باچا خان، عظیم انقلابی سیاستدان، درویش صفت انسان

تحریر:سید فرحان

باچا خان نے اپنی قوم و ملت کا گہرا تجزیہ کر کے یہ نتائج اخد کر لیے تھے کہ پختون قوم کی بقاء اور ترقی مذہبی علوم کے ساتھ ساتھ عصری علوم کے حصول میں مضمر ہے، یوں باچا خان نے جہل کی تاریکیوں میں ڈوبی پختون قوم کو عقل و خرد اور علم شعور کی روشنیوں سے آشنا کروانے کے لئے کمر کس لی
1984 میں باچہ خان کو امن کے نوبیل انعام کے لئے بھی نامزد کیا گیا جبکہ بھارتی حکومت باچا خان کو ملک کا سب سے بڑا سول ایوارڈ بھارت رتنا ایوارڈ عطا کر چکی ہے


برصغیر کے عظیم سیاسی سماجی اور انقلابی رہنماء جناب خان عبدالغفار خان، جو عوامی حلقوں میں باچا خان کے اسم سے موسوم ہوئے، 1890 میں چارسدہ کے علاقے اتمانزئی کے ایک متمول گھرانے میں پیدا ہوئے۔ آپ کے والد بہرام خان اپنے علاقے کے زمیندار اور ایک بااثر شخص تھے۔ پختون معاشرے کی مروجہ روایات کے مطابق ایک مسجد میں مولوی سے قرآن کی ناظرہ تعلیم حاصل کرنے کے بعد پہلے پشاور کے میونسپل بورڈ ہائی سکول میں داخل ہوئے اور بعدازاں ایڈورڈ مشن ہائی سکول میں داخلہ لیا۔


یہ وہ دور تھا جب انگریز سامراج کے اقتدار کا سورج نصف النہار پہ تھا اور انگریز سرکار کے تضحیک آمیز اور معاندانہ رویے کی وجہ سے مقامی باشندوں نے انگریزی تعلیم سے گریز کی پالیسی اختیار کر رکھی تھی، انہیں نفسیات کو کچھ نام نہاد مولویوں نے اتنا ابھارا کہ لوگ عصری علوم سے ہی متنفر ہو گئے اور جو شخص دنیوی تعلیم حاصل کرنے کی کوشش کرتا اس پر کفر تک کے فتوے لگتے یا لگائے جاتے تھے لیکن باچا خان کے والد اپنے مضبوط سماجی پس منظر کی بدولت کسی دباؤ میں نہ آئے اوراپنے دونوں بیٹوں خان عبدالجبار خان (ڈاکٹر خان صاحب) اور خان عبدالغفار خان (باچا خان) کو عصری علوم کی تحصیل کیلئے مدرسے میں داخل کروایا۔ اپنی خودنوشت میں باچا خان رقمطراز ہیں، ”میں خوش نصیب ہوں کہ خدا نے مجھے ایک دلاور اور پاکباز اور ایماندار باپ اور نیک طینت ماں دی تھی جو مسجد کے ملاؤں کے فتوؤں اور اردگر کے لوگوں کے واویلا اور آوازوں کی پرواہ نہیں کرتے تھے اور انہوں نے میرے بھائی ڈاکٹر خان صاحب کو مدرسہ بھیج دیا۔” حصول تعلیم کے دوران اپنے نوکر بارانی کاکا کی باتوں سے مرعوب ہوکر فوج میں جانے کا فیصلہ کیا اور ڈائریکٹ کمیشن کی درخواست دے دی، حکومت کی منظوری کے بعد مردان کے گائیڈ نامی رسالے میں بھرتی ہوئے لیکن کچھ ہی دنوں بعد فوج کی نوکری کو خیر باد کہہ دیا، نوکری چھوڑنے کی وجہ بیان کرتے ہوئے باچا خان اپنی خودنوشت میں فرماتے ہیں،
”ایک دن میں ایک رسالدار دوست سے ملنے پشاور گیا، ہم دونوں کھڑے تھے کہ اس دوران ایک فرنگی جو اس رسالے میں لیفٹننٹ تھا آیا، رسالدار صاحب ننگے سر کھڑے تھے اور سر کے بال فیشن ایبل تھے۔ اس انگریز نے جب رسالدار کے سر کے بالوں کا یہ فیشن دیکھا تو بہت غضب ناک ہو کر بولا ویل ڈن سردار صاحب! تم بھی انگریز بننا چاہتا ہے؟ یہ سن کر رسالدار کا رنگ فق ہوگیا اور اس میں اتنی جرات نہ رہی کہ اس بات کا کوئی جواب دیتا۔ میں نے جب یہ نظارہ دیکھا تو اس کا مجھ پر بڑا اثر ہوا۔ مجھے تو بارانی کاکا فوجیوں کی عزت کی باتیں سنایا کرتا تھا لیکن یہاں مجھے ذلت ہی ذلت نظر آئی، پھر کیا تھا میں نے اسی دن انگریزوں کی نوکری کا خیال چھوڑ دیا۔” نوکری چھوڑنے کے بعد سکول میں ازسر نو داخلہ لیا، کچھ دنوں کے لئے قادیان میں بھی رہے مگر وہاں طبیعت نہ لگی اور اپنے گاؤں سے ہوتے ہوئے مسلم کالج علی گڑھ میں داخل ہوئے۔ جب گرمیوں کی تعطیلات میں گاؤں آئے تو بڑے بھائی ڈاکٹر خان صاحب جو انگلستان میں بغرض تعلیم مقیم تھے باچا خان کو انگلستان بلانے کے واسطے سندیسہ بھیجا مگر ماں کی طرف سے اجازت نہ ملنے پر ارادہ ترک کر لیا۔


یہی وہ دور تھا جب باچا خان نے اپنی قوم و ملت کا گہرا تجزیہ کر کے یہ نتائج اخد کر لیے کہ پختون قوم (جو مسلسل اضمحلال کا شکار ہے) کی بقاء اور ترقی مذہبی علوم کے ساتھ ساتھ عصری علوم کے حصول میں مضمر ہے، یوں باچا خان نے جہل کی تاریکیوں میں ڈوبی پختون قوم کو عقل و خرد اور علم شعور کی روشنیوں سے آشنا کروانے کے لئے کمر کس لی اور 1910 میں مشہور عالم اور مجاہد حاجی صاحب تورنگزئی کے تعاون سے گدر اور اتمانزئی میں مدرسوں کی بنیاد رکھی۔ دیوبند کے فارغ التحصیل مولوی فضل ربی اور مولوی فضل محمود مخفی اس مشن میں میں باچا خان کے ہمرکاب تھے اور انہیں کی وساطت سے مشہور عالم اور انگریز سرکار کے خلاف برسر پیکار شیخ الہند محمودالحسن سے بھی باچا خان کے تعلقات استوار ہوئے۔ باچا خان نے محمودالحسن صاحب ہی کے حکم پر مجاہدین کے لئے آزاد مرکز کے قیام کے واسطے باجوڑ اور بونیر کے دورے بھی کیے۔ اس دور میں باچا خان سیاست سے لاتعق رہے اور سماجی اور تعلیمی سرگرمیوں تک محدود رہے مگر جب پہلی جنگ عظیم کے اختتام پر انگریز سرکار نے 1919 میں رولٹ ایکٹ نامی کالا قانون ہندوستان میں نافذ کروایا تو پورے ہندوستان میں ہنگامے برپا ہوئے، سخت عوامی ردعمل سامنے آیا، باچا خان بھی اس احتجاج کا حصہ بنے اور اپنے علاقے میں بڑے جلسوں کا انعقاد کیا۔

بگڑتی صورتحال کے پیش نظر ملک میں مارشل لا نافذ کیا گیا اور بڑے پیمانے پر گرفتاریاں کی گئیں، باچا خان بھی گرفتار اور مردان جیل میں قید کر دیے گئے مگر چھ ماہ بعد ہی رہائی عمل میں آئی کہ بقول باچا خان اس وقت کے کمشنر سرحد روس کیپل پٹھانوں کے لئے دل میں نرم گوشہ رکھنے والے ایک اچھے انسان تھے۔
یہ وہ ہنگامہ خیز دور تھا جب خلافت عثمانیہ کی بحالی کے لئے ملک گیر خلافت تحریک کا آغاز ہوا جس میں باچا خان بھی پیش پیش رہے۔ جب 1920 میں آل انڈیا خلافت کمیٹی کی جانب سے ہندوستان کو دارالحرب قرار دے کر مسلمانوں سے ہجرت کی استدعا کی گئی تو لاکھوں ہندوستانیوں کے ہمراہ باچا خان بھی افغانستان چلے گئے اور کچھ عرصہ وہاں مقیم رہے جہاں افغانستان کے امیر امان اللہ خان سے بھی ملاقاتیں ہوئیں مگر جلد ہی ہجرت ناکام ہوئی اور الٹا مسلمانوں نے بہت نقصان اٹھایا اور 1921 میں باچا خان واپس وطن پہنچے۔ واپس آ کر پہلے تو دیر اور باجوڑ میں آزاد مدارس کے قیام کی کوشش کی مگر انگریزوں کے ورغلانے پر نواب آف دیر سخت مزاحم ہوئے اور باچا خان کے لئے وہاں رہنا محال ہوگیا۔ یوں چھپتے چھپاتے واپس اتمانزئی تشریف لائے۔ یہاں جو مدرسے بحکم سرکار بند پڑے تھے ان مدرسوں کو ازسر نو کھولنے کی سعی شروع کی لیکن مالی وسائل کے فقدان کے ساتھ ساتھ انگریز سرکار کی سخت مخالفت کا سامنا رہا اور مدرسوں کے لئے اساتذہ کا بندوبست جان جوکھوں والا کام ٹھہرا مگر مسلسل کوششوں کی وجہ سے آخر کار بنوں کے دو نوجوان جو ترک موالات میں کالج چھوڑ چکے تھے ان مدرسوں میں تدریس کے لئے آمادہ ہو گئے۔ مگر انگریز سرکار کی ریشہ دوانیاں مسلسل جاری رہیں۔

اس دوران صوبائی چیف کمشنر نے باچا خان کے والد بہرام خان کے ذریعے بھی دباؤ ڈالنے کی کوشش کی مگر ناکام رہا اور باچا خان نے جلد ہی اپنے والد کو بھی اپنا ہمنوا بنا لیا۔
1921 میں کچھ دوستوں کے ساتھ مل کر ایک اور آزاد سکول کی بنیاد ڈالی اور ایک سماجی اور فلاحی تنظیم ”’انجمن اصلاح الافاغنہ” کی اساس بھی رکھی گئی یوں انتہائی شتابی اور سبک رفتاری کے ساتھ پختوں قوم کی خوابیدہ صلاحتوں کی بیداری کا کام جاری رہا۔ جب انگریز سرکار کی تمام تدابیر ناکام ہوئیں تو باچا خان سے ضمانت کا مطالبہ کیا گیا، انکار کی صورت میں باچا خان ایف سی آر دفعہ 40 کے تحت ایک بار پھر گرفتار کر لیے گئے اور ڈپٹی کمشنر کے سامنے پیش ہوئے۔ باچا خان اپنی خودنوشت میں لکھتے ہیں،
”ڈپٹی کمشنر ایک عجیب قسم انگریز تھا۔ اس نے میرے جرم کی بابت پوچھا تو پولیس نے کہا اس نے ہجرت کی ہے اور دوسرا اس نے آزاد سکول قائم کیا ہے۔ ڈپٹی کمشنر نے کہا جب اس نے ملک سے ایک دفعہ ہجرت کر دی تو پھر اسے واپس کیوں ملک میں آنے دیا گیا۔ میں نے کہا افسوس تو اس بات کا ہے کہ ایک تو تم لوگوں نے ہم سے ملک لے لیا اور اب اس میں ہمیں رہنے بھی نہیں دیتے ۔ میرا یہ کہنا تھا کہ صاحب بہادر اور بھی جل بھن گیا اور پولیس کو حکم دیا، لے جاؤ اسے یہاں سے دور کر دو، میں نے اسے تین سال قید کی سزا دی ہے۔” یہ تین سال باچا خان نے جس اذیت میں گزارے وہ اپنی جگہ ایک غم انگیز اور دلدوز داستان ہے لیکن یہ تمام تکالیف اور اذیتیں باچا خان کے پائے استقلال میں جنبش بھی پیدا نہ کر سکیں۔ 1924 میں اس قید سے نجات ملنے کے بعد مئی 1924 میں بہن اور بیوی کے ہمراہ عازم حج ہوئے، طائف میں کچھ دنوں قیام کے بعد مدینہ منورہ تشریف لے گئے، وہاں سے اپنی اہلیہ کے ہمراہ بیت المقدس کی زیارت سے اپنی آنکھیں سیراب کیں جہاں باچا کی اہلیہ محترمہ داغ مفارقت دے گئیں جس سے آپ کو شدید صدمہ پہنچا۔ بیت المقدس سے لبنان، شام اور عراق کا سفر کیا اور نجف و کربلا کی زیارت کے بعد واپس کراچی تشریف لائے۔


مئی 1928 میں ”’پختون” نامی رسالے کا اجرا کیاگیا جو پختون قوم میں ان کی زبان اور تہذیب و ثقافت کے ساتھ انسیت پیدا کرنے میں بہت معاون ثابت ہوا۔ اسی دوران لکھنو میں منعقدہ آل انڈیا کانگریس کے ایک جلسے میں ازراہ اتفاق شرکت کی جہاں پہلی بار موہن داس کرم چند گاندھی اور جواہر لال نہرو سے ملاقات ہو گئی۔ چونکہ نہرو اور باچا خان کے بڑے بھائی ڈاکٹر خان صاحب نے ایک ہی یونیورسٹی میں تعلیم حاصل کی تھی اور ان کے درمیان کافی دوستی بھی تھی اسی وساطت سے باچا خان نہرو سے ملے۔ ذہنی اور شعوری سطح پر انقلاب برپا کرنے کی جدوجہد کے ساتھ ساتھ باچا خان کے ذہن میں اب یہ سوچ بھی انگڑائیاں لینے لگی کہ قوم کی ترقی کا خواب تبھی شرمند تعبیر ہو سکتا ہے جب یہ ملک انگریز سامراج کے بے رحم پنجوں سے آزاد ہو جائے کہ قومیں غلامی کا طوق گردن میں سجائے کبھی عزت و توقیر کے اعلی مناصب پر متمکن نہیں ہو سکتیں۔ اسی سوچ کو عملی جامہ پہناتے ہوئے 1929 میں ”خدائی خدمت گار تحریک” کی بنیاد رکھی گئی اور عدم تشدد کو بطور اصول اپنا کر ملک کی آزادی کے لئے تاریخی تحریک کا آغاز ہوا۔ اپریل 1930 کو اتمانزئی میں ایک جلسے کے انعقاد کے بعد پشاور جا رہے تھے کہ راستے میں گرفتار کر لئے گئے، گرفتاری کی خبر پھیلتے ہی پوری پختون قوم میں غم و غصے کی ایک شدید لہر دوڑ گئی اور ہنگامہ آرائی شروع ہوئی۔ 23 اپریل 1930 کو پشاور کے قصے خوانی بازار میں خدائی خدمتگاروں کی گرفتاری کے خلاف پرامن احتجاج جاری تھا کہ پولیس کی جانب سے اندھادھند فائرنگ شروع ہوئی جس میں سینکڑوں خدائی خدمتگار شہید کر دیئے گئے۔ پورے صوبے میں تحریک کے رہنماؤں کے خلاف زبردست کریک ڈاؤن شروع ہوا اور تحریک کے مراکز نذر آتش کر دیئے گئے۔


ابتلا کے اس دور میں باچا خان نے یہ مناسب سمجھا کہ ملک میں جاری آزادی کی تحریک میں سرگرم مسلمان رہنماؤں کی جماعت مسلم لیگ سے تعاون حاصل کیا جائے لہذا چند خدائی خدمتگار اس غرض سے لاہور، شملہ اور ممبئی بھیج دیئے گئے لیکن مسلم لیگی رہنماؤں کی جانب سے انکار کی صورت میں مجبوراً کانگریس سے رابطہ کیا گیا۔ کانگریس کے سرکردہ لیڈروں نے تعاون کی یقین دہانی کرائی جس کے بعد خدائی خدمتگاروں نے ایک جرگے میں باقاعدہ کانگریس کے ساتھ الحاق کر لیا۔ یہ خبر انگریز سرکار پر بجلی بن کر گری اور ان کے ظلم و ستم میں اور اضافہ ہوا۔ ٹکر اور بنوں اور اسی طرح کئی مقامات پر خدائی خدمت گاروں پر فائرنگ کی گئی۔ بالآخر گاندھی جی اور وائسرائے ہند لارڈ ارون کے معاہدے کے نتیجے میں تمام قیدیوں کو رہائی نصیب ہوئی۔ باچا خان کی رہائی کے بارے میں تو پہلے لیت ولعل سے کام لیا گیا مگر گاندھی جی کے مسلسل اصرار پر مارچ 1931 کو باچا خان بھی رہا کر دیئے گئے۔ رہائی کے فوری بعد پھر اپنے مشن میں جت گئے اور انگریز سرکار کی آنکھ میں کھٹکتے رہے۔ یہ چند دنوں کی آزادی بھی انگریز سرکار اپنے لئے خطرہ سمجھنے لگی اور رہائی کے سال ہی 24 دسمبر 1931 کو چیف کمشنر سر ریلف گرفتھ کے حکم پر اپنے بھائی ڈاکٹر خان صاحب کے ہمراہ گرفتار کر لئے گئے اور تین سال تک بہار کے ہزاروی جیل میں قید رہے۔ 1934 میں جب رہائی ملی تو سرحد اور پنجاب میں داخلے پر پابندی کی وجہ سے پہلے پٹنہ اور بعد میں واردھا گاندھی جی کے پاس چلے گئے لیکن بیکار بیٹھنا آپ کی فطرت کے خلاف تھا لہذا کلکتہ جا کر وہاں کے دوردراز دیہاتوں میں انگریز مخالف جذبات کی تشہیر میں مصروف عمل ہوئے جس کی پاداش میں پھر گرفتار ہو کر دو سال تک احمد آباد اور بریلی میں قید رہے۔ 1934 میں رہائی ملنے پر واردھا تشریف لے گئے کہ سرحد اور پنجاب میں داخلے پر ہنوز پابندی عائد تھی اور اگست 1937 تک صوبہ بدر رہے۔


1937 میں ملک بھر میں الیکشن کا انعقاد ہوا۔ سرحد اسمبلی میں خدائی خدمتگاروں نے اسمبلی کی پچاس نشستوں میں سے انیس سیٹیں حاصل کر کے واضح اکثریت حاصل کی لیکن انگریز سرکار کی مخالفت کے سبب صوبے میں صاحبزادہ عبدالقیوم کی حکومت قائم کی گئی جن کی مسلم نیشنلسٹ پارٹی نے سات نشستیں جیتی تھیں مگر جلد ہی عدم اعتماد کی تحریک کے نتیجے میں خدائی خدمتگاروں نے ڈاکٹر خان صاحب کی سرکردگی میں حکومت قائم کی۔ یکم ستمبر 1939 کو جب دوسری جنگ عظیم کا آغاز ہوا تو کانگریس نے جنگ کے بعد آزادی کی شرط پر حکومت کے ساتھ تعاون کا اعلان کیا جس کی وجہ سے باچا خان اور گاندھی جی کانگریس ورکنگ کمیٹی سے مستعفی ہو گئے کہ جنگ میں شمولیت کا مطلب تشدد کی راہ اپنانا ہے مگر جلد ہی کانگریس اور حکومت میں اختلافات پیدا ہوئے اور 8 اگست 1942 کو ہندوستان چھوڑ دو تحریک کا آغاز ہوا اور پورے ملک میں سول نافرمانی شروع ہوئی جس میں منجملہ دوسرے لیڈروں کے باچا خان بھی گرفتار ہوئے اور 1945 تک پس زنداں رہے۔ جنوری 1946 کے سرحد کے صوبائی الکیشنز میں خدائی خدمتگاروں نے ایک بار پھر اسمبلی کی پچاس میں تیس سیٹیں حاصل کر کے بھاری اکثریت حاصل کی اور ڈاکٹر خان صاحب کی حکومت قائم ہوئی۔


آزادی کی ایک طویل اور جانگسل جدوجہد کے بعدآخر کار انگریز ہندوستان چھوڑنے پر مجبور ہوئے اور مسلم لیگ کی تمنا کے عین مطابق ہندوستان کی تقسیم کا منصوبہ پیش کیا گیا جسے کانگریس نے بھی بادل ناخوستہ قبول کر لیا مگر باچا خان اس فیصلے سے بہت مغموم ہوئے کہ ان کی پوری زندگی ہندوستان کی وحدت کو قائم رکھنے کی جدوجہد سے عبارت تھی۔ 3 جون منصوبے کے تحت تمام صوبوں کی اسمبلیاں ہی فیصلہ کرنے کی مجاز تھیں کہ متعلقہ صوبہ کن دو ملکوں یعنی پاکستان اور ہندوستان میں شامل ہونا چاہتا ہے مگر سرحد (خیبر پختونخواہ) کے معاملے میں انوکھا رویہ اختیار کیا گیا کہ یہاں پر ریفرنڈم کا انعقاد ہو گا جس کی باچا خان نے شدید مخالفت کی مگر سب کے اتفاق کے نتیجے میں باچا خان نے بھی رضامندی اختیار کی مگر یہ اصولی موقف اپنایا کہ ریفرنڈم میں آزاد پختونستان کا آپشن بھی رکھا جائے مگر یہ مطالبہ بھی تسلیم نہ ہوا اور آخرکار جولائی 1947 میں ریفرنڈم کا انعقاد ہوا، احتجاجاً باچا خان نے ریفرنڈم کے بائیکاٹ کا اعلان کیا۔ یاد رہے کہ اس ریفرنڈم میں کل ووٹوں کے صرف 51 فیصد ووٹ ڈالے گئے۔ بٹوارے کے فوری بعد ہی یعنی 22 اگست 1947 کو گورنر جنرل نے خدائی خدمتگاروں کی آئینی حکومت کو برخاست کر دیا۔
مارچ 1948 کو باچا خان نے دستور ساز اسمبلی کا حلف اٹھاتے ہوئے پاکستان کی تعمیر و ترقی کے عزم کا اظہار کیا مگر ریاست کے کرتا دھرتاؤں نے اس خلوص کو بھی شک کی نگاہ سے دیکھا اور بے تکے الزامات کی بنیاد پر پندرہ جون 1948 کو باچا خان پھر گرفتار کر لیے گئے۔ اس گرفتاری کے خلاف خدائی خدمتگاروں نے ڈاکٹر خان صاحب کی اپیل پر بابڑہ کے مقام پر بارہ اگست 1948 کو ایک پرامن جلسے کا انعقاد کیا، کسی بھی ناخوشگوار صورتحال سے نمٹنے کے لئے وہاں پر موجود پولیس اور پیراملٹری کے اہلکاروں نے اچانک فائرنگ شروع کر دی جس میں چھ سو کے لگ بھگ خدائی خدمتگار شہید اور ہزاروں زخمی ہوئے۔
باچا خان 1954 تک جیل میں یا گھر میں نظر بند رہے۔ جب نومبر 1954 میں ون یونٹ کا قیام عمل میں لا کر تمام صوبے ایک ہی یونٹ میں ضم کئے گئے تو باچا خان نے یہ کہہ کر اس کی شدید مخالفت کی کہ یہ چھوٹے صوبوں کے حقوق غصب کرنے کا منصوبہ تھا تو پھر گرفتار کر لیے گئے اور ایک طویل عرصہ جیل میں رہے۔ 1964 میں خرابی طبیعت کے باعث رہا ہوئے اور بغرض علاج انگلستان تشریف لے گئے جہاں سے آپ افغانستان چلے گئے جہاں 1972 تک جلاوطنی کی زندگی گزار کر دسمبر 1972 کو واپس وطن لوٹے تو بھٹو حکومت کو بھی آپ کی حق گوئی راس نہ آئی اور نومبر 1973 میں پھر گرفتار کر لیے گئے اور کچھ عرصہ جیل میں رہے۔


1984 میں باچہ خان کو امن کے نوبیل انعام کے لئے بھی نامزد کیا گیا جبکہ بھارتی حکومت باچا خان کو ملک کا سب سے بڑا سول ایوارڈ بھارت رتنا ایوارڈ عطا کر چکی ہے۔
جولائی 1987 میں فالج کے اچانک حملے نے مضمحل صحت پر بہت منفی اثر ڈالا اور 20 جنوری 1988 کو یہ عظیم انقلابی سیاستدان، اپنی قوم پر مرمٹنے والے اور دنیا کے سپر پاور کا درد سر بننے والے درویش صفت انسان باچا خان اس دار فانی سے کوچ کر گئے اور وصیت کے مطابق جلال آباد میں سپرد خاک کئے گئے۔ (اناللہ واناالیہ راجعون)
یہ وہ زمانہ تھا جب افغانستان میں روسی افواج اور مجاہدین کے درمیان جنگ عروج پر تھی مگر باچا خان کے جنازے کے احترام میں فریقین کی جانب سے جنگ بندی کا اعلان کیا گیا اگرچہ عین ان کے جنازے کے دوران ایک افسوسناک واقعہ ضرور پیش آیا تھا تاہم وہ ایک الگ طویل داستان ہے۔

یہ بھی پڑھیں

پاکستان سپر لیگ 6، میدان میں یا سڑکوں پر؟

تحریر: شیخ خالد زاہد ایک ایسا بھی وقت گزرا ہے جب پاکستان میں بین الاقوامی …