باچاخان،پختونوں کے مسیحا

سردارحسین بابک

کہاجاتاہے کہ عام طورپردنیامیں دوقسم کے انسان بستے ہیں ایک تو وہ جوحقیقت پسند ہیں اور دوسرے وہ جوکسی نصب العین کے پرستار ہیں،اصل بات یہ ہے کہ حقیقت پسندی اور کسی نصب العین کی پرستاری سے انسانی ترقی نے نمواور شکل پائی ہے،یہی دوقوتیں ذاتی،معاشرتی،قومی غرض تمام انسانی سرگرمیوں میں ایک دوسرے سے دست وگریباں رہتی ہیں،نوع انسان کی حقیقی ترقی انہی دو قوتوں کے مناسب تعاون اور مناسب آمیزش سے ممکن ہے،انسانیت کی عمارت میں نصب العین کی وہی حیثیت ہے جومٹی کے بتُ بنانے میں پانی کی ہے،پانی کی بدولت مٹی میں نرمی اورلچک پیداہوتی ہے،لیکن پانی کی مقدارکا حساب ضروررکھنا چاہیئے اگرپانی کم ہوگیا توبتُ ٹوٹ جائے گا اور اگرپانی زیادہ ہوگیا تومٹی اس قابل نہ رہے گی کہ اسے کوئی شکل دی جاسکے،یہ بالکل کیچڑبن کررہ جائے گی۔

اگراس نقطہ نظرسے پختونوں کی تاریخ کودیکھااور پرکھاجائے توپانی(نصب العین) اورمٹی(حقیقت پسندی) کی بہترین آمیزش اور امتزاج پختون قوم کے رہنماؤں میں واحد خان عبدالغفار خان المعروف باچاخان(1890۔1988) تھے جن کے نظریات، زندگی اورجدوجہد میں حقیقت پسندی اورنصب العین دونوں مناسب مقدار میں موجود ہیں۔پختونوں کی تاریخ سے گہری واقفیت رکھنے والے مورخ،محقق اور دانشوراس حقیقت کا اعتراف کریں گے کہ صاحب سیف وقلم خوشحال خٹک کے بعد باچاخان وہ واحد پختون رہنماء ہیں جنہوں نے جدید پختون قوم پرستی اوروطن دوستی کا ایک نیا اور منفرد تصور اورنظریہ پیش کیاہے۔نیا اورمنفرد ان معنوں میں کہ انہوں نے اپنی قوم کو اپنے پیشرو شہاب الدین غوری،علاو الدین خلجی، سکندرلودھی، بہلول لودھی،ابراہیم لودھی، ،فریدخان المعروف شیرشاہ سوری اورخوشحال خان خٹک کی طرح مغل حکمرانوں کے خلاف تلوار اٹھانے اور جنگ وجدل کے ذریعے آزادی حاصل کرنے کا درس نہیں دیا اور نہ ہی احمدشاہ ابدالی کی طرح مرہٹوں اور دادا میروس کی طرح ایرانیوں کے خلاف تلوار اٹھائی بلکہ پختونوں کی معلوم پانچ ہزارسالہ تاریخ میں پہلی مرتبہ بغیرتلوار،بندوق ،جنگ وجدل اورتشدد کے اپنی قوم کوذہنی اورجسمانی طورپر اپنی آزادی کے حصول کے لیے فلسفہ عدم تشدد پرآمادہ کرنے میں کامیاب ٹھہرے تھے۔جوکہ اس دورکے پختونوں کی صدیوں سے قائم انفرادی اور اجتماعی فطرت اور نفسیات کے خلاف عمل تھا مگرباچاخان نے اپنی تدبراورحکمت عملی کے تحت اس فطرت کویکسربدل ڈالا۔گوکہ باچاخان بھی اپنے پیشروں کی طرح ایک بہت بڑے خان کا بیٹا تھا مگر انہوں نے خان ازم کی روایت کے برخلاف قدم اٹھاکر اپنی قوم کے سب سے نچلے اور پسے ہوئے طبقے کو اپنے حقوق کے حصول کے لیے جگایا۔اور اسی طرح پختونوں کی تاریخ میں یہ پہلے خان زادے تھے جنہوں نے خان،نواب،جاگیردار،خان بھادر اور ملک کے بجائے قوم کے اس طبقے کے حقوق کے لیے میدان میں نکلے جس طبقے کو اس دور کے خوانین،نواب،جاگیردار اورملکان اپنے پاس چارپائی پر بھی بیٹھنے نہیں دیتے تھے اور انہیں ایک قسم کا ’’شودر‘‘ اور اپنے غلام سمجھتے تھے۔

اس طرح باچاخان پختونوں کے وہ واحد رہنماء ہیں جنہوں نے طبقاتی نظام،نسلی اور نسلی امتیاز کے خلاف عملی جدوجہد کی۔ سماجی اورسیاسی فلسفہ تاریخ کے حوالے سے دیکھاجائے تودنیامیں کئی نظام فکرموجودچلے آرہے ہیں،جن میں کمیونز زم(مارکس ازم)سوشلزم(لینن ازم یاماوازم)،جاگیرداری،سرمایہ داری،تھیوکریسی،بادشاہت،فوجی اورسول آمریت قابل ذکرہیں۔مگرجہاں تک مذکورہ نظاموں یامکاتب فکرسے پختونوں کے تعلق کی بات ہے توان میں سے کوئی بھی نظام اور نظریہ ایسا نہیں جسے پختون معاشرے کی اجتماعی ساخت،نفسیات،روایات،رسم ورواج اوران کا ضابطہ حیات’’پختون ولی‘‘ دل سے قبول کرلے اور اس کی زندہ مثال افغانستان میں کمیونزم اورسوشلزم سے متاثرہ لوگوں کا لایا گیا’’انقلاب ثور‘‘تھا۔جسے وہاں کے صدیوں سے قائم پختونیت، قبائلی اورمذہبی معاشرے نے قبول نہیں کیا،اوراس کے خلاف ہرمحاذپرسخت مذاحمت کی گئی۔جس کا خمیازہ آج بھی افغانستان کے عوام،سیاستدان،دانشور اورحکمران بھگت رہے ہیں۔کیونکہ وہاں کے انقلابیوں نے اپنے معروضی حالات اورعوام کے اجتماعی مزاج کے برعکس ایک ایسا قدم اٹھایاتھا کہ بقول باچاخان ’’انقلاب‘‘ تیزی اور دوڑ دھوپ کا نام نہیں ہے بلکہ اس کے لیے علمائ،دانشور۔جدید علوم اور سیاسی وذہنی فضاء درکار ہوتی ہے‘‘ اس نقطہ نظر سے دیکھا جائے تو’’انقلاب ثور‘‘بذریعہ آپریشن پیداکیاگیا کم معیاد کابچہ تھا‘‘مطلب یہ کہ پہلے تو اس قسم کے کم معیاد بچے کا بچنا مشکل ہوتاہے اور اگربچ بھی جائے توپھراس کی پرورش،دیکھ بھال بھی مشکل مرحلہ ہوتاہے اوراس وجہ سے اس کی صحت بھی کمزور ہوتی ہے اور وہ فطری نشوونماء بھی نہیں کرسکتااوربالاخرموت اس کا مقدر بن جاتاہے۔

مطلب یہ کہ پختون قوم ہراس نظام اورنظریہ کوبرضاء ورعبت قبول نہیں کرتا جونظام اورنظریہ اس قوم کے ہزاروں سالوں سے رائج ’’پختون ولی‘‘ اور سینکڑوں سالوں سے رائج اسلام سے متصادم اورمخالف ہو۔ چونکہ ’’پختون ولی‘‘ اسلام سے ہزاروں سال قبل بھی قائم تھی اس لیے جواسلامی اقدار اور اصول’’پختون ولی‘‘ سے ملتے جلتے تھے انہیں فوراً قبول کیاگیا۔یعنی اسلام قبول کرنے سے پہلے بھی ان کا اپنایہی دستورحیات ’’پختون ولی‘‘قائم دائم تھا، چو نکہ اسلام کے اکثراصول ’’پختون ولی‘‘ کے اقداراور قاعدے قانون سے مطابقت رکھتے تھے اسلیے من حیث القوم پختونوں نے اسلام کو دل وجان سے قبول کیا۔لہذا دنیا کے جس نظام فکر میں بھی ان دونوں نظریات اورضابطہ حیات سے متصادم اصول اورقاعدہ قانون پرزوردیاجاتاہے پختونوں کی معاشرتی ساخت اورقومی نفسیات اسے قبول کرنے کے لیے تیار نہیں۔اوراس تاریخی حقیقت کوباچاخان اچھی طرح جان چکے تھے،اس لیے انہوں نے قوم پرستی کا ایک ایسا نظریہ اور راستہ پیش کیا جس میں’’پختون ولی‘‘ اوراسلام دونوں منازل کا حصول شامل ہے۔انہوں نے پہلی بارپختون معاشرے کے دو بنیادی اورمضبوط اداروں’’حجرہ‘‘اورجمات(مسجد) کے مابین رشتہ اور تعلق کوقائم کرنے پر زور دیا اورخود بھی ان مذکورہ اداروں کا عملی نمونہ رہے۔

وہ جہاں بھی جاتے توایک خطاب حجرہ اور دوسرا خطاب وہاں کی مساجد میں کیاکرتے تھے۔اور ایک راسیح العقیدہ پختون مسلمان کی طرح ان دونوں اداروں اور مکاتب کا خاص خیال رکھتے تھے۔باچاخان وہ واحد پختون سماجی سائنسدان تھے جنہوں نے سب سے پہلے اپنے معاشرے اور قوم میں پائی جانے والی سماجی،سیاسی اورمذہبی خرابیوں اورکمزوریوں کا گہری نظرسے مشاہدہ اور مطالعہ کیا،یعنی پہلے امراض معلوم کیے پھر ان کی نہ صرف نشاندہی کی بلکہ اس کا مکمل علاج اور پرہیز بھی تجویز کیا اور اس کیلیے بھی ایلوپیتھک کے بجائے ھومیوپیتھک کا طریقہ علاج اختیارکیا،تاکہ قوم میں ان امراض کوجڑوں سے ختم بھی کیاجائے اور اس کے ردعمل اورسائڈ افیکٹ سے بھی بچاجاسکے۔

ان کی کامیابی کا اصل راز ہی یہی حکمت عملی تھی کہ انہوں نے مریض کو بیماری کے مطابق اس کی صحت کودیکھتے ہوئے ایسی دوا پلائی جواس کے نظام ہضم کے مطابق تھی انہوں نے بعض صدیوں سے رائج غلط سماجی اورمذہبی رسوم ورواج کی مخالفت بھی اسلامی دلائل کے ساتھ کچھ ایسی دھیمی زبان و انداز میں کی کہ وہ لوگوں کے دلوں میں اترتی گئی اور پھراس پر کاربند بھی رہے۔لہذا ضرورت اس امر کی ہے کہ ہم اپنے اس پیرومرشد اور رہنماء کے فلسفہ پر عمل کرکے اپنی قوم کو موجودہ سیاسی،معاشی اور ذہنی پسماندگی کے گرداب سے نکالنے کے لیے اپنا اپنا کردار ادا کریں۔(نوٹ:مضمون نگاراے این پی کے صوبائی جنرل سیکرٹری ہیں)

یہ بھی پڑھیں

بانی افغانستان احمد شاہ ابدالی، ایک عظیم فاتح

پشتونوں کی تاریخ میں ایک عظیم فاتح اور بادشاہ گزرا ہے جسے ساری دنیا احمد …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔