کیا ہم نام کے مسلمان ہیں ؟

اس وقت وطنِ عزیز میں مسلمان قتل بھی کرتے ہیں، ڈاکے بھی ڈالتے ہیں، زنا بھی کرتے ہیں، سود بھی کھاتے ہیں، کم بھی تولتے ہیں، فریب بھی دیتے ہیں، رشوت دیتے بھی ہیں، رشوت لیتے بھی ہیں، کرپشن کے بادشاہ بھی مسلمان ہیں لیکن پھر بھی مسلمان ہیں

تحریر:روشن خٹک

یوں ہم ہیں تو سب مسلمان، مگر ان خود رو جھاڑیوں کی طرح ہیں جو کسی اجڑے باغ میں بے ترتیبی سے اٌ گ آتی ہیں۔ نہ پھل نہ پھول۔۔ ہم اسلاف کے ان اشجارِ طیبّہ کے نام کے جانشیں ہیں جو مخلص اور محنتی مالیوں سے محروم ہوئے، کیاریاں درست کرنے کا نظام نہ رہا۔ آبپاشی کا سلسلہ ٹوٹ گیا۔ پودوں کی غذا کا سرو سامان نہ رہا۔ بیج بونے، قلمیں لگانے، پیوند کاری، تباہ کار سیاسی کیڑوں اور نباتاتی بیماریوں کے توڑ کا بندبست ختم ہوا۔ نتیجہ یہ ہوا کہ جہاں سیبوں اور آموں، کھجوروں، اناروں اور خوبانیوں کے درخت جھوما کرتے تھے اور انگوروں کی بیلیں سبز موتی پالا کرتی تھیں وہاں گراں بہا درختوں کے ختم ہونے کے بعد ان کے کرم خوردہ جڑوں سے دولت و اقتدار کے ہوس کے پجاری نمودار ہوتے چلے گئے۔ جہاں جہاں گل و یاسمین، لالہ و گلاب کے پھول گلبار رہتے تھے وہاں مختلف الخیال ذاتی مفاد کے اسیر کانٹے نمودار ہوئے۔ اصل مصیبت اس وقت سے پیدا ہوئی جب لوگ یہ سمجھنے لگے کہ مسلمان ہونے کے لئے کسی خاص طرزِ فکر، نہ کسی متعین کردار، نہ کسی شائستگی، اخلاق اور مثبت سرگرمی کی ضرورت ہے بلکہ مسلمان ہونے کے لئے بس یہ کافی ہے کہ بندہ کسی مسلمان کے گھر پیدا ہو، اسے کلمہ، نماز سکھایا گیا ہو اور بطورِ مسلمان پہچانا جاتا ہو۔ لفظ ’’مسلمان‘‘ ایک صفاتی یا مسلکی نام نہ رہا، محض نسلی اور نسبی نام رہ گیا۔

یوں تو اللہ کا لاکھ لاکھ شکر ہے کہ ہم مسلمان کے گھر پیدا ہوئے ہیں اور مسلمان ہیں مگر افسوس اس بات کا ہے کہ ہمارا یہ ایمان ہماری روحوں کے گہوارے میں خوابیدہ ہے۔ شعور اگر ہے تو لاشعور کے تاریک غار میں گر گیا ہے۔ خودی ہے تو ہمارے قلوب میں اس کے مزار بن گئے ہیں۔ ضمیر ہے تو وہ سنگ خارہ میں تبدیل ہو چکا ہے۔ اس وقت صورتِ حال یہ ہے کہ اس وقت وطنِ عزیز میں مسلمان قتل بھی کرتے ہیں، ڈاکے بھی ڈالتے ہیں، زنا بھی کرتے ہیں، سود بھی کھاتے ہیں، کم بھی تولتے ہیں، فریب بھی دیتے ہیں، رشوت دیتے بھی ہیں، رشوت لیتے بھی ہیں، کرپشن کے بادشاہ بھی مسلمان ہیں لیکن پھر بھی مسلمان ہیں۔ بڑے بڑے عقلمند، دا نشور اور میڈیا پر بڑے بڑے فلسفہ جھاڑنے والوں کو یہ توفیق نہیں ہوئی کہ کبھی وہ اس سوال پر غور و مطالعہ کریں کہ ہم کیا مسلمان کہلانے کے قابل کیوں نہیں؟ مسلمان ہونے کے معنی کیا ہیں؟ اور مسلمان ہونے کے لئے کن باتوں کا خیال کرنا لازمی ہے اور کن باتوں سے پرہیز لازمی ہے۔

اسرائیل کی کل آبادی 85 لاکھ ہے مگر وہ اربوں مسلمانوں پر بھاری کیوں ہے؟بِلا شک و شبہ ہماری کثرتِ تعداد بڑی نعمت و قوت ہے، اگر کسی شخص کے سینے میں اگر رائی برابر جتنا ایمان بھی ہے تو ہم اس کا احترام کریں گے۔ اس وقت صرف وطنِ عزیز میں بائیس کروڑ مسلمان آباد ہیں، اگر ان بائیس کروڑ مسلمانوں میں صرف ایک کروڑ بھی حقیقی مسلمان بن کر اپنا بھر پور مسلمانی والا کردار ادا کر سکیں تو چند سال میں نقشہ احوال بدل سکتا ہے۔ اس وقت ہمارے ہاں جتنی برائیاں پائی جاتی ہیں ہمارا مذہب ان کی نفی کرتا ہے۔ ہم ذاتی مفاد کے لئے دوسرے مسلمان بھائی کے گلے پر چھری پھیرنے سے گریز نہیں کرتے، رشوت لینے دینے کو برائی ہی نہیں سمجھتے، ملاوٹ، ذخیرہ اندوزی کرتے ہوئے خوفِ خدا دل میں نہیں ہوتا۔ ووٹ کا استعمال امانت سمجھ کر نہیں کرتے۔ قصہ مختصر ہمارا کوئی بھی کام مسلمانوں والا نہیں ہے لیکن پھر بھی ہم مسلمان ہیں کیونکہ ہم مسلمان کے گھر میں پیدا ہوئے ہیں۔

اگر ہم ان باتوں پر سوچیں نہیں، ہم غور و فکر و تدبر سے کام نہیں لیں گے تو کس طرح دنیا میں ترقی کریں گے یا روزِ قیامت اللہ کے ہاں کیسے سرخرو ہوں گے؟ پاکستان کو وجود میں آئے ہوئے 73 سال بیت گئے ہیں مگر ہم آگے جانے کی بجائے پیچھے کی طرف جا رہے ہیں۔ اس طویل عرصہ میں جتنی حکومتیں گزری ہیں، سب کے سب ناکام ہوئیں۔ موجودہ وزیر اعظم عمران خان سے عوام کی خصوصاً نوجوان نسل کی بڑی امیدیں وابستہ ہیں مگر لگتا ہے کہ ان کی یہ امیدیں پوری ہونا ممکن نہیں۔ ان تمام ناکامیوں کا ایک ہی علاج ہے کہ ہم وراثتی مسلمان تو ہیں ہی، مگر ساتھ ساتھ حقیقی مسلمان بھی بن جائیں۔ حقیقی مسلمان بنیں گے تو کرپشن کا ناسور ہو یا دھوکہ دہی اور فریب کی چالیں، دولت کی ہوس ہو یا اقتدار کا لالچ، سب کی سب خرابیاں دم توڑ جائیں گی اور بفضلِ خدا پاکستان ترقی کی سیڑھی پر چلنا شروع کر دے گا۔

یہ بھی پڑھیں

باچا خان، ایک سوچ اور تحریک

تحریر:روخان یوسف زئی باچا خان ایک تصوراتی رہبر اور فلسفی نہیں تھے جو اپنے پیچھے …