الہ ڈھنڈ ڈھیری، ملاکنڈ میں بت تراشی کا مرکز رہنے والا گاؤں

تحریر: حمد نواز

ضلع ملاکنڈ میں جب آپ پلئی سے بہ راستہ موٹروے ٹنل داخل ہوں تو گاؤں الہ ڈھنڈ ڈھیری آتا ہے۔ اس گاؤں کے بارے میں پی ایچ ڈی سکالر سکندر درمان اپنے مقالے میں لکھتے ہیں کہ یہ گاؤں کسی وقت میں بت تراشی کا مرکز رہا ہے اور اس کے پہاڑوں میں بدمت مذہب کے طالب علم حصول علم کیلئے دن رات گزارتے تھے۔


موٹروے ٹنل سے تقریباً دو کلومیٹر کے فاصلے پر لوڑیان نامی جگہ آتی ہے جہاں مسلمانوں کے قبرستان میں ایسے پتھر لگے ہوئے ہیں جو گنداھار آرٹ کے شہکار ہیں۔گ ندھارا آرٹ کے شہکار مسلمانوں کے مزاروں پرالہ ڈھنڈ ڈھیری سے تعلق رکھنے والے عبدلناصر (انچارج ٹیکسلا میوزیم) کا کہنا تھا کہ اب قبرستان میں جتنے کارونگ پتھر موجود ہیں یہ آج سے پانچ، آٹھ سال پہلے دس گناہ زیادہ تھے لیکن بدقسمتی سے حفاظت نہ ہونے کی وجہ سے اس قبرستان کے پتھر ادھر ادھر ہو گئے۔


الہ ڈھنڈ ڈھیری سے تعلق رکھنے والے55 سالہ شفیق کا کہنا تھا کہ یہاں بڑی تعداد میں آثار قدیمہ موجود ہیں، کچھ کو انگریزوں نے خراب کیا تھا اور کچھ کو یہاں کے لوگوں نے، اب ہر جگہ سیدھے اور گل کاری سے بھرے ہوئے پتھر ویسے پڑے تھے تو ہمارے بڑوں نے وہ پتھر اپنے پیاروں کی قبروں پر لگا دیئے۔
گندھارا آرٹ کے یہ شہکار کہاں سے مزاروں کیلئے لائے گئے؟


مقامی لوگوں کا کہنا ہے کہ یہاں ”لوڑیانوں تنگے” سٹوپا تھا لیکن بدقسمتی سے اب نہیں ہے، ہو سکتا ہے یہ سٹوپا سے لائے گئے ہوں۔ لیکن سلیم نامی بزرگ کا کہنا تھا کہ یہ لوڑیانوں تنگے سے نہیں بلکہ یہاں بڑی تعداد میں موجود کافری آبادی ہے جہان سے گاڑیوں کے زریعے یہ پتھر لائے گئے۔ اب جس کا دل جس گل کاری کو جہاں لگتا تھا لگا دیا۔


مزاروں سے گندھارا آرٹ کے شہکار کون چوری کر رہا ہے؟
”شہباز” نے مقامی لوگوں کی رائے جاننے کی کوشش کی ہے۔ عثمان جن کی عمر40 ہے اور گائے چراتے ہیں، کہتے ہیں کہ پچھلے دنوں تھانہ سے تعلق رکھنے والا لوہار پکڑا جو قبرستان سے ڈاٹسن کے ذریعے پتھر لے جا رہا تھا۔ اس کو ہم لوگوں نے بہت مارا۔ اس لوہار نے اقرار کیا کہ تیسری دفعہ لے جا رہا ہوں۔ جب آپ لوگ جمعے کے نماز کیلئے جاتے ہو تو میں وہ پتھر لے جاتا ہوں جس پر انسانی شکل بنی ہوئی ہو۔


لوڑیان سٹوپہ


عبدالناصر کا کہنا تھا کہ اس مقبرے کے سامنے ایک سٹوپا ہوا کرتا تھا جس کا نام دستاویزات میں ”الہ ڈھنڈ سٹوپہ لوڑیان” درج ہے جس کے نوادرات کلکتہ اور برٹش میوزیم میں موجود ہیں۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ جس طرح شنگردار سٹوپہ سوات، شاہ جی کی ڈھیری پشاور، درماراجیکہ سٹوپہ ٹیکسلا، اسی طرح یہ الہ ڈھنڈ سٹوپہ لوڑیان بھی ہے۔


الیگزنڈر رپورٹ میں ”الہ ڈھنڈ سٹوپہ” کے حوالے سے کیا ہے؟
الیگزنڈر کیڈی اپنی رپورٹ میں لکھتا ہے کہ سال1896 میں فیصلہ ہوا کہ اب لوڑیان سٹوپہ کو کھولا جائے اور یہ فیصلہ میجر میکلر کی رپورٹ کے بعد ہو رہا ہے۔ یہاں سروے کے دوران میجر میکلر کو بدھا کے چند مجسمے ملے۔ الیگزنڈر کیڈی رپورٹ کے مطابق جب لوڑیان سٹوپہ کھولا گیا تو اس میں33 ٹن نوادرات،54 بیرل،10 صندوق اور222 بوریاں سامان نکل آیا جس کو ”ملاکنڈ کولیوں” کے ذریعے چکدرہ لے جایا گیا اور بعد میں کلکتہ میوزیم شفٹ کیا گیا۔


الہ ڈھنڈ سٹوپہ کی گنداھار میں اہمیت


عبدالناصر (انچارج ٹیکسلا میوزیم) کے مطابق اشوکا نے جب بدھ مت کی تعلیمات حاصل کیں تو گوتم بدھ کی راکھ کو کئی سٹوپہ میں تقسیم کر دیا جن میں الہ ڈھنڈ سٹوپہ بھی شامل تھا۔ جس طرح کے خوبصورت کام والے مجسمے الہ ڈھنڈ سٹوپہ میں ملے ہیں مجھے امید نہیں کہ کسی اور جگہ سے ملے ہوں۔ الہ ڈھنڈ سٹوپہ میں کچھ مجسمے شسٹ کے علاوہ کسی دوسرے پتھر سے بنائے گئے تھے جو کسی اور سٹوپہ میں نہیں ملے ہیں ابھی تک۔ تو اس سے بھی اہمیت کا اندازہ لگایا جا سکتا ہے۔


الہ ڈھنڈ سٹوپہ شکل کیسی تھی؟


الہ ڈھنڈ سٹوپہ کی شکل بیس چکور تھی جس کی ایک دیوار کی لمبائی32 فٹ تھی۔ اوپر گولائی کا ڈائی میٹر26 فٹ جبکہ اوپر حفاظت کیلئے چھتری نما ”نو” پتھر لگائے گئے تھے۔ یہ چھتری نما پتھر نیچے ”نو” فٹ سے شروع ہو کر سب سے پہلے والے ایک فٹ پر ختم ہوتا ہے۔ الیگزنڈر کیڈی کے مطابق اس(1896) میں الہ ڈھنڈ سٹوپہ پر یہ چھتری نما پتھر موجود نہیں لیکن اردگرد اس کی باقیات موجود ہیں۔ الہ ڈھیری میں جگہ جگہ آثار قدیمہ موجود ہیں جن کا خیال رکھنا ہمارا فرض ہے تاکہ آنے والی نسل یہ اپنی آنکھوں سے دیکھے نہ کہ الہ ڈھنڈ سٹوپہ کی طرح دستاویزات یا اخباروں میں پڑھیں۔

یہ بھی پڑھیں

تحصیل تخت بھائی مسائل سے دوچار‘ہسپتالوں کی حالت ابتر‘سڑکیں کھنڈرات میں تبدیل

موجودہ حکومت نے جو وعدے کئے تھے وہ بھول چکی ‘ نیا پاکستان تو نہ …

%d bloggers like this: