دلدل منڈونہ، ایک حسین مگر دنیا کی نظروں سے اوجھل علاقہ

تحریر:مولانا خانزیب

اس علاقے کی اصل وجہ شہرت یہاں پر سنگ مرمر کے کئی پتھروں پر نقش انسانی پاؤں اور گھوڑے کے کھروں کے عجیب و غریب نشانات ہیں جن کو دیکھ کر انسان دنگ رہ جاتا ہے

باجوڑ میں ناواگئی کے شمال مشرق میں درہ کمانگرہ کے ساتھ بلندوبالا پہاڑوں کے بیچوں بیچ چالیس گھروں پر مشتمل ایک گاؤں ”زرگرے” ہے۔ اس درے کو قدرت نے بے تحاشہ حسن دیا ہے۔ ایک طرف اگر اس درے میں قدرتی چشمیں بہتے ہیں تو دوسری طرف سنگ مرمر کے انتہائی قیمتی پتھروں کے ساتھ ساتھ کرومائٹ، نفرائٹ اور دوسری قیمتی معدنیات کے ذخائر بھی یہاں کے پہاڑوں میں موجود ہیں مگر حکومتی عدم دلچسپی اور کچھ مخصوص لوگوں کی تنگ نظری کی وجہ سے قوم اس بیش بہا خزانوں سے مستفید نہیں ہو رہی ہے۔
اس علاقے کی اصل وجہ شہرت یہاں پر سنگ مرمر کے کئی پتھروں پر نقش انسانی پاؤں اور گھوڑے کے کھروں کے عجیب و غریب نشانات ہیں جن کو دیکھ کر انسان دنگ رہ جاتا ہے۔ ان پتھروں پر ان نشانات کو دیکھ کر ایسا لگتا ہے کہ جیسے ابھی ابھی اس سخت پھتر پر کوئی گھڑ سوار گزرا ہے اور اس کے گھوڑے کا پاؤں ان پتھروں میں کیچڑ کی طرح دھنسا ہے۔ اتنی زیادہ تعداد میں نشانات دیکھ کر اندازہ ہوتا ہے جیسے کوئی نرم کیچڑ میں چل کر گزرا ہو اور اس کے پاؤں کے نشان پیچھے رہ گئے ہوں۔

ان نشانات سے متعلق زبانی طور پر کئی افسانے علاقے میں مشہور ہیں جن میں سے ایک کی نسبت علی کی طرف بھی کی جاتی ہے کہ کسی زمانے میں علی اس علاقے میں آئے تھے اور ان کے گھوڑے کے کھروں کے یہ نشانات بطورِ کرامت کے ثبت ہوئے ہیں مگر تاریخی طور پر علی کا اس طرف آنا ثابت نہیں ہے۔ میرے خیال میں ان نشانات کی حقیقت یہ ہے کہ دنیا کے اور بہت سی جگہوں میں کچھ اور پتھروں پر بھی اس طرح کے نشانات پائے جاتے ہیں جیسے سری لنکا میں ایک پہاڑ کی چوٹی کے متعلق مشہور ہے کہ آدم علیہ اسلام اسی چوٹی پر اترے ہیں جبکہ وہ جگہ ھندومت کیلئے بھی مقدس ہے اور اس پر ان کے پاؤں کے نشان اب بھی ہیں یا جس طرح مقام ابراھیم کے پتھر پر ابراھیم کے پاؤں کا نشان بطور معجزہ ثبت ہے۔


اسی طرح یہاں دلدل منڈونہ پر کوئی پیغمبر یا ولی اللہ کے گھوڑے اور پاؤں کا نشان بطور معجزہ یا بطور کرامت کے موجود ہے۔ دلدل یا سائنسی نظریہ تخلیق کائنات کی رو سے جب کائنات کی تخلیق کے وقت ”بیگ بینگ” کے بعد مختلف دھاتوں میں ٹوٹ پھوٹ ہو رہی تھی تو اس عمل کے دوران یہ نشانات بن گئے تھے۔ بہرکیف یہ نشانات کسی عجوبے سے کم نہیں مگر میڈیا پر ان نادر آثار سے متعلق کوئی تشہیر نہ ہونے کی وجہ سے اکثر لوگ ان سے بے خبر ہیں۔ علاقہ مشران کی کوششوں سے اس جگہ پر پانی کے ڈیم کی منظوری دی گئی ہے مگر اس سمال ڈیم کی تعمیر میں اتنی کرپشن ہوئی ہے کہ علاقے کے لوگوں کو اس سے کوئی فائدہ کیا پہنچنا ہے الٹا ان تاریخی آثار کو بھی غرق آب کر دیا گیا ہے۔


علم الکائنات میں انفجارِعظیم اس کائنات کی پیدائش کے بارے میں پیش کیا جانے والا ایک سائنسی نظریہ ہے جس کو انگریزی میں بگ بینگ(Big Bang) کہا جاتا ہے۔ اس کے مطابق کائنات کی پیدائش ایک انتہائی کثیف اور آتشی حالت میں ہوئی تھی اور کائنات کی پیدائش کا یہ واقعہ آج کے دور سے تقریباً13 ارب70 کروڑ سال قبل ظہور پذیر ہوا تھا۔ بگ بینگ کائنات کی پیدائش کے بارے میں پیش کیا جانے والا ایک سائنسی نظریہ ہے جس کے معنی ایک بڑے یا عظیم دھماکے کے ہیں۔ اس کے مطابق آج کے دور سے تقریباً 14 ارب سال پہلے جب کائنات کا سارا مادہ ایک نقطے میں بند تھا ایک عظیم الشان دھماکہ ہوا تھا جس سے یہ مادہ پھیلنا شروع ہوا اور مختلف کہکشائیں، ستارے اورسیارے وجود میں آئے۔ امریکی ماہر فلکیات ایڈون ہبل نے کائنات کے پھیلاؤ کا نظریہ پیش کیا اور کہا کہ کائنات عدم سے معرض وجود میں آنے کے بعد سے مسلسل پھیل رہی ہے۔ اس نظریے کو مقبولیت حاصل ہوئی اور سائنس دانوں نے یہ تسلیم کر لیا کہ کائنات مسلسل پھیل رہی ہے اور اس میں مختلف تبدیلیاں رونما ہو رہی ہیں۔


جہاں تک اسلامی عقیدہ کی بات ہے تو قرآن ہمیں واضح طور کائنات کے پھیلاؤ کے بارے میں بتاتا ہے۔ والسماء بنینھا باید و انا لموسِعون۔ (ذاریات 47) ترجمہ: ہم نے آسمان کو ایک خاص قدرت سے بنایا اور یقیناً ہم وسعت پیدا کرنے والے ہیں۔ گویا اس کائنات کی تخلیق اور مسلسل وسعت پذیری خود بخود نہیں بلکہ اللہ تعالی کی طرف سے ہے اور اللہ تعالی ہی اس کائنات کو اپنی قدرت سے بنانے والے ہیں۔ دنیا میں ہونے والے سب تصرفات اللہ ہی کی طرف سے ہیں اور یہ اللہ کے لیے کوئی مشکل نہیں۔ اولیس الذِی خلق السماواتِ والارض بِقادِر علی ان یخلق مِثلہم بلی وھو الخلاق العلِیم(81) اِنما امرہ اِذا اراد شیئاً ان یقول لہ کن فیکون۔ یٰس۔ ترجمہ: اورجس نے زمین آسمان پیدا کیے ہیں کیا وہ قادر نہیں ہے کہ ان جیسے آدمیوں کو دوبارہ پیدا کر دے ضرور قادر ہے جب وہ کسی چیز کا ارادہ کرتا ہے تو اس کا تو معمول یہ ہے کہ اس چیز کو کہہ دیتا ہے کہ ہو جا پس وہ ہو جاتی ہے۔ مندرجہ بالا آیتیں ثابت کرتی ہیں کہ کائنات ازل سے نہیں تھی بلکہ اس کو اللہ رب العزت نے اپنے ”کن” سے تخلیق کیا۔ اگر ضد و عناد کو ایک طرف رکھ کر انصاف سے دیکھا جائے تو بگ بینگ کا نظریہ منکرین خدا کی تائید نہیں تردید کر رہا ہے۔

کائنات عدم سے وجود میں آئی نہیں، لائی گئی ہے۔ اس کے پیچھے اللہ کی قدرت کا دخل ہے جس نے تخلیق کے ارادے سے اپنے ”کن” کے ذریعے اس کو وجود بخشا اور پایہ تکمیل تک پہنچایا۔ مسلمہ اصول ہے کہ ہر حرکت کے پیچھے اس کا کوئی محرک (حرکت پیدا کرنے والا) ہوتا ہے جو اس کو نظم و ترتیب کے ساتھ حرکت دیتا ہے اور اس کو آگے بڑھاتا ہے اور اگر اس کے ساتھ کوئی محرک نہ ہو تو حرکت اور عمل نامکمل اور بے ترتیب رہ جاتا ہے؛ تو انسان جب اس عالم کو دیکھتا ہے تو اس میں ایک غیر معمولی نظم اور اصول نظرآتا ہے جو دلالت کرتا ہے کہ اس کائنات کا کوئی خالق ہے جو اپنے علم سے اس میں کام کر رہا ہے؛ لہٰذا ہم یہ ماننے پر مجبور ہیں کہ کائنات کی تخلیق کے وقت اتنا عظیم دھماکہ اور اس کے بعد پے در پے تبدیلیاں کسی اتفاق کا نتیجہ نہیں ہو سکتیں، یا یہ سب بغیرکسی خالق کے خود وجود میں نہیں آ سکتا جیسا کہ منکرین خدا کا گمان ہے، بلکہ ان سب کے پیچھے ایک ذات عالی ہے جو عظیم طاقت اور قدرت کا مالک ہے، جس نے اس جہاں کو بنایا اور منظم طریقے سے اس کو چلا رہا ہے۔ اولم یر الذین کفروا ان السماواتِ والارضَ کانتا رتقًا ففتقنا ھما و جعلنا من المائِ کلَ شیئٍ حیٍ افلا یومنون۔ النبیائ۔ ترجمہ: کیا ان کافروں کو یہ معلوم نہیں ہوا کہ زمین اور آسمان پہلے بند تھے اور ہم نے دونوں کو (اپنی قدرت) سے کھول دیا اور ہم نے پانی سے ہر جاندار چیز کو بنایا ہے۔ رتق اور فتق کے معنی میں مختلف اقوال نقل ہوئے ہیں۔ ہم یہاں دو قول نقل کرتے ہیں۔ تفسیر الطبری میں ہے عن ابن عباس، قولہ (و لم یر الذین کفروا ان السماوات والارض کانتا رتقا ففتقنا ہما) الآیة، یقول: کانتا ملتصقتین، فرفع السماء ووضع الرض۔ اس تفسیر سے یہی معلوم ہوتا ہے کہ زمین و آسمان آپس میں ملے ہوئے تھے، اللہ نے ان کو وجود بخشا۔(2) رتق اور فتق ایک دوسرے کی ضد ہیں۔ رتق کے معنی دو چیزوں کا آپس میں مل کر جڑ جانا، فتق کے معنی ان جڑی ہوئی چیزوں کا الگ الگ جدا کرنا ہے۔ (تفسیر تیسیر القرآن) یعنی زمین وآسمان ابتدا میں سب ملے ہوئے تھے پھر اللہ نے ان دونوں کو کھول کر جدا کر دیا۔ جیسا کہ سائنس کا کہنا ہے کہ ابتدا میں دنیا ایک مادے میں مرتکز تھی جو دھماکے کے بعد پھیل گئی۔


بگ بینگ نظریے اور آیت مذکورہ میں مطابقت واضح ہے کہ دنیا ازل میں عدم تھی پھر اس کو وجود میں لایا گیا اور وجود میں لانے والی ذات اللہ سبحانہ و تعالی کی ہے۔ از روئے قرائن اگر گمان و قیاس کے گھوڑوں کو سائنسی حساب کتاب کے ساتھ ماضی کی جانب دوڑایا جائے تو اب تک کی معلومات کے مطابق یہ مشاہدے میں آتا ہے کہ یہ کائنات ایک ایسے مقام سے پھیلنا شروع ہوئی ہے کہ جب اس کا تمام کا تمام مادہ اور توانائی ایک انتہائی کثیف اور گرم مقام پر مرکوز تھا۔ مگر اس کثیف اور گرم نقطے سے پہلے کیا تھا؟ اس پر تمام طبعییات دان متفق نہیں ہیں، اگرچہ یہ ہے کہ عمومی اضافیت، کشش ثقل کی وحدانیت کی پیشگوئی کرتی ہے۔ دلدل عربی زبان میں سیہہ یا خارپشت کو کہتے ہیں جو بہت سست رفتاری کے لیے مشہور ہے، ممکن ہے کہ یہ نام اِس کی چال کے باعث پڑ گیا ہو۔ لیکن یہ قیاس یقینی خیال نہیں کیا جا سکتا۔ دلدل پیغمبر حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کا خاکستری رنگ کا ایک خچر تھا جو آپ کو مقوقس، والی مصر، نے بطور ہدیہ بھیجا تھا اور اِس کے ہمراہ ایک گدھا بھی بھیجا تھا جس کا نام یعفور یا عفیر تھا۔ دلدل آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے غزوات میں آپ کی سواری کے کام بھی آیا۔ یہ خچر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کے بعد تک زِندہ رہا اور ینبوع میں اِس قدر سِن رسیدہ اور بے دندان ہو کر فوت ہوا کہ اسے کھلانے کے لیے جو اس کے منہ میں ڈالنا پڑتے تھے۔ روافض کی روایات کے مطابق جنگ جمل میں جنگ صفین میں حضرت علی رضی اللہ عنہ اِسی خچر پر سوار تھے۔

یہ بھی پڑھیں

Khanzeb

چینی سیاح اور پختون خوا

زمانہ قدیم میں ہندوستانی تاریخ کے مآخذ مذہبی اور نیم تاریخی کتابیں رہی ہیں یا …