تاریخی اور ثقافتی شہر تخت بھائی میں مسائل کے انبار‘منتخب نمائندے غائب – تحریر: مسلم صابر

تخت بھائی ایک تاریخی اور ثقافتی شہر ہے لیکن بدقسمتی سے وہ ترقی نہیں کی جس کا یہ شہر حقدار تھا ‘ترقی کے میدان میں پیچھے رہ جانے کی بڑی وجہ مقامی قیادت کا فقدان ہے ‘در حقیقت تخت بھائی کو آج تک کسی نے اپنا نہیں سمجھا عوامی نمائندے یہاں کے غریب عوام سے ووٹ لیکر پشاور اور اسلام کی روشنیوں میں گم ہوجاتے ہیں جس کے باعث تخت بھائی کے عوام آج گونا گوں مسائل سے دوچار ہیں ‘شہر کے بڑے اور توجہ طلب مسائل میں صحت‘ تعلیم ‘ پلے گرائونڈ‘ صنعتوں کی بحالی کے علاوہ قبرستان کا مسئلہ بھی درپیش ہے عوام کیلئے اپنے پیاروں کی تدفین بھی ایک بڑا مسئلہ بن چکا ہے ‘

تخت بھائی میں آئے روز بڑی بڑی نالیاں تو تعمیر ہورہی ہیں لیکن کسی نے قبرستان کے بارے میں نہیں سوچا ‘ مسلم آباد ،کالج کالونی ،مزدور آباد ،قدرت آباد ،گلشن کالونی ،جمعہ گل کالونی بلال مسجد آرٹ کورونہ ‘پاکستان کلے ‘شیر دل خان کالونی ‘افضل امام کالونی ‘گل بہار کالونی ‘سرحد کالونی معراج کالونی‘ نمبر ایک نمبر دو جان خان کلے اور دیگر درجنوں کی تعداد میں بڑے بڑے گائوں آباد ہوچکے ہیں جب تخت بھائی ٹائون کمیٹی تھی تو اس وقت شیخانو کلے مقبرہ ‘ گاڑی بابا مقبرہ اور مزدور آباد مقبرہ تھا لیکن آج بھی یہی تین قبرستان ہیں جن میں مردے دفنانے کیلئے جگہ نہیں ملتی اور لوگ مجبوراً پرانی قبروں میں اپنے مردوں کو دفناتے ہیں ‘ تاریخ کو اٹھا کر دیکھا جائے تو جس ملک ‘شہر اور گائوں میں لوگوں کے درمیان اتفاق‘ اتحاد اور ہم آہنگی نہ ہوں تو وہاں ہمیشہ بدامنی‘ افراتفری ‘دشمنیاں، سیاسی اختلافات، غربت، افلاس، بے روزگاری اور ہر قسم کی معاشرتی برائیاں جنم لیتی ہیں جس کا نتیجہ یہی ہوتا ہے کہ ہمیشہ باہر سے حملہ آور لوگ ایسے لوگوں پر مسلط رہتے ہیں اور ان کے مال و دولت کو سمیٹ کر لے جاتے ہیں ‘

بدقسمتی سے ہمارے سیاسی قائدین ایک دوسرے کو نیچا دکھانے کیلئے زور آزمائی میں سرگرم عمل رہتے ہیں جس کی وجہ سے تخت بھائی کے مسائل کم ہونے کی بجائے روز بروز بڑھ رہے ہیں جس کا سب سے زیادہ اثر ہماری نوجوان نسل پر پڑ رہا ہے ‘ہزاروں کی تعداد میں نوجوانوں کیلئے نہ تو کوئی سپورٹس کمپلیکس ہے،نہ پبلک لائبریری اور نہ ہی سیر و تفریح کیلئے کوئی پارک موجود ہے ‘ہزاروں کی تعداد میں مقامی نوجوان بے روزگار ہیں کیونکہ تخت بھائی میں نہ گزشتہ حکمرانوں اور نہ ہی موجودہ حکومت انڈسٹریز پر توجہ دی ‘

تحصیل تخت بھائی میںکئی فلور ملز حکومت وقت کی غلط پالیسوں کی وجہ سے بند پڑی ہیں ‘تخت بھائی کے عوام کازیادہ تر دارو مدار زراعت پر ہے لیکن گزشتہ دس سالوں سے ایشیاء کی پہلی فرنٹیئر شوگر ملز جس میں تین ہزار سے زائد ملازمین کام کرروہے تھے اور یہاں کے کاشتکار اپنا گنا اور چقندر اسی شوگر ملز کو سپلائی کرتے تھے بند پڑی ہے لیکن کسی بھی سیاسی جماعت کے اکابرین نے ملز کی بندش پر حکومت وقت کیساتھ کوئی بات نہیں کی جس کی وجہ سے علاقہ کے جوان بیرون ملک،کراچی،لاہوراور ملک کے دیگر حصوں میں حصول رزق کیلئے سرگرداں ہیں اس کے علاوہ تخت بھائی میں نکاسی آب کا مسئلہ بھی سنگین صورتحال اختیار کر چکا ہے مختلف اوقات میں نکاسی پر کروڑوں روپے لگائے گئے لیکن نتیجہ صفرکیونکہ بغیر سروے اور پلاننگ کے آگے دوڑ پیچھے چھوڑ کے مصداق نالیاں بنائی گئی ہیں لیکن بارش کے دوران پانی نالیوں کی بجائے مین ملاکنڈ روڈ اور شہریوں کے گھروں میں داخل ہوجاتا ہے اور پورا علاقہ دریا کا منظر پیش کرنے لگتا ہے

‘ 74 سال گزرنے کے باوجود ہر گلی محلے میں درجنوں کی تعداد میں بجلی کی لٹکتی تاریں کسی خطرے سے کم نہیں ‘تخت بھائی شہر میں بڑ ی بڑی مارکیٹ بن چکی ہیں لیکن واپڈا کی ملی بھگت سے کسی بھی مارکیٹ میں ٹرانسفارمر نہیں لگایا گیا جس سے ثابت ہوتا ہے کہ بجلی کے ٹرانسفر کی سیاست ابھی تک اپنے عروج پر ہے اور کوئی بھی سیاسی حکومت اس کو ختم کرنے کا نام نہیں لے رہی ‘تھانوں اور کچہریوں میں رشوت کا بازار گرم ہے اور پولیس اور پٹواری کلچر وہی پرانا ہے ‘ایم ایم اے کی دور حکومت میں ہسپتال کی بلڈنگ تعمیرکی گئی لیکن لیکن تاحال مکمل طورپر ہسپتال چالو نہ ہوسکا اور صرف ایمرجنسی کی سہولت موجود لیکن ادویات موجود نہیں اور ایمرجنسی کی صورت میں بھی مریض کو دوائیاں بازار سے لانا پڑتی ہیں ‘پبلک ٹرانسپورٹ کیلئے اڈہ موجود نہیں تمام چنگ چی‘ سوزوکی ‘ڈاٹسن اور دیگر گاڑیاں سڑکوں پر کھڑی ہوکر سواریاں بٹھاتی ہیں کے باعث ٹریفک کا نظام درہم برہم ہے ‘تخت بھائی کے مین ملاکنڈ روڈ پر سٹریٹ لائٹس لگائی گئیں لیکن شہری روشنی سے مستفید نہ ہوسکے ‘مختلف رابطہ سڑکوں پر سولر سسٹم کی سٹریٹ لائٹس نصب لیکن روشنی چراغ سے بھی کم ہے کیونکہ جو بیٹریاں لگائی گئی ہیں وہ انتہائی ناقص اور کمزور کوالٹی کی ہیں ‘ٹی ایم اے کی منصوبہ بندی نہ ہونے اور حکام کی عدم توجہی کی وجہ سے ایک کام شروع تو دوسرا منصوبہ مسمار کرنا شروع کردیا جاتا ہے ‘انگریزدور کاتخت بھائی ریلوے سٹیشن

یہ بھی پڑھیں

کورونا وائرس کے اثرات: شادیوں سے متعلق کاروبار بھی سخت مندی سے دوچار – تحریر: انیس ٹکر

شادی بیاہ سے متعلقہ کاروباری حضرات کا کہنا ہے کہ باقی کاروباروں کی نسبت ان …