دیر چترال موٹروے، اب کیا ہوت جب چڑیاں چگ گئیں کھیت – تحریر: خالد لعل خانی ایسپزے

عوامی نیشنل پارٹی اور قوم پرست رہنماء سید عالم محسود نے بھرپور انداز سے سی پیک کا مقدمہ لڑا لیکن کاش آج جس طرح لوگ خواب خرگوش سے بیدار ہوئے ہیں اگر اس وقت یہ بیدار رہتے تو آج چترال سے گوادر تک موٹروے بن چکی ہوتی

چین وہ ملک ہے جو مضبوط معیشت کی وجہ سے دنیا سے آنکھیں ملا کر باتیں کرتا ہے۔ چین کے عوام جب صبح اٹھتے ہیں تو ان کے پاس یہ فکر رہتی ہے کہ دیر ہوگئی ہے، فیکٹری میں جانا ہے، آج ہمیں نئی پراڈکٹ بنانی ہے، آج ہم نے کوئی چیز ضرور ایجاد کرنی ہے، ہر شخص ہنرمند ہے، ان کی پارلیمنٹ میں معیشت کے بل پاس ہوتے ہیں، معیشت سے تعلق رکھنے والے لوگ تقاریر کرتے ہیں، لوگوں کی آپس میں صرف معیشت پر گفتگو ہو سکتی ہے، ایسی قوم کے دنیا کے ساتھ روابط ضروری ہوتے ہیں کیونکہ وہ اپنی ضروریات سے زیادہ پراڈکٹس، اشیاء بناتے ہیں، زیادہ مقدار میں مختلف چیزیں بناتے ہیں اور وہ چاہتے ہیں کہ دنیا کو اپنی پراڈکٹس فروخت کر دیں۔ سامان لے جانے کے لئے انہیں تین راستے چاہئیں۔ ایک سمندری راستہ دوسرا زمینی راستہ اور تیسرا ہوائی راستہ ہے جن سے چین اپنا سامان دوسرے ممالک تک پہنچا سکتا ہے۔ سب سے آسان اور سستا پڑنے والا راستہ زمینی راستہ ہے۔


چین کے لیے پاکستان بہت اہمیت رکھتا ہے، چین کو اپنی فیکٹریاں چلانے کے لیے تیل اور خام مال کی ضرورت ہے۔ وہ مڈل ایسٹ سے تیل اور یورپ، ایشیاء اور دوسری جگہوں سے خام مال چین لے جاتے ہیں، پاکستانی زمینی راستے چین استعمال کرتا ہے۔ اب چونکہ چین دنیا کی تجارتی مارکیٹ پر قابض ہو چکا ہے، چین کو اب موٹروے چاہیے، آسان راستے چاہئیں، دوسرے ممالک میں بندرگاہیں چاہئیں جیسے امریکہ کو دنیا میں فوجی اسٹریٹجک پوزیشن چاہیے۔ وہ افغانستان، سعودی عرب، عراق، دبئی سمیت ایران کے قریب سمندر میں مختلف اسٹریٹجک پوزیشن پر ہر وقت کھڑی رہتی ہے۔ اسی طرح چین کو اپنی تجارت کے لئے ایسی منڈیاں اور ایسے زمینی اور سمندری راستے درکار ہیں جن سے ان کو سپلائی کرنے میں آسانی ہو۔ چین کی نظریں گوادر بندرگاہ پر لگی ہیں، گوادر بندرگاہ تک پہنچنے کے لیے چین کو سڑکیں بنانا تھیں۔


چین نے اس منصوبے پر کام کا آغاز کیا اور پاکستان کو یہ لالچ دی گئی کہ ہم پاکستان میں 46 بلین ڈالرز خرچ کرنے والے ہیں۔ اس منصوبے کو چین پاکستان اکنامک کوریڈور سی پیک کا نام دیا گیا۔ اس منصوبے میں گوادر کی تعمیر، انرجی، ٹرانسپورٹ، انفراسٹرکچر اور انڈسٹریل زون شامل تھے۔ سی پیک منصوبوں کو تین حصوں میں تقسیم کیا گیا تھا۔ ایک کو قلیل مدت منصوبے لکھے گئے جو 2020 تک مکمل ہونے تھے۔ دوسرے منصوبوں کو درمیانی منصوبے لکھے گئے ہیں جو 2025 تک مکمل ہونے ہیں اور باقی طویل مدتی منصوبے ہیں جو 2030 تک مکمل ہونے ہیں۔


انرجی اور انڈسٹری سیکٹر میں اب تک بلوچستان اور پختونخوا میں کوئی واضح پراجیکٹ نظر نہیں آئی جو سی پیک کے فنڈز سے منظور ہوئے تھے۔ یہ مسلم لیگ ن حکومت کی صوابدید تھی کہ وہ یہ فنڈز پنجاب میں کہاں پر اور کن پراجیکٹس پر خرچ کرتی ہے۔


ہم کو ایک امید تھی اور یہ امید ہمیں چین نے دی تھی کیونکہ وہ 2014 سے پہلے سی پیک کی سڑکوں کا نقشہ ہمیں دے چکے تھے کہ یہ موٹروے کاشغر سے گلگت اور گلگت سے چترال اور چترال سے چکدرہ، چکدرہ سے پشاور، کوہاٹ، کرک، ٹانک، کوئٹہ سے ہو کر گوادر تک پہنچے گی لیکن پہلی بار مسلم لیگ ن حکومت نے مغربی روٹ میں تبدیلی کی اور منصوبے پر دستخط ہونے سے پہلے مغربی روٹ کو چترال کے بجائے خنجراب سے گلگت، تاکوٹ، مانسہرہ، اسلام آباد، پشاور، کوہاٹ,، بنوں، ٹانک، کوئٹہ سے گوادر تک تبدیل کر دیا لیکن جب پختونخوا حکومت نے خاموشی اختیار کی اور مسلم لیگ حکومت کے اس ظالمانہ رویے کیخلاف پختونخوا حکومت نے اُف تک نہیں کیا، یہاں اناڑیوں کی حکومت تھی اور پنجاب کے سرمایہ دار اور کارخانہ داروں کے ہاتھ تحریک انصاف حکومت کے سر پر تھے لہٰذا وہ خاموش ہو گئے، پنجاب میں مسلم لیگ ن حکومت پر سرمایہ داروں کا پریشر بڑھ گیا، ان سرمایہ داروں کا تعلق اسٹیبلشمنٹ اور بیوروکریسی سے بھی ہے اس وجہ سے بڑی آسانی سے ن لیگ حکومت نے نئے مرکزی راستے کا اعلان کیا۔ ن لیگ نے پنجاب کی انڈسٹری کو تحفظ دیا اور ساتھ ساتھ پنجاب پر اپنی سیاسی چودھراہٹ برقرار رکھنے کے لالچ میں یہ قدم اٹھایا۔ اس نئے مشرقی روٹ کو مرکزی راستہ قرار دیا گیا۔


ادھر پشتون قوم پرستوں نے احتجاج شروع کر دیا، نئی بحث چھڑ گئی، میڈیا پر ٹاک شوز ہوئے، قوم پرست رہنماء سید عالم محسود اور عوامی نیشنل پارٹی نے بھرپور انداز سے اس مقدمے کو لڑا لیکن کاش آج جس طرح لوگ خواب خرگوش سے بیدار ہوئے ہیں اگر اس وقت یہ بیدار رہتے تو آج چترال سے گوادر تک موٹروے بن چکی ہوتی۔


میں حیران اس بات پر ہوں کہ اُس وقت مرکز میں مولانا فضل الرحمن اور محمود خان اچکزئی مسلم لیگ کے اتحادی تھے لیکن وہ بھی خاموش تھے۔ انہوں نے بھی چترال گلگت چکدرہ موٹروے کی بات نہیں کی۔ جب عوامی نیشنل پارٹی، پاکستان پیپلز پارٹی اور سید عالم محسود سمیت صحافیوں میں سلیم صافی اور دوسرے لوگوں نے پریشر بنایا تو 2015 میں اے پی سی ہوئی، مسلم لیگ ن حکومت نے وعدہ کیا کہ سب سے پہلے مغربی روٹ پر کام شروع ہو گا لیکن یہ بھی جھوٹا سیاسی وعدہ ثابت ہوا کیونکہ پنجاب کے اندر اور پنجاب سے باہر پنجاب کے مفادات کو دیکھ کر ان راستوں پر کام شروع ہوا، کچھ پراجیکٹس تو مکمل بھی ہو گئے ہیں۔
عوامی نیشنل پارٹی کے سربراہ اسفند یار ولی خان نے 2015 میں ایک پریس کانفرنس کی تھی جس میں انہوں نے اعلان کیا تھا کہ یہ پاکستان چین کاریڈور نہیں بلکہ پنجاب چین کاریڈور ہے، یہ سارا مقدمہ لے کر اسفندیار ولی خان نے چین کا دورہ بھی کیا، لیکن چین مطمئن نہیں ہوا یا چین پنجابی سرمایہ داروں سے اور اسٹیبلشمنٹ سے مجبور تھا۔


ادھر وزیر اعلیٰ پرویز خٹک پر عوام کا دباؤ بڑھ رہا تھا۔ مغربی راستے پر کام شروع کرنا پشتونوں کا مطالبہ تھا۔ صوبائی حکومت نے احسن اقبال سے چکدرہ چترال موٹروے کا مطالبہ کیا، چین میں چھٹے جے سی سی اجلاس میں احسن اقبال اور پرویز خٹک موجود تھے۔ دونوں نے اس راستے کی بات چین سے کی اور چین نے منظوری بھی دی۔ احسن اقبال اور پرویز خٹک نے چین میں رہ کر ایک ویڈیو پیغام جاری کیا کہ چکدرہ سے چترال اور چترال سے گلگت موٹروے بنے گی اور اسے متبادل روٹ کا نام دیا گیا۔ مسلم لیگ حکومت نے اپنے پی ایس ڈی پی 2017 میں اس منصوبے کے لیے دس فیصد فنڈز بھی مختص کئے تھے۔ جب احسن اقبال اور پرویز خٹک چین میں میڈیا سے بات کر رہے تھے کہ ہم نے چکدرہ چترال موٹروے اور برہان سے تاکوٹ تک موٹروے منظور کر لی ہے۔ دونوں منصوبوں کا اعلان ایک ہی وقت میں ہوا تھا لیکن برہان سے مانسہرہ تک موٹروے کا افتتاح نومبر 2019 میں ہوا تھا۔ ڈپٹی کمشنر مانسہرہ کے مطابق مانسہرہ سے تاکوٹ تک موٹروے پر اسی فیصد کام مکمل کر دیا گیا ہے۔ باقی کام کرونا کی وجہ سے سست روی کا شکار ہوا ہے۔


یہاں یہ تضاد کیوں ہے؟ دونوں منصوبوں کا اعلان ایک وقت میں ہوا تھا، ایک منصوبہ مکمل ہوا ہے اور دوسرے منصوبے پر اسمبلی میں لڑائی ہو رہی ہے کہ کاغذات میں نہیں ہے۔ ایک وزیر کہتا ہے کہ میں نے چترال روڈ ابھی ابھی منظور کی ہے جبکہ دوسرا سابقہ وزیر کہتا ہے کہ میں نے منظور کی تھی۔ موجودہ وزیر نے پی ایس ڈی پی سے ابھی ابھی نکالا ہے حالانکہ چکدرہ چترال روڈ اور چترال سے شندور روڈ دو ہزار سترہ اور دو ہزار اکیس کے پی ایس ڈی پی رپورٹس میں موجود ہیں۔ اب تک کسی نے بھی کاغذات سے یہ منصوبہ نہیں نکالا ہے لیکن کاغذات میں یہ منصوبہ آپ ہزار بار لکھ لیں تو ہمیں کیا فائدہ ملا ہے۔ یہ منصوبہ ہر سال نئے پی ایس ڈی پی میں پرنٹ ہوتا رہتا ہے لیکن کوئی بھی اس منصوبے کے لیے فنڈز مختص کرنے کے لیے تیار نہیں ہے۔ اس وقت تحریک انصاف حکومت بھی سیاست سے کام لے رہی ہے جبکہ ن لیگ بھی سیاست کر رہی ہے۔ احسن اقبال نے کہا کہ ہم نے فیزیبلٹی رپورٹ بنائی تھی اور فنڈز کے لیے درخواست دی تھی تو کہاں ہے وہ درخواست اور وہ فیزیبلٹی رپورٹ کہاں ہے؟ میں یہاں اپنے اس مضمون کی وساطت سے دیر کے نوجوانوں کو یہ پیغام دینا چاہتا ہوں کہ پی ایس ڈی پی میں چترال سڑک دو ہزار سولہ سے ہے اور اب بھی موجود ہے لیکن حکومت کی ترجیحات میں شامل نہیں ہے، آپ کو احتجاج برقرار رکھنا ہے تاکہ پریشر برقرار رہے اور حکومت باقی منصوبے چھوڑ کر اس منصوبے پر کام شروع کرے، اس منصوبے کے لیے فنڈز مختص کرنا اب نوجوانوں کا نعرہ ہونا چاہیے۔


اس وقت صوبائی اور وفاقی حکومت کی ترجیحات میں کالام موٹروے پہلے نمبر پر ہے۔ کالام موٹروے کو دو ہزار سترہ میں پرویز خٹک حکومت نے سی پیک میں شامل کیا تھا جبکہ دو ہزار سولہ میں پرویز خٹک اور احسن اقبال نے اعلان کیا تھا کہ چکدرہ چترال روڈ کو سی پیک میں شامل کر دیا گیا ہے۔ اس سے واضح ہوتا ہے کہ دونوں منصوبے صوبائی حکومت کی ترجیحات میں شامل تھے لیکن فنڈز دونوں منصوبوں کے لئے مختص نہیں کئے گئے تھے۔ مسلم لیگ ن حکومت نے چترال سڑک کے لئے فنڈز نہیں دیئے تھے۔ اب جب تحریک انصاف کی حکومت ہے، سی پیک منصوبے بھی سست روی کے شکار ہیں، معاشی مشکلات بڑھ رہی ہے، چین کرونا سے لڑ رہا ہے، تحریک انصاف حکومت نے ن لیگ کے ساری معاشی پالیسیوں پر پانی پھیر دی ہے، چین کے ساتھ تعلقات میں بھی اس طرح دم نہیں ہے جو نوازشریف حکومت کے ساتھ تھی لہٰذا اب بڑی مشکل سے کالام موٹروے کے لیے چین سے اقساط میں فنڈز حاصل کرنے کی بات ہوئی ہے لیکن میں آپ کو بتاتا چلوں کہ 3.4 بلین روپے سعودی عرب نے کالام موٹروے کے لیے امداد دی ہے جس سے کام شروع ہو گا باقی سی پیک کے ذریعے کام ہو گا۔ یہ چین اور پاکستان پر منحصر ہے۔

دیر کے نوجوانوں نے جس طرح ٹویٹر پر ٹرینڈ چلایا اب امید پیدا ہو گئی ہے کہ دیر کے نوجوان حکومت کو دباؤ میں لا کر اس منصوبے کے لیے فنڈز حاصل کریں گے لیکن اس منصوبے کے لیے کورین بینک سے پہلی ہی بات ہوئی تھی لیکن موجودہ حکومت کہہ رہی ہے کہ کورین بینک نے موجودہ این ایچ اے سڑک کی تعمیر کے لیے فنڈز دینے کا وعدہ کیا تھا۔ وزیر اعلی خیبر پختونخوا نے کالام سڑک کے لیے سعودی عرب سے فنڈز لئے ہیں لہٰذا وزارت خزانہ اور عمران خان خود اس ایشو میں مداخلت کریں، ہم کورین بینک سے اور سی پیک اتھارٹی سے اس منصوبے کے لیے فنڈز حاصل کر سکتے ہیں۔ اب دیر کی تمام سیاسی جماعتیں بشمول تحریک انصاف کے ورکرز بھی ہر قیمت پر یہ موٹروے حاصل کرنا چاہتے ہیں، سارے سوشل میڈیا پر ایک آواز ہو چکے ہیں۔ حکومت کو اس پراجیکٹ پر کام کرنا ہے کیونکہ نوجوان اب بندوق کے لیے نہیں معیشت کے لیے فکرمند ہیں۔

کیا سوات موٹروے کو واقعی منتقل کردیا گیا ہے؟

سوات ایکسپریس وے کے دوسرے مرحلے کے لئے قومی اقتصادی کونسل کی انتظامی کمیٹی (ایکنک) کی جانب سے زمین کے حصول کی منظوری کے بعد دیر لوئر اور دیر اپر کے عوام میں تشویش پھیل گئیہے۔ وہ الزام لگاتے ہیں کہ وزیراعلی محمود خان نے دیر، چترال اور باجوڑ کا ترقیاتی منصوبہ سوات منتقل کر دیا ہے۔ سوات ایکسپریس وے کا77 کلومیٹر پر مشتمل دوسرا مرحلہ چکدرہ سے شروع ہو گا اور فتح پور پر اختتام پذیر ہو گا جبکہ تیسرے مرحلے میں اس ایکسپریس وے کو دیر اپر کے سیاحتی علاقے کمراٹ تک توسیع دینے کا منصوبہ زیر غور ہے۔ منصوبے کے دوسرے مرحلے کے زمین کے حصول کے لئے ایکنک نے20 ارب روپے کی منظوری دی ہے۔ مقامی لوگوں کا کہنا ہے کہ چکدرہ سے چترال اور پھر براستہ شندور گلگت تک یہ ہائی وے پاک چین اقتصادی راہداری کا متبادل روٹ تھا لیکن اب کورین ایڈ کے ساتھ اس کی تعمیر کا معاہدہ ہونا اس بات کی نشاندہی ہے کہ یہ روٹ سی پیک اب سی پیک کا حصہ نہیں رہا۔ ان کا شکوہ ہے کہ کئی سال گزرنے کے باوجود اس منصوبے کو اہمیت نہیں دی گئی اور مقامی لوگوں کو کئی دفعہ جھوٹ بھی بولا گیا کہ اس کے لئے بجٹ میں رقم مختص کی گئی ہے۔

گزشتہ دور حکومت میں اس وقت کے وزیراعلی پرویز خٹک نے سی پیک ساتویں جائینٹ کوآپریشن کمیٹی کے میٹنگ میں دیر چترال ہائی وے کو منصوبے کا متبادل روٹ کے طور پر شامل کرنے کا اعلان کیا تھا۔ اس سلسلے میں چند مہینے پہلے دیر قامی پاسون نے چکدرہ کے مقام پر دیر کے حقوق کے لئے ایک علامتی احتجاج بھی کیا تھا جس میں حکومت کے سامنے تین مطالبات رکھے گئے تھے جن میں دیر ڈویژن کا قیام، سیاحت بحالی کے پانچ سالہ پروگرام میں دیر کی شمولیت اور چترال-دیر ہائی وے کی تعمیر شامل تھے۔ اس وقت این اے 6 کے ایم این اے محبوب شاہ نے انہیں کہا تھا کہ ہائی وے کے لئے بجٹ میں ساڑھے17 ارب روپے مختص کئے گئے ہیں اور بہت جلد ہی مواصلات کے وقافی وزیر مراد سعید اس کا افتتاح کریں گے۔ اس کے علاوہ موجودہ وزیراعلی محمود خان نے بھی کئی دفعہ اس منصوبے پر جلد از جلد کام کرنے کی یقین دہانی کرائی ہے لیکن ابھی تک اس کسی قسم کا کام شروع نہیں ہو سکا ہے۔

حکومت کو چاہئے کہ سی پیک روٹ پر جلد سے جلد کام کا آغاز کرے کیونکہ وسطی ایشیائی ممالک تک رسائی کے لئے یہ ایک اہم روٹ ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ جس طرح سوات تک موٹروے یا ایکسپریس وے کی توسیع سے وہاں سیاحت کو مزید فروغ ملنے کی امید ہے اسی طرح چکدرہ سے چترال تک بھی اس موٹروے کو توسیع دی جائے کیونکہ دیر لوئر، اپر، چترال کے ساتھ ساتھ باجوڑ میں بھی کئی خوبصورت وادیاں اور علاقیں ہیں اور موٹروے کے قیام سے وہاں سیاحت کو کافی فروغ مل جائے گا۔ دیر میں ترقیاتی منصوبے نہ ہونے اور زیادہ تر ترقیاتی فنڈز سوات منتقل کرنے پر وزیراعلی کو سخت تنقید کا نشانہ بنایا جا رہا ہے۔ مقامی لوگوں کے مطابق اس منصوبے سے جہاں علاقے میں مختلف قسم کی صنعتیں شروع ہوں گی اور لوگوں کو منڈیوں تک رسائی حاصل ہو جائے گی وہاں دوسری طرف سیاحت ایک الگ صنعت کا درجہ حاصل کر سکتی ہے، ”یہ منصوبے اب وقت کی ضرورت بھی ہیں کیونکہ یہاں کے زیادہ تر مسافر خلیج ممالک میں ہیں جہاں اب مزدوری کا وہ مزہ نہیں رہا اور زیادہ تر لوگ اب واپس آ رہے ہیں۔”


خیال رہے کہ چکدرہ چترال موٹروے کے لئے تحریک کا اغاز گزشتہ مہینے وزیراعلی کی جانب سے سوات موٹروے کے دوسرے فیز کے آغاز کے بعد ہوا تھا۔ منصوبے کے آغاز کے چند دن بعد ہی وزیراعلی نے اپنے سوشل میڈیا پر اطلاع دی تھی کی دیر تا چترال ہائے وے کو بنانے کا منصوبہ ایک کورین کمپنی کو دیا گیا ہے جس پر ان پانچ اضلاع کے لوگ مزید سیخ پا ہوگئے اور موقف اختیار کر رہے ہیں کہ کورین کمپنی کو اس روڈ کا ٹھیکہ دینے نا مطلب یہی ہے کہ یہ روٹ اب پاک چین اقتصادی راہداری منصوبے کا حصہ نہیں ہے۔

شعراء بھی میدان میں

دیر چترال موٹروے منصوبے کی بحالی کے لیے شعرا بھی میدان میں کود پڑے اور ہر قسم جہدوجہد میں ساتھ دینے کا اعلان کر دیا ہے۔ اس سلسلے میں گذشتہ دنوں دیر لوئر، دیر اپر، باجوڑ اور چترال کے شعرا کا اجلاس منعقد ہوا جس میں کہا گیا کہ سٹرکیں علاقے کی تعمیر و ترقی کا سبب ہوتے ہیں لہذا دیر چترال موٹروے منصوبے کی بحالی وقت کی اہم ضرورت ہے۔ انہوں نے کہا کہ شعرا اپنے کلام و ادب کے ذریعے علاقے کے حقوق کے حصولی اور نوجوانوں کی سماجی بیداری کیلئے آواز اٹھائیں۔ انہوں نے کہا کہ دیر کو اللہ تعالی نے بے پناہ قدرتی حسن سے نوازا ہے مگر سیاحت کے شعبہ میں حکومتی اقدامات نہ ہونے کے سبب دیر پسماندہ چلا جارہا ہے۔ اس موقع پر شعرا نے دیر چترال موٹروے کے بحالی کے سلسلے ہر طبقہ فکر کے لوگوں کے ساتھ مکمل جہدوجہد کرنے کا عزم کیا۔

تین اضلاع کے وکلاء نے مشترکہ جدوجہد کا اعلان کر دیا
ضلع دیر، چترال اور باجوڑ کے وکلا نے دیر چترال موٹروے کی بحالی اور علاقے کے حقوق کیلئے جہدوجہد کا عزم کر لیا ہے۔
اس سلسلے میں دیر، چترال اور باجوڑ اضلاع کے وکلاء کا ایک اجلاس ہوا جس میں بڑی تعداد میں تینوں اضلاع کے وکلا نے شرکت کی، اجلاس سے سر رحیم شاہ خان، ڈسٹرکٹ بار تیمرگرہ کے صدر بادشاہ احد ایڈوکیٹ، سابقہ صدر جھان بہادر ایڈوکیٹ، حمیدالرحمان ایڈوکیٹ،واڑی بار کے صدر رضائاللہ ایڈوکیٹ، ڈسٹرکٹ بار دیر بالا کے صدر اکبرخان کوہستانی ایڈوکیٹ،دروش بار کے صدر سید فریدجان ایڈوکیٹ،اخوانزادہ ہدایت خان ایڈوکیٹ،ازاد بخت ایڈوکیٹ و دیگر نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ دیر چترال موٹروے کی تعمیر وقت کی اہم ضرورت ہے اور وکلا برادری دیر چترال موٹروے کے بحالی سمیت اپنے حقوق کیلئے تمام تر توانیاں استعمال کریں گے۔


انہوں نے کہا کہ سٹرکیں علاقے کے تعمیر و ترقی کا سبب ہوتے ہیں اس لئے دیر چترال کی ترقی اور سیاحت کے فروغ کیلئے موٹروے منصوبہ کو فی الفور شروع کیا جائے۔ مقررین نے کہا کہ علاقے کے حقوق کے حصول کیلئے عوامی بیداری ضروری ہے، ”سول سوسائٹی، تاجر، وکلا،انجمن تاجران،صحافی سمیت ہر شعبہ کے طبقہ فکر افراد دیر چترال موٹروے کے حصول کیلئے جاری جہدوجہد کا حصہ بن جائیں۔”

کیبل کار منصوبہ، ایک لالی پاپ

لوئر دیر میں ایک گرینڈ جرگے نے صوبائی حکومت کی جانب سے کمراٹ تا چترال کیبل کار منصوبہ مسترد کرتے ہوئے کہا ے کہ حکومت کی جانب سے انہیں لولی پاپ دینے کی کوشش کی جا رہی ہے، ”نواز شریف دور میں چکدرہ- چترال سی پیک کی متبادل روٹ کی منظوری دی گئی تھی لیکن موجودہ حکومت نے اس اہم منصوبے کو سی پیک منصوبے سے نکال کر مذکورہ پانچوں اضلاع کے عوام کے ساتھ ظلم اور نا انصافی کی ہے۔ جرگہ کے شرکاء کے مطابق ایک طرف ایک ضلع سوات کو موٹر وے کی منظوری دی گئی جبکہ دیر پائین، دیر بالا، اپر چترال، لوئر چترال اور با جوڑ کے پچاس لاکھ سے زائد آبادی کو نظر انداز کیا گیا۔ انہوں نے کہا سوات کی ترقی پر بھی ہم ناخوش نہیں لیکن اپنا حق بھی مانگتے رہیں گے۔


مقررین نے کہا چکدرہ چترال موٹر وے مذکورہ پانچ اضلاع کے عوام کا حق ہے اور اپنا حق لینے کے لئے ہر حد تک جانے سے گریز نہیں کریں گے۔ مذکورہ موٹروے کی بحالی کے لئے عوام کو متحرک کرکے احتجاجی تحریک چلائی جائے گی۔ جرگہ عمائدین نے وزیر اعظم عمران خان اور وزیر اعلی خیبرپختونخوا محمودخان سے مطالبہ کیا کہ چکدرہ، چترال، باجوڑ موٹروے منصوبے کو فوری طور پر بحال کیا جائے کیونکہ مذکورہ شاہرہ سینٹر اشیا ممالک تک کم وقت میں رسائی کا اہم اور محفوظ راستہ ہے۔ مقررین نے کہا کہ اگرچکدرہ چترال باجوڑ موٹر وے کو بحال نہ کیا گیا تو مذکورہ پانچوں اضلاع کے عوام سڑکوں پر نکل بھر پور احتجاج شروع کریں گے۔

یہ بھی پڑھیں

ٹرک آرٹ سے گھریلو اشیاء کی پینٹنگ تک کا سفر – تحریر: فیاض الدین

پشاور میں ٹرکوں پر اپنے برش سے رنگ بکھیرنے والے سیار خان کو جب کورونا …

%d bloggers like this: