باچا خان اور موجودہ ملکی، علاقائی اور بین الاقوامی فضاء

تحریر:شمیم شاہد

فخرِ افغان، بابائے امن نے جن جن واقعات اور حالات کے پیدا ہونے یا خطرات کی نشاندہی کی تھی وہ آج مکمل طور پر نہ صرف اس ملک اور خطے بلکہ دنیا بھر میں وقوع پذیر ہو چکے ہیں بلکہ ان خطرات اور مشکلات سے پوری دنیا کے لوگ متاثر ہو رہے ہیں

ویسے تو خان عبد الغفار خان، جو باچا خان اور فخر افغان کے نام سے بھی جانے اور پکارے جاتے ہیں، نے لگ بھگ ایک صدی قبل پشتونوں کو جنگ آزادی میں عدم تشدد پر مبنی سیاسی جدوجہد اور اصلاح کے لئے تحریک افاغنہ کے نام سے ایک مکمل سیاسی تحریک کا آغاز کیا تھا مگر اس دوران انہوں نے جن جن واقعات اور حالات کے پیدا ہونے یا خطرات کی نشاندہی کی تھی وہ آج مکمل طور پر نہ صرف اس ملک اور خطے بلکہ دنیا بھر میں وقوع پذیر ہو چکے ہیں بلکہ ان خطرات اور مشکلات سے پوری دنیا کے لوگ متاثر ہو رہے ہیں۔
یہ بھی بہت بڑی بدقسمتی ہے کہ جنوبی ایشیائی ممالک ان حالات کی وجہ سے اب اپنی اپنی بقاء کے لئے منصوبہ بندی کر رہے ہیں۔ دنیا بھر کے ممالک اور اقوام بقاء کی خاطر صدیوں پر محیط جنگ وجدل کے خاتمے کے لئے کوشاں ہیں جبکہ مملکت خداد پاکستان میں صورتحال یکسر مختلف ہے۔ نہ صرف پاکستان کے طالع آزما حکمران بلکہ زیادہ تر عام لوگ اب بھی دشمنوں اور دشمنی کی فضاء کو پیسے دے کر خرید رہے ہیں جو واقعی اور حقیقی طور پر مستقبل کے حوالے سے کافی پریشان کن امر ہے مگر کیا کریں۔


سب سے زیادہ بدقسمتی یہ ہے کہ دنیا بھر کے خوشحال اور مترقی ممالک اور اقوام دشمنی اور محاذ آرائی کے خاتمے کے لئے نہ صرف غربت، افلاس، بے روزگاری اور دیگر معاشی مسائل کے حل کے لئے اپنے ان حریف ممالک کے ساتھ مل کر منصوبہ بندی کر رہے ہیں جو کسی وقت ان کے دشمن یا حریف ممالک کی فہرست میں شامل تھے۔ مگر جنوب ایشیاء میں پاکستان کے حقیقی حکمرانوں کی ترجیحات کے مطابق حالات دیگر دنیا سے مختلف ہیں۔ کسی وقت میں صرف پاکستان اور بھارت ایک دوسرے کے دشمن تصور کئے جاتے تھے مگر آج اس خطے میں ایک دکاندار بنیے یعنی چین کے علاوہ ایشیاء بھر میں پاکستان کا کوئی دوست دکھائی نہیں دیتا ہے۔


مرحوم فخر افغان باچا خان نے قیام پاکستان کے بعد نہ صرف پاکستان کو دل و جان سے تسلیم کیا تھا بلکہ انہوں نے اس ملک کے بہتر مستقبل کے لئے قائد اعظم محمد علی جناح کو بہت اچھے مشورے بھی دیئے تھے۔ ان مشوروں میں اس ملک کے ریاستی نظام کو جمہوری اقدار کے علاہ تمام ھمسایہ ممالک کے ساتھ ہر قسم کے تنازعات کے خاتمے اور دوستانہ تعلقات استوار کرنا بھی سرفہرست تھا۔ باچا خان نے از خود قائد اعظم محمد علی جناح کو خدائی خدمتگار تحریک کے مرکز آنے کی دعوت دی تھی مگر حکمران طبقے میں شامل برطانوی نوآبادیاتی نظام کے حقیقی وارثوں نے قائد اعظم محمد علی جناح کو پشاور سے چند کلومیٹر کے فاصلے پر واقع محمد ناڑی کے اس مرکز میں جانے سے منع کر دیا تھا۔ منع کرنے والوں میں سابق وزیر اعلی خان عبدالقیوم خان اور ان کے حواری سر فہرست تھے ۔


بہرحال اس وقت جو کچھ ہوا، ان تاریخی حقائق کو اب کوئی بھی نہیں جھٹلا سکتا۔ ویسے تو عرصہ دراز سے افغانستان بین الاقوامی تنازعات اور محاذ آرائیوں کا مرکز، تھا اور آج بھی ہے مگر برطانوی حکمرانوں کے ایشیاء میں داخل ہونے کے ساتھ افغانستان کی سرزمین پر جاری ان لڑائیوں اور محاذ آرائیوں کی فضا میں اضافہ ہونا شروع ہو گیا تھا۔ اور بر صغیر ہندوستان کی تقسیم میں نہ صرف افغانستان کو نظر انداز کر دیا گیا تھا بلکہ برصغیر کی تقسیم سے قبل ان برطانوی حکمرانوں نے افغانستان کی تقسیم پر کام شروع کر دیا تھا جس میں یہ برطانوی حکمران ہندوستان کے بٹوارے سے قبل کافی حد تک کامیاب بھی ہو چکے تھے۔ اور اسی بنیاد پر برطانوی حکمرانوں نے ہندوستان سے واپس جاتے ہوئے نہ صرف پاکستان اور ھندوستان بلکہ پاکستان اور افغانستان کو بھی آپس کے تنازعات اور محاذ آرائیوں میں الجھا کر چھوڑ دیا تھا۔


اور ابھی تک محاذ آرائی اور جنگ و جدل کی اس فضا کو ایک مخصوص ذھنیت کے حامل طبقے کے ذریعے تر و تازہ رکھنے کا سلسلہ جاری و ساری ہے۔ ساٹھ کی دھائی کا خاتمہ پاکستان کے دولخت اور ستر کی دہائی کا خاتمہ روسی اور امریکی افواج کے درمیان افغانستان کی سر زمین پر نہ ختم ہونے والی ایک جنگ سے ہوا تھا۔ ان دونوں واقعات کے بارے فخر افغان باچا خان نے وقتاً فوقتاً متنبع کرنے کی کوشش کی تھی مگر بدقسمتی سے برطانوی حکمرانوں کے پرورش کردہ مخصوص ذھنیت کے حامل طبقے کے منظم پروپیگنڈہ کے باعث ابھی تک ان پرائے اور عالمی قوتوں کی نافذ کردہ محاذ آرائی کے بارے میں باچا خان کے موقف کو سمجھنے سے گریزاں ہیں۔ اب بھی وقت ہے کہ پاکستان کو خوشحال اور مترقی ممالک کی فہرست میں شامل کیا جا سکتا ہے اگر اس کے حقیقی طالع آزما حکمران برطانوی حکمرانوں کے ورثے میں ملی ہوئی پالیسی کو ترک کر دیں۔

یہ بھی پڑھیں

گائیکی بھی ایک طرح کی نفی ذات کا نام ہے

تحریر: روخان یوسفزے امن کے قیام میں فنون لطیفہ اہم کردار ادا کر سکتا ہےپختون …