم علی شاہ فاوونڈیشن نے ان کاپھولوں کے ساتھ پرتپاک استقبال کیا۔ مہمانوں کو گل دستے پیش کیے۔قاسم علی شاہ صاحب بذاتِ خود اس محفل میں موجود تھے۔اس موقع پر مہمانوں اور میزبانوں نے معاشرتی،ادبی اور روحانی موضوعات پر تبادلہ خیال کیا۔کچھ وقفے کے بعد ناشتہ لگادیا گیا جس میں انواع واقسام کے کھانے موجود تھے،جوکہ قاسم علی شاہ صاحب کے خلوص و محبت کا ثبوت تھے۔


چونکہ اس نشست میں اردو زبان کے معروف ترقی پسند شاعر ایڈیشنل کمشنر(ان لینڈریوینیو)رحمان فارس بھی مدعو تھے تو ناشتے کے بعد ایک اردو پشتو مختصر سا مشاعرہ بھی منعقد ہوا جس میں مہمان شعراء سمیت رحمان فارس کے کلام،فیاض خان خوشیگی کی سریلی آواز اور شوکت سواتی کی ترنم نے محفل کا رنگ دوبالا کر دیا۔ محفل کے اختتام پر پروفیسر ڈاکٹر اباسین یوسف زئی نے قاسم علی شاہ کو روایتی چغہ اور چترالی ٹوپی پہنائی۔ اسی طرح دیگر میزبانوں کو بھی، جن میں رحمان فارس،شبیرخان اور ساجد خان باتور کے نام قابل ذکر ہیں، چترالی ٹوپیاں پہنائی گئیں۔ اس کے علاوہ قاسم علی شاہ نے بھی مہمانوں کو تحفوں اور اپنی نئی کتاب گفتگو سے نوازا۔ اور پروفیسرنورلامین یوسف زئی اور راقم نے قاسم علی شاہ،رحمان فارس،ساجدخان باتور اور شبیرخان کو اپنی کتابیں تحفہ کردیں۔ بہت خوب صورت علمی اور ادبی نشست ہوئی۔ بعد میں فاونڈیشن کے دفتر میں پشتو زبان کی ترویج اور ترقی کے لیے الگ سی شاخ کھولی گئی جس کا افتتاح بدست پروفیسر ڈاکٹر اباسین یوسف زئی کیا گیا۔ اس موقع پر ڈاکٹر اباسین یوسف زئی نے قاسم علی شاہ فاوونڈیشن کی جانب سے پشتو زبان اور پختونوں کے ساتھ ان کی محبت اور چاہت کی تعریف کی اور کہا کہ مذکورہ شاخ کھولنے سے پشتو کی آواز اور بھی توانا اور مضبوط ہو جائے گی۔ بعد میں نوجوان اور ابھرتے ہوئے شاعر اور کمپیئر افسر افغان نے نئی پشتو شاخ کے حوالے سے ڈاکٹر اباسین یوسف زئی اور راقم کے ساتھ پشتو زبان میں خصوصی مکالمہ کیا اور اس طرح یہ نشست بھی اپنے اختتام کو پہنچی۔


شام کو قذافی سٹیڈیم کے انسٹیٹیوٹ آف لینگویج، آرٹ اینڈ کلچر کمپلیکس میں فیاض خان خویشگی کے اعزاز میں پروقار نشست کا اہتمام کیا گیا تھا جس میں ڈاکٹر اباسین یوسف زئی اور ساجد خان باتور نے فیاض خان خویشگی کے فن اور شخصیت پر تفصیلی روشنی ڈالی۔ بعد میں فیاض خان خوشیگی نے پشتو، اردو اور پنجابی زبان میں اپنی سریلی آواز کا ایسا جادو جگایا جس سے پورا ہال جھوم اٹھا۔ دو روزہ اس ادبی اور ثقافتی دورے کے آخری دن یعنی آٹھ نومبر کو مہمان شعراء و ادباء کو اے این پی پنجاب کے صوبائی کلچرل سیکرٹری اور ڈائیو بس سروس کے چیف آپریٹنگ آفیسر ساجد خان باتور نے اورنج ٹرین کے ذریعے پورے لاہور کی سیر کروائی، پرتکلف ظہرانہ دیا اور سہ پہر دو بجے خیبر پختون خوا کا یہ بارہ رکنی قافلہ ڈاکٹر اباسین یوسف زئی کی قیادت میں واپس پشاور کیلئے روانہ ہوا تاہم یہ ایک ایسا دورہ تھا جس کی یادیں تمام ساتھیوں کو زندگی بھر یاد رہیں گی اور اس کا سارا کریڈٹ ساجد خان باتور کو جاتا ہے۔

یہ بھی پڑھیں

تور غر میں گرلز ہائر سیکنڈری سکول نہ کالج‘طالبات تعلیم ادھوری چھوڑنے پر مجبور – تحریر: انورزیب

تحریر: انورزیب تعلیمی ایمرجنسی کا دعویٰ کرنے والی پاکستان تحریک انصاف کی حکومت بھی علاقے …