2020 تبدیلی کا سال تھا

Nafees Danish
تحریر:محمد نفیس دانش

2020  نے تو دنیا ہی بدل ڈالی، دنیا میں رہنے کا چال چلن بالکل بدل چکا ہے، گھروں میں محبوس رہنے والے افراد رفتہ رفتہ ای کامرس یعنی آن لائن تجارت میں مشغول ہوتے گئے، ای کامرس کی بدولت صارف اپنی من پسند مصنوعات کو بغیر وقت ضائع کیے دیکھ اور خرید سکتا ہے اور اپنی جگہ پر بیٹھے بیٹھے مختلف اشیاء کی قیمت، مقدار، اجزا ترکیب کا موازنہ کر سکتا ہے جو کہ روایتی بازار میں شاید ممکن نہیں

2020 بھی گزر گیا۔ گزشتہ سال بہت سارے وہ لوگ جو ہمارے درمیان تھے، وہ آج2021  میں ہمارے درمیان نہیں ہیں، 2020 میں اکابر علماء کی بھی ایک قابل ذکر تعداد اس دنیا سے رخصت ہوئی،2020  کو ہماری کئی نسلیں کرونا وائرس کے نام سے بھی یاد رکھیں گی اور بعض لوگوں کے لیے سنہ2020  تباہی و بربادی کا سال رہا جس میں عالمی وباء کے دوران لاکھوں اموات ہوئیں، ہمیں گھر سے کام کرنا پڑا اور زوم پر میٹنگز ہوتی رہیں۔

لیکن تاریخ پر نظر ڈالیں تو ہمیں معلوم ہوتا ہے کہ صورتحال اس سے بھی زیادہ مشکل ہو سکتی تھی اور شاید تاریخی پس منظر جان کر ہمیں لگے کہ سنہ2020  درحقیقت اتنا بھی برا نہیں تھا!

بہت سے لوگوں کی نوکریاں گئیں، عالمی وباء سے معیشت کو بھی کافی نقصانات پہنچا اور اس کی وجہ سے دنیا بھر میں کئی لوگوں کا روزگار متاثر ہوا۔ تاہم بیروزگاری کی شرح اب بھی1929-33  کے معاشی بحران کی سطح پر نہیں پہنچی۔

تاریخی اعتبار سے یہ سال عالمی سیاحت کے لیے بھی کافی برا تھا۔ لیکن اگر آپ کو اپنے گھر رہنے پر اتنا افسوس ہو رہا ہے تو تھوڑا اپنے آباؤ اجداد کے بارے میں بھی سوچ لیں۔ لیکن دسمبر1984  میں انڈیا کے شہر بھوپال میں کیمیکل پلانٹ میں ایک لیک کی وجہ سے دھماکہ پیش آیا تھا۔ اس میں ہزاروں افراد ہلاک ہوئے تھے اور اسے جدید تاریخ کے بدترین صنعتی حادثات میں سے ایک سمجھا جاتا ہے جس میں تقریباً3500  افراد ہلاک ہوئے تھے۔ یہ سمجھا جاتا ہے کہ اگلے برسوں میں پھیپھڑوں کی بیماریوں کی وجہ سے کوئی15  ہزار مزید اموات ہوئیں۔ دھماکے کے بعد کئی دہائیوں تک شہر میں خطرناک دھند چھائی رہی جس کی وجہ سے آج بھی لوگ متاثر ہو رہے ہیں۔

کئی زاویوں سے2020  ایک نہایت مشکل سال رہا ہے۔ عالمی وباء سے ہم افراتفری میں ضروری اشیا خرید رہے تھے تو کبھی اپنے پیاروں سے سماجی فاصلہ رکھے ہوئے تھے۔ ہم میں سے کئی لوگ لاک ڈاؤن سے اکتاہٹ کا بھی شکار ہوئے اور صرف سینیٹائزر سے ہاتھ ملاتے پائے گئے۔ یقیناً100  سال بعد دنیا مزید تبدیل ہو گی، ہم میں سے جو بالغ لوگ آج موجود ہیں یقیناً وہ2121  میں اس دنیا میں موجود نہیں ہوں گے، پھر اس وقت کوئی تاریخ لکھے گا کہ2020  میں علما کرام کی کثیر تعداد میں موت کی وجہ کرونا وائرس تھی تو100  سال بعد2121  میں لوگ اس بات کو بالکل درست مان لیں گے، لیکن آج جو عاقل، بالغ لوگ اس دنیا میں موجود ہیں وہ خوب جانتے ہیں کہ مفتی زر ولی خان، مفتی محمد نعیم، مولانا عادل خان، علامہ خادم حسین رضوی اور جماعت اسلامی کے منور حسن سمیت متعدد ممتاز دینی و قومی شخصیات کرونا کی وجہ سے دنیا سے رخصت نہیں ہوئی ہیں، یہ بات فقط ریکارڈ کی درستگی کے لئے لکھی ورنہ وجہ جو بھی بنی علما کرام اور ممتاز دینی شخصیات کی جدائی نے دینی طبقے کو گہرے رنج و غم میں مبتلا کیا ہے، بالخصوص مولانا ڈاکٹر عادل خان شہید اور علامہ خادم حسین رضوی کی جدائی کا صدمہ دینی تحریکوں کے لئے ناقابل تلافی نقصان ہے۔

31  دسمبر2020  کو جب رات کے 12  بجے تب صرف ایک سال مکمل نہیں ہوا بلکہ ایک دہائی بھی مکمل ہوئی ہے۔ تحریک تحفظ ناموس صحابہ کے لئے2020  کا سال گزشتہ دہائی کا سب سے بہترین سال تھا، اس سال گرفتاریاں، جبری گمشدگیاں اور ٹارگٹ کلنگ گذشتہ سالوں کی نسبت بہت کم ہوئی، جھوٹے مقدمات بھی گذشتہ سالوں کی نسبت کم درج ہوئے جبکہ اس کے مقابل کئی کامیابیاں تحفظ ناموس صحابہ کی تحریک کے پلڑے میں اس سال آ کر گریں۔ رکن پنجاب اسمبلی مولانا معاویہ اعظم صاحب کی جہد مسلسل کی وجہ سے پنجاب اسمبلی میں تحفظ اساس بنیاد اسلام بل متفقہ طور پر منظور ہوا حالانکہ اس بل کے خلاف ایک منظم سازش ہوئی اور تاحال گورنر پنجاب نے اس پر دستخط نہیں کئے ہیں لیکن اس بل کی منظوری کی وجہ سے دیوبندی، بریلوی اور اہل حدیث کا اتحاد جو ایک خواب تھا جو2020  میں پورا ہوا بلکہ اگر یوں کہا جائے کہ2020  میں تحفظ ناموس صحابہ کی تحریک پر امت کا اجماع ہوا تو یہ بات بے بنیاد نہیں ہو گی۔

تحفظ ناموس صحابہ کے لئے ملک بھر میں تاریخی عظمت صحابہ مارچ ہوئے، لیکن کراچی بازی لے گیا، تاریخ کی آنکھ نے وہ منظر بھی اپنی نظر میں محفوظ کیا کہ11  ستمبر کو لاکھوں کی تعداد میں دیوبندی مسلک کے لوگ سڑکوں پر تھے،12  ستمبر کو بریلوی مسلک کے لاکھوں اور13  ستمبر کو اہل حدیث مسلک کے لوگ سڑکوں پر نکلے،2020  میں ایسا بھی وقت آیا کہ دشمن صحابہ تنہا رہ گیا، اسے خود محسوس ہو رہا تھا کہ ہم اچھوت بن گئے لیکن تاریخ شرما جائے گی ایسے ناموں پر کہ جو ایسے وقت میں دشمنان صحابہ کو سہارا دینے کی کوشش کرتے رہے، باقی یہ بات بھی سمجھنے کی ہے کہ مفتی منیب الرحمن نے جب اصحاب رسول ۖ کی عزت و ناموس کے تحفظ کی بات کی تو انہیں رویت ہلال کمیٹی کے چیئرمین کے منصب سے ہٹا دیا گیا، مولانا عادل خان شہید نے تحفظ ناموس صحابہ کی بات کی تو انہیں گولیوں سے بھون دیا گیا، حق گوئی کی یہ قیمت اکابر کو بھی ادا کرنی پڑی۔

خیر2020  نے تو دنیا ہی بدل ڈالی۔ دنیا میں رہنے کا چال چلن بالکل بدل چکا ہے۔ گھروں میں محبوس رہنے والے افراد رفتہ رفتہ ای کامرس یعنی آن لائن تجارت میں مشغول ہوتے گئے، ای کامرس کی بدولت صارف اپنی من پسند مصنوعات کو بغیر وقت ضائع کیے دیکھ اور خرید سکتا ہے اور اپنی جگہ پر بیٹھے بیٹھے مختلف اشیاء کی قیمت، مقدار، اجزا ترکیب کا موازنہ کر سکتا ہے جو کہ روایتی بازار میں شاید ممکن نہیں۔ اب 13 دسمبر2020  سے کرونا وائرس کی دوسری خطرناک لہر کیا چاند چڑھاتی ہے یہ تو معلوم نہیں لیکن پہلی لہر کے دوران وائرس ایک رپورٹ کے مطابق دنیا کی آٹھ کروڑ آبادی میں گھسا اور تقریباً ساڑھے سترہ لاکھ کے قریب لوگوں کی جان لے لی۔ ابھی معلوم نہیں کہ کتنے اور لاکھ جان سے جائیں گے اور اب بڑوں کی بجائے بچوں اور جوانوں میں بھی سرایت کرے گا۔

اللہ تعالی 2021  کو ہمارے لیے رحمتوں اور برکتوں والا سال بنائے اور ہمارے اس پاک وطن کو اپنے حفظ و امان میں رکھے اور نظر بد سے بچائے۔ آمین!

یہ بھی پڑھیں

باچا خان کی تعلیمی اصلاحات (گذشتہ سے پیوستہ)

تحریر:نواب علی یوسفزئی لالا کوٹورام:جناب صدر! صداقت سے بھر ے جن الفاظ میں یونیورسٹی بل …