میں ایک اجڑے دیس کا لٹا مسافر

تحریر: عاطف اللہ خان

ان دنوں شدید بارشوں کا موسم تھا۔ ملک بھر کی طرح قبائلی علاقوں میں بھی برسات زوروں پر تھی۔ وزیرستان کی وادی شوال میں سال بھر برسات رہتی ہے، ہر دوسرے تیسرے دن بارش ہونا معمول کی بات ہے۔ سردیوں میں یہاں اسکردو اور استور سے بھی زیادہ برف پڑتی ہے اور نقطہ انجماد منفی میں گر جاتا ہے۔ سارا دن مطلع ابرآلود رہنے کے بعد اب ہلکی ہلکی بارش ہو رہی تھی۔

یہ چاندنی رات تھی اور کل عید الفطر کا تہوار، میں آج تقریباً دس سال بعد وزیرستان کی حسین ترین وادی شوال میں اپنے آبائی گاؤں جانی خیل واپس آیا تھا۔

ایک وقت تھا جب ہر شام کو گاؤں کے لوگ ہمارے حجرے میں جمع ہوتے تھے، ایک ساتھ کھانا کھاتے، گفت و شنید کرتے اور روایتی گیتوں پر علاقائی رقص کرتے۔ قبائلی مشران کی بیٹھک بھی اسی حجرے میں ہوتی تھی مگر اب یہ سب ماضی کا حصہ بن چکا تھا، اب یہاں ہر طرف ہو کا عالم تھا

میں اپنے بڑے سے گھر کے مہمان خانے کے ایک وسیع و عریض کمرے میں دیوار سے لٹکی اپنے مرحوم دادا کی بندوق کے نیچے چارپائی پر لیٹا حجرے میں موجود دوسری خالی چارپائیوں کو حسرت بھری نگاہوں سے دیکھ رہا تھا۔ ایک وقت تھا جب ہر شام کو گاؤں کے لوگ ہمارے حجرے میں جمع ہوتے تھے، ایک ساتھ کھانا کھاتے، گفت و شنید کرتے اور روایتی گیتوں پر علاقائی رقص کرتے۔ قبائلی مشران کی بیٹھک بھی اسی حجرے میں ہوتی تھی مگر اب یہ سب ماضی کا حصہ بن چکا تھا، اب یہاں ہر طرف ہو کا عالم تھا۔ اب نا تو پہلے جیسی رونق نا علاقائی رقص اور نہ ہی سرداروں کی آمد! اب ایک سنسان اور تاریخ حجرہ جو اپنی آغوش میں بھر پور ماضی رکھتا ہے۔ بہت سے لوگ نقل مکانی کر چکے تھے یا دہشتگردی کا نشانہ بن چکے تھے۔ 2000 کے بعد افغانستان پر امریکی استعماریت کے بعد تمام قبائلی علاقوں میں، خاص طور سے شوال جیسی حسین ترین وادی میں، خون کی ہولی کھیلی گئی، فوج کی طرف سے بمباری اور طالبان کی طرف سے دھماکے ان دنوں میں روز کا معمول بن چکا تھا۔ طالبان نے اپنا اسلام ہم پر مسلط کرنے کی بھرپور کوشش کی۔ برائے نام شریعت کی بنیاد پر بے شمار قبائلی سرداروں کو موت کے گھاٹ اتارا گیا جن میں میرے قبیلے کے بھی چند معزز سرداران نے جام شہادت نوش کیا۔

طالبان نے خوف اور دہشت کی فضا قائم کی تھی۔ تقریباً تمام ہی قبائل اور تمام علاقے ان کی دہشت گردی سے متاثر ہوئے۔ ہمارے لوگوں کو اسلام سے محبت اور ریاست پاکستان سے لازوال وفاداری کی بھرپور سزا دی گئی۔ ایک لمحے کے لیے میں اپنے ماضی میں کھو گیا۔ اپنے بچپن کے حسین ترین لمحات ایک ایک کر کے میری آنکھوں کے سامنے آتے گئے۔ فرط جذبات سے میری آنکھیں نم پڑ گئیں، آنسوؤں کا ایک سیلاب امڈ آیا، اشک میرے رخسار پر سے ہوتے ہوئے زمین پر ٹپکنے لگے۔ میرے وہ دوست جو کبھی میرے ہم جماعت تھے آج اپنے ہی ملک میں مسافروں کی زندگی گزارنے پر مجبور ہیں۔ بہت سے نوجوانوں نے گمراہی کی راہ پر چلتے ہوئے ریاست کے خلاف بندوق اٹھا لی کیونکہ وہ ان سب کا ذمہ دار ریاست کو ٹھہراتے ہیں۔ میں ایک اجڑے دیس کا لٹا مسافر۔ دل کر رہا تھا کہ وقت واپس پیچھے جائے اور جہاں سے میں چھوڑ کر گیا تھا وہ وہیں پر دوبارہ شروع ہو۔ مگر یہ ایک انہونی خواہش تھی جو کہ حسرت ہی رہے گی۔ کچھ بھی پہلے جیسا نہیں رہا، میں حالات کی چوکھٹ سے خوابوں کی دہلیز تک ایک طویل سفر کر چکا تھا۔

میں ماضی کے بکھیڑوں میں اس قدر کھو گیا تھا کہ گرد و پیش کی خبر ہی نہ رہی۔ میں اسی بے خیالی میں ہلکی ہلکی بارش کی پرواہ کیے بغیر باہر کھیتوں کی طرف نکل گیا۔ چاند پورے آب و تاب کے ساتھ چمک رہا تھا۔ چودھویں کے چاند کی روشنی میں رات کے پچھلے پہر بھی بخوبی سب کچھ دیکھ سکتا تھا۔ یہ وہی لہلہاتے کھیت تھے جن میں کبھی ہم فرط جذبات سے دوڑتے ہی چلے جاتے تھے۔ انھیں کھیتوں میں سال کے اختتام پر جشن بہار میلا ہوتا تھا، لوگ علاقائی رقص کرتے تھے مگر اب یہ کھنڈرات کا منظر پیش کر رہے ہیں۔ ہر دس میٹر کے فاصلے پر لینڈ مائنز کے خطرناک بورڈ آویزاں تھے۔ میں پگڈنڈی (ندی) کے کنارے پر بیٹھا وادی کے بلند و بالا پہاڑوں کو دیکھ رہا تھا جہاں ہر شام کو سب سے اونچی چوٹی پر چڑھ کے وادی کے دلفریب حسن کا نظارہ کرنا ہمارا معمول تھا۔

اب بھی سب کچھ وہی پر موجود لیکن بچپن کے وہ دوست زمانے کی سختیوں میں کہیں کھو کر رہ گئے ہیں۔ ایسا لگتا ہے جیسے ابھی کل ہی میں یہاں سے گیا تو سب ٹھیک تھا لیکن پلک جھپکنے کی دیر میں سب درہم برہم ہو گیا، یہاں کی فضائیں جہاں کبھی رات میں بھی پرندے چہچہاتے تھے اب اداس سی نظر آتی ہیں۔ مجھے اپنی وادی کے ان حالات کا علم تھا مگر یہ اس قدر بھیانک ہوں گے میرے وہم و گمان میں بھی نہ تھا۔ میں اپنے ہی گاؤں میں خود کو اجنبی محسوس کرنے لگا، میں تنہائی کا فائدہ اٹھا کر اپنے جذبات کا اظہار الفاظ سے کرنے لگا۔ میں دبے لفظوں میں اپنے دوستوں کے اپنے ہم جماعتوں کے نام لینے لگا۔ آؤ اٹھ کے دیکھو اور بتاؤ مجھے کہ فلک نے تم پر کیا ستم ڈھایا ہے۔ اپنے ستم رسیدہ دوستوں کی حالت زار کے بارے میں سوچ کر میرا کلیجہ منہ کو آ گیا۔ مجھے ابھی بھی یہ سب ایک خواب کی مانند لگتا ہے کہاں ہماری پرامن وادیاں، مہمان نواز اور خوبصورت روایات کے امین لوگ اب اپنے ہی ملک میں مہاجرین کی زندگی گزارنے پر مجبور ہیں۔

دل کر رہا تھا کہ وقت واپس پیچھے جائے اور جہاں سے میں چھوڑ کر گیا تھا وہ وہیں پر دوبارہ شروع ہو مگر یہ ایک انہونی خواہش تھی جو کہ حسرت ہی رہے گی، کچھ بھی پہلے جیسا نہیں رہا، میں حالات کی چوکھٹ سے خوابوں کی دہلیز تک ایک طویل سفر کر چکا تھا


وہ ملک جس کی بقا کے لئے انہوں نے اپنا سب کچھ داؤ پر لگا دیا تھا، جانے ایسا کون سا جرم ہو گیا، کیا گناہ کر دیا جس کی اتنی بڑی سزا مل رہی ہے۔ شاید ہم نے اللہ تعالی کی دی ہوئی نعمتوں کی قدر نہیں کی اس لئے قدرت نے ہم سے وہ تمام نعمتیں پل بھر میں چھین لیں۔ میں ساری رات اسی سوچ میں ڈوبا رہا کہ ریاست اور طالبانوں کے اس کھیل میں قبائلیوں کو ناقابل تلافی نقصان پہنچا۔ رہی سہی کسر پاکستانی فوج کے توسط سے امریکی فوج کے ڈرون حملوں نے پوری کر دی۔ ایک شخص کے غلط فیصلوں کا خمیازہ پچاس لاکھ قبائلیوں کو بھگتنا پڑا۔

آج بھی وزیرستان کی وادی میں پڑے ہوئے کھنڈرات چیخ چیخ کر اپنے اوپر کئے گئے مظالم کی داستانیں سناتے ہیں۔ ندی کے کنارے پر ایک بڑے سے پتھر سے ٹیک لگائے میں خوابوں اور امید کے دیے روشن کرنے کی کوشش کر رہا تھا۔ ساری رات کی بے آرامی اور بارش میں بھیگنے سے نڈھال ہو کر رہ گیا۔ اسی اثناء میں گاؤں کی کسی مسجد سے آتی ہوئی فجر کی اذان کی آواز میرے کانوں میں گونجی۔ اس وقت مجھے احساس ہوا کہ رات کے پچھلے پہر سے لے کر اب تک میں یونہی کھلے آسمان تلے ہلکی بارش میں ٹہلتا رہا۔ اپنے ماضی کو حال کے زاویوں سے کھنگالتا رہا۔۔ بے ساختہ میرے منہ سے یہ شعر نکلا۔۔
یاد ماضی عذاب ہے یارب
چھین لے مجھ سے حافظہ میرا
اب میں دبے قدموں، خوشی اور غمی کے ملے جلے جذبات کے ساتھ اپنے گھر کی جانب چل دیا۔ دکھ اس بات کا تھا کہ ماضی کی جو رونقیں تھیں وہ اب کبھی واپس نہ آ سکیں گی۔ قبائلی عوام کو ریاست نے ہمیشہ اپنے ذاتی مفادات کے لئے استعمال کیا۔ ان کی مفاد پرست پالیسیوں کا ناقابل تلافی نقصان اٹھانا پڑا۔ خوشی اس بات کی تھی کہ وادی میں امن بحال ہو چکا تھا، افواج پاکستان کی لازوال قربانیوں کی بدولت وادی سے دہشت گردوں کا خاتمہ ہوا۔ قبائلی علاقہ جات میں اسکول اور کالجز بن رہے ہیں۔ ریاست صحت اور تعلیم پر توجہ دے رہی ہے جو کہ خوش آئند ہے۔ قبائلی علاقوں کے تابناک مستقبل کی امید ایک بار پھر سے روشن ہو گئی ہے۔
دعا ہے افواج پاکستان کے جوانوں کی یہ لازوال قربانیاں پھر سے اعلی قیادت کے غلط فیصلوں کی بھینٹ نہ چڑھ جائیں۔ میں گھر پہنچ چکا تھا۔ آج عید کا دن تھا۔ عورتیں روایتی پکوانوں کی تیاری میں مصروف تھیں جبکہ مرد حضرات عید گاہ جانے کی تیاریوں میں لگے ہوئے تھے۔ البتہ میں آج عید کی نماز طبیعت ناسازی کی بنا پر نہیں پڑھ سکا جس کا مجھے بے حد افسوس رہے گا۔
خدا کرے کہ ان وادیوں پر اترے وہ فصلِ گل
جسے کبھی اندیشہ زوال نہ ہو
(اس تحریر کا میرے خاندان سے یا میرے دوستوں سے دور دور تک کوئی تعلق نہیں، یہ صرف تصورات اور خیالات کی بنا پر اور قبائلی علاقوں کے نوجوانوں کی زندگی کو مدنظر رکھتے ہوئے لکھی گئی ہے)

یہ بھی پڑھیں

زرعی پیداوار میں جمود کے اسباب اور ان کا حل

تحریر: محمد سعید خان کیمیاوی کھادوں کے استعمال میں بتدریج اضافے کے باوجود زرعی پیداوار …