گداگری کا دھندا

تحریر:اکرام اللہ مومند

اگر کوئی ایسا بھکاری جو ایک ہاتھ یا ٹانگ سے محروم ہو آپ کے پاس آئے تو آپ کو انکار کرنے میں جھجک محسوس ہوگی‘ آپ اسے جان بوجھ کر دھتکار نہیں سکتے لیکن غصہ اس بات پر آتا ہے کہ کچھ لوگوں نے بھیک مانگنے کو دھندہ بنا لیا ہے ہر طرح سے صحت مند ہونے کے باوجود یہ لوگ کام سے جی چراتے ہیں‘ بھیک بھی ایسے مانگتے ہیں جیسے اپنا قرضہ وصول کر رہے ہوں٭ہم خیرات دینے کے خلاف ہرگز نہیں‘بلکہ ہم چاہتے ہیں کہ آپ کی خیرات مستحق لوگوںتک پہنچے اورگداگری کے دھندے کو فروغ نہ ملے‘ مستحق لوگوں کے لئے اپنے اردگرد پاس پڑوس پر نظر ڈالیں غریب اور مستحق لوگ ڈھونڈنے میں آپ کو مایوسی نہیں ہو گی

گزشتہ روز ایک چوک میں ٹریفک سگنل پر رکے‘ قریب ہی کار ایک خوبصورت خاتون چلا رہی تھی‘ ہم اسے براہ راست دیکھنے کی بجائے موٹرسائیکل کے شیشے میں دیکھنے لگے تاکہ ہمارے اوصاف غیرحمیدہ کسی پر آشکار نہ ہوں‘ اسی لمحے ایک بھکاری کہیں سے رنگ میں بھنگ ڈالنے بیچ میں آدھمکا اور خاتون سے بھیک مانگنے کے بہانے گفت و شنید کرنے لگا‘ پہلے ہمیں اس بھکاری پر رشک آیا کہ گداگری واحد شعبہ ہے جس میں خوبصورت خواتین سے بغیر کسی تعارف کے بات کی جا سکتی ہے‘ پھر ہمارا جذبہ رقابت بلاجواز موجزن ہوگیا‘ وہ جیسے ہی ہماری طرف مڑا ہم نے حفظ ماتقدم کے طور پر اس کے بھیک مانگنے سے قبل کہا ’’معاف کرو بابا‘‘ پھر بھی اس نے اپنی زندگی کے ناخوشگوار پہلوؤں کے بارے میں ہلکی سی بریفنگ دے ہی ڈالی لیکن جب اسے پتہ چلا کہ اس کی دال گلنے والی نہیں‘ کچھ ہم نے بھی اسے ہٹا کٹا بلکہ قومی کرکٹ ٹیم کے لئے فٹ قرار دے کر مشتعل کر دیا تو وہ طیش میں آ گیا اور اچانک دعاؤں کا بینڈ تبدیل کر کے ہمیں بے نقط سنانے لگا۔

ٹریفک کھل گئی اور ہم ’’بڑے بے آبرو ہوکر اس چوک سے نکلے‘‘ تو راستے میں یہی سوچ رہے تھے کہ اس کی بے عزتی کا انداز کچھ جانا پہچانا سا ہے‘ شاید ہم نے پہلے اسے کہیں دیکھا ہے‘ ذہن پر زور دیا تو یاد آیا جب 1999ء میں ہم طالب علم تھے اور اس گداگر کی تازہ تازہ ’’تعیناتی‘‘ ہشتنگری میں ہوئی تھی تو اس نے ہمیں ایک دوست کے ہمراہ جاتے ہوئے دبوچ لیا تھا‘ اس وقت ہم نے اس کو ٹالنے کے لئے اپنے پاس 100 ‘100 روپے کے نوٹوں کی موجودگی اور ریزگاری نہ ہونے کا بہانا بنایا تھا جس پر اس نے ہماری اصلیت کے تابوت میں آخری کیل ٹھونکنے کی خاطر جھٹ سے سو روپے کی ریزگاری نکال کر ہمارے ہاتھ میں تھمادی تھی۔ اس وقت ہمیں جو شرمندگی ہوئی تھی اس کا اندازہ لگانے کے لئے باقاعدہ کمیٹی بٹھانے کی ضرورت تھی کیونکہ ہمارے پاس بمشکل ساٹھ ستر روپے ہی تھے پھر چار و ناچار ہمیں بھی اداکاری کے جوہر دکھانے پڑے اور یہ بہانا بنایا کہ شاید وہ نوٹ کپڑے بدلتے وقت دوسری قمیض میں رہ گئے تھے۔سچی بات یہ ہے کہ ہم جذبہ سخاوت میں حاتم طائی سے کسی طور کم نہیں مگر جب بھی ہمیں کسی فقیر پرترس آتا ہے اور جیب میں ہاتھ ڈالتے ہیں تو اچانک اپنے آپ پر ترس آنے لگتا ہے‘ ہمیں یہ بھی علم ہے کہ خیرات اس طریقے سے دینا چاہئے کہ جس ہاتھ سے کسی کو کچھ دو اس کا دوسرے ہاتھ کو پتہ تک نہ چلے لیکن ادھر یہ حال ہے کہ نہ صرف ہمارے دوسرے ہاتھ کو بروقت پتہ چل جاتا ہے بلکہ وہ اسے دوبارہ چھیننے کے لئے بے تاب ہو جاتا ہے۔

کئی بار ہم نے سوچا کہ ان کے لئے اپنے ماہانہ بجٹ میں کوئی گنجائش نکالیں لیکن ہر مہینے کے آخری دنوں میں ہم پر یہ حقیقت کھلتی ہے کہ ہمارا بجٹ پاکستان کے بجٹ سے مختلف نہیں جو ہر سال خسارے کا ہوتا ہے یوں ہم حاتم طائی کی قبر پر لات مارنے سے محروم ہو جاتے ہیں۔ ویسے یہ بڑی خوشی کی بات ہے کہ حاتم طائی وقت پر پیدا ہوئے اور مر گئے اگر خدانخواستہ آج کے دور میں ہوتے تو بھکاریوں کی ٹولیوں کو دیکھ کروہ بھی اپنی سخاوت سے دستبردار ہو جاتے‘ ان کے دور میںگداگروں کو چراغ رخ زیبا لے کر ڈھونڈنا پڑتا تھا کیونکہ دولت مندوں کا طبقہ اکثریت میں اور غریبوں کا طبقہ اقلیت میں تھا‘ آج اس کے بالکل برعکس ہے اب ہر چوراہے اور اہم مقام پر بھکاریوں کی ٹولیاں نظر آتی ہیں۔ اگر وہ اپنے جذبہ سخاوت سے دستبردار نہ ہو جاتے تو یہ بھکاری اس کے پاس پھوٹی کوڑی بھی نہ رہنے دیتے بلکہ کیا عجب آج وہ پیسے ختم ہونے پر مانگنے والوں کو اپنا وزٹنگ کارڈ ہی تھما دیتے‘ حکمران بھی ان کو چین سے بیٹھنے نہ دیتے کیونکہ پہلے تو ہمارے حکمران عوام کو کوئی ریلیف دینے کے قائل نہیں لیکن جب کسی چیز کی قیمت میں 20 روپے کا اضافہ کرنے کے بعد اس میں دو ایک روپے کمی کرتے ہیں تو اس کا ایسا ڈھنڈورا پیٹتے ہیں جیسے انہوں نے حاتم طائی کی قبر پر لات ماری ہو۔

اگر حاتم طائی زندہ ہوتے تو ہمارے حکمرانوں کو لات مارنے کے لئے ان کی قبر کا سہارا نہ لینا پڑتا بلکہ جیتے جاگتے حاتم طائی کو اس مقصد کے لئے استعمال کرتے‘کسی بھی یوٹیلیٹی سٹور کی افتتاحی تقریب کے موقع پر حاتم طائی کی موجودگی لازمی ہوتی تاکہ اسے خوب لاتیں ماری جا سکتیں۔بعض بھکاری لوگوں کی رگ سخاوت پھڑکانے میں بڑے ماہر ہوتے ہیں‘ کبھی بھینگا‘ کبھی لنگڑا اور اپاہج بن کر اپنا جغرافیہ قابل رحم بنانے کے علاوہ وہ موقع کی مناسبت سے دعائیں بھی دیتے ہیں۔ مثلاً نئے جوڑے کو دیکھتے ہی خاندانی منصوبہ بندی کے اصولوںکو بالائے طاق رکھ کر چاند سا بیٹا ہونے کی دعا دیتے ہیں‘ ہاتھ میں کتابیں دیکھ کر نوکری ملنے اور پاس ہونے کی جبکہ دکان میں بیٹھا دیکھ کرکاروبار میں بہتری کی دعا دیتے ہیں۔ وہ تو شکرہے کہ انہوں نے ملکی تاریخ نہیں پڑھی ہوتی ورنہ وہ سیاسی لوگوںکو دیکھ کر انہیں بڑا لوٹا بننے اور عام فوجی کو دیکھتے ہی بڑا ڈکٹیٹر بننے کی دعا دیتے۔

اگر کوئی ایسا بھکاری جو ایک ہاتھ یا ٹانگ سے محروم ہو آپ کے پاس آئے تو آپ کو انکار کرنے میں جھجک محسوس ہوگی‘ آپ اسے جان بوجھ کر دھتکار نہیں سکتے لیکن غصہ اس بات پر آتا ہے کہ کچھ لوگوں نے بھیک مانگنے کو دھندہ بنا لیا ہے ہر طرح سے صحت مند ہونے کے باوجود یہ لوگ کام سے جی چراتے ہیں‘ بھیک بھی ایسے مانگتے ہیں جیسے اپنا قرضہ وصول کر رہے ہوں۔ایم ایم اے حکومت نے بھکاریوں کو کارآمد شہری بنانے کے لئے دارالکفالہ کے نام سے جریبات پر پھیلے ادارے بنائے تھے جو اس مقصد میں بری اور اچھی دونوں طرح ناکام ہو چکے تھے۔ ان اداروں کویا تو بند کردینا چاہئے تھا یا ان کو اس بات کا پابند بنانا چاہئے تھا کہ اگر بھکاریوں کے لئے کچھ نہیں کر سکتے تو شہریوں کو پکڑ پکڑ کر ان کے لئے خصوصی ٹریننگ کا انتظام کریں کیونکہ اکثر اوقات وہ ایسے بھکاریوں کو خیرات دے دیتے ہیں جن کی مالی حیثیت خود ان سے بہتر ہوتی ہے۔ہم خیرات دینے کے خلاف ہرگز نہیں‘بلکہ ہم چاہتے ہیں کہ آپ کی خیرات مستحق لوگوںتک پہنچے اورگداگری کے دھندے کو فروغ نہ ملے‘ مستحق لوگوں کے لئے اپنے اردگرد پاس پڑوس پر نظر ڈالیں غریب اور مستحق لوگ ڈھونڈنے میں آپ کو مایوسی نہیں ہو گی۔

یہ بھی پڑھیں

عبدالقیوم بلالہ، سوات تا کراچی سائیکل پر سفر کرنے والے سوات کے 83 سالہ بزرگ – تحریر:عصمت علی اخون

”میری عمر کے لوگ اکثر بیمار ہوتے ہیں لیکن میرے خیال میں میری سائیکل نے …