ایوب خان کی مارشل لاء اور باچا خان کی جمہوری جدوجہد

ایوب خان کی مارشل لاء اور باچا خان کی جمہوری جدوجہد

تحریر: نواب علی یوسفزئی

جس وقت پنجابی بیورکریسی نے ون یونٹ بنا کر سندھ، بلوچستان اور صوبہ سرحد کو اپنے زیر تسلط کرکے ان کے قدرتی وسائل پر غاصبانہ قبضہ کرلیا تو اسی لمحہ باچا خان اور ڈاکٹر خان صاحب کے سیاسی راستے جدا ہوگئے۔ ڈاکٹر خان صاحب مغربی صوبے کے وزیر اعظم بن گئے اور باچا خان کو گرفتار کرکے جیل بھیج دیا۔ باچا خان نے 6 ستمبر 1965ء کو اپنا تاریخی عدالتی بیان تحریری شکل میں عدالت میں پیش کیا مگر اس کے باوجود عدالت نے اس کو قید کی سزا سنا دی اور بعد میں 25 جنوری 1957ء کو ان کو رہائی ملی۔ ان کے رہا ہونے کے فوراً بعد نیشنل عوامی پارٹی (نیپ )بن گئی جس میں مغربی اور مشرقی پاکستان و تمام پارٹیاں اور ان کے لیڈر شامل ہوگئے جن کی سوچ سامراج دشمن وغیر فرقہ وارانہ تھی۔ نیپ میں سندھ ہاری کمیٹی ، آزاد پاکستان پارٹی، خدائی خدمتگار تحریک، سندھ متحدہ محاذ اور مولانا بھاشانی کی عوامی لیگ شامل تھی

مولانا بھا شانی نیپ کے پہلے صدر منتخب ہوئے۔ نیپ کا منشور یہ تھا کہ ون یونٹ کو ختم کرو، پاکستان میں آزادانہ انتخابات، بنیادی انسانی جمہوری حقوق کی پاسداری اور عوام کے ووٹ سے منتخب پارلیمنٹ کا قیام جیسے مطالبوں اور نعروں پر بنا یہ آزاد اور غیر جانبدار خارجہ پالیسی قومی دولت کے چھوٹے زمینداروں اور کاشتکاروں میں زمین کی تقسیم اور سب سے بڑھ کر ہر بالغ شہری کو ووٹ کا حق دینا تھا۔ مگر ان قومی جمہوری حقوق کی بحالی میں سب سے بڑی رکاوٹ ون یونٹ تھا۔

جو ان تمام مسائل کی جڑ تھی۔ قدرتی وسائل اور جمہوری حقوق پرغاصبانہ قبضہ جمایا ہوا تھا اور قومی دولت کی لوٹ مار میں سول اور فوجی نوکر شاہی مصروف تھی۔ دوسری اہم بات یہ تھی کہ نیپ آزاد غیر جانبدار خارجہ پالیسی کی وکالت کررہی تھی۔ ان کی یہی ادا مغربی سامراجی ممالک کو مقبول و منظور نہ تھی اور نہ ہی ملک کے اندر سامراجی قوتوں کے دلالوں کو یہ پروگرام ہضم ہورہا تھا۔ سامراجی طاقتوں نے پاکستان اس لئے نہیں بنایا تھا کہ اس میں باچا خان اور نیپ کی سامراج دشمن قوانین بنیں یا عوام کی مرضی اور بالادستی قائم ہو جو مسلمانوں کی ہمدرد اور غریب عوام کی خواہشوں کی تکمیل ہو پاکستان ایک آزاد ریاست ہو، پاکستان کی تخلیق کا مقصد تو کمیونیزم کے خلاف اپنی پرانی شمال مغربی سرحد کو محفوظ اور مضبوط رکھنے کیلئے بنایا گیا تھا تاکہ یہاں سے مشرقی وسطیٰ اور ایران کے تیل کے ذخیروں پر قبضہ قائم رکھ سکے اور روس کے خلاف سینٹو اور سیٹو کی فوجی معاہدوں میں شریک ہوں اور ان کی خدمت میں ہر وقت حاضر جناب ہوں جس طرح بڈھ بیر کا امریکی فوجی اڈے کی صورت میں امریکہ کو روس کی جاسوسی کرنے کیلئے استعمال کیا جاسکے چونکہ سامراجی قوتوں اور انکی گماشتہ پنجابی نوکر شاہی کو بخوبی معلوم تھا کہ باچا خان کا سیاسی قد و کاٹ کتنا بلند ہے اور انکے زیر قیادت جمع ہونے والے قوم پرست ترقی پسند جمہوریت دوست (۱) پنجاب آزاد پاکستان پارٹی کے سربراہ میاں افتخار الدین اور میاں محمود علی قصوری (۲) سندھ محاذ کے رہنما جی ایم سید اور شیخ عبد المجید سندھی تھے۔ (۳)سندھ ہادی کمیٹی کا رہنما حیدر بخش جتوئی تھے۔(۴) بلوچستان ورور پختون پارٹی کے مشر عبد الصمد خان اچکزئی صاحب اور محمود ہاشم غلزئی تھے۔ (۵) استہان گل پارٹی بلوچستان کا لیڈر شہزادہ عبد الکریم اور میر غوث بخش بزنجو تھے۔

اس وقت کے صوبہ سرحد اور آج کی صوبہ پختونخوا سے خدائی خدمتگار تحریک کے رہبر خان عبد الغفار خان تھے اور مشرقی پاکستان سے عوامی لیگ سے مولانا عبد الحمید بھشانی اور محمود الحق عثمانی صاحب، گنتری دل سے محمود علی سلہٹی صاحب ، ان سب نے اکھٹے ہو کر نیشنل عوامی پارٹی بنائی ان میں صرف دو شخصیات باچا خان اور عبد الصمد خان اچکزئی صاحب کے علاوہ تمام لیڈر صاحبان مسلم لیگ سے تعلق رکھتے تھے یا پھر ان کے ہم خیال رہے تھے یہ سب جمہوریت پسند لیڈر تھے جن کی وجہ سے بیرونی اور اندرونی سامراجی غیر جمہوری اور عوام دشمن حلقوں کے اوسان خطا ہوگئے جو انگریز بیوروکریسی کے پیداوار تھے۔ جناح صاحب اور لیاقت علی بہت جلد اس دنیا سے رحلت فرما گئے ان کی وفات کے بعد اب پاکستان پنجابی مہاجر اور فوجی بیورو کریسی کی جاگیر بن گئی۔

جب غلام محمد بیورو کریٹ آئے تو اس نے جمہوریت کا گلہ گھونٹ دیا۔ اب سول بیوروکریسی کے ساتھ فوجی بیورو کریسی بھی شامل ہوگئی جس کا جنرل ایوب کمانڈر انچیف تھا جو 1954ء میں پاکستان کا ویز دفاع بھی بن گیا۔ جس نے 15 دن بعد تاج برطانیہ کے دور کے سابق ڈپٹی کمشنر سکندر مرزا جو اب پاکستان کا صدر بن گیا تھا جس کے ہاتھ انگریزی دور میں جنگ آزادی کی جنگ لڑنے والے خدائی خدمت گاروں پر بہت ظلم کئے تھے ان کے ہاتھوں بہت خدائی خدمتگار شہید ہوئے تھے جو آزادی کے علمبردار اور انگریز کے مخالف تھے جبکہ سکندر مرزا انگریز کا نوکر اور آزادی کا سخت مخالف تھا، تو اب پاکستان کی بھاگ ڈور سب انگریزوں کے وفاداروں کے ہاتھوں میں تھی۔

ان کا جمہوریت اور پارلیمنٹ پر کوئی اعتماد اور نہ بھروسہ تھا کیونکہ جمہوریت پسند اور عوام دوست قوتیں جو نیپ کی شکل میں ون یونٹ تھوڑنے اور ایک آدمی ایک ووٹ کے تحت انتخابات کرانے کا مطالبہ کررہے تھے۔ اس لئے ان کو ملک دشمن قرار دیا گیا۔ اب خارجی سامراجی طاقتیں اور داخلی اور ان کے نمک خواروں نے آپس میں گٹھ جو ڑ کر لیا تو سکندر مرزا نے فوجی جنرل ایوب کو نیپ کی صورت میں عوامی سیلاب کو بند باندھنے کیلئے ملک میں مارشل لا لگانے کا مشورہ دیا جس سے ملک فوجی قانون تلے دب گیا۔ اکتوبر 1958ء میں ملک کے تمام سیاسی پارٹیوں کو غیر قانونی قرار دے کر ان پر پابندی لگا دی گئی ان کا اصل مقصد نیپ پر پابندی لگانے اور ان کے لیڈروں کو گرفتار کرکے جیلوں میں قید کرنے کیلئے تھا اب فوجی جنتا نے سول بیور کریسی کا اختیار بھی اپنے ہاتھ میں لینے کیلئے صدر سکندر مررزا کو برطرف کرکے سیدھا لندن بھیج دیا اور ملک کے تمام اختیارات کا مالک ایک فوجی جنرل بن گیا جس کا پاکستان کی آزادی میں کوئی کردار نہ تھا بلکہ یہ آزادی کے وقت انگریز حکومت کا تنخواہ دار ملازم تھا۔

اب جنرل ایوب خان نے مارچ 1969ء تک بلا شرکت غیرے حکومت کی چونکہ باچا خان نے اس فوجی امر کی ناجائز حکومت کو تسلیم کرنے سے انکار کیا وہ ایک جمہوریت پسند لیڈر تھے انہوں نے ون یونٹ کو ختم کرنے صوبوں کو بحال کرکے عام انتخابات کرانے کیلئے جدوجہد اور فوجی حکومت کو نہ ماننے کے مطالبے زور و شور سے شروع کئے، انہوں نے فوجی قانون کی بھر پور مخالفت کی اور عدالت میں اس کو چیلنج کیا تو سامراجی حکمران آشیر باد حاصل کرتے ہوئے باچا خان کو راستے سے ہٹانے کیلئے ان کو جیل میں ڈال دیا اور نیپ کے دوسرے مقامی لیڈروں اور کارکنوں سے جیلیں بھر دی بلوچستان میں ایسے مظالم بلوچی عوام پر ڈالے جس کی تاریخ میں نذیر نہیں ملتی یہاں تک کے بلوچی عوام اور پاکستانی فوج کی جنگ چھڑ گئی۔ آخر کار ایوب خان نے بلوچ قوم کے سرداروں کو قران شریف پر ہاتھ رکھ کر صلح کرانے کی دعوت دی جب یہ سردار صلح کرنے آئے تو ان کو گرفتار کرکے سات بڑے سرداروں کو پھانسی دی گئی اور صوبہ پختونخوا کی جیلوں میں 20 ہزار کارکنوں کو قید کیا جن میں صرف ہری پور جیل سے 17 خدائی خدمتگار کارکنوں کے جنازے نکلے ان کے بچوں کو یتیم اور بیویوں کو بیوا کردیا ان کی جائیدادیں بحق سر کار ضبط کرلی گئی ان کا قصور یہ تھا کہ وہ ون یونٹ ختم کرنے کا مطالبہ کررہے تھے اور صوبائی خودمختاری مانگ رہے تھے۔

وہ ملک میں جمہوریت اور عام انتخابات کے ذریعے اپنے نمائندے پارلیمنٹ کو بھیجنا چاہتے تھے۔ باچا خان، عبد الصد خان اچکزئی اور شہزادہ عبد الکریم کو ملک کے دور دراز علاقوں کی جیلوں میں الگ الگ بند کیا گیا تھا جیلوں میں وہ ناروا سلوک ہوا جو انگریز کی دور میں بھی نہیں ہوا تھا۔ جب نیپ کے تمام لیڈروں اور سرکردہ کارکنوں اور عہدے دراروں کو لمبی لمبی سزائیں دے کر ان کا راستہ ہر قسم کی مخالفت سے صاف ہوا تو پھر جنرل ایوب خان نے اپنی سیاسی جماعت کنونشن کے نام سے بنایا جس کا سیکرٹری جنرل جناب ذوالفقار علی بھٹو تھے۔

اس سیاسی جماعت میں انگریزوں کی باقیات کالے انگریز اور علی گڑھ کی وہ خاص ذہن رکھنے والے سرسید احمد خان کی نظریات رکھنے والوں کو اعلیٰ عہدے اور منصب عطا کردیئے۔ اب ان کی سرپرستی کیلئے مسٹر جناح اور لیاقت علی خان کی بجائے جنرل ایوب خان میدان میں موجود تھے جو پاکستان کے سیاہ سفید کے مالک بن گئے، پاکستان میں ذوالفقار علی بھٹو جو جنرل ایوب کے کچن کینٹ کا بااعتماد ساتھی اور ملک کے وزیر خارجہ تھے۔ اس دوران باچا خان قید تنہا جیل کی مشقت ناقص خوراک ناسازگار فضا اور علاج معالجہ کے نہ ہونے کی وجہ سے ان کی صحت روز بروز خراب ہورہی تھی ان کا وزن تشویشناک حد تک کم ہوگیا تھا حالانکہ تاج برطانیہ سے جنگ آزادی لڑتے وقت 1919ء سے لیکر 1947ء تک 15 سال ہندوستان کی مختلف جیلوں میں قید رہے اور اس کے برعکس پاکستان بننے کے ساتھ جون 1948ء سے لیکر 1946ء تک 17سال قید مشقت کی سزائیں کاٹی کیونکہ پاکستان اسلام کا قلعہ تھا اور حکومت مسلمان تھی اور ان کے سربراہ امیر المومنین تھے اور باچا خان کا قصور یہ تھا کہ انہوں نے پہلے مسلمانان ہند کی تقسیم کرنے کی مخالفت کی تھی اور پاکستان بننے کے بعد غیر جانبدار انتخابات آزاد پارلیمنٹ دولت کی مساوی تقسیم صوبائی خودمختاری، قدرتی وسائل کا ہر ایک صوبے کا برابر حصے کا مطالبہ تھا۔

یہ نیپ کا قصور تھا چونکہ پاکستانی اقتدار ایسے چوروں اور ڈاکوئوں نے قبضہ کیا تھا وہ اس بار دیانت دار مخلص اور وطن کے ساتھ محبت کرنے والوں کو برداشت نہیں کرسکتے تھے۔ وہ ان لوٹ مار کرنے والوں سے حساب مانگ رہے تھے اور ملک کی خارجہ پالیسی کو غیر جانبدار دیکھنے اور آزاد خارجہ پالیسی بنانے کی آوازیں ان سامراجی طاقتوں کو بری لگ رہی تھی چونکہ برطانیہ سامراجی طاقتوں کو بری لگ رہی تھی ، برطانیہ سامراجی حکمرانوں نے آزادی کی جنگ میں خدائی خدمتگارو پر ظلم و ستم جبر و بربریت کی انتہا کی تھی وہی کالے تھا نیدار اور ڈپٹی کمشنر فوجی حوالدار اب پاکستان میں اونچے اونچے عہدوں پر براجمانتھے تو قدرتی امر ہے کہ ان کی وہی سامراجی رویئے اب بھی وہی تھے بلکہ اب تو اس کالے انگریز کی عادات میں کوئی تبدیلی نہیں آتی تھی۔

انکے رویئے خدائی خدمتگاروں سے اور بھی نفرت انگیز تھے وہ کسی صورت خدائی خدمتگاروں کو برداشت نہیں کرسکتے تھے وہ کسی صورت خدائی خدمتگاروں کو برداشت نہیں کرسکتے تھے۔ ان کو یہ جمہوریت پسند لوگ پسند نہیں تھے کیونکہ ان کو غیر جمہوری فضا راس آرہی تھی کیونکہ چور تو دن کی روشنی میں واردات نہیں کرسکتے ان کو تو اندھیر نگری چوپٹ راج کا ماحول چاہیئے تھا۔باچا خان تو روشنی امن بھائی چارے برابری کی سطح پر عوامی راج کے علمبرادار تھے جس جنرل ایوب خان نے تمام جمہوری قوتوں کو دھونس دباؤ لالچ اور سیاسی رشتوں سے دیا۔ اپنی کرسی مضبوط کرلی تو پھر ان کو انسانیت یاد آنے لگی۔ ڈاکٹروں اور ان کے سیاسی مشیروں نے جنرل ایوب خان کو مشورہ دیا کہ باچا خان کو علاج کیلئے ملک سے باہر بھیج دو۔

جس میں ہماری بھلائی ہے اور دوسری بات یہ ہے کہ وہ عوام سے کٹ جائے گا۔ ہمارے لئے راستہ صاف ہوجائے گا۔ تو دوسری طرف ہم کو ان کے خلاف پروپیگنڈہ کرنے کا موقع بھی مل جائے گاکہ دیکھو باچا خان اپنی قوم کو بھول گئے اور تیسری بات یہ کہ خدائی خدمتگار اب 60 سال کے عمر کو پہنچ گئے ہیں ان میں کوئی طاقت اور انرجی باقی نہیں رہی۔ جس کی وجہ سے اب ہمارے مشن میں کوئی سیاسی رکاوٹ نہیں رہے گا اور چوتھی وجہ اسکی یہ ہوگی کہ نیپ بغیر لیڈر شپ کی ہوجائے گی۔ ان مندرجہ بالا مقاصد کو مد نظر رکھتے ہوئے عوام کو یہ باور کرانا چاہتے تھے کہ ہم انسانیت اور بھلائی کی خاطر باچا خان کو علاج کیلئے ملک سے باہر بھیج رہے ہیں ہم کو ان کی صحت کی خرابی پر بہت تشویش ہے یہ سب باتیں ان کی فکرو فریب اور سیاسی چال تھی جو پنجابی نوکر شاہی اورفوجی امریت و مسلم لیگی لیڈروں کے فائدہ میں تھی جب کہ 1962ء میں ایمنسٹی انٹرنیشنل نے باچا خان کو ایک مثالی قیدی کا تمغہ دینے کا اعلان کیا تھا اور بین الاقوامی سطح پر جواہر الال نہرو نے باچا خان کے ساتھ نا انصافی ، ظلم و جبر کے خلاف مہم شروع کر رکھی تھی افغان حکومت نے بھی باچا خان کی رہائی کیلئے روایتی طور پر مطالبہ کیا تھا مگر افغان حکومت کا یہ اعلان مکر و فریب تھا

وہ باچا خان کی قید پر خوش ہیں یا رہائی پر یا پختون قوم کو دھوکہ دینے کیلئے چیخیں لگا رہی ہیں آخر کار جنرل ایوب خان سرکار نے باچا خان کو علاج کی غرض سے ملک سے باہر جانے کی اجازت دے دی۔ ستمبر 1964ء کو بغرض علاج انگلینڈ کیلئے روانہ ہوئے اور پھر وہاں سے مصر چلے گئے۔ اس کے بعد شاہ ظاہر شاہ کی حکومت کے پر زور اسرار پر باچا خان افغانستان تشریف لے گئے تھے۔ حالانکہ دسمبر 1972ء تک افغانستان میں قیام کیا۔باچا خان کے متعلق ایمنسٹی انٹرنیشنل کا بیان جرمنی زبان میں تحریر ہے۔ جس میں ان کو ’’ مثالی قیدی‘‘ قرار دیا گیا۔

Google+ Linkedin

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔

*
*
*