قناعت اختیار کریں

تحریر: مولانا خانزیب

عقل کی بات یہ ہوتی ہے کہ پہلے آپ اپنی آمدنی کا حساب لگا لیں پھر اپنے اخراجات کا تعین کر لیں، ھل من مزید کے ہوس سے ذرہ نکلیں، اپنی غیرضروری خواہشات کو ذرہ لگام دیں تو یقین جانئے کہ ہمارے روزمرہ کا بجٹ بڑی آسانی سے مرتب ہو گا اور ہم قرضوں کے بوجھ تلے نہیں دبیں گے

ایک حدیث میں آتا ہے (الاقتصاد فی النفقۃ نصف المعیشۃ) اسلامی نظامِ اقتصاد میانہ روی کا نظریہ پیش کرتا ہے جسے آدھی معیشت کہا گیا ہے۔ ترجمہ:خرچ میں میانہ روی اختیار کرنا نصف معیشت (بچت) ہے۔ عالمی سطح پر سرمایہ دارانہ نظام کی بدولت اگر ایک طرف انسانوں کے اجتماع کے اندر معاشی عدم مساوات نے سنگین سماجی مسائل کو جنم دیا ہے تو دوسری طرف انفرادی طور پر اپنی ضروریات و اخراجات میں عدم توازن نے بھی ہمیں کہیں کا نہیں چھوڑا ہے۔


چند دن پہلے پنجاب کے ایک شہر میں ایک غیر معروف شخصیت کی شادی میں دو سو کروڑ روپیہ کے اخراجات ہمارے معاشرے کے اندر اسی عدم مساوات کی ایک واضح دلیل ہیں کہ ایک طرف لاکھوں کی تعداد میں غرباء کے گھروں میں بیٹیاں عدم استطاعت کی وجہ سے بوڑھی ہو رہی ہیں تو دوسری طرف ایسی عیاشیاں، الحذر سو بار الحذر۔


عقل کی بات یہ ہوتی ہے کہ پہلے آپ اپنی آمدنی کا حساب لگا لیں پھر اپنے اخراجات کا تعین کر لیں، ھل من مزید کے ہوس سے ذرہ نکلیں، اپنی غیرضروری خواہشات کو ذرہ لگام دیں تو یقین جانئے کہ ہمارے روزمرہ کا بجٹ بڑی آسانی سے مرتب ہو گا اور ہم قرضوں کے بوجھ تلے نہیں دبیں گے۔ اسی رسم کیلئے ممبر ومحراب سمیت ہر جگہ سے آواز اٹھنی چاہئے۔
قناعت کا مطلب یہ نہیں کہ انسان ہاتھ پہ ہاتھ دھرے بیٹھ جائے بلکہ قناعت کا مطلب یہ ہے کہ اللہ تعالی انسان کو اس کی کوشش اور دنیاوی حلال اسباب اختیار کرنے کے بعد جوکچھ دے، اس پر راضی رہے اور اللہ تعالی کا شکر ادا کرے۔ تاریخ ابن خلکان نے ذکر کیا ہے کہ امام خلیل بصری علم عروض و ادب کے امام کے پاس اہواز کے امیر سلیمان کا ایک قاصد آیا اور پیغام لایا کہ امیر نے آپ کو اپنے شہزادوں کی تعلیم کیلئے شاہی دربار میں بلایا ہے۔ امام خلیل خشک روٹی کا ایک ٹکڑا ہاتھ میں لئے باہر نکلے اور قاصد سے کہا کہ امیر سے کہنا کہ جب تک میرے پاس یہ خشک روٹی موجود ہے مجھے امیر کی شاہی دربار کی دعوتوں کی کوئی ضرورت نہیں۔


یہی شیخ حرم ہے جو چرا کر بھیج کھاتا ہے
گلیم و بوذر ودلق اویس و چادر زھرا
آج کل کے ہنگامہ خیز اور جدید سائنسی دور نے ہماری زندگی بہت تیز بنا دی ہے۔ دنیا بھر میں ہر پل انسان کی زندگی کو سہل بنانے کے لیے نت نئی ایجادات ہو رہی ہیں۔ ہونا تو یہ چاہیے تھا کہ ہماری زندگی آسان ہوتی چلی جاتی اور ہمارے اندیشوں اور تفکرات میں کمی ہوتی، سماجی الجھنوں میں کمی آتی اور دنیا میں پریشانیوں، خودکشیوں اور خاندانی مسائل میں کمی آتی مگر ہوا اس کے بالکل برعکس ہے۔ اس کا یہ مطلب ہرگز نہیں کہ ایجادات نے انسانی زندگی کو سہل نہیں بنایا، بالکل ان ایجادات کی برکت سے انسان نے بیماریوں پر قابو پانا سیکھا ہے، سریع الاثر ادویات بن رہی ہیں اور انسان نے اپنی صحت کی نگہداشت کو سہل بنایا ہے۔ رابطے کی تو دنیا ہی بدل گئی ہے اور اگر یہ کہا جائے تو مبالغہ ہرگز نہ ہو گا کہ اب سیل فون کی شکل میں دنیا آپ کی مٹھی میں آ گئی ہے۔


مگر ان تمام آسائشوں کے باجود سماجی مسائل کی بہتات اس بات کی دلیل ہے کہ جب تک ہم اپنے اخلاقی انحطاط کو بلند نہیں کریں گے اور انسانیت کے معراج کے اصل خصائل کو نہیں اپنائیں گے تو خواہ ہم اور بھی ترقی کر لیں ہماری سماجی اور نفسیاتی الجھنیں کم نہیں بڑی گی۔
لغت میں قناعت، ضرورت کی چیزوں کی کم مقدار پر اکتفا کرنے اور کسی شخص کو ملنے والی چیز پر راضی ہونے کو کہا جاتا ہے۔ احادیث میں بعض اوقات لفظ قناعت، مطلق رضا مندی کے لیے استعمال ہوا ہے۔ قناعت اور بخل کے درمیان فرق کے بارے میں قابل غور بیان یہ ہے کہ: قناعت اکثرا انسان کے انفرادی اخلاق میں آتا ہے اور یہ زندگی کے امکانات سے بہتر استفادہ اور اخراجات میں زیادتی سے اجتناب کرنے اور خدا کی نعمتوں پر رضامندی سے متعلق ہے اگرچہ کم ہی ہو جبکہ بخل اجتماعی اخلاق سے متعلق ہے، جب انسان کو دوسروں کی مدد کرنی چاہئے اور معاشرہ کی ضروریات کے سلسلے میں اپنے مالی اور اعتباری وسائل سے استفادہ کرنا چاہئے، اور وہ اس وقت بخل سے کام لے کر خرچ نہ کرے۔
1۔ جو خود بھی کھاتے ہیں اور دوسروں کو بھی دیتے ہیں، انہیں اہل انفاق کہتے ہیں۔
2۔ جو خود نہیں کھاتے لیکن دوسروں کو کھلاتے ہیں انہیں اہل ایثار کہتے ہیں۔
3۔ خود کھاتے ہیں، لیکن دوسروں کو نہیں کھلاتے، انہیں بخیل کہا جاتا ہے۔
4۔ خود نہیں کھاتے ہیں اور دوسروں کو بھی نہیں کھلاتے وہ ذلیل اور کنجوس کہلاتے ہیں۔


انسان اپنے مال سے نہ اپنے لیے استفادہ کر سکتا ہے اور نہ دوسروں کو دے سکتا ہے، یہ انتہائی پست ذلیل ترین اور بدترین بخل ہے کیونکہ بخیل انسان صرف دوسروں کو نہیں دیتا ہے لیکن اپنے مال سے اپنے لیے استفادہ کرتا ہے۔ سب سے بہتر حالت یہ ہے کہ انسان قناعت کی رعایت کرتے ہوئے خود بھی اپنے مال سے ضروری حد تک استفادہ کرے اور دوسروں کے لیے بھی انفاق کرے اور ان کو اپنے مال سے استفادہ کرنے میں شریک کرے اور معاشرے کے محتاجوں کے ساتھ ہمدردی کرے اور کوشش کرے کہ اپنے تدبیر سے اپنی استطاعت کے مطابق گلی محلے کی حد تک غرباء کی مدد کرنے کیلئے اپنا ایک طریقہ کار بنائے۔


قناعت کرنے والے کا اہم کام قناعت کا انتخاب ہے۔ حضرت علیؓ فرماتے ہیں جو شخص عقل سے کام لیتا ہے وہ قناعت کرتا ہے۔ ابراہیم بن ادھم اور شفیق بلخی مکے کی مسجد میں یک جا ہوئے۔ دورانِ گفتگو شفیق بلخی نے ابنِ ادھم سے پوچھا۔ روزی کے بارے میں آپ کیا کرتے ہیں؟ ابراہیم بن ادھم نے جواب دیا۔ مل جائے تو خدا کا شکر ادا کرتا ہوں ورنہ صبر اختیار کرتا ہوں۔ شفیق بلخی نے کہا۔ ہماری گلی کے کتے بھی یہی کرتے ہیں! ابراہیم بن ادھم نے پریشان ہو کے سوال کیا۔ آپ کا طریقہ کیا ہے؟شفیق بلخی نے جواب دیا۔ مل جائے تو صدقہ کر دیتا ہوں اور نہ ملے تو صبر سے کام لیتا ہوں!

یہ بھی پڑھیں

باچا خان اور موجودہ ملکی، علاقائی اور بین الاقوامی فضاء

تحریر:شمیم شاہد فخرِ افغان، بابائے امن نے جن جن واقعات اور حالات کے پیدا ہونے …