کورونا وائرس کے اثرات: شادیوں سے متعلق کاروبار بھی سخت مندی سے دوچار – تحریر: انیس ٹکر

شادی بیاہ سے متعلقہ کاروباری حضرات کا کہنا ہے کہ باقی کاروباروں کی نسبت ان کے کاروبار کو زیادہ نقصان پہنچا ہے، حکومت کو چاہیے کہ ان کے ساتھ مدد کریں تاکہ ان کا قرض ختم ہو سکے اور وہ اپنے اور اپنے بال بچوں کے لیے دو وقت کی روٹی کما سکیں

دنیا کے دیگر ملکوں کی طرح پاکستان میں بھی کرونا کے پھیلاؤ کا دوسرا مرحلہ کچھ اس شدت کے ساتھ شروع ہو چکا ہے کہ اس نے پہلے مرحلے کے نقصانات کو پس منظر میں ڈال دیا ہے۔ لوگ حیران اور حکومتیں پریشان دکھائی دے رہی ہیں کہ کریں تو کیا کریں۔ بہت سارے کاروبار بند کر دیے گئے ہیں جن میں شادیوں سے متعلق کاروبار بھی سخت مندی سے دوچار ہے جس سے وابستہ ہزاروں ہنرمند لاک ڈاؤن میں لاکھوں روپے کے قرضدار ہو گئے ہیں۔


مردان کے مشہور چاٹو چوک سے تعلق رکھنے والا بیالیس سالہ گل رحمان، جو ایک علاقائی گلوکار ہے اور رباب بجا کر شادی بیاہ کی محفلوں میں رنگ بھرتا ہے، کا کہنا ہے کہ جب سے کورونا وائرس کی وجہ سے لاک ڈاؤن شروع ہوا ہے تو ہماری زندگی بہت مشکل ہو گئی ہے کیونکہ ہم محفلوں کے لوگ صرف اپنے کمروں تک محدود ہو کر رہ گئے ہیں، ”شادی بیاہ کی تقریبات نہ صرف خوشی کی علامت ہوتی ہیں بلکہ ان میں ثقافت کے رنگ بھی جھلکتے ہیں لیکن اس وائرس نے ان تقریبات کے مراکز یعنی شادی ہالوں کو تالے لگا دیے ہیں اور یوں اس کاروبار سے وابستہ ہزاروں لاکھوں محنت کش بے روزگار ہو کر ہاتھ پر ہاتھ دھرے بیٹھے ہیں۔“


ایک اندازے کے مطابق جب سے شادی بیاہ کی تقریبات کے منانے کے لئے لوگوں کی بڑی تعداد نے اپنے گھروں اورحجروں کو چھوڑ کر ان شادی ہالوں کا رخ شروع کیا ہے خیبر پختونخوا میں اس صنعت نے جڑیں مضبوط کر لی ہیں۔ ایک اندازے کے مطابق اس وقت صوبے میں ان ہالوں کی تعداد چھ سو سے زائد ہے جن سے ہزاروں لاکھوں محنت کش مختلف کاموں کی شکل میں وابستہ ہیں۔ شادی ہالوں کی ایسوسی ایشن کے صدر خالد ایوب کا کہنا ہے کہ شادی ہال بند پڑے ہیں لیکن وہ بجلی، گیس کے بلوں سمیت تمام قسم کے ٹیکسوں کی ادائیگی پر مجبور ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ صرف پشاور میں ایک سو ستر سے زائد شادی ہال ہیں اورکرونا کے آنے کے بعد سے اب تک ان شادی ہالوں کے کاروبار سے وابستہ لوگوں کو دو اعشاریہ پانچ ارب روپے کا نقصان ہو چکا ہے۔ خالد ایوب نے مزید کہا کہ شادی ہال بند ہونے سے نہ صرف مالکان متاثر ہو رہے ہیں بلکہ اس کاروبار سے جڑے کئی کاروباری لوگ اور مزدور لوگ بھی متاثر ہو رہے ہیں۔ انہوں نے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ تمام شادی ہالوں پر ٹیکسوں میں نرمی کی جائے تاکہ اس نقصان کا ازالہ ہو سکے۔


شادی ہال، جو ایک ثقافتی مرکز بن چکا ہے، میں شادیوں کے دوران علاقائی گلوکاروں کی بھی دیہاڑی لگ جاتی تھی جو اپنے سروں کی بدولت ان محافل کو چار چاند لگا دیتے تھے، وہ سخت کسمپرسی کا شکار ہیں۔ مقامی گلوکار گل رحمان کا کہنا ہے کہ جب تک کسی شادی بیاہ میں اپنے فن کا مظاہرہ نہ کریں تب تک ان کے گھر کا چولہا نہیں جلتا۔ ”ہم غریب لوگوں کی بس یہی زندگی ہے مگر کیا کریں یہ ہمارا پیشہ ہے، لاک ڈاؤن میں سب کچھ بند ہوگیا تھا نہ ہی شادیاں ہوتی تھیں اورنہ ہی دوسری تقاریب، کیونکہ حکومتی احکامات یہی تھے۔“ گل رحمان نے مزید بتایا کہ لاک ڈاؤن کی وجہ سے کام بند تھا، ہم پر بہت قرضہ چڑھ گیا ہے جس کی وجہ سے ابھی تک کافی پریشانی سے دوچار ہیں، سوچ سوچ کر دماغ شل ہوگیا ہے کہ اگر یہی حالات رہے تو یہ قرضہ کیسے ختم ہوگا۔


اس کاروبار سے وہ لوگ بھی وابستہ ہیں جو خوبصورت پھول بیچ کر نہ صرف رنگ بلکہ خوشبوئیں بھی بکھیرتے ہیں، وہ بھی کہتے ہیں کہ نوبت فاقوں تک آ چکی ہے۔ ان میں ایک فرحان بھی ہے جو کہ دسویں جماعت کا طالبعلم ہے اور تقریبات میں پھول لگانے کا کام کرتا ہے۔ اس کا کہنا ہے کہ اس وائرس کی وجہ سے وہ انتہائی مالی مشکلات سے دوچار ہو گئے ہیں۔ فرحان کہتا ہے کہ لاک ڈاؤن میں گزر بسر مشکل تھی، بس سارا وقت گھر پر ہی گزارتے تھے صرف جنرل سٹورز کھلے تھے جس سے ہم نے قرض پر سودا سلف لیا، جو جمع پونجی تھی وہ سارا مالکوں کو کرایہ اور دیگر اخراجات میں خرچ ہو گیا، کاروبار ابھی تک بند تھا اور ابھی تھوڑا تھوڑا شروع ہونے لگا ہے امید ہے کہ حالات جلد بہتر ہو جائیں گے۔


ساٹھ سالہ سلیم، جو کہ مردان کا رہائشی ہے اور مشہور سماجی کارکن ہے، سے جب اس کاروبار پر پڑنے والے اثرات پر رائے مانگی گئی تو ان کا کہنا تھا کہ پرانے زمانے کے شادی بیاہ کے رواج اچھے تھے، ہمارے ہاں پہلے جب شادی ہوتی تھی تو علاقے کا ایک بڑا حجرہ ہوتا تھا جہاں پر سب مہمان آتے تھے اور ہمسائے شادی والوں کے ساتھ مل کر شادی کا سارا کام سنبھال لیتے تھے، محلے کا ہر چھوٹا بڑا مہمانوں کی تواضع کے لئے دست بستہ کھڑا رہتا تھا لیکن پھر آبادی بڑھنے کے بعد حجرے اوربیٹھک محدود ہو کر رہ گئے اور لوگ شادی ہالوں کی جانب راغب ہو گئے جو ایک طرح سے اچھی بات ہے لیکن شادی کا زیادہ مزہ روایتی طور طریقے سے آتا تھا۔ شادیوں میں کھانا تیار کرنے والے میاں فضل خان کا کہنا ہے کہ کرونا لاک ڈاؤن کی وجہ سے وہ سر سے پاؤں تک قرضوں میں ڈوب گئے ہیں، ”ہم پر بہت برا اثر پڑا ہے، تقریباً سات آٹھ لاکھ روپے قرضہ چڑھ گیا ہے، کام مکمل بند ہو چکا تھا اور ساری بچت مزدوروں کی تنخواہوں، بلوں اور کرایوں میں چلی گئی ہے، ابھی ہمارا سیزن توشروع ہوگیا ہے لیکن ہم پھر بھی فارغ بیٹھے ہیں کام ہی نہیں ہے۔“


تقریبات میں کھانے اور پینے کے کراکری کا سامان مہیا کرنے والے لیاقت کا کہنا ہے کہ جو پیسے سارا سال بچت کئے تھے وہی سارے تنخواہوں اور کرایوں میں چلے گئے اور اپنے خرچے کے لئے دوسروں سے ادھار لینے پر مجبور ہیں، ”ایک طرف کام نہیں تھا دوسری جانب جب دوکان کھولتے تھے پولیس آ کر بند کروا دیتی تھی، اس طرح کام نہ ہونے کی وجہ سے خرچے بڑھ گئے اور ہم قرضوں میں پھنس گئے۔“
شادی بیاہ سے متعلقہ کاروباری حضرات کا کہنا ہے کہ باقی کاروباروں کی نسبت ان کے کاروبار کو زیادہ نقصان پہنچا ہے، حکومت کو چاہیے کہ ان کے ساتھ مدد کریں تاکہ ان کا قرض ختم ہو سکے اور وہ اپنے اور اپنے بال بچوں کے لیے دو وقت کی روٹی کما سکیں۔

یہ بھی پڑھیں

باچا خان، ایک سوچ اور تحریک

تحریر:روخان یوسف زئی باچا خان ایک تصوراتی رہبر اور فلسفی نہیں تھے جو اپنے پیچھے …