کرتارپور گردوارہ کھل گیا، پشاور کی سِکھ کمیونٹی پھر کیا مطالبہ کررہی ہے؟

تحریر:خالدہ نیاز

صوبائی دارالحکومت پشاور میں اس وقت سکھوں کی دو عبادت گاہیں (گردوارے) مذہبی رسومات کی ادائیگی کیلئے فعال ہیں جن میں ایک نمک منڈی جبکہ دوسرا ہشت نگری میں واقع ہے، سِکھ کمیونٹی کے افراد علی الصبح 4بجے دعا کیلئے گردواروں کا رُخ کرتے ہیں ، شہر میں مقیم سِکھ دعا کیلئے نمک منڈی یا ہشت نگری گردوارہ جاتے ہیں تاہم صدر میں مقیم سِکھوں کو صبح 4 بجے ٹرانسپورٹ نہ ہونے کی وجہ سے جانے میں مشکلات کا سامنا ہوتا ہے جس کے باعث وہ اپنے گھروں پر عبادت کرنے پر مجبور ہیں

سکھ کمیونٹی سے تعلق رکھنے والی ایک خاتون نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پربتایا کہ ایک گردوارہ ہشت نگری میں ہے جبکہ دوسرا نمک منڈی ہے البتہ غلہ منڈی میں موجود تاریخی گوردوارہ کئی دہائیوں سے بند ہے جس کے باعث صدر کے سکھ نمک منڈی یا ہشت نگری گردوارے نہیں جاسکتے کیونکہ صبح سویرے ٹرانسپورٹ کا مسئلہ ہوتا ہے لہٰذا وہ چاہتے ہیں کہ غلہ منڈی میں گردوارے کو کھول دیا جائے تاکہ وہ آسانی سے اس میں اپنی عبادات کرسکیں

انہوں نے کہا کہ یہ گردوارہ 1902ء میں رجسٹر ہوا تھا لیکن پھر اس کو بند کردیا گیا تھا جو تاحال بند ہے، جس طرح پاکستان میں سکھوں کے لئے کرتار پور گردوارہ کھولا گیا ہے اسی طرح غلہ منڈی والا گردوارہ بھی تاریخی ہے اس کو بھی کھولا جائے

اس حوالے سے سکھ کمیونٹی کے جنرل سیکرٹری اشونی کمار نے بتایا کہ تقسیم ہند سے پہلے آر اے بازار میں ایک گردوارہ تھا جس کے ساتھ مندر بھی تھا جس کے بعد ہندووں اور سکھوں کے درمیان اس پر لڑائی جھگڑے ہونے لگے جس کے بعد حکومت نے اس گردوارے کو بند کردیا اور اس گردوارے کے حوالے سے ان کا ایک کیس بھی چل رہا ہے

انہوں نے بتایا ‘ تنازعے کے بعد ہم نے ہندوئوں کے ساتھ ایک جرگہ کیا اور اس بات پرفیصلہ ہوا کہ ہم یہ جگہ مندر کے لیے چھوڑ دیں گے اور اس کے متبادل ہمیں دوسری جگہ گوردوارہ دیا جائے گا، پھرہم نے مطالبہ کیا کہ غلہ منڈی میں جو گردوارہ بند پڑا ہے اس کو سکھ کمیونٹی کے لیے کھول دیا جائے تاکہ ہم وہاں اپنی عبادت کرسکیں

اشونی کمار نے الزام لگایا کہ اس گردوارے میں کچھ لوگ کرایہ پر رہ رہے ہیں جس پر انکو اعتراضات ہیں کیونکہ یہ ایک مقدس جگہ ہے جہاں سکھ کمیونٹی کے لوگ عبادت کرتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اس سلسلے میں متعلقہ حکام کے پاس بار بار گئے لیکن یقین دہانی کے باوجود ان کے مسئلے کو حل نہیں کیا گیا جس کے بعد احتجاج پرمجبور ہوئے۔ انہوں نے کہا کہ اس سلسلے میں پشاور میں احتجاج اور ریلیاں نکالی جاچکی ہے جس میں ہمارے ساتھ ایم پی اے رنجیت سنگھ نے بھی حصہ لیا تھا

سکھ برادری کے حقوق کے لیے کام کرنے والے گورپال سنگھ نے اس حوالے سے کہا کہ متعلقہ اداروں اور حکومت کو چاہیئے کہ سکھوں اور ہندوؤں کے مابین عرصہ دراز سے جاری اس تنازعے کو حل کریں اور غلہ منڈی گردوارہ سکھوں کو دیکر آر اے بازار والی جگہ ہندوؤں کو دی جائے

انہوں نے یہ بھی کہا کہ احتجاج کرنا ہرکسی کا بنیادی حق ہے تاہم منتخب عوامی نمائندوں کو چاہیئے کہ سڑکوں پر احتجاج کے بجائے اسمبلی اور متعلقہ فلور پر لوگوں کے حقوق کے لیے آواز اٹھائیں۔ گورپال سنگھ نے کہا کہ ایم پی اے جو احتجاج کررہا ہے ان کو چاہیئے کہ اسمبلی میں سکھ کمیونٹی کے لیے بات کریں، متعلقہ محکمہ کے لوگوں کے ساتھ انکی ملاقات کرائیں اور ان کو اس بات پرقائل کریں کہ یہاں سکھ برداری کی تعداد زیادہ ہے لہذا غلہ منڈی میں موجود گردوارہ ان کے لیے کھول دیا جائے

دوسری جانب اقلیتی برادری کے لیے وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا محمود خان کے معاون خصوصی اور ایم پی اے وزیر زادہ کا اس حوالے سے کہنا ہے کہ غلہ منڈی گردوارے کا مسئلہ آج یا کل کا نہیں بلکہ سالوں پرانا ہے اور ان کی حکومت کوشش کررہی ہے کہ جلد از جلد یہ گردوارہ سکھ برادری کے حوالے کیا جائے

انہوں نے کہا کہ اپوزیشن ویسے ہی اس مسئلے کو بڑھا چڑھا کرپیش کررہی ہے حالانکہ یہاں ان کی بھی حکومت گزر چکی ہے انہوں نے کیوں اس گردوارے کو نہیں کھولا؟

ایم پی اے وزیر زادہ نے کہا کہ گردوارہ کھولنے کا مطالبہ سکھ کمیونٹی کا حق ہے اور ہم کوشش کررہے ہیں کہ جتنی جلدی ہوسکیں اس کو کھول دیا جائے۔ انہوں نے بتایا کہ پی ٹی آئی کی حکومت اقلیتوں کے مسائل کی طرف خصوصی توجہ دے رہی ہے اور جہلم اور پنجاب میں گردوارے کھول چکی ہے اور جتنے بند ہیں ان کو جلدی کھول دیا جائے گا

وزیر زادہ نے بتایا کہ سکھ برادری نے اس سے پہلے یہ مسئلہ نہیں اٹھایا تھا لیکن اب چونکہ اٹھایا ہے تو ان کے مطالبے کو جلد پورا کیا جائے گا کیونکہ حکومت رسالپور اور پشاور میں دو مندوروں کو بھی چند دنوں میں کھولنے کا ارادہ رکھتی ہے۔

یہ بھی پڑھیں

بانی افغانستان احمد شاہ ابدالی، ایک عظیم فاتح

پشتونوں کی تاریخ میں ایک عظیم فاتح اور بادشاہ گزرا ہے جسے ساری دنیا احمد …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔