کورونا، لاک ڈاؤن اور ماربل کی صنعت سے وابستہ مزدور

تحریر: عثمان خان

کورونا وباء کی پہلی لہرکی وجہ سے ماربل انڈسٹری سے وابستہ افراد کو کافی نقصان کا سامنا کرنا پڑا، کئی مہینوں تک فیکٹریاں بند پڑی تھیں اور حکومت کی جانب سے نہ مالکان کے ساتھ کوئی مدد ہوئی ہے اور نہ ہی ان کارخانوں میں کام کرنے والے مزدوروں کو کوئی مالی مدد مل سکی

پاکستان میں کورونا وباء کی دوسری لہر میں آنے والی شدت نے مختلف انڈسٹریز سے تعلق رکھنے والے افراد کو اضطراب میں مبتلا کر دیا ہے کیونکہ کورونا لاک ڈاؤن کی پہلی لہر میں انڈسٹریز نے بہت نقصان اٹھایا تھا۔ اب وہی فکر ایک بار پھر ان کو گھیرے ہوئے ہے کہ کہیں دوبارہ لاک ڈاؤن کی وجہ سے کاروباری زندگی پھر سے مفلوج نہ ہو جائے۔ انہی صنعتوں میں سے ایک ماربل انڈسٹری بھی ہے۔


خیبر پختونخوا کے ضلع بونیر میں موجودہ وقت میں 418 ماربل کی فیکٹریاں ہیں جن میں باقاعدہ طور پر ماربل کی کٹنگ ہوتی ہے اور مال تیار کیا جاتا ہے۔ ضلع کی ڈگر تحصیل میں کارخانوں کے ساتھ ساتھ ماربل کی کانیں بھی ہیں۔ کورونا وباء کی پہلی لہرکی وجہ سے ماربل انڈسٹری سے وابستہ افراد کو کافی نقصان کا سامنا کرنا پڑا۔ کئی مہینوں تک فیکٹریاں بند پڑی تھیں اور حکومت کی جانب سے نہ مالکان کے ساتھ کوئی مدد ہوئی ہے اور نہ ہی ان کارخانوں میں کام کرنے والے مزدوروں کو کوئی مالی مدد مل سکی۔
ضلع بونیر ماربل ایسوسی ایشن کے صدر مراد خان کے مطابق کورونا وباء کے پہلے مرحلے میں ماربل کی فیکٹریاں اور د کانیں تین ماہ تک بند پڑی تھیں جس کی وجہ سے ماربل کے شعبے سے وابستہ افراد کو کروڑوں روپے کا نقصان اٹھانا پڑا اور خاص طور پر اس انڈسری سے تعلق رکھنے والے مزدور بہت متاثر ہوئے کیونکہ ان کی کمائی کا یہی واحد ذریعہ ہے۔ ضلع بونیر میں ماربل کے کارخانوں کے علاوہ تین سو کے قریب کانیں بھی ہیں جہاں سے روزانہ کی بنیاد پر ٹنوں کے حساب سے ماربل ملک کے مختلف علاقوں کو سپلائی کیا جاتا ہے، لیکن ان کانوں میں کام کرنے والے افراد بھی کورونا وباء کی وجہ سے بہت مشکلات سے دوچار ہوئے ہیں۔


کامل خان ملکپور نامی علاقے کی ماربل فیکٹری میں مزدور ہیں۔ ان کے مطابق کورونا لاک ڈاؤن کے دوران جب ان کی فیکٹری کو ضلعی انتظامیہ کے نوٹس کے بعد بند کیا گیا تو وہ دن ان کے لئے قیامت کے دن سے کم نہیں تھا کیونکہ پانچ بچوں اور بوڑھے والدین کے تمام اخراجات کا بوجھ ان کے سر پر تھا، ”لاک ڈاؤن کے دوران تین چار ماہ تک اپنی ضروریات پوری کرنے کیلئے میں نے کوئی در نہیں چھوڑا ہے۔“
کامل خان کو آج بھی فیکٹری مالک کے پچاس ہزار روپے دینے ہیں اور انہیں دن رات یہی فکر لاحق رہتی ہے کہ ان کے کندھے اتنے مضبوط نہیں کہ یہ قرضہ اتار سکیں۔ ضلع بونیر میں ماربل کی صنعت سے وابستہ کامل خان جیسے ہزاروں مزدور ہیں جو کورونا لاک ڈاؤن کے دوران انتہائی مشکلات سے گزرے ہیں لیکن اب کورونا کی دوسری لہر کی وجہ سے ان کو ایک بار پھر کئی اندیشوں نے گھیر لیا ہے۔


اپنی بات چیت میں بونیر ماربل ایسوسی ایشن کے صدر نے بتایا کہ ماربل ایسا شعبہ ہے جس کے مزدور پانی میں کام کرتے ہیں اور کورونا لگنے کا خدشہ بہت کم ہوتا ہے، ماربل فیکٹریوں میں سماجی فاصلے کا بھی بہت خیال رکھا جاتا ہے کیونکہ ماربل کٹنگ مشینوں کے درمیان چھ فٹ سے زیادہ کا فاصلہ ہوتا ہے، اس لئے اگر کورونا کی دوسری لہر شدت بھی اختیار کرتی ہے تو ماربل صنعت کو بند نہیں کرنا چاہیے کیونکہ پہلے سے یہ شعبہ بہت متاثر ہوا ہے، اور اس کے ساتھ فیکٹری مالکان اپنے ورکرز کو ماسک اور سینیٹائزر بھی وافر مقدار میں فراہم کرتے ہیں۔


خیبر پختونخوا ماربل ایسوسی ایشن کے صوبائی صدر محمد سجاد کے مطابق حکومت نے لاک ڈاؤن کے دوران ان سے رابطہ کیا تھا کہ ماربل فیکٹریوں میں کام کرنے والے مزدوروں کے کوائف جمع کرائیں تاکہ ان کے ساتھ مالی مدد کی جائے، اس ضمن میں ماربل ایسوسی ایشن نے حکومت کے ساتھ صوبے کے تقریباً ایک لاکھ مزدوروں کا ڈیٹا قلیل وقت میں جمع کیا لیکن کئی ماہ گزرنے کے باوجود اب تک ان کے ساتھ ایک ٹکے کی امداد نہیں ہوئی جو کہ بہت قابل افسوس امر ہے۔


انہوں نے بتایا کہ ماربل انڈسٹری سیلز ٹیکس، انکم ٹیکس، سوشل سیکیورٹی ٹیکس، بجلی کے بلوں اور جرمانوں کی شکل میں اربوں روپے سالانہ ٹیکس جمع کرتی ہے لیکن آج افسوس سے کہنا پڑتا ہے کہ ماربل صنعت سے وابستہ مزدور اور مالکان کے ساتھ کوئی امداد نہیں ہوئی ہے۔
محمد سجاد نے بتایا کہ کرونا کی دوسری لہر میں ماربل صنعت سے وابستہ مزدور اور مالکان کسی قسم کے لاک ڈاؤن کیلئے تیار نہیں ہیں کیونکہ پہلے سے یہ لوگ بہت مشکلات سے دوچار ہیں۔ ان کے مطابق انھوں نے اس سلسلے میں صوبائی محکمہ منرلز او صنعت سے بارہا رابطہ کرنے کی کوشش کی لیکن کسی نے جواب نہیں دیا۔

یہ بھی پڑھیں

باچا خان اور موجودہ ملکی، علاقائی اور بین الاقوامی فضاء

تحریر:شمیم شاہد فخرِ افغان، بابائے امن نے جن جن واقعات اور حالات کے پیدا ہونے …