23 مارچ، سانحہ لیاقت باغ غدار ولی خان کا امتحان

یہ ملک کے طول و عرض میں قائد عوام کے نام سے مشہور و معروف ذوالفقار علی بھٹو کا زمانہ تھا۔ ایک سال اور کچھ ماہ قبل ہی اقتدار کے حصول اور اپنی انا کی تسکین کیلئے قائد عوام پاکستان کو دو لخت کرنے کے گناہ میں اُس زمانے کے فوجی آمروں کے ساتھ گناہ میں شریک ہو چکے تھے۔ اب باقی بچنے والے پاکستان پر صرف اُنہی کی حکمرانی تھی، صرف اُن کا ہی طوطی بول رہا تھا، وہ پہلے پاکستان کا صدر اور اب پاکستان کا وزیراعظم بن چکا تھا۔

پاکستان کا پہلا دستور تیار ہو چکا تھا۔ جو پاکستان بچ چکا تھا اُس پاکستان میں بھٹو کو اکثریت حاصل تھی۔ حکومتی ممبران کے مقابلے میں اپوزیشن کی تعداد برائے نام ہی تھی لیکن بھٹو کی بدقسمتی یہ تھی کہ اُن کے سامنے اپوزیشن لیڈر خان عبدالولی خان اور ڈپٹی اپوزیشن لیڈر چوہدری ظہور الہی جیسے زیرک اور مدبر سیاستدان تھے۔ یہی وجہ تھی کہ اقلیت میں ہونے کے باوجود بھی قائد عوام کو اپوزیشن سے ڈر رہتا تھا کہ وہ اس اپوزیشن کے ہوتے ہوئے کوئی ایسا کام نہیں کر سکتے تھے جو وہ کرنا چاہتے تھے۔ ایوان کے اندر ولی خان اپوزیشن لیڈر تھے اور باہر متحدہ جمہوری محاذ بھی بنایا گیا تھا جس کے لیڈر ایوان سے باہر سندھ کے مذہبی پیشوا پیر پگاڑا تھے۔ ولی خان سانحہ لیاقت باغ کے حوالے سے لکھتے ہیں کہ متحدہ جمہوری محاذ میں شامل پنجابی قوم پرست لیڈروں کو یہ شکوہ تھا کہ بھٹو جو بھی اقدامات کر رہا ہے اُس سے نقصان چھوٹے صوبوں کا ہو رہا ہے اور اس نقصان کے ساتھ ساتھ اُن چھوٹے صوبوں میں پنجاب کی ساکھ بھی متاثر ہو رہی ہے۔ چھوٹے صوبوں کی عوام یہ سمجھ رہی ہے کہ اُن کا یہ نقصان پنجاب اور پنجابی کر رہے ہیں

حالانکہ یہ بھٹو اور پاکستانی اسٹیبلیشمنٹ کی کارروائی تھی جس کی وجہ سے چھوٹے صوبوں کے حقوق پامال ہو رہے تھے، لہذا ولی خان لکھتے ہیں کہ 1973کے آئین کے ڈرافٹ میں متحدہ جمہوری محاذ نے اپنی ترامیم بھی اس حوالے سے کی تھیں اور اس حوالے سے فیصلہ بھی یہ کیا گیا تھا کہ چھوٹے صوبوں کو اپنے حقوق دلوانے کیلئے متحدہ جمہوری محاذ لیاقت باغ راولپنڈی میں جلسہ عام بھی منعقد کرے گا۔ یہ وہ زمانہ تھا جب بھٹو کو باقی ماندہ پاکستان میں نہ صرف اکثریت حاصل تھی بلکہ عوام بھی اُن سے والہانہ محبت کرتے تھے لیکن اُس کے باوجود بھی بھٹو حکومت نے متحدہ جمہوری محاذ کے اس فیصلے کو اپنے خلاف اعلان جنگ سمجھا۔

حکومت کی پلاننگ یہ تھی کہ متحدہ جمہوری محاذ کے اس جلسے کو ہر صورت میں ناکام بنانا ہے اور اس پلاننگ کی اطلاع ولی خان کو بھی مل چکی تھی لیکن ولی خان کو یہ توقع نہیں تھی کہ بھٹو حکومت لیاقت باغ کو خون کی ندی میں بھی تبدیل کر سکتی ہے۔ متحدہ جمہوری محاذ کی جانب سے اعلان کردہ 23 مارچ کی وہ صبح آن پہنچی، لوگ جوق در جوق جلسہ گاہ پہنچنا شروع ہو چکے تھے اور مجمع میں صرف سر ہی سر دکھائی دے رہے تھے، ابھی قیادت نے جلسہ گاہ پہنچنا ہی تھا کہ جلسہ شروع ہونے سے پہلے لیاقت باغ کے عین سامنے ایک بلڈنگ سے جلسہ گاہ پر کچھ نامعلوم افراد نے فائرنگ شروع کر دی لیکن عوام کا یہ ٹھاٹیں مارتا ہوا سمندر اُس فائرنگ سے بھی منتشر نہ ہو سکا اور متحدہ جمہوری محاذ کے کارکنان اپنے قائدین کا انتظار کرتے رہے، فائرنگ کا سن کر چوہدری ظہور الٰہی، پیر پگاڑا، خان عبدالولی خان، مولانا شاہ احمد نورانی، پروفیسر غفوراحمد، غوث بخش بزنجو اور اجمل خٹک جلسہ گاہ پہنچ گئے۔ لیڈر شپ جلسہ گاہ پہنچ گئی،کارکنان کا جوش و جذبہ اب ایک نئے انداز میں اُبھر کر سامنے آیا لیکن نامعلوم افراد کی جانب سے فائرنگ کا وہ سلسلہ نہ تھم سکا

حیرت کی بات یہ تھی کہ لیاقت باغ کے مقام پر ملک کی تمام اپوزیشن جماعتوں کا جلسہ عام تھا، اُس پر فائرنگ کی گئی، جلسہ گاہ میں ملک کے اپوزیشن و ڈپٹی اپوزیشن لیڈر موجود تھے لیکن اس ساری صورتحال کے باوجود حکومتی مشینری ٹس سے مس نہ ہوئی۔ اور ظلم کی انتہا یہ کہ اپوزیشن جماعتوں کے کارکنوں پر، جو اپنی قیادت کے ساتھ ڈٹ کر کھڑے ہوگئے تھے، فائرنگ کے ساتھ ساتھ پنجاب پولیس کی جانب سے آنسو گیس کے شیل بھی پھینکنا شروع ہوگئے۔ اب لیاقت باغ میں منظر ایسا تھا کہ ایک طرف فائرنگ، دوسری طرف عوام کے حکومت مخالف پرجوش نعرے اور اس کے علاوہ آنسو گیس کا دھواں، لیکن یہ سب کچھ بھی عوام کے حوصلے پست نہ کر سکا۔

اب آنسو گیس کے گولوں کے ساتھ ساتھ پولیس اور ان نامعلوم افراد نے، جو جلسہ گاہ پر ہوائی فائرنگ کر رہے تھے، سیدھا عوام پر گولیاں برسانا شروع کر دیں بلکہ بعض اطلاعات کے مطابق پنجاب پولیس نے بھی اس اجتماع پر براہ راست فائرنگ کی تھی، مختلف جماعتوں کے کارکنان موقع پر شہید کردیے گئے تھے لیکن اُن سیاسی کارکنان میں اکثریت کا تعلق خیبر پختونخوا اور ولی خان کی جماعت نیشنل عوامی پارٹی سے تھا۔ سانحہ لیاقت باغ میں شہداء کے حوالے سے مختلف اعداد وشمار ہیں لیکن ایک اندازے کے مطابق بھٹو کے پہلے دور حکومت میں پہلے حکومت مخالف مظاہرے میں تقریباً درجنوں کی تعداد میں سیاسی کارکنان کو شہید کر دیا گیا تھا اور اس سخت فائرنگ میں ملک کے اپوزیشن لیڈر ولی خان ایک سیکنڈ کیلئے بھی سٹیج سے نہیں اُترے تھے بلکہ ڈٹ کر کارکنان کے بیچ سٹیج پر کھڑے رہے اس کے باوجود اس فائرنگ میں ولی خان معجزانہ طور پر بچ گئے تھے

ذوالفقار علی بھٹو کے خلاف متحدہ جمہوری محاذ نے 17 اگست 73ء کو سول نافرمانی کا اعلان کردیا ،10 فروری 1975 کو حکومت نے نیپ پر پابندی عائد کی جسے عدالت نے بھی 30 اکتوبر 1975 کو جائز قرار دے دیا۔ اس کے نتیجے میں نیپ کی مرکزی اور صوبائی قیادت کی اسمبلیوں کی رکنیت بھی ختم کردی گئی اور بعد میں نیشنل عوامی پارٹی کے لیڈروں کو قید بھی کردیا گیا جس میں ولی خان جیسے اہم رہنما بھی شامل تھے، بلکہ یہ وہ وقت تھا جب ولی خان کے والد۔خان عبدالغفار خان المعروف باچا خان۔ بھی بھٹو حکومت کی جیل میں تھے اور اُن کا بیٹا جسے آج دنیا اسفندیار ولی خان کے نام سے جانتی ہے وہ بھی جیل میں تھے۔

بھٹو کے ان مظالم کو حبیب جالب صاحب نے کچھ یوں بیان کیا ہے
میں قائد عوام ہوں
جتنے میرے وزیر ہیں سارے ہی بے ضمیر ہیں
میں ان کا بھی امام ہوں میں قائد عوام ہوں
میں پسر شاہنواز ہوں میں پدر بے نظیر ہوں
میں نکسن کا غلام ہوں میں قائد عوام ہوں
دیکھو میرے اعمال کو میں کھا گیا بنگال کو
پھر بھی میں نیک نام ہوں میں قائد عوام ہوں
میں شرابیوں کا پیر ہوں میں لکھ پتی فقیر ہوں
وہسکی بھرا ایک جام ہوں میں قائد عوام ہوں
سنو اے محبان وطن رہنے نہ دوں گا مہکتا چمن
میں موت کا پیغام ہوں میں قائد عوام ہوں
میری زبان ہے بے کمال لڑتا ہوں میں ہزار سال
میں اندرا کا غلام ہوں میں قائد عوام ہوں
ہیں قادیانی میری جان نہ فکرکر تو مسلمان
میں قاتلِ اسلام ہوں میں قائد عوام ہو
23 مارچ 1973 کا یہ دن پاکستان کی تاریخ کا ایک سیاہ دن ہے، یہ ایک تلخ حقیقت ہے لیکن تاریخ بے رحم ہے اور کسی کو معاف نہیں کرتی کہ 23 مارچ 1973 کو جمہوریت کے دعوی گیر پاکستانی سیاست دان نے جمہوریت کا گلا گھونٹ دیا تھا اور غدار ولی خان نے پاکستان ہی کی خاطر اُن مظالم کو برداشت کیا اور پاکستان کو مزید ٹکڑے ٹکڑے ہونے سے بچایا تھا۔ اگر ولی خان پاکستان کو اُس وقت مزید ٹکڑے ٹکڑے کرنا چاہتے تو یہ عین ممکن تھا لیکن ولی خان کی کبھی یہ سیاست ہی نہیں رہی۔ یہی وجہ ہے کہ آج وہ تاریخ میں امر ہو چکے ہیں، قائد عوام کے نام سے مشہور بھٹو صاحب کے کچھ ایسے کارنامے بھی ہوں گے جس پر تاریخ فخر کرتی ہو گی لیکن 23 مارچ 1973 کا دن بھی تاریخ نے بھٹو صاحب کے حوالے سے امر کر رکھا ہے اور آج بھی لیاقت باغ کا میدان چیخ چیخ کر کہہ رہا ہے کہ اگر 2007 میں اسی میدان سے بھٹو صاحب کی بیٹی کی لاش اُٹھی ہے تو اسی میدان سے 1973میں بے گناہ پختونوں اور سیاسی کارکنان کی لاشیں بھی بھٹو صاحب ہی کے حکم پر اُٹھائی گئی تھیں۔

آج کی حقیقت یہی ہے کہ سانحہ لیاقت باغ میں اُس دن ایک جمہوری پارٹی کے لیڈر نے جمہوریت کا گلا گھونٹا تھا اور اُس کی سزا اُس قائد عوام کو مل بھی چکی ہے۔ اگر سیاسی لیڈرز اور کارکن ہی جمہوریت کے دشمن بنیں گے تو پھر ہر دور میں ضیاء بھی پیدا ہوگا، مشرف بھی با اسلام ہوگا اور یحییٰ خان ملک کو دو ٹکڑے بھی کرے گا اور ہم ہاتھ پر ہاتھ رکھ کر تماشا دیکھتے رہیں گے۔

یہ بھی پڑھیں

رہِ یار ہم نے قدم قدم تجھے یادگار بنا دیا

18ویں ترمیم کے ذریعے اسفندیار ولی خان باچا خان اور ولی خان کی جنگ جیت …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔