باچا خان، ایک سوچ اور تحریک

تحریر:روخان یوسف زئی

باچا خان ایک تصوراتی رہبر اور فلسفی نہیں تھے جو اپنے پیچھے صرف سیاسیات، معاشیات پر طویل مضامین، کتابیں اور اقوال چھوڑ گئے ہوں بلکہ وہ اس ” قومی سوچ” کے لیے، جو انہوں نے بڑی مشکلات کے بعد حاصل کیا تھا، عملی نظریات اور تصورات رکھتے ہیں

جو بات ان کی شخصیت کو مزید نمایاں کرتی ہے وہ یہ کہ وہ گفتار کے نہیں بلکہ کردار کے غازی رہے اور ہم دیکھتے ہیں کہ اس وقت پختونوں کے حقوق کے پلیٹ فارم پر باچا خان کے بالمقابل کوئی اور ایسی شخصیت ہمیں نظر نہیں آتی جس نے پختونوں میں وطن پرستی، قوم پرستی، علم دوستی اور بالخصوص اپنے حقوق کے حصول کے لیے بندوق اٹھانے کے بجائے پرامن جدوجہد اور عملاً عدم تشدد کا شعور اجاگر کیا ہو

پختونوں کی تاریخ میں باچا خان عملی طور پر علم و آگاہی، اصلاح پسندی، اسلام پرستی، علم دوستی، روشن خیالی، امن و آشتی، رواداری، برداشت اور عدم تشددکا ایک ایسا مضبوط اور معتبر حوالہ اور باب ہے جنہوں نے پہلی بار پختونوں کی تاریخ کا رُخ ہی موڑ دیا۔ اس کے علاوہ جو بات ان کی شخصیت کو مزید نمایاں کرتی ہے وہ یہ کہ وہ گفتار کے نہیں بلکہ کردار کے غازی رہے اور ہم دیکھتے ہیں کہ اس وقت پختونوں کے حقوق کے پلیٹ فارم پر باچا خان کے بالمقابل کوئی اور ایسی شخصیت ہمیں نظر نہیں آتی جس نے پختونوں میں وطن پرستی، قوم پرستی، علم دوستی اور بالخصوص اپنے حقوق کے حصول کے لیے بندوق اٹھانے کے بجائے پرامن جدوجہد اور عملاً عدم تشدد کا شعور اجاگر کیا ہو۔


مگر افسوس سے کہنا پڑتا ہے کہ باچا خان، جنہیں جدید پختون قوم پرستی کی تخلیق اور اسے فروغ دینے میں ایک بنیادی حیثیت حاصل ہے، کے نظریات اور افکار سے آج تک پختونوں نے بہت ہی کم فائدہ اٹھایا ہے۔ اگر یہ کہا جائے تو غلط نہ ہو گا کہ شاید کسی بھی قوم نے اپنے اتنے بڑے محسن کی سیاسی بصیرت سے اتنی دوری اختیار نہیں کی جتنی پختون قوم نے اپنے محسن باچا خان سے (ان کے افکار اور ان کے کردار سے) اختیار کر رکھی ہے۔


باچا خان ایک تصوراتی رہبر اور فلسفی نہیں تھے جو اپنے پیچھے صرف سیاسیات، معاشیات پر طویل مضامین، کتابیں اور اقوال چھوڑ گئے ہوں بلکہ وہ اس ” قومی سوچ” کے لیے، جو انہوں نے بڑی مشکلات کے بعد حاصل کیا تھا، عملی نظریات اور تصورات رکھتے ہیں۔ مگر متاسفانہ سیاسیات اور معاشرت پر ان کے نظریات سے استفادہ حاصل کرنے کے بارے میں کبھی بھی سنجیدگی کے ساتھ نہیں سوچا گیا۔آزادی کا اتنا طویل عرصہ گزر جانے کے باوجود پختون قوم آج کہاں کھڑی ہے؟ کتنے دکھ اور افسوس کا مقام ہے کہ اس قوم میں قومیت کا تصور اب بھی دُھندلا ہوا ہے۔ ماضی میں جانے کی بجائے اگر ہم اپنے آپ کو صرف موجودہ حالات سے متعلق زیادہ واضح سیاسی اور نظریاتی تقسیموں تک ہی محدود رکھیں تو بھی قومی یکجہتی یعنی قومیت کا فقدان ہی نظر آئے گا جو ہمیں یہ سوچنے پر مجبور کرے گا کہ اس قوم کے محسن باچا خان نے ایک جدید اور معاشی انصاف پر مبنی قومیت کی تشکیل کے لیے کون سے قابل عمل راستے کی نشان دہی کی ہے۔
جہاں تک پختونوں میں موجودہ نظریاتی اور سیاسی تقسیم کا تعلق ہے تو یہ بات بلاخوف تردید کہی جا سکتی ہے کہ آج پختونوں کے خطہ زمین کو سب سے بڑا خطرہ مذہبی شدت پسندی، دہشت گردی اور عدم رواداری کی صورت میں لاحق ہے۔ گزشتہ برسوں کے دوران سینکڑوں مذہبی گروہ اور جنگجو تنظیمیں ظہور میں آئی ہیں۔ بدقسمتی یہ ہے کہ ان مختلف اسلامی گروہوں سے منسلک جنگجوؤں کواصل اسلام کی وسیع النظری اور وسیع القلبی کا علم ہی نہیں ہے اور وہ دوسرے لوگوں پر بندوق اور جبر کے زور پر اپنا خودساختہ اسلام پھیلانے کے حامی ہیں۔

بہرحال یہ ایک تسلیم شدہ حقیقت ہے کہ یہ سب گروہ صرف اپنی ذاتی خواہش کے تحت کام نہیں کر رہے ہیں، ان کے پس پشت بیرونی طاقتیں اور ملک میں موجود بعض مقتدر قوتیں اور جماعتیں ہیں۔ یہ انتہاپسندگروہ نہ صرف دنیا میں دین اسلام کا اصل روپ بگاڑ رہے ہیں بلکہ پختون معاشرے کو مختلف فرقوں میں تقسیم کرنے کا باعث بھی بن رہے ہیں کیوں کہ ان میں سے ہر ایک گروہ اسلام کی اپنی پیش کردہ من پسند تعبیرکو ہی اصل اسلام مانتا ہے اور دوسرے فرقوں کے بارے میں عدم برداشت کی تعلیم دیتا ہے۔


تاہم اس کے باوجود یہ امر خوش آئند ہے کہ آج باچا خان کی سوچ، نظریات اور افکار نہ صرف ملکی سطح پر بلکہ عالمی سطح پر بھی دنیا کے کئی ممالک کے مورخین، دانشوروں، سیاسی اور سماجی ماہرین کی توجہ اپنی جانب مبذول کروا چکے ہیں، یہی وجہ ہے کہ باچا خان کے نظریات و افکار کی ضرورت اور اہمیت پہلے سے زیادہ بڑھ رہی ہے۔ یہ اس وجہ سے کہ باچا خان صرف ایک عام فرد یا شخصیت کا نام نہیں بلکہ ایک جداگانہ سماجی، تعلیمی، سیاسی اور تہذیبی مکتب فکر، نظریہ، تحریک، دبستان اور نظام فکر و فلسفہ کا نام ہے۔ ان کی شخصیت کے بے شمار پہلو ہیں اور ہر پہلو الگ الگ کتاب کا متقاضی ہے تاہم ان تمام صفات اور خوبیوں کو مجموعی طور پر آج کے جدید سیاسی اصطلاح اور مفہوم میں ”باچا خان ازم” یا پشتو میں ”باچا خانی” کہا جاتا ہے۔ اور یہ محض اصطلاح، نام یا وقتی، سیاسی، ہنگامی اور جذباتی نعرہ نہیں بلکہ ملک و قوم کی خدمت، ترقی، جمہوریت، انصاف، عدم تشدد، رواداری، روشن خیالی، امن و امان اور انسانیت کے لیے ” پختون ولی” کی طرح ایک ضابطہ اخلاق، قانون، آئین، نظام فکر اور ایک منفرد فلسفہ حیات ہے۔ جو پختون ولی، اسلام، تعلیم و تربیت، جدید علوم، ٹیکنالوجی، جمہوریت، معاشی انصاف، تہذیب و ثقافت، تجارت، معیشت، رواداری اور روشن خیالی پر مبنی ہے۔


اگرچہ باچا خان کی اپنی زندگی، جدوجہد، قربانیوں، قیدوبند، ان کی تحریک اور ساتھیوں (خدائی خدمت گاروں) کے متعلق اب کئی مختلف زبانوں میں کتابیں لکھی گئی ہیں، دستاویزی فلمیں بن چکی ہیں اور مزید بھی بہت تحقیقی کام ہو رہا ہے جس کے ذریعے کئی ایسے بے شمار گوشے اور حقائق سامنے لائے جا چکے اور لائے جا رہے ہیں جو اب تک قوم سے پوشیدہ تھے یا ایک منظم منصوبہ بندی اور سازش کے تحت پوشیدہ رکھے گئے تھے۔ اپنی قوم اور اس دھرتی کی آزادی، ترقی، خوشحالی، امن اور سلامتی کے لیے باچا خان اور ان کے ساتھی خدائی خدمت گاروں نے جو مالی اور جانی قربانیاں دی ہیں، جو ذہنی اور جسمانی اذیتیں، صعوبتیں اور مشکلات جھیلی ہیں، اپنی سرزمین کو انگریزوں کی غلامی سے آزاد کرانے میں باچا خان اور ان کی تحریک نے جو تاریخی کردار ادا کیا ہے اس سے اب ایک دنیا واقف ہو چکی ہے اور یہ حقیقت بھی مان گئی ہے کہ اگر تقسیم ہند سے قبل یا بعد میں قیام پاکستان کے وقت باچا خان کی بات مان لی جاتی اور ان کا بتایا ہوا راستہ اپنایا جاتا تو جناح صاحب کا پاکستان نہ ٹوٹتا، آج ہمیں داخلی اور خارجی طور پر یہ برُے دن دیکھنا نہ پڑتے جس سے آج ہم گزر رہے ہیں۔

ستم بالائے ستم یہ بھی کی گئی کہ تحریک آزادی کی تاریخ میں درباری و سرکاری مورخین اور دانشوروں نے باچا خان اور ان کی ”خدائی خدمت گار تحریک” کے اصل چہرے اور کردارکو نہ صرف چھپا کے رکھا بلکہ اسے مسخ اور طرح طرح کے غلط ناموں سے یاد کرنے کا درباری وظیفہ بھی خوب ادا کیا ہوا ہے۔ اسی طرح تعلیمی نصاب میں بھی جو مطالعہ پاکستان یا پولیٹیکل سائنس کے نام سے پڑھایا ج ارہا ہے، اس میں بھی باچا خان اور ان کی تحریک کی اصل اور سچی کہانی ”شجرممنوعہ” رہی جس کے باعث ہماری نئی نسل کو تحریک آزادی کے اصل ہیرو اور سچے کرداروں سے بے خبر رکھا گیا۔ یہی وجہ ہے کہ آج بھی پختونوں کی نئی نسل کی اکثریت اپنے اس عظیم حریت پسند، بشردوست، امن پسند اور عدم تشدد کے علم بردار باچا خان کی زندگی، جدوجہد اور ان کے افکار اور فلسفہ حیات سے کماحقہ واقفیت نہیں رکھتی۔


مگر تاریخ نویسی ہمیشہ ایک جیسی نہیں رہتی، نئے مواد کی روشنی میں حالات و واقعات کے بارے میں اور زیادہ معلومات ملتی رہتی ہیں جن کی وجہ سے ماضی کے بارے میں نقطہ نظر میں تبدیلی آتی ہے۔ تقسیم ہند اور جنگ آزادی کے بارے میں برطانوی سرکاری دستاویزات، نجی معلومات اور حقائق سامنے آ رہے ہیں جس کی وجہ سے پوری تحریک اور تاریخ کو نئے انداز سے دیکھا جا رہا ہے۔ اب لوگ دو قومی نظریہ کو بھی چیلنج کر رہے ہیں، تقسیم ہند کے بارے میں بھی اپنے خیالات کا اظہارکر رہے ہیں اور بعض شخصیتوں پر بھی انگلی اٹھا رہے ہیں۔ اب روایتی تاریخ اپنا اثررسوخ کھو بیٹھی ہے، اب اس کی جگہ نئی تاریخ لے رہی ہے جس میں زیادہ حقیقت پسندی، دلکشی اور جاذبیت ہے۔ موجودہ نسل تاریخ کو خوابوں اور کشف و کرامات کی روشنی میں نہیں دیکھنا چاہتی بلکہ وہ اسے ٹھوس حقائق اور شہادتوں کے ذریعے سمجھنا چاہتی ہے۔ وہ دلیل اور منطق کے ذریعے واقعات کی تشریح چاہتی ہے اور ماضی میں جو کچھ ہوا اس سوال کا جواب چاہتی ہے۔ مطلب یہ کہ تاریخ بڑی بے رحم ہے، یہ کسی کو بھی معاف نہیں کرتی اور نہ ہی تاریخی حقائق کوکوئی دیر تک چھپا سکتا ہے۔


آج دنیا ایک گھر (گلوبل ہوم) کی شکل اختیار کر چکی ہے، اب جدید علوم اور انفارمشن ٹیکنالوجی کا دور دورہ ہے، موجودہ نسل ایک پڑھی لکھی اور سائنسی حقائق پر یقین رکھنے والی نسل ہے جسے مفروضوں اور خیالی قصے کہانیوں پرکوئی ورغلا نہیں سکتا، موجودہ نسل حقائق کا کھوج لگانے کا علم اورصلاحیت رکھتی ہے، اسے بیک وقت کئی زبانوں پر عبور حاصل ہے، الیکٹرانک میڈیا، انٹرنیٹ اور سوشل میڈیا موجودہ نسل کی ہتھیلی پر ہے لہذا اپنے ملک کی موجودہ آزادی کی تحریک کے بارے میں ایک مخصوص فارمولے کے تحت لکھی گئی نصابی تاریخ کے علاوہ دیگر زبانوں میں لکھی گئی غیرجانبدار تاریخ کا بھی مطالعہ کر رہی ہے، اور ساتھ دیگر جدید ذرائع ابلاغ پر بھی کڑی نظر رکھے ہوئی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ آج پختونوں کی نئی نسل میں یہ نعرہ اور اصطلاح ”باچا خانی پکار دہ” (باچا خانی درکار ہے) مقبول ہوتا جا رہا ہے۔

تاریخ بڑی بے رحم ہے


مگر تاریخ نویسی ہمیشہ ایک جیسی نہیں رہتی، نئے مواد کی روشنی میں حالات و واقعات کے بارے میں اور زیادہ معلومات ملتی رہتی ہیں جن کی وجہ سے ماضی کے بارے میں نقطہ نظر میں تبدیلی آتی ہے۔ تقسیم ہند اور جنگ آزادی کے بارے میں برطانوی سرکاری دستاویزات، نجی معلومات اور حقائق سامنے آ رہے ہیں جس کی وجہ سے پوری تحریک اور تاریخ کو نئے انداز سے دیکھا جا رہا ہے۔ اب لوگ دو قومی نظریہ کو بھی چیلنج کر رہے ہیں، تقسیم ہند کے بارے میں بھی اپنے خیالات کا اظہارکر رہے ہیں اور بعض شخصیتوں پر بھی انگلی اٹھا رہے ہیں۔ اب روایتی تاریخ اپنا اثررسوخ کھو بیٹھی ہے، اب اس کی جگہ نئی تاریخ لے رہی ہے جس میں زیادہ حقیقت پسندی، دلکشی اور جاذبیت ہے۔ موجودہ نسل تاریخ کو خوابوں اور کشف و کرامات کی روشنی میں نہیں دیکھنا چاہتی بلکہ وہ اسے ٹھوس حقائق اور شہادتوں کے ذریعے سمجھنا چاہتی ہے۔ وہ دلیل اور منطق کے ذریعے واقعات کی تشریح چاہتی ہے اور ماضی میں جو کچھ ہوا اس سوال کا جواب چاہتی ہے۔ مطلب یہ کہ تاریخ بڑی بے رحم ہے، یہ کسی کو بھی معاف نہیں کرتی اور نہ ہی تاریخی حقائق کوکوئی دیر تک چھپا سکتا ہے۔

”باچا خانی” جذباتی نعرہ نہیں


یہ امر خوش آئند ہے کہ آج باچا خان کی سوچ، نظریات اور افکار نہ صرف ملکی سطح پر بلکہ عالمی سطح پر بھی دنیا کے کئی ممالک کے مورخین، دانشوروں، سیاسی اور سماجی ماہرین کی توجہ اپنی جانب مبذول کروا چکے ہیں، یہی وجہ ہے کہ باچا خان کے نظریات و افکار کی ضرورت اور اہمیت پہلے سے زیادہ بڑھ رہی ہے۔ یہ اس وجہ سے کہ باچا خان صرف ایک عام فرد یا شخصیت کا نام نہیں بلکہ ایک جداگانہ سماجی، تعلیمی، سیاسی اور تہذیبی مکتب فکر، نظریہ، تحریک، دبستان اور نظام فکر و فلسفہ کا نام ہے۔ ان کی شخصیت کے بے شمار پہلو ہیں اور ہر پہلو الگ الگ کتاب کا متقاضی ہے تاہم ان تمام صفات اور خوبیوں کو مجموعی طور پر آج کے جدید سیاسی اصطلاح اور مفہوم میں ”باچا خان ازم” یا پشتو میں ”باچا خانی” کہا جاتا ہے۔ اور یہ محض اصطلاح، نام یا وقتی، سیاسی، ہنگامی اور جذباتی نعرہ نہیں بلکہ ملک و قوم کی خدمت، ترقی، جمہوریت، انصاف، عدم تشدد، رواداری، روشن خیالی، امن و امان اور انسانیت کے لیے ” پختون ولی” کی طرح ایک ضابطہ اخلاق، قانون، آئین، نظام فکر اور ایک منفرد فلسفہ حیات ہے۔ جو پختون ولی، اسلام، تعلیم و تربیت، جدید علوم، ٹیکنالوجی، جمہوریت، معاشی انصاف، تہذیب و ثقافت، تجارت، معیشت، رواداری اور روشن خیالی پر مبنی ہے۔

”باچا خانی پہ کار دہ”


آج دنیا ایک گھر (گلوبل ہوم) کی شکل اختیار کر چکی ہے، اب جدید علوم اور انفارمشن ٹیکنالوجی کا دور دورہ ہے، موجودہ نسل ایک پڑھی لکھی اور سائنسی حقائق پر یقین رکھنے والی نسل ہے جسے مفروضوں اور خیالی قصے کہانیوں پرکوئی ورغلا نہیں سکتا، موجودہ نسل حقائق کا کھوج لگانے کا علم اورصلاحیت رکھتی ہے، اسے بیک وقت کئی زبانوں پر عبور حاصل ہے، الیکٹرانک میڈیا، انٹرنیٹ اور سوشل میڈیا موجودہ نسل کی ہتھیلی پر ہے لہذا اپنے ملک کی موجودہ آزادی کی تحریک کے بارے میں ایک مخصوص فارمولے کے تحت لکھی گئی نصابی تاریخ کے علاوہ دیگر زبانوں میں لکھی گئی غیرجانبدار تاریخ کا بھی مطالعہ کر رہی ہے، اور ساتھ دیگر جدید ذرائع ابلاغ پر بھی کڑی نظر رکھے ہوئی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ آج پختونوں کی نئی نسل میں یہ نعرہ اور اصطلاح ”باچا خانی پکار دہ” (باچا خانی درکار ہے) مقبول ہوتا جا رہا ہے۔

یہ بھی پڑھیں

زبانوں کا عالمی دن اور معدومیت کے خطرے سے دوچار مادری زبانیں

تحریر: مولانا خانزیب مادری زبانوں کو لاحق خطرات کے حوالے سے پاکستان دنیا میں 28ویں …