کورونا وائرس وباء سے خیبر پختونخوا میں سروس ٹیکس وصولی میں کمی کا سامنا

تحریر: عزیز بونیرے

گزشتہ سال کے اواخر میں چائنہ سے سر اٹھانے والی کورونا وائرس وباء فروری 2020تک دنیا بھر میں پھیل چکی تو اس باعث لاک ڈاؤن کی وجہ سے تمام شعبہ جات انتہائی متاثرہوئے جس کی وجہ سے ان حکومتی اداروں کو بھی مشکلات کا سامنا رہا جو مختلف سیکٹرز سے مختلف ٹیکسسز کی وصولی کرتے ہیں

مارچ 2020 میں بھی دنیا بھر کے کورونا وائرس کی لپیٹ میں آنے کی وجہ سے وائرس کی روک تھام کیلئے نافذ کئے گئے لاگ ڈاؤن نے پوری دنیا کی معشیت کو جھنجوڑ کر رکھ دیا ہے۔ ایسے میں خیبر پختونخوا حکومت نے کورونا وائرس کی روک تھام کیلئے دیگر اقدامات کے ساتھ ساتھ سیاحوں کی آمد اور سیاحتی مقامات پر موجود ہزاروں ہوٹل اور ریسٹ ہاؤسز کو بھی لاگ ڈاوٗن کی وجہ سے بند کر دیا جس کی وجہ سے صوبے میں ہوٹل انڈسٹری سے وابستہ لاکھوں افراد چھ ماہ تک بے روزگار اور یوں اس باعث قسم قسم کی مشکلات سے دوچار رہے تو ساتھ ہی ساتھ مالکان کو بھی اربوں روپے کا نقصان سہنا پڑا۔


خیبر پختونخوا ریونیو اتھارٹی نے گزشتہ مالی سال 2019-20 میں ریونیو ہدف کامیابی سے حاصل کرنے کے بعد 2020-21 میں بیس ارب روپے کے ریونیو ہدف پر نظریں جما لی تھیں۔ کورونا وائرس وباء اور لاک ڈاؤن کی وجہ سے خیبر پختونخوا ریونیو اتھارٹی کو سروس ٹیکس کی وصولی میں ملک کے دیگر صوبوں کی نسبت زیادہ مشکلات کا سامنا نہیں ہے۔ خیبر پختونخوا ریونیو اتھارٹی کے پاس دیگر محکموں کی نسبت سٹاف کی کمی کے باوجود گزشتہ سال محکمہ نے سترہ ارب روپے تک سروس ٹیکس کی وصولی کی تھی۔
گزشتہ سال کے اواخر میں چائنہ سے سر اٹھانے والی کورونا وائرس وباء فروری 2020تک دنیا بھر میں پھیل چکی تو اس باعث لاک ڈاؤن کی وجہ سے تمام شعبہ جات انتہائی متاثرہوئے جس کی وجہ سے ان حکومتی اداروں کو بھی مشکلات کا سامنا رہا جو مختلف سیکٹرز سے مختلف ٹیکسسز کی وصولی کرتے ہیں۔
خیبر پختونخوا ریونیو اتھارٹی دستاویزات کے مطابق محکمہ نے جنوری 2019 میں ہوٹل اور ریسٹ ہاؤسز سے سروس ٹیکس کی مد میں موصول ہونے والی 10,348,701 آمدن کے مقابلے میں رواں سال جنوری میں 14,437,340 روپے کی وصولی کی ہے۔ اسی طرح فروری 2019 کو موصول ہونے والی 10,149,415 روپے کی آمدنی کے مقابلے میں فروری 2020 میں محکمہ نے 8,958,633 روپے وصول کئے۔ مارچ 2019 میں دنیا بھر کی طرح خیبر پختونخوا میں کورونا وائرس کی روک تھا م کیلئے لاگ ڈاؤن کی وجہ سے ہوٹلز اور ریسٹ ہاؤسز کی بندش سے سروس ٹیکس وصولی کی مد میں پچاس فیصد تک اضافہ ہوگیا تھا۔ مارچ 2019 میں محکمہ کو موصول ہونے والی 5,571,495 روپے کی آمدنی کے مقابلے میں مارچ 2020 میں 10,666,818 روپے موصول ہوئے

خیبر پختونخوا ریونیو اتھارٹی کو اس وقت ریونیو میں کمی شروع ہوگئی جب ملک بھر میں مکمل لاک ڈاؤن اور تمام شعبہ جات کو بند کردیا گیا جس میں محکمہ کو گزشتہ سال اپریل میں موصول ہونے والے 6,176,447 روپے کے مقابلے میں اپریل 2020 میں 284,401 روپے موصول ہوئے۔ اسی طرح مئی 2019 کو محکمہ ریونیو اتھارٹی کو موصول ہونے والی 11,398,767 روپے کے مقابلے میں مئی2020 میں 1,206,335 روپے موصول ہوئے، جون2019 میں خیبر پختونخوا ریونیو اتھارٹی نے 5,821219 روپے کے مقابلے میں جون 2020 میں 1,562,224 روپے وصول کئے، جولائی 2019 کو خیبر پختونخوا ریونیو اتھارٹی کو سروس ٹیکس کی مد میں موصول ہونی والے 10,911,336 روپے کے مقابلے میں صرف913,634 روپے موصول ہوئے، اسی طرح اگست 2019 میں محکمہ کو موصول ہونی والے محاصل 10,223,835 کے مقابلے میں رواں سال خیبر پختونخوا ریونیو اتھارٹی کو 1,868,107 روپے موصول ہوئے ہیں۔


خیبر پختونخوا ریونیو اتھارٹی کا ریونیو جمع کرنے کا زیادہ دارومدار ٹیلی کام سیکٹر، ہوٹل انڈسٹری اور ریسٹ ہاؤسز پر ہوتا ہے۔ رواں سال لاک ڈاؤن کی وجہ سے ملک بھر کی طرح خیبر پختونخوا میں کورونا وائرس کی روک تھا م کیلئے شعبہ سیاحت کو بھی بند کر دیا گیا تھا اور نتیجتاً ہوٹل انڈسٹری بند ہونے کی وجہ سے خیبر پختونخوا ریونیو اتھارٹی کو سروس ٹیکس وصول کرنے میں کمی کا سامنا رہا۔
خیبر پختونخوا کے وزیر خزانہ تیمور سلیم جھگڑا کے مطابق کورونا وائرس کی وجہ سے پوری دنیا کی معشیت انتہائی متاثر ہوئی ہے، لاک ڈاؤن کی وجہ سے خیبر پختونخوا ریونیو اتھارٹی کے محاصل متاثر تو ہوئے مگر دوسرے صوبوں کی نسبت

یہ بھی پڑھیں

باچا خان اور موجودہ ملکی، علاقائی اور بین الاقوامی فضاء

تحریر:شمیم شاہد فخرِ افغان، بابائے امن نے جن جن واقعات اور حالات کے پیدا ہونے …