عبدالولی خان یونیورسٹی کی پاکستان بھر میں اول پوزیشن، سہرا کس کے سر؟

اطہر حق


یہ سال دو ہزار تیرہ، ستمبر کا مہینہ تھا جب میں نے عبدالولی خان یونیورسٹی میں داخلہ لیا۔ پختونخوا میں تعلیمی میدان میں عوامی نیشنل پارٹی نے انقلاب بپا کیا تھا۔ صوبہ پختونخوا میں اس وقت صرف چار پانچ یونیورسٹیاں ہوا کرتی تھیں جن میں پشاور یونیورسٹی، ایگریکلچر یونیورسٹی پشاور، ہزارہ یونیورسٹی اور یو ای ٹی پشاور نمایاں جامعات تھیں۔ پورے صوبے سے صرف پشاور یونیورسٹی پر ساٹھ فیصد تک بوجھ ہوتا تھا۔ یونیورسٹی اور پھر ہاسٹلوں کی بھاری فیسیں ہر بندے کے بس کا کام نہیں تھا۔ خیبر پختونخوا میں جوں ہی دو ہزار آٹھ میں عوامی نیشنل پارٹی کی حکومت آئی اس نے صوبہ بھر میں یونیورسٹیوں کا جال بچھایا اور صوبے کے عوام کو ان کی دہلیز پر تعلیم کی سہولت پہنچائی۔

عبدالولی خان یونیورسٹی کی بنیاد ایک ایسے وقت میں رکھی گئی جب سارا ملک خصوصاً صوبہ خیبر پختونخوا ہر طرف بدترین چیلنجز کا سامنا کر رہے تھا اور سوات میں طالبان کے خلاف آپریشن کا آغاز ہونے والا تھا


اپنے دور حکومت میں عوامی نیشنل پارٹی اور پیپلز پارٹی دونوں اٹھارہویں ترمیم کے جرم میں ہرطرف سے ٹف ٹائم فیس کر رہی تھیں، دہشتگردی کی ایک خوفناک لہر کا انہیں سامنا تھا۔ عبدالولی خان یونیورسٹی کی بنیاد ایک ایسے وقت میں رکھی گئی جب سارا ملک خصوصاً صوبہ خیبر پختونخوا ہرطرف بدترین چیلنجز کا سامنا کر رہے تھا اور سوات میں طالبان کے خلاف آپریشن کا آغاز ہونے والا تھا۔ ایسے میں امیر حیدر خان ہوتی اور پاکستان پیپلز پارٹی کی نیک نیتی و شاندار کاوشوں سے یونیورسٹی پر تیز و تند کام شروع ہوا اور ملککی سب سے شاندار جامعہ، عبدالولی خان یونیورسٹی، چند مہینوں میں کھڑی کر دی گئی۔ راقم خود عبدالولی خان یونیورسٹی کا طالب علم رہ چکا ہے اور وہاں پورے چار سال سبق پڑھ کر گریجیویٹ ہوا ہے۔ ان چار سالوں میں اور اس کے بعد آج تک عبدالولی خان یونیورسٹی کو بڑے قریب سے دیکھا اور اس کے کرائے کی بلڈنگز سے نئی بلڈنگز کو شفٹ ہونے سے لے کر مشال قتل کیس تک ہر لمحے سے باخبر رہا اور وہاں آنے والے مختلف اتار چڑھاؤ، سیاسی احتجاجوں، لیکچراروں کے احتجاجوں کا چشم دید گواہ ہوں اس لئے ضرور سمجھا کے عبدالولی خان یونیورسٹی کی رینکنگ کے حوالے سے بھی کچھ حقائق قوم کے سامنے رکھ دوں۔

یہ سال دوہزار تیرہ تھا اور عوامی نیشنل پارٹی کی حکومت ختم ہو رہی تھی۔ عبدالولی خان یونیورسٹی کیلئے عوامی نیشنل پارٹی کے وزیراعلی امیر حیدر خان ہوتی نے پندرہ ارب روپے ترقیاتی تعلیمی و تحقیقی فنڈز کیلئے مختص کئے اور فوری طور پر تین ارب روپے یونیورسٹی کو ریلیز کر دیئے جبکہ بارہ ارب روپے فیوچر پلان میں رکھے گئے۔ ان تین ارب روپے سے فوری طور پر پوری دنیا میں عبدالولی خان یونیورسٹی نے تین سو طالب علموں کو پی ایچ ڈی کرانے کیلئے بھیجا۔ پی ایچ ڈی کے ایک سکالر پر یونیورسٹی کا ایک کروڑ روپے تک خرچہ آیا۔ آج پوری دنیا کی بہترین یونیورسٹیوں جن میں برطانیہ کی آکسفورڈ، کیمبرج، گلاسگو یونیورسٹی برمنگھم، امریکا کی سان فرانسسکو یونیورسٹی اور یورپ و کینیڈا کی اعلی ترین یونیورسٹیوں میں ڈاکٹر احسان نے طلباء بھیجے۔ آج وہ تمام پی ایچ ڈیز عبدالولی خان یانیورسٹی واپس آ کر طلبا کو پڑھا رہے ہیں اور پورے پاکستان کے سب سے زیادہ تین سو پی ایچ ڈیز عبدالولی خان یونیورسٹی میں ہی پڑھا رہے ہیں۔ اس کا سہرا اس وقت کے وائس چانسلر ڈاکٹر احسان، اس وقت کے وزیر اعلی امیر حیدر خان ہوتی اور پاکستان پیپلز پارٹی کو جاتا ہے۔

دہشتگردی کی آگ سے سب سے زیادہ متاثر ہونے والے صوبے میں ایسی اعلٰی ترین یونیورسٹی کا ہونا پورے قوم کیلئے باعثِ فخر و اعزاز ہے


جب عوامی نیشنل پارٹی کی حکومت ختم ہوئی اور تحریک انصاف کی حکومت آئی تو یونیورسٹی کو ترقیاتی فنڈز سمیت ایجوکیشن فنڈز بھی بند کر دیئے گئے جس کی وجہ سے آج تک ڈاکٹر احسان یا عوامی نیشنل پارٹی کے دور سے رہ جانے والے ترقیاتی پراجیکٹس پایہ تکمیل کو نہیں پہنچے۔ ڈاکٹر احسان کی ریٹائرمنٹ کے بعد عبدالولی خان یونیورسٹی شدید انتظامی بحران کا شکار ہوئی اور تحریک انصاف کی حکومتی ناکامی کی وجہ سے یونیورسٹی میں دوسرا وائس چانسلر بروقت تعینات نہ ہو سکا جس کی وجہ سے انتظامی ڈھانچہ ڈانواں ڈول ہونے لگا اور اس کی وجہ سے یونیورسٹی میں مشال کا انسیڈنٹ ہوا۔ وہ دن بھی ہم نے دیکھا کہ انتظامیہ کی غفلت و سیکورٹی فیلیئر کی وجہ سے یونیورسٹی بدنام ہوئی۔

ڈاکٹر احسان کی جگہ پرویزخٹک و عمران گٹھ جوڑ سے میانوالی کے رہائشی مگر برطانوی شہری پروفیسر خورشید کو بریڈفورڈ یونیورسٹی سے سفارش پر لایا گیا جس نے یونیورسٹی کے انتظامی و مالی معاملات کا جنازہ نکال دیا۔ برطانیہ کی شہریت رکھنے والا پروفیسر خورشید چار لاکھ اسی ہزار روپے یونیورسٹی سے ایک تنخواہ لیتا تھا، اس کے بعد اس نے خزانہ پر دباؤ ڈال کر اپنی تنخواہ چھ لاکھ تک بڑھانے کو کہا جس سے اس نے انکار کر دیا کہ میں غیرقانونی کام کیسے کروں جس کی بنیاد پر ان کو ہٹایا گیا اور ایک اور ٹریجرار کو لایا گیا جس نے وی سی پروفیسر خورشید کی تنخواہ چھ لاکھ تک بڑھا دی یوں موصوف یونیورسٹی پر بوجھ بن گئے۔ ذرائع کے مطابق وی سی پروفیسر خورشید اس وقت وزیراعلی کے سپیشل سیکرٹ فنڈ سے خصوصی چھ لاکھ روپے بھی لیا کرتے تھے جبکہ یونیورسٹی سے چھ لاکھ پچانوے ہزار ماہانہ تنخواہ وصول کرتے اور اس طرح پروفیسرخورشید ماہانہ بارہ لاکھ پچانوے ہزار تنخواہ پاتے تھے۔ پروفیسر خورشید یہ کلیم کرتے تھے کہ میں برطانیہ شہری ہوں اور برٹش پاسپورٹ رکھتا ہوں تو مجھے تیرہ لاکھ روپے تنخواہ دیں گے کیونکہ وہاں میں کنٹریکٹ نوکری فریز کر کے آیا ہوں۔

اگر یہ کلیم ٹھیک ہے تو ایسے میں تو اس یونیورسٹی میں موجود کئی ایسی باوقار شخصیات ہیں جو برطانیہ شہریت رکھتی ہیں اور برطانیہ میں دس لاکھ کی نوکری چھوڑ کر دو لاکھ کے لگ بھگ اس مٹی کی خاطر لے رہی ہیں اور قوم کی خدمت کر رہی ہیں پھر ان کو بھی اتنی ہی تنخواہ کیوں نہیں دی جاتی؟ بس عرض صرف یہ کہ سیاسی ہاتھ لمبا ہو تو نوازنے کا سلسلہ نہیں تھمے گا۔ وزیراعظم کے رفیق دوست پروفیسر خورشید تیرہ لاکھ تنخواہ کے علاوہ اسلام اباد جی ٹین سیکٹر میں واقع عبدالولی خان یونیورسٹی کا گیسٹ ہاؤس بھی استمعال کرتا تھا جس سے ماہانہ کم از کم سات لاکھ روپے کرایہ کی مد میں یونیورسٹی کو ملتا تھا، اس کے آنے کے بعد تین سال سے ایک ٹکہ بھی نہیں ملا۔ اس کے علاوہ موصوف بڑی بڑی لگژری گاڑیوں کا بے دریغ استعمال کر کے روزانہ دس ہزار کا پٹرول خرچ کرتا تھا۔


بدترین مالی بحران پیدا کر کے یونیورسٹی کو بے یار و مددگار چھوڑا گیا اور آخری چار سالوں میں ایک پی ایچ ڈی سکالر کو بھی ہائر نہیں کیا گیا جس کیلئے تحریک انصاف کی حکومت ذمہ دار ہے کہ اس نے یونیورسٹی میں نہ نیا کوئی پراجیکٹ لانچ کیا نہ نئے پی ایچ ڈیز ہائر کئے۔ پروفیسر خورشید مدت ختم ہوتے ہی برطانیہ فرار ہو گئے اور ان کے خلاف تحقیقات کا آغاز ہوا لیکن وہ تحقیقات تاحال سرد خانے کی نذر ہیں۔ یونیورسٹی کی کوالٹی کو ہائر ایجوکیشن میں بہترین بنانے کے لئے ایک قابل و اعلی صلاحیتوں کے مالک شیراز پراچہ کو رکھا گیا جنہیں پہلے صحافت و ابلاغ عامہ ڈپارٹمنٹ کے چیئرمین کے اضافی اختیارات تفویض کئے گئے تھے لیکن بعد میں ان کو سیاسی انتقام کا نشانہ بنا کر نہ صرف چیئرمین کے عہدہ سے ہٹایا گیا بلکہ ڈائریکٹر کوالٹی اشورنس سیل میں بھی ان کیلئے روڑے ڈالے گئے۔ ان کی موجودگی میں ایک اور ڈائریکٹر کوالٹی کو QEC ڈائریکٹر بنایا گیا اور شیراز پراچہ کی ماہانہ تنخواہ سے پینتالیس ہزار کی کٹوتی بھی کرنے لگے۔ عجیب بات یہ ہے کہ ایک ڈائریکٹر QEC شیراز پراچہ جو پہلے سے موجود ہے ان کے اوپر ایک اور ڈائریکٹر کو مسلط کروایا گیا اور ان کو طرح طرح سے اذیت پہنچائی جا رہی ہے۔ کبھی ان کی تنخواہ روکی جا رہی ہے تو کبھی ان کو اور طریقوں سے تنگ کروایا جا رہا ہے جو ایک ایڈمنسٹریٹر و میڈیا پروفیسر کے ساتھ انتہائی ناانصافی ہے۔ ان ہی کی بدولت یونیورسٹی کی کوالٹی اس حد تک پہنچی ہے جو ایسی رینکنگز میں نمایاں آتی ہے۔ ان جیسے لوگوں کو سیاسی انتقام کا نشانہ بنانے سے تعلیمی ادارے تباہ ہو جاتے ہیں۔ ان تمام چیلنجز کے باوجود باکمال صلاحیتوں کے مالک شیراز پراچہ نے یونیورسٹی کا نہ صرف امیج ہر طرف بہتر کیا بلکہ کوالٹی کو بھی انحانسڈ رکھا جس کی بدولت حالیہ رینکنگ سے پہلے بھی ہائر ایجوکیشن سے تصنیفی دستاویزات یونیورسٹی کو دلا چکے ہیں۔ موصوف کو اس لئے انتقام کا نشانہ بنایا جا رہا ہے کہ وہ ڈاکٹراحسان کے دور میں تعینات ہوئے تھے۔ آج تحریک انصاف کا ٹولہ ان کے خلاف طرح طرح کے ہتھکنڈے استعمال کر رہا ہے، یونیورسٹی کی ساکھ کو نقصان پہنچانے کیلئے تحریک انصاف نے کوئی کسر نہیں چھوڑی یہاں تک کہ عبدالولی خان یونیورسٹی کا جھنڈا، ڈگری کا رنگ اور نام تک تبدیل کرنے کی ناکام کوشش کی گئی کیونکہ حسد و انتقام میں ان کا ایک الگ مقام ہے۔

حالیہ رینکنگ کے حوالے سے موجودہ قائم مقام وائس چانسلر ظہورالحق نے عبدالولی خان یونیورسٹی کا سارا ڈیٹا ٹائم ہائر ایجوکیشن کو بھیجا جس میں ڈاکٹر احسان کے ہائر کئے گئے قابل پروفیسرز کی محنت شامل ہے جن کی بدولت رینکنگ میں اس مقام پر آنا ممکن ہوا۔ عبدالولی خان یونیورسٹی نے بہت کم عرصہ یعنی دس سال میں اتنی میگا اچیومنٹ کر کے نہ صرف عالمی سطح پر اپنا لوہا منوایا بلکہ پاکستان میں ریسرچ میں پہلی پوزیشن لے کر دنیا کو یہ پیغام دیا کہ وہ جلد دنیا کی صف اول کی یونیورسٹیوں میں بھی شامل ہو گی۔ یونیورسٹی کو اس مقام تک پہنچانے میں بلاشبہ اس کا سہرا امیر حیدر خان ہوتی، اس وقت کے وائس چانسلر ڈاکٹر احسان علی خان اور عوامی نیشنل پارٹی کو جاتا ہے۔

ان تمام باتوں سے قطع نظر فخر کی بات تو یہ ہے کہ میں عبدالولی خان یونیورسٹی کا گریجویٹ ہوں۔ اپنی گریجویشن سے چار سال پہلے میں ملکی اور بین الاقوامی سیاسی حالات، سیکیورٹی، معاشی و عدالتی امور سمیت زندگی کے کسی بھی شعبے سے واقف نہیں تھا، آج اللہ کے فضل و کرم سے عبدالولی خان یونیورسٹی کی مرہون منت ہے کہ چند الفاظ لکھ اور بول سکتا ہوں۔ اس یونیورسٹی کے بنانے والوں کا یہ احسان کبھی نہیں بھولوں گا۔ دہشتگردی کی آگ سے سب سے زیادہ متاثر ہونے والے صوبے میں ایسی اعلی ترین یونیورسٹی کا ہونا پورے قوم کیلئے باعثِ فخر و اعزاز ہے۔

یہ بھی پڑھیں

تحصیل تخت بھائی مسائل سے دوچار‘ہسپتالوں کی حالت ابتر‘سڑکیں کھنڈرات میں تبدیل

موجودہ حکومت نے جو وعدے کئے تھے وہ بھول چکی ‘ نیا پاکستان تو نہ …

%d bloggers like this: