اجمل خٹک۔۔ ایک شاعر، ادیب اور سیاسی راہنماء

تحریر: ماخام خٹک

اجمل خٹک نے سینکڑوں سال سے جاری پشتو شاعری کی روایت کو توڑتے ہوئے اس میں طبقاتی، انقلابی اور مزاحمتی رنگ کچھ اس انداز سے شامل کئے کہ جب ان کا پہلا شعری مجموعہ ”د غیرت چغہ” (غیرت کی صدا) شائع ہوا تو اس نے پشتون نوجوانوں کے لہو میں ایسی تپش پیدا کر دی کہ انہیں اپنی جدوجہد اور تحریک کی مسافت آسان اور منزل بہت قریب نظر آنے لگی

بطور شاعر و ادیب اجمل خٹک ترقی پسند تحریک سے متاثر رہے، پشتو اور اردو دونوں زبانوں میں شعر کہتے رہے، دونوں زبانوں میں ان کے مجموعے منظر عام پر آ چکے ہیں، جلاوطن کی شاعری اردو میں ان کا مجموعہ کلام ہے جس میں افغانستان کے دوران جلاوطنی کے احساسات و جذبات کی عکاسی کی گئی ہے
انہوں نے صحافت کے میدان میں بھی اپنا لوہا منوایا۔ وہ پشتو اور اردو زبانوں کے کئی اخبارات اور رسائل کے مدیر رہے جن میں انجام، شہباز، عدل، رہبر اور باگرام قابل ذکر ہیں
اجمل خٹک سماجی نفسیات اور سیاسی داؤ پیچ کے ماہر تھے اسی لیے انہیں جوڑ توڑ، مذاکرات کی میز پر اپنے مخالف کو مشکل صورتحال سے دوچار کرنے، میل ملاپ میں لوگوں کو اپنے سحر میں گرفتار کرنے کا ملکہ حاصل تھا


پاکستان کے نامور سیاستدان اور ممتاز شاعر اجمل خٹک15 ستمبر1925 کو اکوڑہ خٹک میں پیدا ہوئے تھے۔ وہ باچا خان کے پیروکار اور نیشنل عوامی پارٹی کے سرگرم رہنماء تھے۔ نیپ پر پابندی کے بعد انہوں نے عوامی نیشنل پارٹی میں شمولیت اختیار کر لی اور اس کے سیکرٹری جنرل مقرر ہوئے۔ جنرل ضیاء الحق کے دور حکومت میں انہوں نے طویل عرصہ تک افغانستان میں جلاوطنی کاٹی۔ واپسی پر 1990 سے 1993 کے دوران قومی اسمبلی اور 1994 سے 1999 تک سینٹ کے رکن رہے۔ اجمل خٹک پشتو اور اردو کے اہم قلمکاروں میں شمار ہوتے تھے۔ ان کا مجموعہ کلام اردو میں بھی جلاوطن کی شاعری کے نام سے شائع ہوا ہے۔ اکادمی ادبیات پاکستان نے ان کی ادبی خدمات کے اعتراف کے طور پر انہیں 2007 کا کمال فن ایوارڈ بھی عطا کیا تھا۔ 7 فروری 2010 کو اجمل خٹک نوشہرہ میں وفات پا گئے اور اکوڑہ خٹک میں آسودہ خاک ہوئے۔


اجمل خٹک 1925 میں اکوڑہ خٹک کے ایک متوسط گھرانے میں پیدا ہوئے۔ والد حکمت خان بھی اس وقت قومی کاموں میں پیش پیش رہتے تھے۔ مڈل پاس کرنے کے بعد معلمی کا پیشہ اختیار کیا، لیکن ملازمت کے ساتھ ساتھ علمی استعداد بھی بڑھاتے رہے۔ منشی فاضل، ایف اے اور بی اے کے امتحانات پاس کیے۔ ریڈیو پاکستان پشاور سے بطور سکرپٹ رائٹر وابستہ رہے۔ کافی عرصہ روزنامہ انجام پشاور کے ایڈیٹر رہے۔ سیاست میں اجمل خٹک ابتدا ہی سے قوم پرستانہ خیالات کے حامل رہے۔ اسی وجہ سے کئی مرتبہ قید و بند کی صعوبتوں سے دوچار ہوئے۔ خان عبدالولی خان کی صدارت میں نیشنل عوامی پارٹی کے سیکرٹری جنرل بنے۔ جب 1973 میں ذوالفقار علی بھٹو کی حکومت نے نیپ کو غیرقانونی جماعت قرار دیا اور حکومت نے پارٹی کے دوسرے سرکردہ رہنماؤں کے ساتھ ان کو بھی گرفتار کرنا چاہا تو اجمل خٹک روپوش ہو کر افغانستان چلے گئے، وہاں جلاوطنی کی زندگی بسر کرنے لگے۔ اپریل 1989 میں بے نظیر بھٹو کے عہد حکومت میں واپس پاکستان آئے اور یہاں کی سیاست میں حصہ لینے لگے۔1990 تا 1993 قومی اسمبلی کے رکن رہے۔ مارچ 1994 میں چھ سال کے لیے صوبہ خیبر پختونخوا سے سینیٹ کے رکن منتخب ہوئے۔ آخری دنوں میں صحت کی ناسازی کی وجہ سے عملی سیاست سے کنارہ کش رہے۔


اجمل خٹک سماجی نفسیات اور سیاسی داؤ پیچ کے ماہر تھے اسی لیے انہیں جوڑ توڑ، مذاکرات کی میز پر اپنے مخالف کو مشکل صورتحال سے دوچار کرنے، میل ملاپ میں لوگوں کو اپنے سحر میں گرفتار کرنے کا ملکہ حاصل تھا۔
انہوں نے صحافت کے میدان میں بھی اپنا لوہا منوایا۔ وہ پشتو اور اردو زبانوں کے کئی اخبارات اور رسائل کے مدیر رہے جن میں انجام، شہباز، عدل، رہبر اور باگرام قابل ذکر ہیں۔


بطور شاعر و ادیب اجمل خٹک ترقی پسند تحریک سے متاثر رہے۔ پشتو اور اردو دونوں زبانوں میں شعر کہتے رہے۔ دونوں زبانوں میں ان کے مجموعے منظر عام پر آ چکے ہیں۔ جلاوطن کی شاعری اردو میں ان کا مجموعہ کلام ہے جس میں افغانستان کے دوران جلاوطنی کے احساسات و جذبات کی عکاسی کی گئی ہے۔


اجمل خٹک نے سینکڑوں سال سے جاری پشتو شاعری کی روایت کو توڑتے ہوئے اس میں طبقاتی، انقلابی اور مزاحمتی رنگ کچھ اس انداز سے شامل کئے کہ جب ان کا پہلا شعری مجموعہ ”د غیرت چغہ” (غیرت کی صدا) شائع ہوا تو اس نے پشتون نوجوانوں کے لہو میں ایسی تپش پیدا کر دی کہ انہیں اپنی جدوجہد اور تحریک کی مسافت آسان اور منزل بہت قریب نظر آنے لگی۔ ان کی ”جنت” کے عنوان سے ایک نظم انقلابی نوجوانوں میں بہت مقبول ہوئی تھی۔
ترجمہ: میں نے اپنے گریباں میں جھانک کر دیکھا
تو میرا دل آسمان کو پکار پکار کر کہہ رہا تھا
میں نے اس کے چند الفاظ سنے، وہ کہہ رہا تھا
کہ اے لا مکان کے مالک!
اپنے مکان میں اپنا اختیار جنت ہے
اگر ایسا نہیں تو
پھر اس پاگل پن کے نام پر
اگر سولی ہے تو سولی
ورنہ آگ ہی جنت ہے
اسی طرح وہ طبقاتی اونچ نیچ کو اس طرح بیان کرتے ہیں:
”غٹان غٹان نیکان نیکان پیدا دی
دوی خو لہ زایہ جنتیان پیدا دی
زی ھغہ خوارو لہ جنت اوگٹو
سوک چہ لہ مورہ دوزخیان پیدا دی”
ترجمہ: بڑے لوگ تو ماں کی کوکھ سے ہی نیک، پاک اور جنتی پیدا ہوتے ہیں۔ آئیں! ان غریبوں کے لئے جنت کمائیں جو ماں کی کوکھ سے دوزخی پیدا ہوئے ہیں۔


اپنے اردگرد غربت کے مناظر دیکھ کر اپنی نظم ”فریاد” میں خدا سے مخاطب ہو کر کہتے ہیں کہ
”ستا د جنت د نعمتونو نہ زار
زہ درتہ اوگی پہ جہان ژاڑم
ستا د دوزخ لہ لڑمانو توبہ
زہ درتہ دا لڑمانان ژاڑم”
ترجمہ: تیری جنت میں ہر قسم کی نعمتوں کے صدقے جاؤں، لیکن میں اس جہان کے بھوکوں کا رونا رو رہا ہوں، تیری دوزخ کے بچھوؤں سے پناہ مانگتا ہوں لیکن ان بچھوؤں کا کیا کروں جو یہاں ہر طرف پھیلے ہوئے ہیں۔
”دلتہ د گیڈے دوزخ تش گرزو
ھلتہ شو ستا د دوزخونو خشاک
دلتہ ددغہ قصابانو خوراک
ھلتہ د ھغہ خامارانو خوراک”
ترجمہ: ادھر بھی پیٹ کی دوزخ خالی خولی لئے پھرتے ہیں اور ادھر بھی جا کے دوزخ کا ایندھن بنیں گے۔ ادھر سرمایہ داروں اور جاگیر داروں (قصابوں) کا لقمہ زیست بنے ہوئے ہیں اور ادھر (دوزخ کے) سانپوں کے مشق ستم بنیں گے۔
”نہ مو زان تور کہ او نہ سپین پاتی شو
نہ د دنیا شو او نہ د دین پاتی شو”
ترجمہ: نا ہی سیاہ بخت کیا خود کو نا ہی پاک دامن رہے، نا دنیا کے ہوئے نا ہی دین کے رہے۔
”ستا د سنگینو فیصلو نہ قربان
ولے حیران یم کوم قانون اومنم
تہ خو د خپل قارون پہ مزکے منڈے
زہ دی پہ سر باندے قارون اومنم”
ترجمہ: مولا! تیرا ہر فیصلہ سر آنکھوں پر لیکن حیران ہوں کون سا فیصلہ تسلیم کر لوں؟ دنیا میں قارون جیسے بڑے سرمایہ دار کو تو، تو نے اس کی دولت سمیت زندہ زمین میں دھنسا دیا اور (میں) آج کے سرمایہ دار کو قارون مان لوں۔
”’ستا پہ رضا زما رضا د ہ ربہ
کانڑے ہم نس پورے تڑلے شمہ
خو چہ بل خامار پہ خزانو اووینم
آخر انسان یم سنگہ غلے شمہ”
ترجمہ۔ اے اللہ تیری رضا میں میری رضا ہے۔ میں تو اپنے پیٹ پر پتھر بھی باندھ سکتا ہوں مگر جب کسی سرمایہ دار کو ناگ کی طرح دولت پر پھن پھیلائے بیٹھا ہوا دیکھتا ہوں تو پھر آخر انسان ہوں خاموش کیسے رہ سکتا ہوں۔
”ستا د جنت پہ طمعہ طمعہ چہ مری
دھغہ اوگو پہ سلگو مے قسم
پہ دے دوزخ کے یے نور نشم لیدے
ستا د رضوان پہ منارو مے قسم
ترجمہ: ان بھوکے، بے آسر، افلاس کے مارے ہوئے لوگوں کی آہوں کی قسم جو جنت کی امید میں ہر قسم کی تکالیف برداشت کر رہے ہیں، میں ان غریبوں کو اس سرمایہ دار دنیا کی دوزخ میں اور نہیں دیکھ سکتا۔
”یا خو د زمکے پہ دے ارتہ سینہ
ماتہ خپل ژوند زما جنت راکڑہ
یا د نہر دوزخی مرگ نہ مخکے
دیوے چغے اجازت راکڑہ”
ترجمہ: اے میرے رب! یا تو مجھے اس وسیع زمین اور اس کی نعمتوں پر دسترس دے یا پھر ایک بھوک کے مارے مانند دوزخی کے ایک نعرہ مستانہ کی اجازت مرحمت فرما کیونکہ اس سرمایہ دار اور جاگیردار معاشرے میں میرا انجام ایک دوزخی کی موت جیسا ہے۔
”چہ دا ستا اوگی ستا پہ خوان ماڑہ کڑم
یا پہ خپل زان باندے کارغان ماڑہ کڑم”
ترجمہ: یا تو انقلاب برپا کر کے غریبوں کو تیری نعمتوں تک رسائی دے دوں گا اور اگر انقلاب لانے میں ناکام ہوا تو کیا ہو گا، زیادہ سے زیادہ میری لاش کوؤں کی خوراک بن جائے گی۔

یہ بھی پڑھیں

زرعی پیداوار میں جمود کے اسباب اور ان کا حل

تحریر: محمد سعید خان کیمیاوی کھادوں کے استعمال میں بتدریج اضافے کے باوجود زرعی پیداوار …