حجرہ پشتون ثقافت کا امین

پشتو صرف زبان نہیں بلکہ ایک روایت اور طرز زندگی کا نام ہے جس کو ’’پختون ولی‘‘ کہا جاتا ہے۔ ’’پختون ولی‘‘ کی یہ روایات ہزاروں سال سے غیر تحریر شدہ شکل میں پختونوں کے سینوں میں سینہ بہ سینہ روایت کے ساتھ آج تک محفوظ ہیں۔

پختونون ولی کی یہ اقدار پختون معاشرے میں ایک قانون کی حیثیت رکھتی ہیں جن کا پاس رکھنا ہر پختون پر اخلاقاً لازم سمجھا جاتا ہے۔ ان روایات کو پختون سوسائٹی میں ’’نرخ‘‘ بھی کہا جاتا ہے جن سے جرگہ کے فیصلوں کے وقت بطور قانون کے بھی استفادہ کیا جاتا ہے جبکہ جرگہ تصفیہ کے وقت ان روایات کا خاص خیال رکھتا ہے۔ یہ سینہ بہ سینہ روایات تاریخ میں لکھی ہوئی تحریر کی طرح معتبر ہوتی ہیں۔

 

اگر کوئی پختون ’’پختون ولی‘‘ کی ان روایات کا پاس نہیں رکھتا تو اسے پختون معاشرے میں بہت مطعون کیا جاتا ہے اور ایسے شخص کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ یہ تو ’’پختون ولی‘‘ سے عاری ہے۔ یہ پختون ولی وقت اور زمانے کے بدلتے ہوئے حالات کے ساتھ تغیر پذیر اور ارتقاء پذیر رہی ہے اور یہی تغیر پسندی اور آج تک اس کی موجودگی کی گنجائش پختون ولی کی سب سے بڑی خوبی اور اسی میں اس کی بقاء کا راز ہے۔ پختونوں کی دیگر بہت سی ثقافتی روایات کے ساتھ حجرہ بھی پختون روایات کا ایک مستند ادارہ اور علامت ھے۔ حجرہ پختون ولی کی چند علامتوں میں سے ایک ہے۔ حجرہ عربی زبان کا لفظ ھے جو بنو عباس کے دور میں شہروں میں رہنے والے طلبہ کی رہائش کی جگہ کو کہا جاتا تھا جبکہ عام رہائش کی جگہ پر بھی اس کا اطلاق ہوتا ھے جیسے قرآن میں حجرہ کی جمع ’’حجرات‘‘ کے نام سے ایک سورت بھی موسوم ہے۔ پشتو زبان میں حجرہ کیلئے ’’دیرہ‘‘ کا لفظ بھی مستعمل ہے جو اسم ظرف ھے جس کے معنی رہائش کی جگہ کے ہیں

پختون مورخین کے مطابق حجرہ پشتون ثقافت کی قدیم ترین روایت ہے۔ اگرچہ دوسری اقوام میں بھی حجرہ کسی نا کسی شکل میں ہوتا آیا ہے مگر حجرہ جس انفرادیت کے ساتھ پختون ثقافت کے ساتھ جڑا ہوا ہے اس کی نظیر کسی دوسری قوم کی ثقافت میں نہیں۔ زمانہ قدیم سے حجرہ پختونوں کے ساتھ اجتماعی شکل میں کسی نہ کسی صورت میں ہوتا تھا اور حجرہ کی یہ اجتماعی روایت ماضی قریب یعنی چالیس سال پہلے تک برقرار تھی۔ اکثر یہ اجتماعی حجرے ان جگہوں پر زیادہ ہوتے تھے جہاں پر عام راہ گزر ہوتی تھی اور مسافروں کو رات گزارنے کیلئے ضرورت ہوتی تھی۔ شام ہوتے ہی تمام گاؤں والوں کا اس میں اکٹھ ہوتا تھا، گردوپیش کے احوال پر بحث کی جاتی تھی، اپنے گاؤں کے مسائل کو ڈسکس کیا جاتا تھا۔ اگر کوئی اجنبی مسافر وارد ہوتا تو تمام گاؤں والے اس کیلئے کھانا لے آتے تھے۔ اسی طرح رمضان المبارک میں تمام گاؤں والے حجرہ میں اکٹھے اجتماعی افطاری کرتے تھے۔ گاؤں کی غمی خوشی کا اہتمام حجرے میں ہوتا تھا جبکہ حجرہ کے معمولات میں پختونوں کی روایتی موسیقی، ’’رباب منگی‘‘ کو مستقل رکھا جاتا تھا۔

گاؤں کے تنازعوں کے حل کیلئے ان حجروں میں جرگوں کا انعقاد بھی ہوتا، اسی طرح حجرہ میں جب مشران بات چیت کرتے تھے تو کم سن پختون خاموشی کے ساتھ ان کی باتوں کو سنتے تھے اور اس طرح حجرہ پختون معاشرے میں پختون ولی کی تربیت وآگاہی کے حوالے سے ایک عملی تربیت گاہ بھی ہوتا تھا۔ اسی تربیت کی بنیاد پر آج تک اس شخص کے کردار کے بارے میں بطور قول فیصل کے یہ بات کہی جاتی ھے جو پختون ولی سے گری ہوئی حرکت کرتا ہے کہ فلاں کو حجرہ و مسجد کا پاس نہیں۔ پختونوں کی روایتی اسلام پسندی کا یہ بھی اثر تھا کہ حجرہ کے ساتھ مسجد بھی ہوتی تھی اور مسجد کے ساتھ ایک اور جگہ ’’ڈبے‘‘ کے نام سے بھی ہوتی تھی جس میں لوگ نماز سے پہلے اور بعد میں اکٹھے بیٹھتے تھے، حجرہ و مسجد ان دونوں اداروں کی برکت سے پختون ولی اور اسلام کا صدیوں سے ایک دوسرے کے ساتھ مثالی کمبینیشن تھا، دونوں اداروں کی علامتیں مشر اور ملا ایک دوسرے کے ساتھ قریب ہوتے تھے مگر فرنگی کے دور اور پاکستان کے قیام کے بعد جنگی جنون اور پختون سوسائٹی میں اس کلچر کی آبیاری کیلئے ان روایتی اداروں حجرہ اور مسجد کی کایا ہی پلٹ دی گئی، ان کے درمیان تفریق و دشمنی کی لکیریں کھینچی گئیں

پختونوں کی رواداری برداشت انسانیت دوستی اور پیار ومحبت کی روایات کو بزور وسائل و ریاستی جبر کے توڑا گیا، باالخصوص مسجد جیسے مقدس ادارے کا بہت بری طرح استحصال ہوا جبکہ ماضی قریب میں ان دونوں کو بدنام کرنے کیلئے پختون روایات کے برعکس حجرہ، مساجد اور جنازوں میں بم دھماکے کئے جاتے تھے۔ پختون روایت میں کسی سر کے دشمن کو بھی حجرہ، مسجد اور جنازہ میں کچھ نہیں کہا جاتا تھا مگر پختون ولی کے ان تقدسات کو جنگی جنونیت کی آبیاری کیلئے بہت بری طرح روندھا گیا۔ اسی غیر فطری طرز عمل اور کچھ زمانے کی بدلتی ہوئی ضروریات نے اجتماعی حجروں کو ختم کر کے چھوٹی چھوٹی بیٹھکوں میں بدل دیا، حجرہ ختم نہیں ہوا لیکن اس کی ھئیت و تشکیل تبدیل ہوئی

اب بھی پختون معاشرے میں حجرہ ہے مگر انفرادی شکل میں، یہ انفرادی حجرے اب شہروں اور دیہات میں اکثر ان مشران کے ہوتے ہیں جو کسی نہ کسی شکل میں سیاست اور سماجی خدمات سے وابستہ ہوتے ہیں۔ حجرہ کو کماحقہ چلانا چونکہ کوئی آسان کام نہیں بلکہ حجرہ اس کھانے کے ہوٹل کی طرح ہوتا ہے جس میں آپ کھانا تو کھا جاتے ہیں مگر کھانے کا بل نہیں دیتے، پختون سوسائٹی میں حجرہ میں تسلسل کے ساتھ کھانا دینے والے کو بہت اچھا یاد کیا جاتا ہے جبکہ اچھا کھانا پینا نہ دینے والے کو مطعون کیا جاتا ہے کیونکہ ہر پختون اپنے گھر پر ہر کسی کو اپنی استطاعت کے مطابق کھلاتا ہے اور دوسروں سے بھی یہی توقع رکھتا ہے۔ اجتماعی حجرے کا فائدہ یہ ہوتا تھا کہ مہمانوں کا بوجھ ایک بندے پر نہیں پڑتا تھا جبکہ تمام لوگ بلاتفریق آزادی کے ساتھ اس میں آتے تھے بخلاف شخصی حجروں کے چونکہ پختون ولی کی روایات ہر دور میں ارتقا پذیر رہی ہیں اسی لئے ضرورت اس امر کی ھے کہ ہمیں دو کام کرنے چاہئیں، ایک حجرہ اور مسجد کے درمیان نفرتیں ختم کرنا ہوں گی کیونکہ حجرہ میں تمام لوگ ایک ہوتے ہیں مگر مسجد میں جا کر انتشار و تفریق کا شکار ہو جاتے ہیں۔ اس تفریق کو اجتماعی وحدت کے زور پر ختم کیا جا سکتا ہے۔ اب یہ فیصلہ کرنا ہوگا کہ آخر کیونکر ہم اسلام و پختون ولی کی وحدت و اجتماعیت کو بھلا کر حالات کے برے اثرات کا شکار بن جاتے ہیں۔ دوسرا یہ کہ اب بھی اجتماعی حجروں کو قائم کیا جا سکتا ہے اور یہ بالکل ممکن ھے۔ حجرہ چلانے کیلئے اگر گاؤں کی سطح پر ایک کمیٹی بنائی جائے اور قومی اجتماعی چندے کی شکل میں اس ادارے کو چلایا جائے تو پختون ولی کے اس بنیادی ادارے کو بڑے زبردست انداز میں دوبارہ زندہ کیا جا سکتا ھے۔ اگر ہم نے زمانے کے بدلتے ہوئے حالات کا درست ادراک نہ کیا تو پختون ولی کی یہ شاندار روایات ایک ایک کرکے ختم ہوتی رہیں گی اور ہم صرف دیکھتے رہ جائیں گے ۔

یہ بھی پڑھیں

حکومت وقت کی کمزوریاں

کورونا کا مرض اس وقت پوری دنیا کیلئے ایک سنگین مسئلہ بنتا جا رہا ھے۔ …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔