باچاخان،بغیر تاج وتخت کے دلوں پر راج کرنے والے بادشاہ

تحریر:روخان یوسف زئی

پہاڑ کی طرح اپنے اصولوں پر محکم رہنے والے عظیم رہنما
آج پوری دنیا کو باچاخان کے نظریات پر عمل کرنے کی ضرورت ہے
وہ اس سماج سے ہر قسم کے ظلم،جبر اور تسلط کا تدارک چاہتے تھے
انہوں نے جو کچھ اپنی زبان سے کہا خود اس کا عملی نمونہ بن کر دکھایا
انہوں نے ساری عمرجنگ،وجدل،نفرت،منافرت اورتشددکی سخت مخالفت کی
ظلم سہنا، دکھ برداشت کرنا، تکلیفیں اٹھانا ہر کس و ناکس کا کام نہیں بل کہ یہ بڑے اولولعزم اور بلند حوصلہ لوگوں کا کام ہے

کہاجاتاہے کہ بہترین فاتح وہ ہے جو جھگڑے میں پڑنے بغیر جیت جاتے ہیں، بہترین لیڈر وہ ہے جو لوگوں سے اس طرح کام لیتا ہے گویا وہ ان سے بہتر نہیں کم تر ہے، یہی وہ چیز وہ طاقت ہے جو لڑائی جھگڑے مناقشے اور مقابلے سے دامن بچانے کی بدولت حاصل ہوتی ہے، جنگ سے جنگ ہی پیدا ہوتی ہے اور جہاں کہیں فوجیں ہوں گی وہاں اناج نہیں اگ سکتا صرف کانٹے اور جھاڑیاں اگ سکتی ہیں، اچھا جرنیل وہ ہے جو اپنا مقصد حاصل کرتا ہے اور اپنے کام کی ڈینگ نہیں مارتا، اچھا جرنیل وہ ہے جو اپنا مقصد حاصل کرتا ہے اور اپنے کام پر فخر نہیں کرتا اچھا جرنیل وہ ہے جو اپنا مقصد حاصل کرتا ہے مگر تشدد کے بغیر ان باتوں کے تناظرمیں اگرہم خدائی خدمت گارتحریک کے بانی اورفلسفہ عدم تشددکے پیروکار،بابائے امن خان عبدالغفارخان المعروف فخرافغان باچاخان کی زندگی اورجدوجہدکا جائزہ لیں تواس میں شک نہیں کہ انہوں نے ساری عمرجنگ،وجدل،نفرت،منافرت اورتشددکی سخت مخالفت کی جیسا کہ وہ خودفرماتے ہیں کہ”عدم تشدد قریب قریب میرا مذہب بن گیا ہے میں گاندھی جی کی اہنسا کا پہلے بھی قائل تھا لیکن اس تجربے کو جو بے نظیر کامیابی میرے صوبے میں حاصل ہوئی اس کے بعد تو میں دل و جان سے عدم تشدد کا حامی بن گیا ہوں،

انشاء اللہ میرے صوبے کے لوگ کبھی تشدد سے کام نہیں لیں گے، ممکن ہے میں ناکام رہوں اور میرے صوبے میں تشدد کا طوفان برپا ہو جائے ایسا ہوا تو میں اپنی قسمت پر صبر کر کے بیٹھ جائونگا مگر اس سے میرے اس عقیدے میں تبدیلی نہیں آئے گی کہ عدم تشدد اچھی چیز ہے اور میری قوم کو اس کی سب سے زیادہ ضرورت ہے” یہ الفاظ ہیں جو باچا خان نے خود اپنے عدم تشدد کے عقیدے کے بارے میں کہے ہیں اور ان کا نظریہ اتنا واضح ہے کہ اس سلسلہ میں مزید کسی تعارف اور تعریف کی ضرورت محسوس نہیں ہوتی، بعض لوگ کہتے ہیں کہ عدم تشدد کا فلسفہ باچا خان نے گاندھی جی سے لیا تھا مگرخودباچاخان لکھتے ہیں کہ”ہمارا دین اسلام کا سارا زورہی عدم تشددپرہے اورپھرہمارے پیارے نبی حضرت محمدۖتوعدم تشددکا عملی نمونہ تھے” بہرکیف کانگرس میں شامل جتنے بھی بڑے بڑے لیڈر تھے، عدم تشدد پر اس سختی سے پابند نہ رہ سکے جس طرح باچا خان نے عملی طورپرثابت کردکھایا تھا، حتیٰ کہ گاندھی جی نے خود بھی اس کا اعتراف کیا ہے چناں چہ ستمبر 1939ء میں جنگ عظیم شروع ہوئی تو ال انڈیا کانگرس کمیٹی نے متفقہ طور پر اس جنگ میں انگریزوں کی حمایت کا اعلان کیا لیکن گاندھی جی نے جنگ کی مخالفت کی اور انگریزوں کی مدد کرنا اپنے ”اہنسا” کے اصولوں کے منافی سمجھا،

اس موقع پر باچا خان واحد شخص تھے جنہوں نے گاندھی جی کا ساتھ دیا اور کانگرس سے مستعفی ہو گئے، اس بات سے گاندھی جی بڑے متاثر ہوئے اور اپنے اخبار (یریجن) میں لکھا ”کانگرس ورکنگ کمیٹی کے تمام ممبر اپنے عقیدے سے پھسل گئے لیکن ایک باچا خان تھا جو پہاڑ کی طرح اپنے اصولوں پر محکم رہا” پنڈت جواہر لال نہرو گاندھی جی کو اپنا گرو مانتے تھے اور ہمیشہ انہیں باپو جی کہہ کر پکارتے تھے ارو کبھی کوئی بات ان کی مرضی کے خلاف نہیں کرتے تھے لیکن انہیں بھی تسلیم کرنا پڑا کہ گاندھی جی کے بعد خان عبدالغفار خان ہی ایک ایسے شخص تھے جو عدم تشدد کو اپنا دھرم سمجھتے تھے اور اپنے ان اصولوں کو کسی بھی حالت میں چھوڑنا پسند نہیں کرتے، وہ اس معاملہ میں عدم تشدد کے سچے پیروکار ہیں اور ہم میں سے کوئی ان کا مقابلہ نہیں کر سکتا، باچا خان عدم تشدد کو اپنی پشتون قوم کی خرابیوں کا واحد حل سمجھتے تھے ان کی خانہ جنگیاں، قتل و غارت گری اور ذرا سی بات پر مشتعل ہو کر اپنے بھائیوں کا گلہ کاٹنا کی مذموم عادتوں کا علاج کرنے کے لئے انہیں یہی ایک تریاق نظر آیا اور اسی لئے انہوں نے اس کا خوب خوب پرچار کیا، خود اس کا عملی نمونہ بن کر دکھایا اور تقریر و تحریر کے ذریعے اس کے مختلف پہلوؤں پر روشنی ڈالی، اس کے فوائد بتائے اور اہمیت جتائی،

انہوں نے ہرموقع پراپنی قوم کویہی وصیت دی اور جنگ آزادی کے لئے عدم تشدد کو ایک مفید اور کار آمد ہتھیارگردانا، اسے پوری دنیا کے لیے امن و آتشی کا ذریعہ قرار دیا، فرماتے ہیں ”جنگ دو طرح سے لڑی جاتی ہے ایک تشدد سے دوسری عدم تشدد سے یعنی صبر سے” تشدد کی جنگ میں فتح و شکست دونوں کا امکان ہے لیکن عدم تشدد کی جنگ میں شکست کا احتمال ہی نہیں اس میں ہمیشہ ہی فتح ہے، تشدد سے قوموں میں نفرت بغض و کینہ پیدا ہوتا ہے اور اس کا لازمی نتیجہ دوسری اور تیسری جنگ کی صورت میں ظاہر ہوتا ہے جس طرح 1914ء کی تشدد کی جنگ کا نتیجہ موجودہ خون ریز جنگ کی صورت میں سامنے آیا لیکن عدم تشدد قوموں میں محبت پیدا کرتا ہے اور اس کا نتیجہ امن ہے اور عدم تشدد کی جنگ کوئی نئی اور عجیب چیز نہیں یہ جنگ وہی ہے جو آج سے 14 سو سال پہلے ہمارے رسول ۖ نے مکہ کی زندگی میں لڑی تھی لیکن لوگ عدم تشدد کے اصول سے ناواقف ہیں ان کو یہ غلط فہمی ہے کہ ہم کو شکست ہو گئی ہے لیکن حقیقت یہ نہیں ہے، کیا آپ نے دیکھا نہیں کہ جب ہم 1931ء میں جیلوں سے باہر آئے تو قوم میں ہم دردی اور محبت کے جذبات کس قدر بڑے گئے تھے، باچا خان میں ایک سب سے بڑی خوبی یہ تھی کہ جو کچھ وہ اپنی زبان سے کہتے تھے اس کا خود مثالی نمونہ بن کر بھی دکھایا، عدم تشدد کی پالیسی پر بھی وہ سب سے پہلے خود کاربند ہوئے اس کے بعد انہوں نے دوسروں کو اس کی تعلیم دی، عدم تشدد کو اپنانے کے لئے انہیں کتنی ریاضت کتنی نفس کشی کرنی پڑی یہ کچھ ان ہی کا جی جانتا تھا وہ اپنی کمزوریوں کو نہیں چھپاتے تھے بل کہ صاف کہتے تھے کہ مجھ میں بہت سی کمزوریاں ہیں جن کی رفتہ رفتہ میں نے اصلاح کی اور ان پر قابو پایا،

عدم تشدد پر وہ ایک دم حاوی نہیں ہوئے بل کہ کافی محنت کافی داخلی اور خارجی جدوجہد کے بعد اسے اپنا شعائر بنایا اور سچ پوچھیے تو ایک پختون کا عدم تشدد کواپنانا بھی نہایت عجیب و غریب بات لگتی ہے کہ اس کی صدیوں کی روایت اس کا ماحول اس کی فطرت اور اس کا مزاج سب کے سب اس سے بالکل برعکس واقع ہوئے ہیں اس لئے کہ ایک عام آدمی کی نسبت عدم تشدد کو اپنانا ایک پختون کے لئے زیادہ دشوار ہے اور چوں کہ باچا خان بھی ایک پختون تھے اس لئے یقیناً انہیں اپنی فطرت کے خلاف جنگ کرنے میں بہت کچھ کرنا پڑا۔ جو شخص اپنا راج پاٹ چھوڑ کر تیس برس قید و بند میں گزار سکتا ہے اس کے لئے اپنے آپ میں ایسی تبدیلی پیدا کرنا کہ یک سر ایک نئے قالب میں ڈھل جائے کچھ مشکل کام نہیں، وہ اپنے عدم تشدد کے فلسفے کو مختلف طریقوں سے پیش کر کے ایسے لوگوں کے ذہین نشین کرانے کی کوشش کرتے رہے کہتے ہیں ”انسانی تباہی کا باعث نفرت ہے دنیا کی بڑی سام راج طاقتیں جب نفرت کی چٹان سے ٹکرائے تو پاش پاش ہو کر رہ گئے” مختلف فرقوں گروہوں مختلف عناصر میں نہیں بل کہ ایک ہی نظریے کے قائل دوستوں کے درمیان بغض و نفرت کے شعلے بلند ہوئے تو وہ اس میں بھسم ہو کر راکھ کا ڈھیر ہوگئے، ہندوستان میں موجودہ کش مکش بھی نفرت کا نتیجہ ہے کیا ایک ہی مادر وطن کے فرزند ایک دوسرے کو آنکھیں نہیں دکھا رہے ہیں نفرت قتل و غارت کی بنیاد ہے نفرت انسانیت کی بربادی کا موجب ہے نفرت کو دور کرنے کے لئے میری یہ بات یاد رکھو کہ جس آدمی کے دل میں ہر لمحہ یہ خیال رہتا ہے کہ فلاں نے میری توہین کی ہے میری غیبت کرتا ہے مجھے برباد کرنے کی مذموم تجاویز سوچتا ہے اس کے دل سے کبھی نفرت نہیں جاتی لیکن جس کے دل میں یہ خیالات نہیں ہے اس کے دل میں نفرت پیدا نہیں ہوتی، نفرت نفرت سے دور نہیں ہوسکتی بلکہ محبت سے دور ہوتی ہے اس لئے نفرت کو محبت اور بدی کو نیکی سے فتح کیا جا سکتا ہے،

یاد رکھو دوسروں کو گرانے سے کوئی بڑا نہیں ہو سکتا اگر کوئی شخص بڑا بننا چاہتا ہے تو اسے چاہیے کہ وہ دوستانہ محبت پر مبنی جذبات اپنے اندر پیدا کرے اس سلسلے میں ان کی (نواں شہر) ایبٹ آباد کیمپ کی تیسری تقریر بڑی کارآمد ٹھوس اور معلومات افزا ہے جس میں اپنے اختصار پسندی کے باوجود یہاں نقل کرنے پر مجبور ہوں، ”لوگ کہتے ہیں ہمارا کام عدم تشدد ہے تو پھر ہم یہ پریڈیںکیوں کرتے ہیں ہماری وادیوں سے کیا فائدہ اور پھر ہماری یہ قواعد کس غرض کے لئے ہیں تو اس لئے میں آپ کو اس بارے میں عرض کرتا ہوں کہ عدم تشدد کا یہ مطلب نہیں ہے کہ ہم پر کس و ناکس کے آگے ہاتھ باندیں اور ہر ایک ہمارے سروں پر پیر رکھیں اور ہم سر نہ اٹھائیں بعض لوگوں کا یہ بھی خیال ہے کہ عدم تشدد کے راستے پر اس لئے چل رہے ہیں کہ ہم کمزور ہیں ہمارا بس نہیں چلتا اور جس وقت طاقت پکڑگئے تو پھر ہم تشدد پر اتر آئیں گے، یہ بات بالکل غلط ہے ہم نے جو یہ چیز اختیار کی ہے تو یہ ہمارا اصول ہے ہماری خدائی خدمت گاری ایک راستہ ایک اصولی راستہ ہے یہ چند روزہ نہیں ہے بل کہ ہمیشہ کے لئے ہے اس میں بھی تبدیلی نہ ہو گی آج ہم کمزور ہیں اور اگر کل ہم طاقت پکڑ گئے تو عدم تشدد کا راستہ نہیں چھوڑیں گے، اور آپ یہ بھی سمجھ لیں کہ عدم تشدد کمزور لوگوں کا کام نہیں ہے ان اصولوں پر وہی قوم عمل کر سکتی ہے جو مضبوط قوم ہو اس کے ارادے مضبوط ہوں اور ایک مقصد ان کے سامنے ہو اس لئے میں آپ سے کہتا ہوں کہ خدائی خدمت گاری کے اصولوں کو سمجھیں اور اس کے اصول کو پہچانیں میں نے پہلے بھی ایک مثال پیش کی تھی آج پھر بیان کرتا ہوں گذشتہ جنگ عظیم میں جرمنی نے شکست کھائی اور ان سے تاوان جنگ طلب کیا گیا کچھ عرصہ تو تاوان ملتا رہا آخر بدحالی کی وجہ سے تاوان دینا بند کردیا تو فرانسیسوں نے اس کے عوض جرمنی کا کوئی علاقہ لینے کا فیصلہ کیا اور لائن لینڈ پر قبضہ کر لیا اس وقت جرمنوں نے تشدد کی بجائے عدم تشدد پر عمل کیا اور وہاں کے عوام نے فرانس سے عدم تعاون کیا مزدوروں نے کانوں، ملوں اور کارخانوں میں کام کرنا چھوڑ دیا نتیجہ یہ کہ آخر تنگ آکر فرانس کو مجبوراً اس علاقے سے ہاتھ اٹھایا پڑا اس لئے میں کہتا ہوں کہ ایک طاقت ور قوم عدم تشدد کے ذریعہ بہ نسبت کمزور قوموں کے بہت جلد کامیابی حاصل کر سکتی ہے

امید ہے آپ لوگ سمجھ گئے ہوں گے کہ عدم تشدد کمزور لوگوں کا کام نہیں چناں چہ اس بات کو اپنے دل سے نکال دو، وہی یہ بات کہ یہ پریڈین اور وردیاں کس لئے ہیں تو میں آپ کو سمجھاتا ہوں کہ جس طرح تشدد کی فوج ہوتی ہے اس طرح عدم تشدد کی بھی فوج ہے اور ہماری یہ قوم خدائی خدمت گار ہے اور اس کا عمل عدم تشدد ہے اور یہ بات بھی سمجھ لو کہ فوج کے اپنے اپنے طریقے ہوتے ہیں جس طرح تشدد کی فوج کی تربیت ہوتی ہے اس کو پریڈ سکھائی جاتی ہے اسی طرح عدم تشدد کی فوج کی بھی ایک پریڈ ہے اور اس کی ٹریننگ ہوتی ہے ہاں اتنی بات ہے کہ تشدد کو عدم تشدد کی فوج کی تربیت میں فرق ہے تشدد کی فوج کا کام ظلم ہے دوسروں کو قتل کرنا اور نفرت پیدا کرنا ہے اور دکھ تکلیف پہچانا ہے اور ہماری عدم تشدد کی فوج کا کام کسی کو دکھ تکلیف پہنچانا نہیں بل کہ زور اور ظلم برداشت کرنا اور اپنی جان قربان کرنا ہے خود محبت سے گزارہ کرنا اور دنیا میں محبت پیدا کرنا ہے جس طرح تشدد میں چاند ماری سکھائی جاتی ہے اسی طرح ہماری فوج کو بھی تربیت دی جاتی ہے کہ اپنے آپ میں صبر و تحمل پیدا کرے، تشدد نفرت اور عدم تشدد محبت ہے میں آپ کو بتا دوں کہ کسی پر جبر اور زیادتی نہیں ہے ہر شخص کی اپنی مرضی ہے کہ وہ اس راستے پر چلنے کو تیار ہے یا نہیں یہ بات ہر گز اپنے خیال میں نہ لائیں کہ آپ میرے ساتھ نہ چلیں تو میں ناراض ہو جاؤں گا یہ میرا کوئی ذاتی کام تو ہے نہیں قوم کی خدمت ہے مجھے یہ راستے اچھی طرح معلوم ہے میں اس پر چل رہا ہوں اگر آپ کو کوئی دوسرا راستہ معلوم ہو تو اس میں آزادی ہے جو کچھ آپ کا من چاہے کریں، میں نے تو جتنا غور کیا ہے اس نتیجے پر پہنچا ہوں کہ عدم تشدد میں میری قوم کام بہت فائدہ ہے اور جو فائدے مجھے اس میں نظر آئے ہیں تو تشدد میں اس کے برعکس مجھے بہت سے نقصانات دکھائی دیتے ہیں،

باچا خان نے بار بار قوم کے سامنے اپنی عدم تشدد کی پالیسی کی پوری وضاحت کرنے کی کوشش کی ہے مختلف مثالوں سے اسے واضح کیا ہے اس کا مفہوم سمجھایا ہے اور اس کے فوائد بتائے ہیں تشدد اور عدم تشدد کا مقابلہ کیا ہے وہ عدم تشدد کی جنگ کے قائل تھے جس میں فتح ہی فتح ہے کامیابی ہی کامیابی ہے جس میں زور آور حریف کو اور طاقت ور سے طاقت ور دشمن کو بالاخر پسپا ہونا پڑتا ہے، ہزیمت اٹھانی پڑتی ہے ہتھیار ڈالنے پڑتے ہیں وہ عدم تشدد کو کمزوریوں اور بزدلوں کا ہتھیار نہیں سمجھتے بل کہ بہاروں اور دلیروں کا حربہ خیال کرتے تھے ان کے نزدیک ظلم و ستم سہنا، دکھ برداشت کرنا، تکلیفیں اٹھانا ہر کس و ناکس کا کام نہیں بل کہ بڑے اولولعزم اور بلند حوصلہ لوگوں کا کام ہے، بزدل اور کم ہمت شخص تو ذرا سی اذیت بھی برداشت نہیں کر سکتا، وہ تو فوراً بوکھلا کر بھاگ کھڑا ہوتا ہے گونا گوں آزمائشوں میں پڑنے اور حادثات سے دوچار ہونے پر ہمت نہ ہارنا اور ثابت قدمی دکھانا ہی جواں مردوں کی شان ہے اس سے ان کی عظمت اجاگر ہوتی ہے اور ان کے تدبر کا پتہ چلتا ہے، باچا خان عدم تشدد کے داعی تھے مخالفین نے ان پر الزام لگائے انہیں مطعون کیا ان کے خلاف پروپیگنڈے کرتے رہے لیکن انہوں نے کسی چیز کی پروا نہ کی اور اپنے موقف پر چٹان کی طرح ڈے رہے اور اپنی زندگی کی آخری سانس تک اسی موقف پر قائم رہے،۔ان کی زندگی کے ہر پہلو کے جائزے کے بعد یہ بات عیاں ہے کہ وہ شروع سے آخر تک انسانیت کے جذبے سے بھرپورشخصیت کے مالک تھے۔

ان کا اٹھنا بیٹھنا،جیلیں کاٹنا اور جدوجہد کرنا انسانیت کے لیے تھا۔وہ انسانوں کے ہاتھوں غلام بننا پسند نہیں کرتے تھے۔وہ اس سماج سے ہر قسم کے ظلم،جبر اور تسلط کا تدارک چاہتے تھے۔وہ برائیوں سے پاک معاشرہ چاہتے تھے۔ان کا منشور امن عالم تھا۔وہ انسانیت کو اس کی معراج پر دیکھنے کے خواہاں تھے۔انہوں نے انسانیت کانام بلند کرنے کے لیے جدوجہد کی،انہوں نے انسانیت کو اپنی منزل پر پہنچانے کے لیے جدوجہد کی۔انہوں نے انسانیت کے لیے اپنے اوپر زمانے کے الزامات سہے۔کسی نے ملحد تو کسی نے ہندو۔مگر انہوں نے اس کی پھر بھی پرواہ نہ کی اور اپنی جدوجہد میں مگن رہے۔انہوں نے خواتین کے حقوق کا تحفظ کیا تو اقلیتوں کا بھی۔ذات پات کے خلاف جدوجہد کی تو امیری اور غریبی کا فرق مٹانے کے لیے بھی سرگردان رہے۔وہ طبقاتی اونچ نیچ کے خلاف تھے ان کی نظر میں آدم کی سب اولاد یکساں برابر ہے۔ان کے نزدیک جو رشتہ عظیم تھا وہ انسانیت کا تھا۔

انسانیت کے نظریے کو لے کر وہ پوری عمر گھومے۔وہ ہر حال اور ہرجگہ انسانیت کا درس دیتے رہے۔اپنے نظریہ انسانی کی بنا پر وہ مختلف القابات سے نوازے گئے اور آج دنیا ان کو عظیم محسن کے طور پر یاد کرتی ہے۔مستقبل باچاخان کے نظریات کی فتح کا ہے۔انہوں نے جس جذبہ انسانی کی داغ بیل ڈالی وہ پروان چڑھ چکی ہے۔دنیا سمجھ چکی ہے کہ جنگ میں کچھ نہیں سب کچھ امن میں ہے۔اگر دنیا کو بچانا ہے تو انسانیت کو پروان چڑھانا ہوگا۔وہ اتحاد انسانی،امن عالم اور ترقی بنی نوع انسان کے ادعی تھے۔انسانی رویوں سے اتحاد بنتا ہے جو امن کا مظہرہوتا ہے اور امن ہوتے ہی دنیا میں ترقی ہوتی ہے یہی ان کا پیغام تھا۔وہ خود کو خادم انسانیت سمجھتے تھے مگر اصل میں وہ سفیرانسانیت تھے۔لہذا ہمیں باچاخان کے افکار اور نظریات کو اپنانے کی جتنی ضرورت آج ہے اتنی اس سے پہلے کبھی نہیں تھی۔بلکہ آج پوری دنیا کو باچاخان کے نظریات پر عمل کرنے کی ضرورت ہے تاکہ دنیا میں باہمی اتفاق،بھائی چارہ اور امن قائم ہوسکے۔ان کا پیغام کسی خاص قوم یا ملک اور علاقے تک محدود نہیں بلکہ ان کا پیغام تو محبت اور انسانیت ہے۔
”میرا پیغام محبت ہے جہاں تک پہنچے”

یہ بھی پڑھیں

زبانوں کا عالمی دن اور معدومیت کے خطرے سے دوچار مادری زبانیں

تحریر: مولانا خانزیب مادری زبانوں کو لاحق خطرات کے حوالے سے پاکستان دنیا میں 28ویں …