کورونا وائرس اور رجوع الی القرآن – تحریر: پروفیسر شفیع احمد ترمذی

وطن عزیز کی 73 سالہ تاریخ میں کورونا وائرس سے زیادہ بڑھ کر کوئی مصیبت نہیں آئی۔ پہلے بھی کئی آفات مثلاً 2005 کا زلزلہ، 2010 کا سیلاب یا گزشتہ کئی عشروں سے جاری دہشتگردی آئے لیکن یہ سب مصیبتیں جزوی تھیں اور انہوں نے وطن عزیز کے خاص خطے کو متاثر کیا تھا۔ لیکن موجودہ مصیبت تو ملکی کیا بین الاقوامی حیثیت اختیا کرگئی ہے۔ ملکی اور بین الاقوامی تجارت بند، سفر بند، بازار بند، سکول وکالجز بند، چھوٹی بڑی تقریبات منسوخ، دفاتر میں جزوی حاضری، دیہاڑی دار مزدور بے روزگار غرضیکہ ہر شعبہ زندگی مفلوج ہے ور دنیا قیامت کا منظر پیش کر رہی ہے۔ جس دن ’’مفہوم: آدمی اپنے بھائی، ماں باپ وغیرہ سے بھاگے گا۔ ہر ایک کو اپنی پڑی رہے گی‘‘۔


آج کیا فرد، کیا قوم ہر ایک اپنے غم میں مبتلا ہے حتیٰ کہ معاش کے غم سے بے فکر اور ہر موقع پر دکھ درد میں کام آنے والے بھی اپنی فکر کئے جا رہے ہیں اور سب سے بڑی ستم ظریفی یہ ہے کہ موجودہ مصیبت میں اگر ایک شخص مبتلا ہو جائے تو اس کے گھر والے، رشتہ دار، میل جول والے سب گرفتار ہو جاتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ ہر شخص کو نہ صرف اپنی فکر ہے بلکہ بھائی بند، پڑوسیوں اور ملنے جلنے والوں کے بارے میں بھی فکر مند ہے۔ اس بیماری سے بچنے اور اسے مزید پھیلنے سے روکنے کے لئے انفرادی اور حکومتی سطح پر احتیاطی تدابیر کی جا رہی ہیں۔ لیکن ملا کی دوڑ مسجد تک کے مصداق زیادہ زور social distance (سماجی فاصلہ) پر دیا جاتا ہے اور اسی خاطر اجتماعات پر پابندی، ٹرانسپورٹ بند، سکول کالجز بند، بازار سنسان یہاں تک کہ مسجدوں میں جماعت و جمعہ پر بھی پابندی لگ گئی ہے۔ جہاں بھی چند افراد کا مجمع ہوتا ہے ان کو بزور منتشر کر دیا جاتا ہے او سب سے زیادہ زور اس پر دیا جاتا ہے کہ اگر یہ احتیاطی تدابیر نہ کی جائیں تو بیماری مزید پھیلنے کا خدشہ ہے۔


یہ بات بھی کسی حد تک درست ہے لیکن یہ مسئلے کا اصل اور دیر پا حل نہیں ہے۔ یہ تو ’’فکر روزی ہے رزاق کا کچھ خیال نہیں‘‘ والا معاملہ ہے۔ مصیبت سے نجات کی فکر ہے لیکن نجات دہندہ کی طرف خیال نہیں جاتا۔ اس ضمن میں قرآن سے جو رہنمائی ملتی ہے وہ یہ کہ اس مصیبت کا سبب کیا ہے، اس مصیبت کا لانے والا کون ہے، اس میں مصلحت کیا ہے اور اس سے نجات کی کیا سبیل ہوگی؟ جہاں تک مصائب و تکالیف کے آنے کا تعلق ہے اس ضمن میں قرآن واشگاف الفاظ میں اعلان کرتا ہے۔
’’مفہوم: لوگوں نے اپنے ہاتھوں جو کمائی کی اس کی وجہ سے خشکی اور تری میں فساد پھیلا‘‘۔ ’’مفہوم: تاکہ انہوںنے جو کام کئے ہیں اللہ ان میں سے کچھ کا مزا ان کو چکھائے‘‘۔ ’’مفہوم: شاید وہ باز آ جائیں‘‘ سورۃ الروم آیت نمبر ۴۱۔


بقول مفتی محمد تقی عثمانی صاحب کے ’’دنیا میں جو عام مصیبتیں لوگوں پر آئیں مثلاً قحط، و بائیں، زلزلے، ظالموں کا تسلط، ان سب کا اصل سبب یہ تھا کہ لوگوں نے اللہ کے احکامات کی خلاف ورزی کی۔ اس طرح یہ مصیبتیں اپنے ہاتھوں مول لیں اور یہ سب کچھ اللہ تعالیٰ کی مشیت سے ہوتا ہے۔ وہی کرتا ہے اور اس کا ظاہری سبب انسانوں کی بداعمالیاں ہوتی ہیں اور اللہ تعالیٰ کا مقصد یہ تھا کہ ان مصیبتوں سے دوچار ہو کر لوگوں کے دل کچھ نرم پڑ جائیں اور برے اعمال سے باز آ جائیں۔ اس طرح یہ آیات کریمہ ہمیں یہ سبق دے رہی ہیں کہ عام مصیبتوں کے وقت اپنے گناہوں پر استغفار اور اللہ کی طرف رجوع کا طریقہ اختیار کیا جائے۔ (آسا ن ترجمہ قرآن صفحہ 861)


سورۃ روم کی اس آیت سے کورونا وائرس ہو یا اور کوئی آفت اس کے آنے کا سبب اور لانے والے کی مصلحت معلوم ہو گئی۔ اب اس سے نجات کی سبیل کیا ہو گی اور نجات کا راستہ کون بتائے گا؟ اس ضمن میں ترمذی شریف کی ایک حدیث ہے۔ حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ حضورصلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا۔ مفہوم: ’’ایک بڑا فتنہ آنے والا ہے‘‘۔
حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں، میں نے عرض کیا ۔ مفہوم: ’’اے اللہ کے رسول اس سے بچنے کا کیا ذریعہ ہے؟‘‘ فرمایا ’’کتاب اللہ‘‘ وہ ذریعہ اللہ کی کتاب ہے۔ مفہوم:’’جس میں تم سے پہلی امتوں کے واقعات ہیں‘‘ مفہوم: ’’اور تمہارے بعد آنے والی اطلاعات ہیں‘‘، مفہوم: ’’اور تمہارے درمیان پیش آنے والے معاملات کے متعلق واضح احکامات موجود ہیں‘‘۔ فرمایا ، مفہوم: ’’یہ خدا کی مضبوط رسی ہے‘‘۔
یعنی قرآن میں سابقہ اقوام کے عبرتناک واقعات، بعد میں آنے والی اطلاعات یعنی موت، قبر، قیامت، جنت و دوزخ وغیرہ اور تیسری چیز پوری زندگی کے بارے میں احکام موجود ہیں۔
ایک دوسری حدیث میں عبداللہ بن مسعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ فرمایا حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ’’یہ قرآن اللہ کی مضبوط رسی ہے‘‘۔ جو اس قرآن کا اتباع کرے گا نجات پائے گا۔ (دروس القرآن جلد سوم)۔

قرآن سے جو رہنمائی ہمیں ملتی ہے وہ یہ کہ ہر کام چاہے خیر ہو یا شر ایک خاص قاعدہ اور ایک خاص مصلحت کے تحت انجام پذیر ہوتا ہے۔ اللہ کے قانون آزمائش و ابتلاء سے کسی کو استثنا نہیں۔ چاہے نیک ہو یا بد ، پیغمبر ہو یا امتی سب کے لئے قانون یکساں ہے۔ ہاں مصلحت الگ الگ ہوتی ہے۔ اللہ تعالیٰ نے قرآن کریم میں مختلف انبیاء ؑ اور ان کی قوموں کا تذکرہ کیا ہے اور ان کا ذکر محض قصے کہانیاں سنانے کے لئے نہیں کیا ہے بلکہ ’’مفہوم: بلاشبہ ان (پہلی امتوں) کے قصوں میں بڑا سامان عبرت ہے عقل والوں کے لئے۔ سورۃ یوسف آیت نمبر 111‘‘۔ اسی طرح انبیاؑء کے بارے میں فرمایا۔ مفہوم: ’’یقیناً تمہارے لئے ان لوگوں کے طرز عمل میں بہترین نمونہ ہے۔ سورۃ الممتحنہ آیت نمبر 6‘‘۔
موجودہ حالات میں ہمارے لئے حضرت یونس ؑ اور ان کی قوم بمنزلہ عبرت ہے اور بقول ایک فلسفی George Santayana "Those who can not remember the past are condemned to repeat it”
جو ماضی سے سبق نہیں لیتے ان پر ماضی دہرایا جاتا ہے۔
(The life of reason, vol-1)۔
حضرت یونس ؑ عراق کے شہر نینوا میں پیدا ہوئے‘ انہوں نے ایک عرصہ تک قوم کو تبلیغ کی لیکن قوم نہ مانی۔ آخر خطائے اجتہادی سے حکم الہٰی کا انتظار کئے بغیر بستی سے نکل پڑے۔ انجام کار مچھلی کے پیٹ میں پہنچ گئے۔ چونکہ حضرت انبیاء کا درجہ سب سے اعلیٰ ہوتا ہے اس لئے ان کی خطاء اجتہادی اور سہو و نسیان پر بھی مواخذہ اور ملامت ہوتی ہے۔ (گلدستہ تفاسیر جلد ششم الصفت 139)۔
اب اس پیمانہ پر ہم نام کے مسلمان اپنے آپ کو پرکھیں کہ ہماری حیثیت کیا ہے اور گناہوں پر دلیری کتنی ہے۔ یہ تو اسی اللہ کی مہربانی ہے کہ وہ ہمیں صفحہ ہستی سے نہیں مٹاتا۔ چنانچہ حضرت یونسؑ کے بارے میں فرمایا کہ مصیبت کے وقت ان کا رویہ کیا تھا۔ فرمایا۔ مفہوم: ’’پھر اگر وہ تسبیح کرنے والوں میں سے نہ ہوتے تو اس مچھلی کے پیٹ میں رہتے جس دن تک مردے زندہ ہوں‘‘۔
معلوم ہوا کہ تسبیح و استغفار سے ہی مصائب دور ہوتے ہیں۔ بقول مفتی محمد شفیع صاحب، مصائب و آفات کو دور کرنے میں تسبیح و استغفار کو خاص اہمیت حاصل ہے۔ سورۃ انبیاء میں گزر چکا ہے کہ مچھلی کے پیٹ میں آپ علیہ السلام یہ کلمہ خاص طور پر پڑھتے تھے ’’لاالہ الاانت سبحانک انی کنت من الظالمین‘‘۔ اللہ تعالیٰ نے اسی کلمہ کی برکت سے نجات عطافرمائی۔ اسی لئے بزرگوں سے منقول چلا آیا ہے کہ وہ انفرادی یا اجتماعی مصیبت کے وقت یہ کلمہ سوا لاکھ مرتبہ پڑھتے ہیں اور اسی کے برکت سے اللہ تعالیٰ مصیبت دور کر دیتا ہے۔ (معارف القران جلد 7)۔


ابوداؤد میں حضرت سعد بن ابی وقاص رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ’’حضرت یونس علیہ السلام نے جو دعا مچھلی کے پیٹ میں کی تھی یعنی لاالہ الا انت سبحانک انی کنت من الظالمین، اسے جو مسلمان بھی کسی مقصد کے لئے پڑھے گا اس کی دعا قبول ہو گی‘‘(تفسیر قرطبی)۔
قوم یونس علیہ السلام کے حوالے سے ہمارے لئے دوسری عبرت یہ ہے کہ تاریخ اقوام انبیاء میں یہ واحد قوم تھی جس پر سے آیا ہوا عذاب ٹل گیا اور اس کی وجہ قرآن نے ان الفاظ میں بیان کی ہے۔
مفہوم: ’’جب وہ صدق دل سے ایمان لائے تو ہم نے ان سے دنیا کی زندگی میں ذلت والا عذاب کھول دیا‘‘۔
مفسرین فرماتے ہیں کہ آسمان پر سیاہ بادل دیکھ کر بستی والوں کو احساس ہوا کہ اللہ کا نبی ٹھیک ہی کہتا تھا۔ اب ہم پر عذاب نازل ہونے والا ہے تو نبی علیہ السلام کی تلاش میں نکل کھڑے ہوئے۔ وہ نہ ملے آخر قوم کے سب چھوٹے بڑے، عورتیں بچے حتیٰ کہ ان کے جانور بھی بستی سے نکل کر آہ وزاری کرنے لگے اور اللہ تعالیٰ سے اپنے جرم کی معافی طلب کی۔ اللہ تعالیٰ نے ان کی توبہ قبول کی اور عذاب ٹل گیا۔ (دروس القرآن جلد10)۔


اب ہمارے لئے نجات کا ایک ہی ذریعہ ہے کہ قوم یونسؑ کے اُسوہ کی پیروی کرتے ہوئے اللہ تعالیٰ کی طرف صدق دل سے رجوع کریں۔ وہی مسبب الاسباب ہے۔ تکلیف بھی وہی لاتا ہے۔ راحت بھی وہی لاتا ہے۔
احتیاطی تدابیر اپنی جگہ لیکن اس سے صرف ظاہری مشکلات حل ہوں گی۔ حقیقی مشکلات تب دور ہوں گی جب ہم مشکل کشا کی طرف رجوع کریں اور رجوع الی اللہ کا واحد ذریعہ رجوع الی القرآن ہے۔ خود بھی قرآن سے تعلق پیدا کریں۔ دوسروں کو بھی اس کی طرف دعوت دیں۔ قرآن کی تلاوت سے اللہ تعالیٰ کی رحمت شامل حال رہے گی۔ قرآن کو سمجھ کر پڑھنے سے حقیقی بیمایاں اور اس کا علاج معلوم ہو گا اور قرآن پر عمل کرنے سے حقیقی شفاء نصیب ہو گی۔

یہ بھی پڑھیں

تور غر میں گرلز ہائر سیکنڈری سکول نہ کالج‘طالبات تعلیم ادھوری چھوڑنے پر مجبور – تحریر: انورزیب

تحریر: انورزیب تعلیمی ایمرجنسی کا دعویٰ کرنے والی پاکستان تحریک انصاف کی حکومت بھی علاقے …