اسفندیار ولی خان، ایک جہدِ مسلسل کا نام ۔ خالد لعل خانی

جب ایک بچہ ماں کے پیٹ میں ہوتا ہے تو ماں جو سوچتی ہے، جو کرتی ہے یا جو کھاتی ہے سب چیزوں کا اثر بچے کی صحت پر بھی پڑتا ہے لیکن ایک ایسا بچہ جو ماں کے پیٹ میں ہوتا ہے اور وہ ایک جلسے میں ماں کے ساتھ شامل ہوتا ہے، ایک قوم نکلتی ہے، ایک احتجاجی جلوس آگے بڑھتا ہے اور اس بچے کی ماں بھی اس جلوس میں شامل ہوتی ہے۔ اچانک اس جلوس پر فائرنگ شروع ہوتی ہے۔ آٹھ سو کے قریب لاشیں گرتی ہیں۔ ہر طرف شہدا نظر آتے ہیں۔ ہزاروں لوگ زخمی ہوتے ہیں۔ وہ ماں اپنے پیٹ میں موجود دو بچوں کے ساتھ زخمیوں کی مرہم پٹی میں مصروف رہتی ہے۔ اچانک ایک گولی اس ماں کو بھی لگتی ہے۔ اس عظیم ماں کا نام تاجو بی بی ہے۔ اس کے پیٹ میں دو بچے تھے ایک کا نام اسفندیار ولی خان ہے۔ ان کے شوہر کا نام خان عبد الولی خان ہے۔ باچا خان اور ولی خان جیل میں قید تھے۔ انہیں تکلیف دہ کوٹھریوں میں اور کھڑی نگرانی میں رکھا گیا تھا۔

حکومت وقت نے ان کی جائیداد ضبط کی تھی حتی کہ ان کے گھر کا سامان بھی لوٹ لیا تھا۔ قیوم خان نے باچا خان کی جائیداد اور گھر کا سامان ضبط کرنے کا حکم جاری کردیا۔ جب پولیس ولی خان کے گھر میں داخل ہوئی تو سارا سامان ٹرک میں ڈال کر لوٹ لیا گیا۔ ایک پولیس آفیسر کی نظر گھر میں جھولے پر پڑی۔ اس نے حکم دیا کہ جھولے کو بھی ٹرک میں ڈال دیا جائے۔ ایک اہلکار نے بتایا کہ جھولے میں بچی پڑی ہے۔ یہ ولی خان کی بیٹی پروین تھی جس کی عمر اس وقت سات سال تھی، اہلکار نے بچی کو دور پھینک دیا اور جھولے کو ٹرک میں ڈال کر سارا سامان لے گئے۔ تاجو بی بی کی ماں اپنی بیٹی کو لینے آتی ہے لیکن وہ ان کے ساتھ جانے سے انکار کرتی ہے۔ وہ کہتی ہے کہ اگر میں گئی تو دشمن جشن کرے گا، جب ولی خان جیل میں فرش پر سو سکتا ہے تو ہم بھی اپنے گھر میں فرش پر سو سکتے ہیں۔ کچھ دنوں بعد ان کی طبیعت خراب ہوتی ہے۔ ان کو مردان کے ہسپتال میں لے جایا جاتا ہے۔ ان کے دو جڑواں بیٹے پیدا ہوتے ہیں لیکن ایک بیٹا ماں کے ساتھ ہی ہمیشہ کے لیے دنیا سے رخصت ہو جاتا ہے۔ وہ عظیم ماں ایک بیٹا۔۔ اسفندیار ولی خان۔۔ دنیا میں چھوڑ جاتی ہے۔

اس بچے کے خون میں وہی نظریہ شامل ہے جو اس کے والدین کا تھا۔ والد اس قوم کی خاطر جیل میں ہوتا ہے جبکہ ماں ریاستی ظلم و ستم کا مقابلہ کر رہی ہے۔ اس لحاظ سے یہ کہا جا سکتا ہے کہ اپنے اور اپنی قوم کے بنیاد انسانی حقوق کیلئے اس بچے نے اپنی پیدائش سے قبل، ماں کے رحم سے ہی جدوجہد کا آغاز کیا تھا۔ اسفندیار ولی خان کی پیدائش 19 فروری 1949  کو ہوئی۔ جیسا کہ بتایا جا چکا ہے کہ پیدائش کے وقت باپ جیل میں ہوتا ہے لیکن اس دنیا میں آمد کے ساتھ ہی ماں کا سایہ بھی اس کے سر سے اٹھا جاتا ہے۔ ماں کی محبت اور والد کی شفقت سے محروم اور اپنے والد  ولی خان اور دادا باچا خان سے ملاقات کے لئے کبھی ایک جیل کبھی دوسرے جیل آتے جاتے اسفند یار ولی خان جوان ہوئے۔ یہی نہیں بلکہ حالات کی ستم ظریفی دیکھئے کہ خود اپنی جوانی کے دن جیل یاتروں، پولیس کی تفتیش اور ضمانتوں میں گزرے۔ جائیداد پر ریاست کے ناجائز قبضے کا صدمہ رہا اور جوانی کے شب و روز محرومیوں میں گزرتے رہے۔

اسفندیار ولی خان چھ دفعہ جیل گئے، مختلف مقدموں میں وہ گرفتار ہوئے، انہوں نے جلا وطنی کی زندگی اور نظربندی بھی دیکھی۔ ایک دفعہ وہ سات مہینے قلعہ بالا حصار میں قید رہے، انہیں ایک تہہ خانے میں رکھا گیا تھا۔ اسفندیار ولی خان وہ شب و روز یاد کرتے ہوئے بتاتے ہیں کہ ان کو ایک ایسے تہہ خانے میں ڈالا گیا تھا جہاں ہر وقت تاریکی رہتی تھی، کب صبح ہوئی کب شام، کوئی پتہ نہیں چلتا تھا۔1965 میں فاطمہ جناح اور ایوب خان کے درمیان الیکشن کے معاملے پر تنازعہ کھڑا ہوا۔ صدارتی انتخابات میں نیشنل عوامی پارٹی کے سربراہ خان عبدالولی خان فاطمہ جناح کے حق میں اور فوجی آمر ایوب خان کیخلاف کمپین کر رہے تھے۔طلباء ایوب خان کیخلاف احتجاج کر رہے تھے۔ ملک میں احتجاجی تحریک زور پکڑتی گئی۔

اسفندیار ولی خان اس وقت جماعت نہم میں پڑھتے تھے جب وہ ایک احتجاجی مظاہرے میں شرکت کی پاداش میں پہلی بار گرفتار ہوئے اور انہیں چند گھنٹوں کے لئے جیل میں رکھا گیا۔ طلباء تحریک جب آگے بڑھ رہی تھی جس سے حواس باختہ ہو کر ایک روز ایوب حکومت نے طلباء کے جلوسوں پر فائرنگ کردی۔ پنڈی اور نوشہرہ میں بھی کچھ طلبا شہید ہوگئے۔ اس دور میں ولی خان اور پارٹی نے محسوس کیا کہ پشتونوں کی ایک الگ طلباء تنظیم ہونی چاہیے۔ اسفندیار ولی خان نے افراسیاب خٹک، باز محمد اور نثار شینواری کے ساتھ مل کر ایک طلباء تنظیم کی داغ بیل ڈالی جس کا نام پشتون سٹوڈنٹس فیڈریشن رکھا گیا۔ فروری1975  میں جب جامعہ پشاور میں ایک تقریب کے دوران بم دھماکے میں اس وقت کے صوبہ سرحد کے گورنر حیات احمد خان شیرپاؤ کی شہادت کا واقعہ پیش آیا تو الزام ولی خان اور ان کی پارٹی پر لگا دیا گیا اور اس الزام کے تحت ولی خان کو بیٹے اور دوستوں سمیت گرفتار کر لیا گیا۔ ایسا تاریخ میں پہلی بار ہوا کہ ایک ہی گھر ایک ہی خاندان کی تین نسلوں کو ایک ہی وقت میں پابند سلاسل کیا گیا لیکن ایک ساتھ نہیں۔ باچا خان پہلے سے الگ جیل میں قید تھے۔ ولی خان اور اسفندیار ولی خان کو بھی الگ الگ جیلوں میں محبوس کیا گیا۔

اپنے کئی انٹرویز اور اپنی تقاریر میں اسفندیار ولی خان اس واقعے کا ذکر کر چکے ہیں کہ گرفتاری کے بعد انہیں ایک جج کے سامنے پیش کیا گیا تھا۔ جج نے انہیں42  دنوں کے لیے ورسک پولیس کے حوالے کیا جہاں دوران تفتیش پولیس نے انہیں سلطانی گواہ بننے کی پیشکش کی اور ان سے کہا کہ ولی خان کیخلاف گواہی دو کہ انہوں نے ہی آپ کو حیات شیرپاؤ کو قتل کرنے کا حکم دیا تھا جس کے جواب میں انہوں نے کہا کہ اپنے ہی والد کیخلاف ایسی جھوٹی گواہی میں کیسے دے سکتا ہوں۔ ان کی طرف سے انکار پر انہیں بہیمانہ تشدد کا نشانہ بنایا گیا، ان کے پاؤں کے ناخن تک نکالے گئے، ان کے بدن کے سارے بال ایک ایک کر کے نکالے گئے، بیالیس دنوں میں ان کے بدن کے سے سارے بال نوچ لئے گئے۔ یہی نہیں بلکہ انہیں چار دنوں تک برآمدے میں ستون کے ساتھ اس طریقے سے باندھا گیا تھا کہ ان کی صرف پاؤں کی انگلیاں ہی زمین کو چھو سکتی تھیں لیکن جب اس سارے تشدد کے بعد بھی انہوں نے اپنے والد کیخلاف گواہی نہیں دی تو ان کو بوری گردن تک پہنائی گئی اور ٹھٹھرتی سردی میں انہیں ٹھنڈے پانی میں ڈبویا جاتا رہا لیکن اس کے باوجود انہوں نے اپنے والد کیخلاف گواہی نہیں دی، ریمانڈ کے دن بھی ختم ہوگئے۔ انہیں جیل کے اندر جج کے سامنے درجنوں جھوٹے مقدمات میں پیش کیا گیا۔ انہیں سترہ سال کی قید سنائی گئی

 اسفندیار ولی خان ورسک تھانے میں ان پر ہوئے تشدد کے بارے میں کہتے ہیں کہ ان کی پارٹی سے تعلق رکھنے والے21  طلبہ پر تو اتنا تشدد کیا گیا کہ جب وہ تھانے سے نکلے تو وہ اس غیر انسانی تشدد کی وجہ سے نامرد بن چکے تھے۔ بقول ان کے ان کے ایک دوست کے ایک چھوٹے بچے کو لایا گیا، اسے الٹا لٹکایا گیا اور اس کے والد سے کہا گیا کہ گواہی دو کہ افضل خان نے آپ کو بم دیئے تھیاور جب اس نے انکار کیا تو اس بچے کو پولیس اہلکار مارنے لگے اور یہاں تک کے وہ بچہ شہید ہو گیا۔ اسفندیار ولی خان کے مطابق اس واقعے کے بعد ان کا وہ ساتھی عمر بھر کیلئے پاگل ہو گیا تھا اور اسی حالت میں اس کی موت واقع ہوئی۔ اسفندیار ولی خان فروری میں گرفتار ہوئے تھے لیکن اپریل میں ہونے والے دھماکوں کا الزام بھی ان ہی کے سر عائد کیا گیا تھا۔ اسفندیار ولی خان نے سترہ سال قید کی سزا ہائی کورٹ میں چیلنج کیتھی جہاں تین سال تک یہ کیس چلنے کے بعد ان کے اوپر بنائے گئے68  مقدمات رد کئے گئے اور انہیں باعزت بری کیا گیا۔ اس دوران ضیا الحق نے ملک میں مارشل لاء نافذ کردیا تھا۔ ضیاء الحق نے حیدر آباد سازش کیس کو ختم کر دیا جس کے نتیجے میں خان عبدالولی خان بھی رہا ہوگئے تھے۔

اسفندیار ولی خان بتاتے ہیں کہ جیل سے آنے کے بعد ولی خان نے انہیں بلایا اور پوچھا کہ ”بیٹے کیا کرنا چاہتے ہو، میں نے آپ کو سیاست میں آنے کے لیے مجبور نہیں کیا ہے، یہ بڑا کٹھن، مشکل اور سخت راستہ ہے، اس میں آپ مارے بھی جا سکتے ہو، (یعنی جان بھی جا سکتی ہے) آپ پر تشدد ہوگا، جیلوں میں قید رہو گے۔” اسفندیار ولی خان کے مطابق انہوں نے اپنے بابا کو جواب دیا کہ میں سیاست کرنا چاہتا ہوں۔ بابا نے کہا کہ کیا آپ نے سوچ لیا ہے، یہ بڑا مشکل راستہ ہے، میں نے کہا ہاں سوچ لیا ہے جس پر بابا نے کہا کہ اگر آپ خراب یا کوئی برا کام کرو گے تو باچا خان اور ولی خان کی طرف انگلیاں اٹھیں گی لیکن اگر اچھا کام کروگے تو لوگ تجھے یاد کریں گے۔ اسفندیار ولی خان نے1990 کے الیکشن میں حصہ لیا اور وہ خیبر پختونخوا اسمبلی کے ممبر منتخب ہوئے جبکہ بعدازاں1993  کے انتخابات میں انہوں نے قومی اسمبلی کا انتخاب لڑا اور کامیاب قرار پائے۔ 1997 کے الیکشن میں اسفندیار ولی خان دوبارہ ایم این اے منتخب ہوئے۔1999  میں وہ پہلی بار پارٹی کے صدر منتخب ہوئے۔2003  میں وہ سینیٹر بن گئے۔2008  کے الیکشن میں وہ ایک بار پھر رکن قومی اسمبلی منتخب ہوئے۔ اسفندیار ولی خان پر الزامات بھی زیادہ لگ چکے ہیں۔ 2008 میں جب وہ قومی اسمبلی کی خارجہ امور کی سٹینڈنگ کمیٹی کے چیئرمین تھیتو ڈان نیوز نے ان پر یہ الزام لگایا کہ اپنے امریکی دورے کے دوران انہوں نے امریکہ کی ہائی کمانڈ سے خفیہ ملاقات کی ہے۔ ان پر کراچی میں پیش آنے والے سانحہ مئی کے حوالے سے بھی الزامات عائد کئے گئے۔

اسی طرح میڈیا کے ذریعے ہی نہیں بلکہ سوشل میڈیا پر بھی اسفندیار ولی خان کی کردار کشی کی جاتی رہی جو آج بھی جاری و ساری ہے۔ ان پر کرپشن کے بے تحاشہ الزامات لگائے گئے، دبئی اور ملیشیاء میں جائیدادوں کے الزامات عائد کئے جاتے ہیں لیکن مجال ہے جو ان کے خلاف عائد ایک الزام بھی آج تک کبھی درست ثابت ہوا۔ دوسری جانب اسفندیار ولی خان کی پارٹی، عوامی نیشنل پارٹی، جب2008  میں خیبر پختونخوا میں اقتدار میں آئی تو صوبے کے کئی اضلاع میں حکومتی رٹ ختم ہو چکی تھی، ہر طرف بدامنی کا دور دورہ تھا، ملک خصوصاً خیبر پختونخوا اور نئے اضلاع میں غیر ریاستی عناصر کا سکہ چل رہا تھا، تین تین اور چار چار بم دھماکے روز کا معمول بن چکے تھے۔ سوات اور وزیرستان کے حالات کسے نہیں یاد جہاں حکومتی رٹ مکمل طور پر ختم ہو گئی تھی۔ اس شبِ تاریک  کی تفصیل میں جانے سے آج بھی ہر ذی شعور اور ہر درد دل رکھنے والے انسان کے رونگٹے کھڑے ہوجاتے ہیں۔ لیکن جب عوامی نیشنل پارٹی کی حکومت آئی تو یہی قیادت تھی جس نے وہ جراتمندانہ فیصلے کئے جس سے ماضی کی حکومتیں کنی کتراتی رہیں۔

عوامی نیشنل پارٹی نے جزوقتی سیاسی مفادات کی قربانی ضرور دی لیکن اپنا وہ ہدف اور اپنا وہ مقصد حاصل کرنے میں کامیاب رہی جو اس جماعت کی بنیادی اساس ہے، وہ کیا ہے بھلا؟ اپنی سرزمین پر امن و آشتی کا قیام۔ اسفندیار ولی خان کی پارٹی کی حکومت نے مالاکنڈ ڈویژن کو کم عرصے میں سول انتظامیہ کے حوالے کردیا۔ یہ ان کے آباؤ اجداد اور خود اسفندیار ولی خان اور ان کی جماعت کی جدوجہد کا ہی نتیجہ تھا کہ اٹھارہویں ترمیم میں صوبہ سرحد کا نام تبدیل کردیا گیا اور خیبر پختونخوا نام رکھ دیا گیا۔ چھ دہائیوں کے بعد اس صوبے کو پہچان ملی۔ یہ بڑی طویل جدوجہد تھی کیونکہ جب وہ صوبے کا نام تبدیل کرنے کے لیے آواز اٹھاتے تھے تو سب سے پہلے سازشی عناصر پشتونوں کو اسفندیار ولی خان کیخلاف اٹھاتے تھے کہ نام سے کیا حاصل ہوگا لیکن انہوں نے نہ ان کے بہلاوے میں آنے والوں نے کبھی یہ غور کیا کہ نام ہی تو کسی انسان، قوم حتیٰ کہ ملک کی اولین اور بنیادی پہچان ہوتی ہے۔ پنجاب کو پنجاب اور سندھ کو سندھ نام کیوں دیا گیا تھا۔ سرحد تو نام نہیں۔ اسی طرح یہ عوامی نیشنل پارٹی کی جدوجہد کا ہی ثمر ہے کہ اسی اٹھارہویں ترمیم کے تحت این ایف سی ایوارڈ کے ذریعے صوبے کو بجلی رائلٹی دیگئی اور اسی اٹھارویں ترمیم کے ذریعے صوبے کو اختیارات دیئے گئے۔ دہشتگردی کے سامنے ڈٹ جانے کی پاداش میں ان پر قاتلانہ حملے ہوئے، ان کے جلسوں پر حملے ہوتے رہے، پارٹی کے کئی سینئر رہنماء اور قیمتی کارکنان شہید ہوئے۔ ذرا غور کریں کہ کوئی ایک دو یا درجن دو درجن نہیں بلکہ بارہ سو کے قریب یا شائد اس سے بھی زائد ورکرز شہید ہوئے، ایسے ورکرز جو اس جماعت کا اثاثہ تھے لیکن انہوں نے، ان کے ساتھیوں نے اور ان کے ادنی سے ادنی ورکر نے کبھی ہمت نہیں ہاری اور بڑی بہادری سے ان حالات کا مقابلہ کیا

راقم ذاتی طور پر سمجھتا ہے کہ اگر پشتونوں کو احساس ہو تو اپنی اس جماعت کی یہ واحد کارکردگی اور اس کی یہی کامیابی ہی ان کیلئے کافی ہے یہ سمجھنے کیلئے کہ کون سی سیاسی قیادت یا کون سی جماعت درحقیقت ان کی غمگسار اور ان کے حقوق کیلئے سرگرداں ہے۔ اس جماعت نے کالا باغ ڈیم بننے کیخلاف آواز اٹھائی اور مستقبل قریب میں اس پراجیکٹ سے پختونخوا کی تباہی سے لوگوں کو آگاہ کیا۔ اسفندیار ولی خان پشتون رسم و رواج کے دلداداہ اور علمبردار ہیں۔ وہ عام لوگوں کی طرح عام زندگی گزارتے ہیں، وہ ورثے میں ملی جائیداد پر گزارا کرتے ہیں۔ نظریے کی بات کریں تو وہ ایک پشتون نیشنلسٹ، مذہبی، سیکولر اور لبرل انسان ہیں۔ اسفندیار ولی خان اس وقت ملکی سیاست میں بزرگ سیاستدان ہیں۔ وہ عمر کے لحاظ سے کئی سینئر سیاستدانوں سے بزرگ ہیں۔

آخر میں اتنا ہی عرض کروں گا کہ عوامی نیشنل پارٹی کے سربراہ اسفندیار ولی خان کی زندگی کی داستان بہت ہی طویل ہے جبکہ میری یہ تحریر نہایت مختصر اور اخبار کا ایک صفحہ تو کیا اس کے درجنوں شمارے بھی ناکافی ہیں۔ جمہوریت میں شخصی آزادی کو بنایدی اہمیت حاصل ہے، ہر بندہ اپنے سیاسی نظریات کے حوالے سے، جماعت کے حوالے سے اور اپنی قیادت کے انتخاب کے حوالے سے آزاد ہے، سیاسی جھکاؤ اور سیاسی سوچ بھی اپنی جگہ لیکن میں یہاں قارئیں سے بس اسی ایک گزارش کے ساتھ اجازت چاہوں گا کہ قدرت نے آپ کو دماغ دیا ہے، سوچنے سمجھنے کی صلاحیت دی ہے جسے ووٹ دیتے وقت بروئے کار لانے کی ضرورت ہے، یہ دیکھنے کی ضرورت ہے کہ کون سی جماعت کس کے مفاد کا تحفظ کر رہی ہے، ایوان نمائندگان میں کسے بھیج کر وہ اپنی اور اپنے علاقے کی بہترین نمائندگی کا حق پورا کر سکتے ہیں۔ اس سلسلے میں ہر جماعت اور ہر سیاسی قیادت کے حال سے اور گزرے ہوئے کل سے واقفیت اور شناسائی ضروری ہے کیونکہ کسی دانا کا قول ہے کہ آپ کل کو آج سے جدا نہیں کر سکتے، کل جس نے جو کردار ادا کیا ہے وہ آج بھی وہی کچھ کر رہا ہے اور مستقبل میں بھی اس کا وہی کردار رہے گا۔ ٭٭٭

 

یہ بھی پڑھیں

رہِ یار ہم نے قدم قدم تجھے یادگار بنا دیا

18ویں ترمیم کے ذریعے اسفندیار ولی خان باچا خان اور ولی خان کی جنگ جیت …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔