چھوٹے صوبے بیزار کیوں؟

پاکستان کے بہترین تعلیمی ادارے، اعلیٰ ہسپتال، فیکٹریاں، حکومتی دفاتر، بجلی و گیس کے مرکزی ادارے ایک صوبے میں بنائے گئے جو اس وقت باقی صوبوں سے سو سال آگے ہے

عدنان حسین شالیزئی

پاکستان بنا یا بنایا گیا اس پر الفاظ کا ذخیرہ ضائع کرنے کے بجائے سیدھا اصل موضوع کی طرف آتے ہیں۔1947 سے لے 2020 تک ہم نے دیکھا کہ ملک کے ایک بڑے صوبے کے علاہ باقی صوبوں میں پاکستان سے محبت کرنے والے کم ملتے ہیں۔ پاکستان میں پہلے دن سے ہی ایک صوبے اور اس کے باسیوں کے مفادات کا تحفظ کیا گیا اور دیگر صوبوں کے ساحل اور وسائل کو اسی صوبہ کی بلا واسطہ ملکیت میں دیا گیا۔ دیکھا جائے تو وفاق نے اٹھارہویں ترمیم کے نفاذ سے قبل سندھ، بلوچستان اور خیبر پختونخوا کے وسائل کو بے دردی سے لوٹا جن میں گیس، بجلی، پانی، تمباکو، زمرد، سونا، چاندی، کوئلہ، کرومائیٹ، تانبا، جنگل، بندرگاہیں اور زمینوں پر قبضے شامل ہیں۔

پاکستان کے قیام کے بعد پارلیمانی طور پر اسی صوبے کی بالادستی قائم کی گئی جہاں انتخابات میں اول نمبر پر آنے والی سیاسی جماعت ہی ملک پر حکمرانی کر سکتی ہے اور اس کے علاوہ باقی صوبے اپنے بل بوتے پر کبھی بھی مرکز میں حکومت نہیں بنا سکتے حتی کہ اس صوبے کے علاوہ باقی سارے صوبے مل کر بھی مرکزی حکومت بنانے کے اہل نہیں۔ ملک میں برائے نام جمہوریت ہے۔ آئین و قانون پر تاحال عمل در آمد نہیں کیا گیا ہے۔ ملک میں اسی صوبہ کے مفادات کے تحفظ کیلئے پے در پے آئین و قانون کو کچلا گیا۔ مارشل لاء حکومتوں کیلئے راہیں ہموار کی گئیں جس کے باعث ملک اور باالخصوص چھوٹے صوبے مسائل سے دو چار ہوئے۔ ریاست اور چھوٹے صوبوں کے درمیان بداعتمادی کی بنیادی وجہ آئین و قانون سے روگردانی ہے۔ فی الوقت ریاست میں پارلیمنٹ، عدلیہ اور میڈیا اسٹیبلشمنٹ کے زیر اثر اور زیر تسلط آ چکے ہیں۔ اسٹیبلشمنٹ ہی عدالت کے فیصلے، پارلیمان کے قوانین اور میڈیا کی خبریں تیار کرتی ہے۔ ملک میں سیاسی جماعتیں برائے نام پالیسیاں مرتب کرتی ہیں ورنہ ملک میں عملاً اسٹیبلشمنٹ کا راج ہے۔

سہولیات اور بنیادی ضروریات کی فراہمی کے حوالے سے دیکھا جائے تو باقی صوبوں کے وسائل سے ملنے والی رقوم سے ہر دور حکومت میں اسی صوبے کو ترجیح دی گئی ہے۔ پاکستان کے بہترین تعلیمی ادارے، اعلیٰ ہسپتال، فیکٹریاں، حکومتی دفاتر، بجلی و گیس کے مرکزی ادارے اسی صوبہ میں بنائے گئے ہیں جو اس وقت باقی صوبوں سے سو سال آگے ہے۔ بلوچستان، خیبر پختونخوا اور سندھ کے وسائل سے جڑے معاہدے اور فیصلے اس بڑے صوبے میں حکومت بنانے والی سیاسی جماعتیں اور وہاں کی بیوروکریسی کرتی ہے۔ مثال کے طور پر گوادر پورٹ، ریکوڈک اور سیندک کے معاملات وہاں کی سیاسی قوتیں اور بیوروکریسی دیکھ رہی ہے۔ صوبہ بلوچستان میں بیوروکریسی کے بڑے عہدوں پر شاذ و نادر ہی مقامی بلوچ یا پشتون تعینات ہوتے ہیں۔ ملکی فوج میں بھی چھوٹے صوبوں سے متعصبانہ رویہ اختیار کیا گیا ہے۔ محمود خان اچکزئی کے بقول پاکستان کی فوج میں محض تین اضلاع کے شہری بھرتی کیے جاتے ہیں۔ ریاست، پنجابی کلچر اور زبان کو تحفظ دینے کے ساتھ ساتھ اس کے کلچر اور زبان کو فروغ دینے کیلئے اقدامات اٹھا رہی ہے۔ اس کے بالکل برعکس ریاستی ایماء پر باقی اقوام کے کلچر اور زبانوں کی بیخ کنی کی جا رہی ہے۔

ریاستی میڈیا پر پشتون اور بلوچ کو دہشتگرد اور پشتون و بلوچ کے کلچر کو منفی معنوں میں پیش کیا جا رہا ہے۔ اگر بات کی جائے کشمیر اور گلگت بلتستان کی تو وہاں بھی ریاست مثبت تاثر قائم کرنے میں ناکام رہی ہے۔ مقامی آبادی، زمینوں پر قبضے اور جنگلات کی کٹائی پر ریاست کو قابض قوت تصور کرتی ہے۔ کشمیر و گلگت بلتستان میں آزادی کی تحریکیں زور پکڑ رہی ہیں۔ پشتون و بلوچ بیلٹ میں وسائل پر قبضے کے علاوہ دہشتگردی اور فرقہ واریت کے مصنوعی بیج بوئے گئے ہیں۔ بلوچستان اور سابقہ فاٹا میں مسنگ پرسنز، لینڈ مائنز، ٹارگٹ کلنگ اور گڈ و بیڈ طالبان کے مسائل نے مقامی آبادی کا جینا دوبھر کر دیا ہے۔

مذکورہ مسائل کے حل کا مطالبہ کرنے والی روایتی سیاسی جماعتوں کے علاوہ پی ٹی ایم اور بلوچ تحریک کے مطالبات پر عمل درآمد کے بجائے ریاست انہیں ’’غداری‘‘ کی اسناد سے نوازتی ہے۔ جس طرح آئین، ریاست اور شہری کے درمیان ایک سماجی معاہدے کی حیثیت رکھتا ہے اسی طرح اقوام اور ریاست کا تعلق بھی آئین کی مرہونِ منت ہے۔ اگر آئین کو درمیان سے ہٹا دیا جائے تو نہ ریاست ریاست رہتی ہے اور نہ ایک فرد ریاست کا تابعدار شہری۔ اس لیے پاکستان میں ہر ادارے کو اس کی آئینی حدود میں رہنا ہوگا وگرنہ اس ملک میں پیدا نفرت میں مزید اضافہ ہوگا۔ ہمیں اگر اپنی سالمیت عزیز ہے تو ہمیں مظلوم اقوام کو ان کے ساحل اور وسائل پر اختیار دینا ہوگا، ان کے کلچر اور زبان کو تحفظ دینا ہوگا، صوبوں کے اندرونی معاملات میں وفاق کی مداخلت بند کرنا ہوگی، سیاست میں اسٹیبلشمنٹ کے اثر و رسوخ اور کردار کی بیخ کنی کرنا ہوگی، اظہارِ رائے پر عائد پابندیاں ختم کرنا ہوں گی، پارلیمان میں صوبوں کی مساوی نمائندگی یقینی بنانا ہوگی، چھوٹے صوبوں سے فوج، ایف سی اور رینجرز کو نکالنا ہو گا اور انہیں ملک کی سرحدات یا پھر اپنی بیرکوں تک محدود کرنا ہوگا ۔ اب تک کے جابرانہ اور استحصال پر مبنی ریاستی رویے پر معافی مانگ کر مظلوم اقوام سے ایک نیا عمرانی معاہدہ کرنا ہوگا۔ اس کے علاوہ ریاست کے پاس کوئی راستہ نہیں ہے۔

یہ بھی پڑھیں

بانی افغانستان احمد شاہ ابدالی، ایک عظیم فاتح

پشتونوں کی تاریخ میں ایک عظیم فاتح اور بادشاہ گزرا ہے جسے ساری دنیا احمد …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔