کورونا کی دوسری لہر، سیاحت کے شعبے سے وابستہ لاکھوں افراد شش و پنج میں

تحریر: افتخار ساحل

کچھ ماہ کے وقفے کے بعد کرونا کی وباء پوری شدت کے ساتھ دوبارہ حملہ آور ہو چکی ہے، انسانی جانوں کے بعد اس نے معیشت کو بری طرح نشانہ بنایا ہے اور ایک اندازے کے مطابق صرف پہلے مرحلے میں خیبر پختونخوا میں سیاحت سے وابستہ طبقے کو دس ارب روپے کا نقصان ہوا ہے اور چھپن ہزار سے زائد لوگوں کا روزگار متاثر ہوا ہے

چند ماہ پہلے جب پہلا مرحلہ اختتام کو پہنچا اور لوگوں کو احساس ہوا کہ شاید کرونا ختم ہو چکا ہے تو لوگوں نے امیدیں باندھ لیں کہ اب شاید یہ وباء دوبارہ نقصان پہنچانے کے قابل نہ رہے لیکن حکومت کے مطابق دوسرا مرحلہ پہلے کے مقابلے میں زیادہ شدت سے آیا ہے

کچھ ماہ کے وقفے کے بعد کرونا کی وباء پوری شدت کے ساتھ دوبارہ حملہ آور ہو چکی ہے، انسانی جانوں کے بعد اس نے معیشت کو بری طرح نشانہ بنایا ہے اور ایک اندازے کے مطابق صرف پہلے مرحلے میں خیبر پختونخوا میں سیاحت سے وابستہ طبقے کو دس ارب روپے کا نقصان ہوا ہے اور چھپن ہزار سے زائد لوگوں کا روزگار متاثر ہوا ہے۔


دوسری لہر کے پیش نظر سیاحت کے شعبے سے وابستہ لاکھوں افراد اب بھی شش و پنج میں ہیں کہ اگر دوبارہ لاک ڈاؤن ہوا تو یہ ان کی زندگیاں مزید اجیرن بنا سکتا ہے۔ چند ماہ پہلے جب پہلا مرحلہ اختتام کو پہنچا اور لوگوں کو احساس ہوا کہ شاید کرونا ختم ہو چکا ہے تو لوگوں نے امیدیں باندھ لیں کہ اب شاید یہ وباء دوبارہ نقصان پہنچانے کے قابل نہ رہے لیکن حکومت کے مطابق دوسرا مرحلہ پہلے کے مقابلے میں زیادہ شدت سے آیا ہے۔


صوبے میں سیاحت کے فروغ کے لئے کام کرنے والے ادارے خیبر پختونخوا ٹورازم، سپورٹس اینڈ یوتھ ڈویلپمنٹ ڈیپارٹمنٹ کا کہنا ہے کہ کرونا سے ہونے والے نقصان کا یہ تخمینہ سیاحت کے صرف تین بڑے سیکٹرز سے لیا گیا ہے جن میں ٹور آپریٹرز، ریسٹورنٹس اور ہوٹلز شامل ہیں۔ اس حوالے سے بات چیت میں محکمہ سیاحت کے ترجمان لطیف الرحمان نے اعتراف کیا ہے کہ سیاحت کے شعبے سے ان تین سیکٹرز کے علاوہ بھی لاکھوں لوگ بالواسطہ یا بلاواسطہ منسلک ہیں اور وہ بھی لاک ڈاؤن کے دوران ان کے برابر متاثر ہوئے ہیں لیکن حکومتی اعداد و شمار میں انہیں شمار نہیں کیا گیا۔


سیاحت کے اس کاروبار سے منسلک کچھ اور لوگ بھی ہیں جن میں چارسدہ کے سیاحتی مقام سردریاب میں سیاحوں کو دریا کی سیر کرانے والا34 سالہ مزمل خان بھی ایک ہے جس کے گھر کا چولہا بھی تب جلتا ہے جب یہاں آنے والے سیاح اس کی کشتی میں سیر کرتے ہیں۔ لاک ڈاؤن کے دوران جب سوات، کاغان، ناران اور سیاحت کے لئے دیگر مشہور مقامات بند کئے گئے تو ساتھ ہی چارسدہ کا سردریاب، نوشہرہ کا کنڈ پارک، صوابی کا ہنڈ اور ان جیسے تمام مقامات پر بھی سیاحوں پر پابندی عائد کر دی گئی جہاں زیادہ تر مقامی لوگ ہفتہ اور اتوار کو چھٹی کے دن بچوں کے ہمراہ جاتے ہیں۔ مزمل کا کہنا ہے کہ جب مارچ کے آخری ہفتے میں سردریاب کو بند کر دیا گیا تو ان کی روزی روٹی کا سلسلہ مکمل طور پر رک گیا۔ وہ کہتے ہیں کہ پہلے چند دن تو دوستوں اور رشتہ داروں سے قرضے لیتا رہا اور اس امید کے ساتھ وقت گزارتا رہا کہ سب کچھ بہت جلد بحال ہو جائے گا لیکن جب تنگدستی بڑھتی گئی تو متبادل روزگار کی سوچ شروع کر دی۔ انہوں نے کہا کہ پہلے گاؤں اور آس پاس کے علاقوں میں سائیکل پر چپس، ٹافیاں وغیرہ بیچنی شروع کر دیں لیکن جن جن علاقوں میں جاتا لوگ مجھے وائرس پھیلنے کے ڈر سے ٹوکنے لگے اور یوں یہ کام بھی بند کرنا پڑا۔


لاک ڈاؤن کے دوران نہ صرف مزمل بلکہ ان جیسے دیگر لاکھوں لوگوں کا یہی حال تھا جو ایسے مقامات پر چھوٹے موٹے کاروبار کرتے ہیں یا ہوٹلز وغیرہ میں محنت مزدوری کرتے ہیں۔ حکومتی اعداد و شمار کے مطابق سیاحت کے شعبے کی بندش کی وجہ سے56 ہزار افراد بے روزگار ہوئے لیکن ان میں مزمل اور ان جیسے ہزاروں، لاکھوں افراد کو شمار ہی نہیں کیا گیا جن کی روزی روٹی چھوٹے پکنک سپاٹس میں محنت مزدوری سے وابستہ ہے۔ خیبر پختونخوا کی صوبائی حکومت نے محکمہ سیاحت کی تجویز پر اس صنعت سے وابستہ افراد کو77 ملین روپے کا ریلیف دینے کا فیصلہ کیا جو ان ہوٹلز و ریسٹورینٹس مالکان اور ٹور آپریٹرز کو رجسٹریشن اور لائسنس فیس کی معافی کی صورت میں دیا جائے گا۔ اس ضمن میں 21 جولائی کو صوبائی کابینہ کے اجلاس میں فیصلہ کیا گیا ہے کہ ایک سال تک ٹریول ایجنسیز، ٹور آپریٹرز، ہوٹل اور ریسٹورنٹس مالکان سے کسی قسم کی لائسنس فیس نہیں لی جائے گی۔


دوسری جانب سوات ہوٹل ایسوسی ایشن نے اس حکومتی امداد کو اونٹ کے منہ میں زیرے کے برابر قرار دیا ہے۔ سوات ہوٹل ایسوسی ایشن کے صدر الحاج زاہد خان نے سیاحت کی صنعت کو پہنچنے والے نقصان کے حوالے سے حکومتی اعداد و شمار بھی مسترد کئے اور دعوی کیا کہ رواں سال کورونا وباء کی وجہ سے صرف ضلع سوات کی سیاحت کو ساڑھے9 ارب روپے کا نقصان اٹھانا پڑا ہے اور وباء کے دوران پچیس ہزار افراد بے روزگار ہوئے تھے۔ انہوں نے بتایا کہ مارچ سے لے کر اگست تک ہمارا سیزن ہوتا ہے لیکن بدقسمتی سے ملک میں جب حالات تھوڑے بہت سازگار ہو گئے تو سیزن گزر چکا تھا اور اس دوران دونوں عیدوں کے موقعوں پر بھی کوئی سیاح نظر نہیں آیا۔


محکمہ سیاحت خیبر پختونخوا کے مطابق خیبر پختونخوا میں کل471 ہوٹلز اور671 ریسٹورینٹس ہیں تاہم اس کے علاوہ ہزارہ اور ملاکنڈ ڈویژن میں سینکڑوں ایسے ہوٹلز موجود ہیں جو ابھی تک محکمہ کے ساتھ رجسٹرڈ نہیں ہیں۔ زاہدخان کا کہنا ہے کہ سوات میں کئی ایسے ہوٹلز ہیں جو لاک ڈاؤن کے دوران مالکان نے ہاسٹلز، کلینکس اور یا پھر دفاتر میں تبدیل کر کے ختم کر دیئے ہیں اور ایسا حال صوبے کے دوسرے اضلاع میں بھی ہے۔


ملک میں کورونا وائرس کی دوسری لہر کے بعد اس صنعت سے وابستہ افراد ایک بار پھر تشویش میں مبتلا ہو چکے ہیں۔ زاہد خان کہتے ہیں اگر دوبارہ لاک ڈاؤن نافذ کیا گیا تو اس انڈسٹری سے وابستہ افراد شائد کئی سالوں تک اپنے پاؤں پر کھڑے نہ ہو پائیں۔ دوسری جانب مزمل خان کہتے ہیں کہ اگر اس بار ان کی روزی روٹی کا ذریعہ بند ہو گیا تو انہیں فاقے کرنے پڑ جائیں گے۔ زاہد خان جیسے ہوٹل و ریسٹورینٹس مالکان اور ٹور آپریٹران کے نقصان کے ازالے کے لئے حکومت نے ان کو کم ہی سہی لیکن پھر بھی کچھ نہ کچھ ریلیف دینے کا فیصلہ کیا، محکمہ سیاحت کے ترجمان لطیف الرحمان کا کہنا ہے کہ بہت جلد ان کو مزید ریلیف بھی دیا جائے گا۔


دوسری جانب مزمل اور ان کے جیسے سیاحتی مقامات کے دیگر غریب مزدوروں کو ریلیف دینے کے لئے ابھی تک حکومت نے کسی قسم کا اعلان نہیں کیا ہے۔ لطیف الرحمان نے مشورہ دیا ہے کہ یہ لوگ حکومت کی جانب سے احساس ایمرجنسی کیش پروگرام سے استفادہ کر سکتے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں

باچا خان اور موجودہ ملکی، علاقائی اور بین الاقوامی فضاء

تحریر:شمیم شاہد فخرِ افغان، بابائے امن نے جن جن واقعات اور حالات کے پیدا ہونے …