چرس کی پیداواراور وادی تیراہ کی خواتین

تحریر: عثمان خان

”بھنگ سے چرس کی پیداوار (اور فروخت) ہی ہمارا واحد وسیلہ روزگار ہے (جس کی) کاشت اور تیاری میں بیشتر ذمہ داریاں خواتین ہی نبھاتی ہیں۔” جہاں بی بی

”بھنگ سے چرس کی پیداوار (اور فروخت) ہی ہمارا واحد وسیلہ روزگار ہے (جس کی) کاشت اور تیاری میں بیشتر ذمہ داریاں خواتین ہی نبھاتی ہیں۔”اس حوالے سے گفتگو میں وادی تیراہ علاقہ کوکی خیل کے ورسک گاں سے تعلق رکھنے والی65 سالہ جہاں بی بی نے بتایا۔ضلع خیبر کی وادی تیراہ کی بھنگ اور چرس کی پیداوار کے حوالے سے شہرت چار دانگ عالم میں پھیلی ہوئی ہے اور علاقے کے بیشتر لوگوں کا روزگار بھی بھنگ کی کاشت اور چرس کی پیداوار سے ہی وابستہ ہے۔وادی تیراہ کے علاقے میدان میں بدامنی کے خلاف فوجی آپریشن کے باعث باڑہ بازار کے قریب ایک گاؤں میں نقل مکانی کی زندگی گزارنے والی جہان بی بی کے مطابق بھنگ کی کاشت اور اس چرس کی تیاری تک تمام تر ذمہ داریاں خواتین ہی انجام دیتی ہیں۔صرف تخم سے خام مال کی تیاری/کشید کرنے کا مرحلہ مردوں کی ذمہ داری ہے، جب اپریل میں تخم بو دیا جاتا ہے تو پھر اس میں گوڈی کرنا، اس کی کٹائی، گانٹھ/بنڈل تیار کرنا، فصل کو کبھی دھوپ تو کبھی بارش میں رکھنا اور گردا (غوزہ) کشید کرنا، یہ سارے کام خواتین کے ذمے ہوتا ہے۔

جہاں بی بی نے بتایا کہ ان سارے کاموں کے ساتھ ساتھ خواتین دیگر امورِ خانہ داری کی انجام دہی اور بچوں کی دیکھ بھال بھی کرتی ہیں۔2014 تک چرس کی خریدوفروخت کھلے عام ہوتی تھی۔ ان کا کہنا تھا کہ مارکیٹ تک چرس کی ترسیل اور فروخت مردوں کی ڈیوٹی ہے۔2014 سے قبل ضلع خیبر (تب ایجنسی) میں چرس کھلے عام مارکیٹوں اور دکانوں میں فروخت ہوتی تھی تاہم جمرود، علی مسجد اور وزیر ڈھند کی چرس کی فروخت کے حوالے سے مشہور وہ مارکیٹیں اب ہوٹلوں اور دیگر دکانوں میں تبدیل ہو گئی ہیں۔2015 میں تب کی پولیٹیکل انتظامیہ نے علاقہ بھر میں چرس کے کاروبار کو غیر قانونی قرار دیتے ہوئے اس پر پابندی عائد کر دی۔ پابندی سے قبل چرس کی خرید و فروخت کی ضلع بھر میں لگ بھگ ہزار دکانیں تھیں (جہاں) خیبر پختونخوا کے مختلف اضلاع کے علاوہ پنجاب سے بھی لوگ چرس خریدنے آتے تھے۔

جمرود کے علاقے وزیر ڈھنڈ کے رہائشی35 سالہ خیر افسر نے بتایا۔ وہ خود بھی چرس کا کاروبار کرتے تھے اور کہتے ہیں کہ جس طرح ماضی میں یہ ان کا واحد ذریعہ معاش تھا اس طرح آج بھی ہے۔ اس کے علاوہ دوسرا کوئی کاروبار یا روزی روٹی کی کوئی اور سبیل نہیں ہے۔خیر افسر نے مزید بتایا کہ انتظامیہ کی جانب سے پابندی کے بعد چرس کا کاروبار ختم نہیں ہوا بلکہ اس کی خرید و فروخت کا طریقہ کار تبدیل ہوا ہے اور اس کاروبار سے وابستہ بیشتر افراد انہی کی طرح مختلف طریقوں سے یہ کاروبار آج بھی کر رہے ہیں۔”ہمارے معلوم گاہک ہیں، آج بھی فون کرتے ہیں اور ہم موٹرسائیکل پر ان کا مال بندوبستی علاقوں تک پہنچا آتے ہیں، اسی باعث اب گاہک کا چار سو سے16 سو تک اضافہ خرچہ آتا ہے۔” خیر افسر نے بتایا۔ انہوں نے مزید بتایا کہ بعض بیوپاری آج کل چرس کا دھندا کریانے یا سہروں کی دکانوں میں بیٹھ کر کرتے ہیں اور آج بھی حسب سابق مختلف کوالٹی کی چرس فروخت ہوتی ہے لیکن اب روزگار کا وہ مزا نہیں ہے کیونکہ اب انتظامیہ کی جانب سے سختی بہت کی جاتی ہے۔ضلع خیبر میں چرس کے کاروبار کے ساتھ ساتھ بھنگ کی پیداوار میں بھی کمی آئی ہے۔

آج سے دس پندرہ برس قبل تک تیراہ میدان میں قریبا نوے فیصد اراضی پر بھنگ کو کاشت کیا جاتا تھا اور انتظامیہ کے مطابق تقریبا اتنے ہی فیصد لوگوں کاروزگار بھی اسی سے وابستہ تھا۔ انتظامیہ کے مطابق اب ان علاقوں میں بھنگ کی کاشت پر پابندی ہے تاہم وہاں کے بیشتر لوگ حکام کے اس دعوے کی تصدیق نہیں کرتے۔اقوام متحدہ کے ادارے برائے انسداد منشیات کی ایک رپورٹ کے مطابق دنیا بھر کو40 فیصد نشہ آور چیزیں (منشیات) افغانستان سے سمگل ہوتی ہیں جو زیادہ تر خیبر سے پاکستان اور وہاں سے دیگر ملکوں کو سمگل کی جاتی ہیں۔ تیراہ میدان کے ایک قبائل مشر گل نور آفریدی نے بتایا کہ بھنگ/چرس کی پیداوار کی ایک بڑی وجہ بھی یہی ہے کہ لوگوں کو یہ فصل منافع بخش دکھائی دیتی ہے۔خیر افسر کے بقول2014 سے قبل علاقے میں چرس کا کاروبار تیزی سے پھل پھول رہا تھا اور پورے ضلع میں لگ بھگ دس ہزار افراد صرف اس کی فروخت کا کاروبار کرتے تھے جن کی اپنی ایک تنظیم بھی تھی اور مشکل وقت میں سب متحد بھی ہوتے تھے، کاشتکار ان کے علاوہ تھے۔

افغانستان سے تعلق رکھنے والے30 سالہ عقل جان، جو ضلع خیبر میں چرس کا کاروبار کرتے ہیں، کہتے ہیں کہ پنجاب کے بڑے بڑے بیوپاری اب انتظامیہ کی سختی اور سیکیورٹی خدشات کی وجہ سے نہیں آتے لیکن ضلع سے متصل پوش علاقے حیات آباد ضرور آتے ہیں جہاں مقامی تاجروں نے بنگلے خرید رکھے ہیں، وہاں روزانہ کی بنیادوں پر لاکھوں روپے کے سودے طے پاتے ہیں اور پھر بڑی گاڑیوں والے بھاری معاوضہ لے کر مال (پنجاب) سپلائی کرتے ہیں۔انہوں نے بتایا کہ اس کے علاوہ کارخانوں مارکیٹ سے متصل ضلع خیبر کے علاقوں سے چھوٹے پیمانے پر چرس بندوبستی علاقوں کو روزمرہ کی بنیادوں سمگل کی جاتی ہے، 50 کے قریب لوگ روزانہ موٹرسائیکل کے خفیہ خانوں میں ایک ایک کلو چرس سمگل کرتے ہیں جس میں بعض خاصہ دار اور پولیس والے بھی ان سے اپنا حصہ لیتے ہیں، عقل جان نے بتایا۔دوسری جانب خیر افسر بھی یہ الزام عائد کرتے ہیں کہ وزیرڈھند میں بند بعض دکانوں میں آج بھی یہ دھندا ہوتا ہے جنہیں انتظامیہ اور خاصہ داروں کی پشت پناہی حاصل ہے جن کو اپنا حصہ باقاعدگی سے ملتا ہے۔

انہوں نے بتایا کہ ان دکانوں سے اب چرس یا تو مال بردار گاڑیوں کے ذریعے سمگل کی جاتی ہے اور یا پھر غیرآباد راستے اس مقصد کے لئے استعمال کئے جاتے ہیں، جو جتنا بڑا بیوپاری ہے اتنا ہی زیادہ رشوت دیتا ہے۔خیبر کی انتظامیہ نے ان تمام الزامات کی تردید کی اور بتایا کہ کسی کو بھی بھنگ کاشت کرنے اور چرس کی خرید و فروخت کی اجازت نہیں دی جا سکتی، بھنگ کی فصل کی آج بھی کہیں سے اطلاع ملتی ہے تو اسے تلف کیا جاتا ہے اور اگر کوئی خرید و فروخت کرتے ہوئے پکڑا جاتا ہے تو اس کے خلاف قانون (تب ایف سی آر) کے تحت کارروائی کی جاتی ہے۔عالمی ذرائع ابلاغ میں شائع رپورٹس کے مطابق منشیات سے حاصل ہونے والی بیشتر رقم شدت پسندوں کے ہاتھوں میں جاتی ہے اور اب تک یہی ان کی بقا کا سب سے بڑا ذریعہ ہے۔تاہم دوسری جانب بعض ماہرین معاشیات اس طرح سے منشیات کے کاروبار کو ختم کرنے کی مخالفت کرتے ہیں۔

جامعہ پشاور کے شعبہ معاشیات سے وابستہ پروفیسر ڈاکٹر ذلاقت کہتے ہیں کہ قدرت نے خیبر کو بہت حسن عطا کیا ہے، اگر حکومت دیگر علاقوں کی طرح اس علاقے کو ترقی دے تو چرس کا کاروبار سیاحت میں بدلا جا سکتا ہے جس کے ساتھ علاقے میں خوشحالی آئے گی کیونکہ جب تک ان لوگوں کو متبادل مگر منفعت بخش کاروبار کے مواقع نہیں دیئے جاتے تو یہ سلسلہ کبھی ایک طرح تو کبھی دوسری صورت میں جاری و ساری ہی رہے گا۔جہان بی بی خاندان گھر واپسی کی تیاریوں میں ہے تاہم انہیں یہ سمجھ نہیں آتی کہ اپنے علاقے واپس جا کر وہ گھر کا چولہا کیسے جلائے رکھیں گے کیونکہ بھنگ کی کاشت پر تو پابندی ہے۔جہاں بی بی کے مطابق حکومت کو بھنگ کی کاشت پر اگر اعتراض ہے تو ان کے لئے متبادل روزگار کا بندوبست کیا جائے یا پھر کھیت کی تیاری کے ساتھ ساتھ حکومت منافع بخش فصلوں کے بیج، کھاد اور دیگر ضروری سامان بھی مہیا کرے۔
نوٹ: یہ مضمون26 جون2017 کو ٹی این این پر عالمی یوم انسداد منشیات کے موقع پر شائع کی گئی جس میں بوجوہ انٹرویو دینے والوں کے نام تبدیل کئے گئے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں

صحت مند معاشرے کے قیام میں شجرکاری کی اہمیت

تحریر: ڈاکٹر وقار ربانی اگر درختوں کو کٹنے سے روکا جائے اور نئے درخت لگائے …