بڑے انسان، بڑے رہنما اور بڑے سیاستدان

بڑے انسان، بڑے رہنما اور بڑے سیاستدان

تحریر: انور زیب

باچا خان بابا کو دیکھنے اور ان سے ملنے کا سلسلہ1970 ء کے بعد شروع ہوا جب وہ افغانستان سے واپس آئے۔ وہ اکثر ہمارے حجرہ گاؤں مانیری آتے رہتے تھے۔ ان کو دیکھ کر محسوس نہیں ہوتا تھا کہ کوئی اجنبی آیا ہے، ہاں البتہ ہر بار ان کی شخصیت بارے تجسس بڑھتا رہتا تھا۔ اس دن بھی ان کو قریب سے دیکھنے اور سننے کا موقع ملا جس دن خدائی خدمتگار فردوس خان عرف کوکو کاکاجی کے جنازے اور لحد میں اپنے ہاتھوں سے اتارنے بمع ولی خان اور دوسرے خدائی خدمتگاروں کے موجود تھے۔

اس دن بھی ان کی سادہ زبان میں مگر پر مغز تقریر سنی۔ کچھ عرصہ بعد بابا واپس افغانستان چلے گئے۔ ان سے سالوں بعد ملاقات ان کے گھر شیشم باغ، جلال آباد میں ہوئی جہاں آج کل وہ ابدی نیند سو رہے ہیں۔ اس وقت میں اسلامیہ کالج فرسٹ ائیر کا طالب علم تھا۔ افغان ثور انقلاب کی پہلی سالگرہ تھی، میں اور میرا چچا زاد بھائی نعیم خان پہلی سالگرہ میں شرکت کے لئے کابل جا رہے تھے۔ رات دیر سے پہنچ کر بابا کے ہاں جانے کی بجائے ہوٹل میں کمرہ لیا تاکہ رات انڈین فلم کا آخری شو دیکھنے جائیں لیکن وہ رات قیامت خیز رات ثابت ہوئی کیونکہ جلال آباد گریژن میں فوج کے اندر بغاوت ہوئی تھی جس کو کہیں صبح جا کر کچلا گیا۔

رات وقفے وقفے سے جہاز اڑ کر بمباری کرتے رہے۔ جلال آباد گولیوں کی آوازوں سے گونجتا رہا۔ سال کے اندر فوج میں ہرات کے اسماعیل خان کے بعد یہ دوسری مشہور بغاوت تھی۔ ساری رات سینما کے اندر گولیوں کی گونج میں رات گزارنی پڑی۔ صبح گیارہ بجے کے قریب بابا سے ملنے شیشم باغ گئے۔ گھر میں داخل ہوتے ہی خدائی خدمتگار ساقی صاحب سے ملاقات ہو گئی جو بابا کے ساتھ رہ رہے تھے۔ اس دن انڈین سفیر نور محمد ترکئی کے ایلچی کی حیثیت سے بابا سے ملنے آئے تھے۔ بابا افغان حکومت سے اختلاف رکھنے کی وجہ سے ناراض تھے اور ترکئی صاحب ان کو منانا چاہتے تھے۔ ابھی روسی افغانستان نہیں آئے تھے۔

بابا فارغ ہونے کے بعد ہم سے ملنے آئے۔ لکڑی کا عصا ان کے ہاتھ میں تھا۔ مجھ سے ملتے ہی پوچھنے لگے یہ داڑھی کب نکل آئی ہے اور کیا اس کو مستقل رکھوگے؟ لیکن میں شرم کے مارے خاموش رہا۔ اس کے بعد ساقی صاحب سے کہا کہ کھانا ایک ساتھ کھائیں گے۔ مذاق میں یہ بھی کہا کہ اگرچہ میں کسی کو کھانا نہیں کھلاتا لیکن (میری طرف اشارہ کرتے ہوئے) یہ میرا خاص مہمان ہے۔

اس کے بعد بابا نعیم لالاجی سے پختون ٹرسٹ کے معاملات اور حساب کتاب بارے گفتگو کرنے لگے جو ٹرسٹ کے ممبر تھے۔ اس زمانے میں یہ باچا خان نہیں بلکہ پختون ٹرسٹ تھا۔ ان سے طویل گفتگو کے بعد کھانا کھانے بیٹھ گئے،کھانا بہت ہی سادہ تھا، بابا زیادہ تر مکئی کی روٹی اور ساگ پسند کرتے تھے۔ اس دن بھی یہی چیزیں لہسن بھری پلیٹ میں کھانے کیلئے موجود تھیں۔ ان کو صوابی کی مکئی سے بہت رغبت تھی جس کا ذکر اس دن بھی ہوا، ہنسی مذاق اور گپ شپ میں کھانا کھانے کے بعد ہم وہاں سے رخصت ہوئے۔

ہم جلال آباد میڈیکل کالج درونٹہ چلے گئے، رات ڈاکٹر بختیار کے ساتھ گزاری، دوسرے دن کابل اجمل خٹک بابا کے ہاں چلے گئے۔ میں جب بابا کی ساری زندگی پر نظر ڈالتا ہوں تو مجھے اس میں ہر وہ خوبصورت رنگ نظر آتا ہے جو دل و دماغ کی دنیا کو روشن کرتا ہے۔ مثلاً اشتراکی رنگ، اپنی تحریک کو سرخپوش کا نام دینے سے لیکر ’’پورہ وی کہ سپورہ وی یو ذائے بہ وی‘‘ (یعنی تر روٹی ہو یا خشک ایک ساتھ ہوگی کے نعرے تک) غیر فرقہ ورانہ یعنی نسل، علاقے اور مذہب سے بالا تر گلدستہ نما زندگی کا رنگ، پختونوں کو تعلیم سے آراستہ کرنے کے لیے اس دور میں آزاد سکولوں کا قیام، یعنی جدیدیت اور جدید دنیا سے آراستہ و پیوستہ کرنے کا رنگ اور عملی زندگی یعنی بود و باش میں صوفیانہ، دیہاتی اور درویشانہ رنگ، اس لئے تو ملنگ با با ٹھہرے۔ بابا کی راست بازی کا اور جرات کا رنگ جس کی خوبصورتی کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ وہ واحد کانگریسی رہنما تھے جنہوں نے بغیر کسی خوف نہ صرف بھگت سنگھ کی پھانسی کی سزا کی شدید مخالفت کی تھی بلکہ اس کے جنازے میں بھی شامل ہوئے تھے۔

بابا بہت پہلے اس مقام پر پہنچ گئے تھے جن کو بہت پہلے پبلک پراپرٹی سمجھنا اور ڈیکلیئر کرنا چاہیے تھا۔ یقیناً یہ خطہ اور یہاں کے باسی کئی حوالوں سے خوش قسمت ہیں جس میں باچا خان بابا نے جنم لیا۔ بقول شاعر ’’ستی جانہ پختانہ بہ غلامان وو کہ پیدا پہ دوئی کی فخرِ افغان نہ وے‘‘ آج اس خطے کو اور اس خطے کے عوام کو باچا خان فخر افغان کے اصولوں پر چلنے ہی کی نہیں بلکہ حقیقت میں پختونوں کو ان کے افکار کو اپنانے کی ضرورت ہے کیونکہ وہ اس صدی کے سب سے بڑے انسان، بڑے رہنما اور بڑے سیاستدان تھے۔

Google+ Linkedin

1 تبصرہ

  • ABDUSSALAM, Guljee

    کے افکار کو اپنانے کی ضرورت ہے کیونکہ وہ اس صدی کے سب سے بڑے انسان، بڑے رہنما اور بڑے سیاستدان

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔

*
*
*