رہِ یار ہم نے قدم قدم تجھے یادگار بنا دیا

18ویں ترمیم کے ذریعے اسفندیار ولی خان باچا خان اور ولی خان کی جنگ جیت چکے، وہ اپنے آنگن میں لگی کیاریوں سے جب مختلف پھول اُٹھاتے ہیں تو ان کے چہرے پر طمانیت کی سرخی ہوتی ہے

اگست 1987ء کا واقعہ ہے ۔ چارسدہ ترناب میں اپنے ایک پروفیسر سے ملنے گیا۔ وہاں ملک کے سیاسی حالات پر بات شروع ہوئی تو پروفیسر صاحب نے فرمایا کہ احسان اللہ خان (جو اس وقت وزیر صحت تھے) کے آنے کے بعد مورثی سیاست کا خاتمہ ہوگیا ۔ لوگ روایتی سیاست سے تنگ ہیں۔۔۔وغیرہ وغیرہ۔۔

حجرے میں بیٹھے ایک بزرگ خدائی خدمتگار نے بحث میں حصہ لیتے ہوئے کہا کہ ’’شاید آپ لوگ تاریخ سے ناواقف ہیں اور پھر پختونوں کی روایات، کلچر اور تاریخ سے تو مکمل طور پر نابلد ہیں۔ پختونوں میں چند ہی گھرانے ہیں لوگ دل سے جن کی عزت اور ان کا احترام کرتے ہیں اور ان میں ایک باچا خان کا خاندان بھی شامل ہے۔ کیا آپ لوگوںنے نہیں دیکھا کہ ظاہر شاہ کے خاندان کے چلے جانے سے افغانستان کا کیا حشر ہوا؟ اگر بات صرف مورثیت کی ہوتی، حکمرانی کی ہوتی تو ڈاکٹر خان صاحب کی حکمرانی اور مورثیت کو آپ کیا نام دیں گے؟ شاید وہ تاریخ کی غلط سمت چلے گئے۔

ان کے مقابلے میں آج بھی سیاسی و مطلق العنان حکمران اپنا جھکاؤ ہمیشہ ولی خان کی طرف رکھتے ہیں؟ شاید اس لئے کہ وہ مورثیت کی نہیں بلکہ سیاست اور تاریخ کی درست سمت پر کھڑے ہیں۔‘‘1988ء کے انتخابات ہوئے۔ ولی خان قومی اسمبلی کی نشست جیتنے میں کامیاب رہے جبکہ صوبائی اسمبلی کی سیٹ پیپلز پارٹی کے امیر خسرو خان سے ہارگئے تھے۔ ہم پروفیسر صاحب کے حجرے میں اکٹھے تھے۔ بحث ہو رہی تھی اور وہ بھی ولی باغ کی سیاست پر۔ پروفیسر صاحب اپنی پرانی ڈگر پر جا رہے تھے۔ وہی مورثیت کی منطق۔۔۔۔ خان کاکا نے پھر اپنا نکتہ نظر پیش کیا اور بولے، ’’دیکھ پروفیسر! کدھر گم ہوگیا آپ کا احسان اللہ خان؟ سیاسی جدوجہد کے مقابلے میں غیر سیاسی لوگوں کیلئے جگہ نہیں ہوتی۔ یہ غیر سیاسی بندہ ہے۔ غیر سیاسی انتخاب تو جیت سکتا ہے مگر سیاسی نہیں۔‘‘پروفیسر صاحب نے ازراہ مذاق صوبائی انتخاب ہارنے کا معاملہ اُٹھایا تو خان کاکا بولے’’سیاست میں صحیح وقت کا تعین کرنا فتح کے امکانات روشن کرتی ہے۔ میراخیال ہے کہ صوبائی نشست کیلئے اسفندیار ولی کو نامزد کرنا چاہئے تھا۔ یہی سیاست کا وقت تھا۔‘‘ پروفیسر بولے، ولی خان کا تو دوسرا بیٹا بھی ہے۔

خان کاکا نے حاضر دماغی سے جواب دیا۔ ’’سیاست میں خاندانی نہیں، سیاسی مورثیت چلتی ہے۔ مجھے یقین ہے یہ لڑکا باپ دادا کی سیاست کا صحیح وارث ثابت ہوگا۔‘‘ 1988ء کے انتخابات کے دوران این اے 5,4 سے اسفندیار ولی خان کمپین کے انچارج تھے۔ عشاء کی نماز کے بعد روزانہ مختلف گاؤں میں گھر گھر کمپین چل رہی تھی۔ پی ایف پندرہ کے علاقوں میں مجھے بھی ان کے ساتھ کمپین کرنے کا موقع ملا۔ ایک رات اتمانزئی میں مولوی امداداللہ کے گھر کا دروازہ کھٹکھٹایا۔ وہ خود نکلے اور اسفندیار ولی خان کو ووٹ دینے کی حامی بھرنے کیلئے ان کے سامنے اپنے چند سوالات رکھے اور اُن کے تسلی بخش جوابات پر ہی ووٹ دینے کا وعدہ کیا۔ مولانا صاحب کے سوالات روایتی تھے۔ وہی مسلمانی کی فوقیت، بین الاقوامی تعلقات عامہ میں روس سے بیدخلی کا اقرار نامہ، پختونوں کے حقوق کی بجائے عالم اسلام کی خیر و عافیت کی پالیسی اپنانا۔‘‘ اسفندیار ولی نے وہیں کھڑے کھڑے ایسے تسلی بخش جوابات دے دیئے کہ مولانا صاحب خاموش ہوگئے۔ نیشنلزم کیوں؟اس پر ایک جامع تعارف کر ڈالا تو بین الاقوامی تعلقات عامہ کے اصولوں کی تشریح بھی ساتھ کردی، ساتھ ساتھ مسلم امہ کے ساتھ پختون امہ کی تھیوری بھی پیش کر ڈالی۔

ہمارے کمپین گروپ میں بہت سارے خوانین، دانشور اور ماہرین جیسے کہ احسان اللہ خان (نرے) ، حاجی اکرام اللہ خان، میجر ریٹائرڈ مختار احمد خان، میر ویس خان شموزئی، شموئیل، دوست محمد خان، محمد عالم خان، ہمایوں خان، اسد خان، فرمان خان اور گل باچا شامل تھے، سب اسفندیار خان کے جوابات سن کر دنگ رہ گئے۔ خان کاکا کی پیشن گوئی سچ ثابت ہوئی۔ 1990ء کے انتخابات میں اسفندیار ولی خان نے وہی صوبائی نشست جیت لی جو 1988ء میں خان عبدالولی خان ہار چکے تھے۔ 1990ء سے لے کر 1993ء تک بحیثیت ممبر صوبائی اسمبلی ان کی کارگردگی پر علٰیحدہ مضمون لکھا جا سکتا ہے۔ تاہم 1993ء کے انتخابات میں جب پیپلز ڈیموکریٹک الائنس بنا کر اسے حکومت دینے کا فیصلہ ہوا تو چارسدہ ضلع پر مشتمل قومی اسمبلی کے واحد حلقہ سے اے این پی کے ایک باغی رکن میجرمختار خان کو اسفندیار ولی خان کے مقابلے میں کھڑا کیا گیا اور ہر طرح کی سپورٹ دی گئی۔

تاہم اپنی سیاسی کارگردگی کی بنیاد پر قومی اسمبلی کا یہ انتخاب اسفندیار ولی خان نے جیت لیا اور قومی اسمبلی میں پارلیمانی لیڈر مقرر کیے گئے۔ اس وقت کی اسمبلی کارگردگی ریکارڈ پر ہے۔ اپوزیشن ممبر کی حیثیت سے کی گئیں ان کی تقاریر سنیں اور دیکھیں تو قومی سطح کے لیڈر ہونے کا اس سے بہتر اور کیا ثبوت ہو سکتا ہے۔ اسفندیار ولی خان پارٹی میں کوئی عہدہ لینے سے ہچکچا رہے تھے اور اسے سینئر اور تجربہ کار پارٹی قیادت کا حق سمجھتے تھے تاہم جب عبدالولی خان بابا نے حکم دیا کہ پارٹی قیادت سنبھالیں تو انکار نہ کر سکے۔ 1997ء کے انتخابات میں دوسری مرتبہ قومی اسمبلی کی نشست جیت لی۔ اس بار بھی پارلیمانی لیڈر بنے اور اسمبلی کے متحرک ارکان اسمبلی میں سرفہرست تھے۔ اس دور کی اکثر تقاریر یوٹیوب اور امن ٹی وی پر موجود ہیں جن میں وہ ہر مرتبہ ایک وفاقی پارلیمانی طرز حکومت کی وکالت کرتے نظر آ رہے ہیں، صوبائی خود مختاری پر سب سے زیادہ بات کی، پرائیویٹائزیشن کمیشن کے ممبر کی حیثیت سے فعال کردار ادا کیا اور پہلی مرتبہ نجی ملکیت میں جانے والے اداروں کے شفاف عمل کی خود نگرانی کی۔ 2002ء کے انتخابات میں پارٹی کی ایم ایم اے کے ہاتھوں شکست پر ایک تحقیقاتی کمیشن بنا کر شکست کی وجوہات معلوم کیں اور چند پیچیدہ محرکات کا جب پتہ چلا تو ڈسپلن کو برقرار رکھنے کیلئے چند تلخ فیصلے کئے جن میں اندرونی و بیرونی محرکات کے ردعمل کا انتظار کرنے سے پہلے پہلے نظم وضبط پر سمجھوتہ کئے بغیر گھر اور پارٹی کی لاج برقرار رکھی۔

بلاشبہ آپ کے سیاسی کرئیر کا اس سے بڑا امتحان اور نہیں ہو سکتا تھا۔ قیادت اور بالخصوص متاثرکن لیڈر شپ کی کیفیات کا اندازہ ایسے ہی پیچیدہ حالات سے ہوتا ہے۔ 2002 سے 2007 تک عملی باچا خانی کرتے ہوئے تمام ناراض کارکنوں اور رہنماؤں کو منایا۔ کچھ نئے ارکان کو پارٹی میں شامل کروایا۔ 2007ء کے شورش زدہ حالات کے پیش نظر ’’امن‘‘ کے منشور تلے پارٹی کی پالیسی بنائی اور جب 2008ء کے انتخابات کے نتائج آئے تو باچا خان اور ولی خان کی ارواح اپنے سکون اور اطمینان کے اظہار کے لئے 70 سال کی شناخت کا مقدمہ سر پر سجا چکے تھے۔

ان کے ارمانوں کی بارات، اسفندیار ولی خان کے زیر قیادت منزل کی طرف روانہ ہو چکی تھی۔ اس ’’جنج‘‘ میں وہ پختونوں کا مقدمہ تمام قومیتوں کے حقوق کے ساتھ شامل کر چکے تھے۔ یہ صحیح معنوں میں ایک نئے پاکستان کی بنیاد تھی۔ اٹھارہویں ترمیم کے ذریعے اسفندیار ولی خان باچا خان اور ولی خان کی جدوجہد کی جنگ جیت چکے تھے۔ وہ اپنے آنگن میں لگی کیاریوں سے جب مختلف پھول اُٹھاتے ہیں تو ان کے چہرے پر طمانیت کی سرخی ہوتی ہے۔

کون کون سے پھول اور کس رنگ کے؟ باچا خان انٹرنیشنل ائیرپورٹ کا گلدستہ کہ باچا خان یونیورسٹی چارسدہ کے پھول، عبدالولی خان یونیورسٹی مردان کے پودے ہوں یا صوبے کے چپہ چپہ پر 46 ڈگری کالج کے درخت، نصاب کی درستگی کا عمل ہو کہ ریجنل لینگویجز اتھارٹی کا قیام، پن بجلی کے خالص منافع سے ملنے والی اضافی رقم ہو یا کونسل آف کامن انٹرسٹ کی آئینی باقاعدگی، صوابی، ہری پور سڑک، شرینگل، بینظیر وومن یونیورسٹیاں ہوں یا سیلاب سے بچاؤ کیلئے دریائے جیندے کی تاریخی کھدائی، گومل زام ڈیم کا حق ملکیت ہو یا شکردرہ گیس کا، پیٹرولیم کی ملکیت ہو یا پن بجلی کے اپنے منصوبوں کا تعمیری و تفتیشی نظام، لسٹ لمبی ہے اور اپنے سینے پر یہ ڈھیر سارے تمغے سجانے والا ایک، عوامی نیشنل پارٹی کا ہر کارکن جنہیں بڑے فخر و احترام سے ’’مشر‘‘ کہتا ہی نہیں دل و جان سے سمجھتا بھی ہے۔ بقول فیض

یہ بھی پڑھیں

23 مارچ، سانحہ لیاقت باغ غدار ولی خان کا امتحان

یہ ملک کے طول و عرض میں قائد عوام کے نام سے مشہور و معروف …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔