اے این پی، قومی تحریک کا تسلسل

تحریر:مولانا خانزیب

دنیا کی معلوم تاریخ میں پختونوں کی پہلی قومی تحریک جس نے اس وقت کے استعمار مغل کے ساتھ براہ راست ٹکر لی تھی بایزید روخان کی سربراہی میں اٹھی تھی جو تقریباً ایک صدی تک مغل کیخلاف اپنی سرزمین کے تحفظ کیلئے برسرپیکار رہی اور ہزاروں کی تعداد میں پختون اپنی دھرتی پر قربان ہوئے تھے

عوامی نیشنل پارٹی جس کی بنیاد1986 کو رکھی گئی مگر درحقیقت یہ جماعت پختون سرزمین پر کوئی نوزائیدہ تحریک نہیں ہے بلکہ کئی صدیوں تک اس کی جڑیں اپنی تاریخ کی درست سمت کے ساتھ لگی ہوئی ہیں۔ دنیا کی معلوم تاریخ میں پختونوں کی پہلی قومی تحریک جس نے اس وقت کے استعمار مغل کے ساتھ براہ راست ٹکر لی تھی بایزید روخان کی سربراہی میں اٹھی تھی جو تقریباً ایک صدی تک مغل کیخلاف اپنی سرزمین کے تحفظ کیلئے برسرپیکار رہی اور ہزاروں کی تعداد میں پختون اپنی دھرتی پر قربان ہوئے تھے۔ اسی تحریک کی برکت سے پختو ادب کو بڑے بڑے شعراء ملے جنہوں نے آج تک اس تحریک کی روح کو زندہ رکھنے میں کلیدی کردار ادا کیا ہے۔


اس کے بعد خوشال خٹک کی شکل میں1667 کے بعد ایک بار پھر پختون اٹھتے ہیں اور خوشال خٹک، دریا خان اپریدے اور ایمل خان مومند کی قیادت میں مغل کو ناکوں چنے چبواتے ہیں، خوشال خٹک پختون قومیت اور اپنی مٹی کی آزادی کی خاطر اپنی شاعری میں پہلی بار قومی احساسات و جذبات کی ترجمانی کا حق ادا کرتے ہیں جن کے اشعار آج بھی پختون بڑے افتخار کے ساتھ اپنی قومی جدوجہد کے لئے بطور دلیل کے بیان کرتے ہیں۔


د افغان پہ ننگ می وتڑلہ تورہ
ننگیالے د زمانے خوشال خٹک یم
ایک اور جگہ پختون وطن کے جغرافیہ کے حوالے سے کہتے ہیں۔
”خوشحال بابا د پشتون وطن جغرافیایی حدونہ داسی خائی” یعنی خوشحال بابا پشتون وطن کی حدود کچھ اس طرح سے بیان کرتے ہیں
درست پشتون لہ قندہارہ تر اٹکہ
سرہ یو د ننگ پہ کار پٹ او اشکار
سر یی ہوری قندہار بل یی دمغار دی
تر دا مینز ہمہ میشتہ واڑہ عبث دی
اٹھارہویں صدی کی ابتدا میں قندھار میں جب میرویس خان ہوتک بابا نے ایرانی جنرل گورگین کو مار کر حکومت بنائی تو یہ جدید متمدن دنیا میں پختونوں کی بحیثیت قوم زبردست اٹھان تھی جس کے تسلسل کو1747 میں احمد شاہ ابدالی کی شکل میں ایک زبردست رہبر ملتا ہے۔ احمد شاہ ابدالی پہلی بار پختونوں کی قبائلیت کے منتشر وجود کو ایک قومیت میں بدل دیتا ہے اور پختونوں کے افتخار کا عروج دہلی تک پہنچتا ہے۔ پختونوں کے وطن پر اپنے پیر میاں عمر ترکھانڑی کے مشورے پر تاریخ میں پہلی بار ”افغانستان” کا نام رکھتا ہے جو تقریباً تین سو سال سے آج تک زندہ وتابندہ ہے۔


جب فرنگی کا راج پورے برصغیر پر قائم ہوتا ہے اور اس کا عروج انیسویں صدی کے اختتام پر اپنی انتہا کو پہنچتا ہے تو پختون سرزمین پر ایک ایسی شخصیت جنم لیتی ہے جو قوموں کی تاریخ میں ہزاروں سال میں بھی کبھی پیدا نہیں ہوتی جس کا نام خان عبد الغفار خان تھا اور پختون قوم ان کو پیار کی وجہ سے باچا خان یعنی بغیر تاج کے اپنی تاریخ کا حقیقی بادشاہ مانتی ہے جن کی بادشاہی قوم کے سروں پر زور زبردستی کے بجائے ان کے ذہنوں پر ہوتی ہے۔


انجمن اصلاح الافاغنہ اور خدائی خدمت گار تحریک ہی دراصل پیر روخان اور خوشحال خان خٹک کے خوابوں کی تعبیر تھی جنہوں نے اپنی قوم کو قومی شعور دیا، ان کو اپنی تاریخ سے جوڑ دیا، اپنی مٹی سے محبت کا جذبہ ابھارا، اپنے وسائل اور حقوق سے آگاہی دلائی اور ساتھ ہی عدم تشدد کے اصولوں پر سیاسی جدوجھد پر قوم کا اعتماد بحال کیا اور اصلاح معاشرے کے لئے عملی کام کیا۔ سینکڑوں کی تعداد میں اس تحریک نے قومی لیڈر اور مایہ ناز ادیبوں کو جنم دیا اور یہ تسلسل ہنوز جاری ہے۔


انگریز یہاں سے چلا جاتا ہے۔ آزادی کے بعد قوم کے حقیقی ہیروز بشمول باچا خان کو نظر انداز کیا جاتا ہے مگر ان کے ساتھی پھر بھی عدم تشدد اور سیاسی بیداری کے ذریعے قومی حقوق کے لئے اپنا سفر جاری رکھتے ہیں۔ باچا خان کے ساتھ پختونوں کو ولی خان کی شکل میں ایک اور دلیر اور جہاندیدہ شخصیت مل جاتی ہے۔ آٹھ فروری1975 کو ان کی جماعت نیشنل عوامی پارٹی پر حیات شیرپاؤ کے قتل کے بعد دوسری بار پابندی لگائی جاتی ہے مگر وہ اپنا سیاسی سفر جیل کی صعوبتوں کے ساتھ جاری رکھتے ہیں۔ این ڈی پی کے پلیٹ فارم سے ملک گیر شخصیت بن جاتے ہیں اور پھر1986 میں اپنی صدیوں پرانی قومی تاریخ کی امانت کی خاطر ایک نئی جماعت عوامی نیشنل پارٹی کی بنیاد رکھتے ہیں ولی خان جس کے پہلے صدر اور سندھ کے قوم پرست رہنماء رسول بخش پلیجو اس کے پہلے سیکٹری جنرل بنتے ہیں اور یہ سفر آج تک رواں دواں ہے۔ اس منزل کے راستے میں بے شمار مشکلات آئی ہیں، ہزاروں لوگوں کو قومی شعور کی وجہ سے اور قومی حقوق کی آواز کی وجہ سے شہید کیا گیا ہے، قیدو بند کی صعوبتیں آئی ہیں، غدار، ملک دشمن، روس اور امریکہ کے ایجنٹ، ہندو نواز اور نہ جانے کتنی تہمتیں ان پر لگائی گئیں مگر اس سب کے باوجود تاریخ میں آج قوم کے حقیقی خیر خواہ اور اس دھرتی کے سچے وفاداروں کی صف میں وہی لوگ کھڑے ہیں۔

جب آپ حق بات کرتے ہیں، قوم کی درست سمت میں رہنمائی کرتے ہیں تو یہ بہتان تراشیاں آپ کا کچھ نہیں بگاڑ سکتیں کیونکہ کون غدار ہے اور کون وفادار یہ فیصلہ کسی جابر کا اختیار نہیں ہوتا بلکہ یہ آنے والی تاریخ کا اختیار ہوتا ہے۔ ان تمام تر مسائل و مصائب کے باوجود یہ کارواں اور اس کا سفر آج بھی بڑے منظم جماعتی ڈھانچے، جدید سائنسی دنیا کے ضروریات اور لوازمات سے باخبر ہوکر پختونوں کے قومی حقوق کے حصول کی خاطر جاری وساری ہے جس میں بہت سے سنگ میل عبور کئے گئے ہیں اور امید ہے مزید کا حصول بھی ممکن بنایا جائے گا۔


یہ جماعت صدیوں پرانی قومی تحریک کا تسلسل اور اس کی جدید متمدن شکل اور اور تحریک کی روایات کی امین ہے اس لئے اپنی مٹی اور تاریخ کی خاطر ہر پختون پر حق بنتا ہے کہ وہ اس قومی تحریک کو سپورٹ کرے، وقت کے ساتھ اس کی اصلاح کرے کیونکہ قوم کا لشکر ہر کسی کا ہوتا ہے۔ اگر آج بھی اگر کسی بھی قومی مسئلے پر فی الفور بغیر لگی لپٹی کوئی ردعمل آتا ہے تو وہ اسی جماعت کا آتا ہے۔ یہ قومی تحریک قومی حقوق کے حصول کی خاطر اپنا آئین، منشور اور اس کی عملی تعبیر کیلئے ایک منظم سیاسی اور سیاسی تربیت سے لیس لاکھوں افرادی قوت اور ڈھانچہ رکھتی ہے۔ قومی سیاسی شعور کی آبیاری کیلئے اپنے ادارے رکھتی ہے اور اپنی ایک صدی کی جدوجہد اور روایات کے آئینے میں پارلیمانی سیاست کو اس قوم کی فلاح کیلئے ایک درست راستہ سمجھتی ہے۔


یہ جماعت اور اس کے مستقبل کے حوالے سے ڈاکٹر خادم حسین لکھتے ہیں۔ اے این پی تشدد اور ہر قسم کی انتہا پسندی کے خلاف ایک واضح موقف کے ساتھ مضبوطی سے ڈٹی کھڑی ہے۔ پارٹی کا اجتماعی عقیدہ ہے کہ مکالمہ و مذاکرہ تمام مسائل کے حل کا بہترین ذریعہ ہے۔ اے این پی جمہوریت کے استحکام، سیاسی شعورکے فروغ، قانون کی بالادستی اور انصاف تک رسائی کو ممکن بنانے کا عہد کرتی ہے۔ پارٹی پرامن ، ترقی پسند اور ایک آزاد معاشرے کے قیام کے لئے جدوجہد کرے گی۔ اے این پی متعصبانہ قومیت، گروہ، جنس، مذہب، نسل، طبقہ اور عقیدہ سے بالاتر تمام شہریوں کے لئے انسانیت کے عقیدے پر مساویانہ حقوق اور مواقع کی فراہمی پر کامل یقین رکھتے ہوئے تمام خود ساختہ امتیازی قوانین اور متنازعہ اصولوں کی نفی کرے گی۔ خواتین، ضعیف العمر اور معذور افراد، مخنث افراد، مذہبی اور نسلی اقلیتوں کو مکمل تحفظ کی ضمانت فراہم کرے گی۔

اے این پی مذہب، روایات اور رواج کی غلط تشریح کی مخالفت کرتی ہے اورغیروں سے نفرت، مذہبی انتہاپسندی اور دہشتگردی جیسے مہلک رویوں کا سدباب کرے گی جو نہ صرف معاشرہ میں گھٹن کا باعث بنتی ہیں بلکہ عالمی سطح پر کسی ملک کو تنہائی کا شکار کر دیتی ہیں۔ اے این پی باچا خان کے انسانی وقار کے نظریے اور اقدار کی عظمت، پلورالزم، مقامی اور قومی دانش و شناخت کے فلسفے کو مشعلِ راہ بنا کر رکھے گی۔ اے این پی سمجھتی ہے بالکل کہ سیاسی، معاشی اور معاشرتی میدان میں پاکستان کے ہرشہری کو مساوی حقوق اور مواقع ملنا اس کا حق ہے۔

اے ا ین پی دفاع، امورِ خارجہ، کرنسی، مواصلات اور مشترکہ مفادات کونسل کے واضح کردہ محکموں اور اداروں کا مرکز ہونے کے علاوہ مکمل صوبائی خودمختاری پر یقین رکھتی ہے۔ پارٹی اٹھارہویں آئینی ترمیم کے اطلاق کو یقینی بنائے گی بالخصوص معدنیات، تیل، گیس، پانی و بجلی، توانائی کے مختلف ذرائع اور صحت و تعلیم کے سلسلے میں مستعد اور سرگرمِ عمل رہے گی۔ اے این پی صوبوں اور اضلاع کو متعلقہ امور میں با اختیار بنانے کے لئے منصوبہ بندی اور متعلقہ لائحہ عمل طے کرنے کے لئے سرگرم رہے گی۔ اے این پی اعلی تعلیم اور مالیاتی امور دونوں کے لئے صوبائی کمیشن کے قیام کو ہر ممکن طریقہ سے یقینی بنائے گی۔ اے این پی تمام وفاقی اکائیوں اور قوتوں کے مکمل سیاسی، معاشرتی اور معاشی حقوق کو بطور مساوی شراکت دار کے تحفظ دے گی اور اجتماعی ترقی اور خوشحالی میں کلیدی کردار ادا کرنے کیلئے بھرپور ساتھ دے گی۔ اے این پی چاروں صوبوں، سرائیکی اور گلگت بلتستان کے لوگوں کے انفرادی و اجتماعی حقوق اور شناخت کی حفاظت کو یقینی بنانے، آزادانہ طور پر ان کی ثقافتی اور لسانی نشوونما اور ترقی کو یقینی بنانے کے لئے پرعزم ہے۔

اے این پی پاکستان کے اندر پختونوں کو متحد کرنے اور قومی دھارے میں لانے کے لئے نو آبادیاتی استعماری تقسیم کو آئینی ترامیم کے ذریعے ختم کرے گی۔ خیبر پختونخوا کے ساتھ قبائلی علاقہ جات کے ادغام کے لئے طویل تاریخی جدوجہد کو نتیجہ خیز بنانے کے بعد اب اے این پی خیبر پختونخوا اور بلوچستان کے پختونوں کے درمیان غیرفطری جغرافیائی تقسیم کو ختم کر کے پاکستان میں پختونوں کی ایک وحدت بنانے کے لئے ہر ممکنہ سیاسی و آئینی جدوجہد کرے گی۔ اے این پی کا سرخ جھنڈا ہے، کوئی جھنڈا کفر اور اسلام کا نہیں ہوتا، سب رنگ خدا نے پیدا کئے ہیں پرچم کا مطلب علامت یا نشان ہوتا ہے اور سب سے پہلے اس کا استعمال گروہوں کے مابین جنگوں میں فوجوں کی شناخت کے لیے کیا جاتا تھا لیکن اب یہ ہر ملک پارٹی اور قوم کا شناختی نشان ہے۔ سرخ جھنڈے کا کمیونزم سے کوئی تعلق نہیں اور نہ ہی یہ نشان1917 کے بالشویکوں کے سرخ نشان سے متاثر ہو کر اختیار کیا گیا ہے بلکہ یہ غریب مزدور اور پسے ہوئے طبقے کی قربانیوں علامت ہے۔

آج بھی پختون قوم اور ان کا وطن استحصال کا شکار ہے۔ آج بھی مختلف عفریت پختونوں کا خون چوس رہے ہیں، یہ جھنڈا جو خون کی قربانی سے سرخ ہوا ہے اور یہ سرخ نشان شگاگو میں 1886 کے مزدوروں کے قتل عام کے بعد دوسرے مزدورں نے اپنی مارے گئے ساتھیوں کے خون سے اپنے کپڑے رنگین کرکے اختیار کیا تھا۔ اگر سرخ جھنڈا کفر کا ہے تو کربلا کے میدان میں امام حسین کا علم سرخ نہ ہوتا۔ اسی طرح بے شمار اسلامی ممالک کے جھنڈوں میں سرخ رنگ کا امتزاج نہ ہوتا اور ترکی میں برسرِ اقتدار طیب اردوغان کی اسلامی جماعت کا جھنڈا مکمل طور پر سرخ نہ ہوتا۔ کفر کا یہ نعرہ افغان وار کے دوران کچھ سیاسی مقاصد کے حصول کے لئے لگایا گیا باقی اس میں رتی بھر کوئی تاریخی یا مذہبی حقیقت نہیں۔

یہ بھی پڑھیں

بابا عبدالرحمان، ایک آفاقی شاعر

تحریر: نورالامین یوسفزے ہمارے بابا نے سینکڑوں سال پہلے مذہبی رواداری اور بین المذاہب ہم …

%d bloggers like this: