کورونا وائرس اور پاکستان میں بعض ڈاکٹروں کا مریضوں کے ساتھ رویہ۔ تحریر:حمد نواز

کورونا علامات ظاہر ہونے پر ہسپتال گیا تو ایسے لگا جیسے میں گٹر میں گرنے کے بعد ڈاکٹروں کے پاس آیا ہوں،ڈاکٹر لیاقت

ضلع ملاکنڈ سے تعلق رکھنے والا32سالہ ابرار بھی ان 296 افراد میں شامل ہے جو ضلع میں کورونا وائرس سے متاثر ہوچکے ہیں۔ابرار سوات کے ایک نجی بینک میں ملازم ہے اور اپنے دوست (جو سوات کے دوسرے نجی بینک میں ملازم ہے)کے ساتھ گاڑی میں سوات گیا تھا ۔ابرار کے مطابق دو دن بعد جسم درد کرنے لگا اور بخار بھی تھا، انجکشن لگوایا لیکن ٹھیک نہیں ہورہا تھا۔شام کو پتہ چلا کے اس کے دوست کو کورونا ہوگیا ہے جس کے ساتھ وہ دو دن قبل سوات گیا تھا ۔صبح ڈی ایچ کیو بٹ خیلہ ایمرجنسی گیا تو ڈاکٹروں کے ناروا سلوک نے سخت پریشان کیا۔ڈاکٹروں کو بتایا کہ میں تو کوئی خودکش نہیں ،آپ کوگ اس طرح حرکات کررہے ہو۔حالانکہ ڈاکٹروں نے حفاظتی کٹس پہنے بھی تھے۔وہاں سے نکلا اور اس دوست کو فون کیا جو ڈی ایچ کیو میں ملازم ہے،اس کو آگاہ کیا ۔پھر اس نے نئے بلڈنگ میں آنے کو کہا جہاں ٹیسٹ کیلئے سیمپل لئے گئے۔دو دن بعد رزلٹ آیا جو پازیٹیوں تھا لیکن بیوی اور 6 سالہ بچے کے پازیٹیو ٹیسٹ نے زہنی مریض بنا دیا۔

آئیسولیشن سنٹر کیوں نہیں گئے؟اس سوال کے جواب پر ان کا کہنا تھا کہ میرا دوست وہاں موجود تھا اس نے بتایا کہ یہاں سارے ایک کمرے میں بہت سے مریض ہے اور سب کیلئے ایک واش روم ہے اس لئے گھر میں رہنے کو ترجیح دی لیکن اس فیصلے تک میری بیوی اور بچے کا رزلٹ نہیں آیا تھا۔دو دوفعہ ضلعی انتظامیہ کی طرف سے کچھ دالیں، شربت وغیرہ آیا تھا۔ڈاکٹر لیاقت جو خود کورونا وائرس سے متاثر تھا اور پشاور میں آئیسولیٹ تھا اس نے دن میں دو دو دفعہ فون کیا اور حوصلہ دیتا تھا ۔باقی یونین کونسل کی سطح پر جو ڈاکٹر ادریس بھی ملنے آتا تھا۔حیات آباد میڈیکل کمپلیکس میں میڈیکل آفیسر27 سالہ ڈاکٹر لیاقت جس کا تعلق ضلع ملاکنڈ سے ہے جو کورونا سے متاثرہ ڈاکٹرز میں سے تھے۔ڈاکٹر لیاقت کے مطابق حیات آباد میڈیکل کمپلیکس آیسولیشن وارڈ میں 7 دن ڈیوٹی کی تو اسی دن ڈاکٹر جاوید شہید ہوگیا۔اس کا جنازہ بھی پڑھا لیکن میں ٹھیک تھا۔

ڈیوٹی کے بعد 14 دن کیلئے ویسے قرنطینہ ہونا تھا اور پانچوں دن تکالیف شروع ہوگئی۔چونکہ میں نے آئیسولیشن وارڈ میں ڈیوٹی کی تھی اس لئے مجھے ہر سٹیج کا علم ہوتا تھا۔میں ٹیسٹ کیلئے گیا اور سیمپل لینے والے ڈاکٹروں نے اس طرح ڈیل کرنا شروع کیا جیسے میں گٹر میں گرنے کے بعد ان کے پاس آیا ہو۔ڈی ایچ کیو بٹ خیلہ میں ٹیکنیشن ٹیسٹ کیلئے سامپل لیتا ہے لیکن ایچ ایم سی میں ڈاکٹرز سامپل لیتے ہیں۔اور اسطرح کا رویہ آپ ڈاکٹرز سے نہیں کرسکتے اس لیے میں سخت پریشان ہوا۔پھر ایم ڈی ایچ ایم سی ڈاکٹر شہزاد سے رابطہ کیا تو وہ خود آیا اور میرا ٹیسٹ ہوگیا۔

ڈاکٹر شہزاد نے حوصلہ دیا اور آخری دن تک اپنے بچوں کی طرح خیال رکھا۔ڈاکٹر لیاقت کا کہنا تھا کہ میں باقاعدگی کے ساتھ سوشل میڈیا کا استعمال کرتا تھا۔جس کی وجہ سے مجھے لوگوں کے بارے میں پتہ چلتا تھا کہ کون کون اس وائرس سے متاثر ہوا ہے۔گائوں کے ابرار سمیت تین جونیئر ڈاکٹر ز(جو کورونا سے متاثر تھے )کے ساتھ رابطے میں تھے اور جو میڈیسن موجود تھے وہ اور حوصلہ دیتا تھا۔ایک دن میں مجھے سانس کا مسئلہ شروع ہوگیا اس وقت لگا کہ کہانی اس وقت تک لکھی ہوء ہے۔اسی دوران ابرار نے فون کیا اور اس نے کہا کہ میں پشاور آرہا ہوں میرے حالات ٹھیک نہیں۔اس کو حوصلہ دیا لیکن اس کو یہ احساس تک نہیں دیا کہ میں خود کس اذیت سے گزر رہا ہو، حالانکہ میں بات تک مشکل سے کر رہا تھا۔مشکل وقت تھا گزر گیااب کچھ دنوں میں پلازمہ ڈونیٹ کروں گاجس سے کسی انسان کی زندگی آسان ہوجائے گی۔

یہ تھی کرونا سے متاثرہ 2 جوانوں کی کہانی جو کورونا وائرس سے لڑ کر اپنی زندگی میں واپس آگئے تھے۔ڈی ایچ او ملاکنڈ ڈاکٹر وحید گل بھی کورونا وائرس سے متاثر ہونے والوں میں ایک ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ کورونا اب ڈینگی،ایڈز اور ملیریا کی طرح اس دنیا میں رہے گالیکن اس کیخلاف ویکسین بننے تک اس سے بچ کے رہنا ہوگا۔ضلع ملاکنڈ میں ٹیسٹ کم کیوں ہوتے ہیں اس کے جواب میں ڈاکٹر وحید گل کا کہنا تھا کہ آج ہم نے ڈیمانڈ 2000ٹیسٹ کٹس کیلئے کیا لیکن ہمیں200مل گئے کیونکہ صوبے کے پاس خود کمی کا سامنا ہے۔

اس وجہ سے ہم آگے ٹیسٹ کم کرتے ہیں۔جس پر ڈاکٹر وحید گل سے سوال کیا گیا کہ ریکارڈ کے مطابق 29 فیصد ٹیسٹ پازیٹیو آرہے ہیں اگر روزانہ ہزار ہزار ٹیسٹ شروع ہوجائے تو 29فیصد ٹیسٹ پازٹیو آینگے؟جواب میں اس کا کہنا تھا کہ کورونا وائرس نے پورے معاشرے کو گھیر لیا ہے لیکن لوگوں کا امیون سسٹم مظبوط ہے جس کی وجہ سے اس کو پتہ چل رہا۔اگر روزانہ ہزار ٹیسٹ شروع ہوگئے تو لوگ مینٹلی ڈپریشن کا شکار ہوجاینگے اس طرح معاشرے میں کورونا پھیل گیا ہے۔زیادہ ٹیسٹ تو زیادہ کیسز ہوںگے۔یہ ان لوگوں کے ٹیسٹ ہیں جو پازٹیوں کے کنٹینٹ میں ہے اس وقت تک ڈی سی ملاکنڈ کے دفتر سے جاری کردہ معلومات کے مطابق ضلع ملاکنڈ میں کل 1137ٹیسٹ ہوئے جن میں308پازیٹیو ،51کا رزلٹ نہیں آیا ،جبکہ 113افراد صحت یاب ہوگئے ہیں جبکہ8 افراد شہید ہوگئے ہیں۔دستیاب معلومات کے مطابق اوسطاً 28 فیصد ٹیسٹ پازٹیو آرہے ہیں جو دس دن پہلے20فیصد تھا۔یاد رہے کہ جنس کے حساب سے ضلع ملاکنڈ میں 71 مرد جبکہ29فیصد خواتین کورونا وائرس سے متاثر ہے۔

 

 

یہ بھی پڑھیں

کوہاٹ میں تیل و گیس کے نئے ذخائر دریافت، 3ہزار240 بیرل یومیہ خام تیل حاصل ہوگا

نئے ذخائر کی دریافت علاقہ کے عوام کیلئے بڑی خوشخبری ہے ،مزید ٹیسٹنگ کا سلسلہ …