’’تشہ خاورہ نہ دہ غنی سنگہ بہ شی خاورے‘‘ ۔ محمد عمران

چارسدہ (اشنغر) کی مٹی زرخیزی میں اپنی مثال آپ ہے۔ تحریک آزادی سے لے کر آج تک اس خطے میں جتنے بھی سیاسی و ادبی تحاریک نے جنم لیا ہے، اس میں چارسدہ کا حصہ ضرور نظر آتا ہے۔ باچا خان کی خدائی خدمتگار تحریک سے لے کر آج تک پشتونوں کی تحاریک میں چارسدہ اپنا بھرپور حصہ ڈال چکا ہے۔ اس خطے نے اگر ایک طرف باچا خان جیسی ہستی پشتونوں کو بخشی تو دوسری جانب پاکستان کے سیاسی نشیب و فراز کے چمکتے ستارے خان عبدالولی خان بھی اسی مٹی کی پیداوار ہیں۔ حاجی صاحب ترنگزئی اور مولانا حسن جان صاحب جیسے مدبر، علماء اور سیاستدانوں نے بھی یہاں جنم لیا۔

تعلیمی میدان کا چمکتا ستارہ خان عبدالعلی خان سمیت ماہرین تعلیم بھی یہاں کی دین ہیں۔ لیکن آج ہمارا موضوع چارسدہ کی وہ شخصیت ہے جنہیں کوئی شاعر تو کوئی فلسفی مانتا ہے، کسی کی نظر میں وہ ایک سیاستدان تو کسی کے نزدیک ایک اعلیٰ پائے کے فنکار یا آرٹسٹ ہیں تو ایسے بھی ہیں جو انہیں ’’لیونے فلسفی‘‘ قرار دیتے ہیں۔ برصغیر پاک و ہند کے ممتاز شاعر، ادیب، مصور، فلسفی اور سیاستدان خان عبدالغنی خان باچا خان کے فرزند تھے۔ 20ویں صدی میں شاید ہی کوئی ایسی شخصیت ہو جو بیک وقت ایک انجینئر، فلسفی، مصور، مجسمہ ساز، شاعر اور سیاستدان ہو۔ خوشحال خان خٹک کے بعد اتنی خوبیوں کا مالک اس خطے میں غنی خان ہی ہو سکتے تھے اور ہیں۔ 1914ء کو چارسدہ میں جنم لینے والے غنی خان نے اپنی پوری زندگی اصولوں کے تحت اپنے مقصد کے حصول کی کوشش میں گزاری اور آخری دم تک وہ انہی اصولوں پر کاربند رہے۔

غنی خان پشتونوں میں بحیثیت شاعر ہی شہرت رکھتے ہیں ، کچھ لوگ انہیں مجسمہ ساز کے طور پر بھی جانتے ہوں گے لیکن بہت کم لوگ یہ جانتے ہیں کہ 1946ء میں متحدہ ہندوستان کی قانون ساز اسمبلی میں اس خطے سے منتخب وہ واحد رکن تھے۔ اسی اسمبلی سے خطاب کے دوران انہوں نے پہلی بار (اس وقت وفاق کے زیرانتظام علاقوں فاٹا کے) ادغام کی بات کی تھی تاکہ سرحدات کو مضبوط بنایا جا سکے۔ ان کی شاعری کی بات کی جائے تو وہ صرف شاعر نہیں تھے بلکہ انہوں نے زندگی کے مختلف شعبوں، مختلف تہذیبوں، ثقافتوں، ممالک اور براعظموں کا مشاہدہ کیا تھا، اپنے وسیع مشاہدے کی بنیاد پر انہوں نے شاعری کو بھی ایک نئی زندگی بخشی۔

وہ روایتی شاعری سے باغی اور اپنے اسلوب کے مالک شاعر تھے۔ غنی خان حسن کی تلاش میں محبت کے ماننے والے تھے، وہ حسن کو فانی اور محبت کو لازوال سمجھنے والے مفکر اور شاعر تھے۔کچھ ’دانشوروں‘ کی نظر میں وہ ایک صوفی شاعر ہیں لیکن بحیثیت ادب کے ادنیٰ طالبعلم ، اس خیال اور نظریے سے اختلاف کرتے ہوئے غنی خان کے کلام اور تحاریر کے تناظر میں یہ بات عیاں ہوتی ہے کہ وہ خدا سے محبت کرتے تھے اور اسی محبت کو وہ عام انسان تک بھی پہنچانا چاہتے تھے۔ یعنی وہ اس وقت کے مُلاؤں کے خلاف صرف اس لئے بولتے تھے کہ وہ خدا سے ڈرانے والے فلسفے کے خلاف تھے۔ وہ 15مارچ 1996ء کو اس دار فانی سے کوچ کرگئے لیکن اپنے نام کی طرح ان کا کام بھی غنی ہے جسے آج بھی یاد کیا جاتا ہے۔

خان عبدالغنی خان کی 24ویں برسی کی مناسبت سے باچا خان ٹرسٹ کے زیراہتمام باچا خان مرکز پشاور میں ایک روزہ غنی میلے کا اہتمام کیا گیا۔ اس میلے کی منفرد خاصیت یہ تھی کہ پہلی بار غنی خان کی فکر، ان کی تحاریر، فلسفے اور پورٹریٹس پر پینٹنگ مقابلے کا انعقاد بھی کیا گیا جسے ’’د غنی رنگونہ‘‘ کا نام دیا گیا۔ اس مقابلے میں خیبر پختونخوا کے مختلف آرٹس کالجز سے 15طالبعلموں نے حصہ لیا اور ’د غنی رنگونہ‘‘ کے عنوان سے اپنے فکر و خیال کو کینوس پر اتارا۔ ان مقابلوںمیں عبدالولی خان یونیورسٹی مردان کے پختونخوا کالج آف آرٹس، وومن یونیورسٹی صوابی اور خانہ فرہنگ میں پینٹنگ کا ہنر سیکھنے والے طالبعلموں نے شرکت کی۔

یہ ایک روزہ میلے کا پہلا مرحلہ تھا جو صبح 11بجے سے دوپہر ایک بجے تک جاری رہا اور اس کے بعد تمام شرکاء کی پینٹنگ کو جیوری ممبران نے پرکھنا تھا۔ تین رکنی جیوری کمیٹی نے اس موقع پر تمام پورٹریٹس اور پینٹنگز کو دیکھتے ہوئے پہلے، دوسرے اور تیسرے نمبر پر آنے والے طلباء کے ساتھ ساتھ بہترین کارکردگی پر دو مزید اعزازی انعامات کا اعلان بھی کیا۔ پہلے نمبر پر آنے والے طالبعلم کو 10ہزار، دوسرے نمبر پر آنے والے طالبعلم کو 5 ہزار جبکہ تیسرے نمبر پر آنے والی طالبہ کو 3 ہزار رپے نقد انعام کے ساتھ ساتھ توصیفی اسناد اور شیلڈز دیئے گئے۔ نتائج سناتے ہوئے ججز کے ہمراہ باچا خان ٹرسٹ کے ڈائریکٹر اور اے این پی کے صوبائی صدر ایمل ولی خان اور غنی خان کے پوتے مشال خان بھی موجود تھے۔ ایمل ولی خان نے اس موقع پر پہلے تین پوزیشن ہولڈرز کی پینٹنگ کو دس دس ہزار روپے مزید دینے کا اعلان بھی کیا۔ اسی طرح غنی میلے کا پہلا مرحلہ اختتام پذیر ہوا۔

دوسرے مرحلے میں غنی خان کے چاہنے والوں کی کثیر تعداد نے شرکت کی۔ میزبان عوامی نیشنل پارٹی کے صوبائی صدر ایمل ولی خان اور مشال خان تھے جنہوں نے تمام مہمانان گرامی کو خوش آمدید کہا۔ اس موقع پر اے این پی کے صوبائی صدر ایمل ولی خان نے کہا کہ بین الاقوامی شہرت یافتہ شاعر، ادیب، دانشور، مصور، مجسمہ ساز، فلسفی اور سیاستدان غنی خان ایک ایسی ہستی کا نام ہے جو بے شمار خوبیوں کی مالک تھی اور زندگی سے جس طرح انہوں نے حظ اٹھایا اس سے ان کے جاننے والے اور پڑھنے والے ہی واقف ہیں۔ اپنی بے باک شاعری کے ذریعے غنی خان نے معاشرے میں پائی جانے والی خرابیوں اور برائیوں کی نشاندہی کی۔ انہوں نے کہا کہ شاعرانہ مزاج میں انفرادیت غنی خان کا خاصہ تھا، مصوری میں بھی وہ بے مثال تھے۔

غنی خان کی شعر وشاعری میں وہ سب چیزیں ہیں جس پر آج دنیا عمل پیرا ہے۔ باچا خان نے ہمیشہ پشتونوں کیلئے صحیح راستہ متعین کرنے کی کوشش کی اور غنی خان نے شاعری کے ذریعے اسی راہ کو اپنانے کا درس دیا۔ صوبائی صدر اے این پی کا کہنا تھا کہ غنی خان نے اپنی شاعری کو فلسفہ نہیں بلکہ فلسفے کو شاعرانہ زبان اور انداز بخشا ہے، اپنے مفکرانہ ذہن، شاعرانہ مزاج اور جرات رندانہ سے کام لیتے ہوئے اپنی قوم کو حیات و کائنات کے بارے میں نئے نئے عقلی اور سائنسی سوالات کی راہ پر چلنے کی ہمت اور زبان بخشی اور اپنے پڑھنے والوں میں ایک تجسس اور بے قراری پیدا کی۔ غنی خان کے پوتے مشال خان نے باچا خان ٹرسٹ کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ ہر سال اسی طرح کی تقریبات 15مارچ پر منعقد ہونا اس بات کا ثبوت ہے کہ غنی خان صرف ان کے دادا ہی نہیں بلکہ پشتونوں کے غنی تھے۔

دوسرے مرحلے کی صدارت پروفیسر ڈاکٹر اباسین یوسفزئی نے کی جبکہ دیگر مہمانوں میں پشاور یونیورسٹی شعبہ پشتون کے استاد پروفیسر ڈاکٹر احمد علی عاجز، سابق ایم این اے پرویز احمد خان ، ملاکنڈ درگئی سے نامور شاعر امیر رزاق امیر اور شبقدر سے تعلق رکھنے والے بورڈ آف انٹرمیڈیٹ اینڈ سیکنڈری ایجوکیشن سوات کے سابق چیئرمین پروفیسر تسبیح اللہ شامل تھے جنہوں نے غنی خان کو خراج عقیدت پیش کیا۔

غنی میلے کا تیسرا مرحلہ محفل موسیقی پر مبنی تھا جس میں پشتو کے نامور گلوکاروں فیاض خان خویشگی، ماسٹر علی حیدر، سرفراز اور بلاول سید نے غنی خان کا کلام پیش کیا۔رات گئے تک یہ میلہ جاری رہا جس میں آخر تک مہمانوں کے ساتھ ساتھ غنی خان کے چاہنے والے کثیر تعداد میں شریک رہے۔

یہ بھی پڑھیں

رہِ یار ہم نے قدم قدم تجھے یادگار بنا دیا

18ویں ترمیم کے ذریعے اسفندیار ولی خان باچا خان اور ولی خان کی جنگ جیت …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔