ضلع خیبر ضم تو ہوا مگر مسائل حل نہ ہو سکے

مینہ وال شینواری

لنڈی کوتل تحصیل طرح طرح کے مسائل کی آماجگاہ بنی ہوئی ہے تاہم حکام کی جانب سے تاحال ان مسائل پر سنجیدگی سے توجہ دی گئی نہ ہی دی جا رہی ہے 

حکومتی دعوے کے مطابق ضم شدہ اضلاع میں ترقیاتی کاموں کے لئے183  ارب روپے مختص ہونے کے باوجود ضلع خیبر کی تحصیل لنڈیکوتل سے ایک وفاقی وزیر ایک سینیٹر اور تین ایم پی اے کے ہوتے ہوئے بھی کوئی نیا منصوبہ شروع نہ کر سکے۔ لنڈیکوتل میں بھی دیگر ضلعوں کی طرح بجلی اور پانی کا مسئلہ روز بروز بڑھتا جا رہا ہے۔ لنڈیکوتل گرڈ سٹیشن میں تعینات ایس ایس او ارشاد کی ناقص اور ظالمانہ پالیسی کے تحت لنڈی کوتل کے مختلف علاقوں، اولڈ شیخ مل خیل، نیو شیخ مل خیل، پیروخیل مختار خیل، میردادخیل، پیروخیل، خوگہ خیل اور دیگر علاقوں میں23  گھنٹے کی ظالمانہ لوڈشیڈنگ جاری ہے۔

Advertisements

بجلی لوڈشیڈنگ کے باعث علاقے کے تمام چھوٹے اور بڑے پانی کے ٹیوب ویلز بند پڑے ہیں۔ خواتین اور بچے کین میں دور دراز علاقوں سے سروں پر پانی لانے پر مجبور ہو گئے ہیں۔ لنڈی کوتل گرڈ سٹیشن کے ایس ایس او ارشاد کو گزشتہ ماہ ناقص کارکردگی پر تبدیل کر دیا گیا تھا لیکن سفارش کے تحت ان کو دوبارہ تعینات کر دیاگیا ہے جس کی وجہ سے لنڈی کوتل میں دوبارہ بجلی کی ظالمانہ لوڈشیڈنگ جاری ہے۔

اکیسوی صدی میں بھی ڈسٹرکٹ ہیڈکوارٹر اسپتال لنڈیکوتل میں15  سال سے گائنا کالوجسٹ ڈاکٹر کی پوسٹ خالی پڑی ہے جس کی وجہ سے مریض کو پشاور لے جانا پڑتا ہے اور بہت سے مریض راستے میں ہی مر جاتے ہیں۔ ہسپتال  کے ایمرجنسی یونٹ میں مریضوں کے لئے پنکھے ہی نہیں مزید سہولیات بھی نہ ہونے کے برابر ہیں۔ گرمی میں اضافہ اور اسپتال میں پنکھے نہ ہونے سے مریضوں کو تکالیف کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ ایمرجنسی یونٹ میں گرمی سے بچنے کیلئے کسی قسم کا بندوبست نہ کرنا محکمہ صحت کی لاپرواہی کا منہ بولتا ثبوت ہے اور محکمہ صحت کی کارکردگی پر سوالیہ نشان۔ اس مسئلہ کے حل کیلئے کون اپنا کردار ادا کرے گا۔

دیگر مسائل کی طرح لنڈی کوتل حیدارئے کنڈا کم شلمان روڈ اور لنڈی کوتل پیروخیل انگور باغ سے درگئی اور کم شلمان جانے والی سڑکیں گزشتہ دو سالوں سے طوفانی بارش کی وجہ سے ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہونے کے باعث کسی بھی  وقت حادثات کا سبب بن سکتے ہیں۔

علاقہ مکینوں کے مطابق اس حوالے سے منتخب نمائندوں، سی این ڈبلیو اور متعلقہ حکام اور دیگر اعلی حکام کو صورتحال سے آگاہ کر دیا گیا ہے لیکن ابھی تک روڈ کی دوبارہ مرمت کے لئے کسی قسم کے اقدامات نہیں کئے گئے ہیں جس کی وجہ سے علاقے کے عوام اور ٹرانسپورٹروں میں تشویش کی لہر دوڑ گئی ہے اور عوام کی مشکلات میں مزید اضافہ ہوگیا ہے۔ لنڈیکوتل کے تاریخی سرائے بازار میں جگہ جگہ باؤلے اور لاغر کتوں نے ڈھیرے ڈال دیئے جس کی وجہ سے تاجروں اور عوام کو شدید مشکلات کا سامنا ہے۔ گزشتہ ایک مہینے کے دوران لنڈی کوتل کے مختلف علاقوں میں باؤلے کتوں کے کاٹنے سے ایک درجن سے زائد افراد زخمی ہوگئے۔ لنڈی کوتل بازار کے تاجروں اور عوام نے محکمہ صحت کے حکام سے مطالبہ کیا کہ لنڈی کوتل ہسپتال اور بازار میں باؤلے اور لاغر  کتے کو ختم کرنے کے عملی اقدامات کریں۔

لنڈی کوتل حمزہ بابا مزار کے قریب سیر وتفریح کا پارک گراس اور دیگر سہولیات کی عدم دستیابی کی وجہ سے کھنڈرات کا منظر پیش کرتا ہے۔ لنڈی کوتل میں تفریحی پارک کے لیے خطیر رقم منظور ہوئی تھی لیکن پارک میں گراس اور دیگر کسی قسم کی سہولیات فراہم نہیں کی گئیں جبکہ پارک میں بنائے گئے جھولے بھی ٹوٹ گئے  جس کی وجہ سے پارک آنے والے بچوں جوانوں میں اضطراب پایا جاتا ہے۔

علاقے کے عوام نے کہا کہ سیر و تفریح پارک میں سہولیات کے حوالے سے ضلعی انتظامیہ اور دیگر متعلقہ حکام کو بار بار آگاہ کیا گیا ہے لیکن ابھی تک پارک میں سہولیات فراہم کرنے کیلئے کسی قسم کے اقدامات نہیں کیے گئے جوکہ افسوس کا مقام ہے۔ واضح رہے کہ حکومت ایک طرف قبائلی اضلاع میں عوام کو سیر و تفریح کے مقامات قائم کرنے کے بلند بانگ دعوے کرتی ہے جبکہ دوسری طرف لنڈیکوتل حمزہ بابا مزار کے ساتھ قائم واحد تفریحی پارک میں سہولیات کا یہ عالم ہے جس پر افسوس کے علاوہ اور کیا کیا جا سکتا ہے۔

لنڈی کوتل میں آئس نشہ کے استعمال میں خطرناک اضافہ ہوا ہے۔آئس نشہ میں زیادہ تر نوجوان  مبتلا ہوئے ہیں۔ طورخم بارڈر پر کام کرنے والے علاقے کے ہزاروں مزدور بے روزگار ہو گئے جبکہ علاقے میں کھیلوں کی سرگرمیاں جاری رکھنے کے لئے سپورٹس گرانڈ نہ ہونے کی وجہ سے  زیادہ تر نوجوان  آئس نشہ، ہیرو ئین، ڈرون نشہ اور دیگر منشیات کی لت میں گرفتار ہو گئے جبکہ کچھ نوجوان نشے کے نیل بین نامی انجکشن بھی لگاتے ہیں۔ لنڈی کوتل میں آئس نشہ فروخت کرنے اور پینے پر پابندی کے حوالے سے مقامی پولیس نے کسی قسم کے اقدامات نہیں کیے اور مقامی پولیس کی غفلت اور لاپرواہی کی وجہ سے آئس نشہ میں روز بروز اضافہ ہو رہا ہے جس کے باعث علاقے کے درجنوں نوجوان آئس نشہ کے عادی بن گئے اور ان کا مستقبل تاریکی میں ڈوب گیا ہے۔

لنڈی کوتل میں لاک ڈاؤن کے باعث تعلیمی ادارے بند ہونے سے  اور غربت اور بے روزگاری میں اضافے کی وجہ سے لنڈی کوتل کے زیادہ تر طلبا  محنت مزدوری کرنے  پر مجبور ہو گئے ہیں۔ حکومت کی طرف سے لاک ڈاؤن کے باعث گزشتہ تین مہینوں سے  تمام سرکاری اور نجی سکول بند پڑے ہیں جبکہ دوسری طرف علاقے میں غربت اور بے روزگاری میں اضافہ ہو گیا ہے جس کی وجہ سے مجبوری کے عالم میں زیادہ تر طلبا محنت مزدوری کرنے کے لئے ہتھ گاڑی چلا کر گھروں کی ضروریات پورے کر رہے ہیں۔

لنڈی کوتل کے دور افتادہ علاقہ میں2001  کے دوران تعمیر کیا گیا گورنمنٹ ٹیکنیکل کالج کم شلمان تاحال غیر فعال ہے۔ گزشتہ19 سالوں میں اس کو شروع نہیں کیا جا سکا حالانکہ لنڈیکوتل کے دور افتادہ اور پسماندہ علاقے کم شلمان میں اس ٹیکنیکل کالج کی تعمیر پر اس وقت تقریباً ایک کروڑ 31 لاکھ روپے کی لاگت آئی تھی۔2001  میں اس وقت کے متعلقہ حکام نے شلمان ٹیکنیکل کالج کو اس غرض سے تعمیر کیا تھا کہ لنڈی کوتل اور ضلع خیبر کے تمام علاقوں سے مختلف ہنر سیکھنے کے لئے طلبا اور نوجوان یہاں آکر داخلہ لیں گے اور یہاں سے فارغ ہو کر عملی زندگی میں کچھ سیکھ کر جائیں گے اور اپنے خاندان والوں کی کفالت کا ذریعہ بنیں گے لیکن اس وقت کے متعلقہ ذمہ دار حکام کی غفلت اور لاپرواہی اور بدقسمتی سے اس ٹیکنیکل کالج کو نہ تو ابھی تک شروع کرنے کے لئے ہنر مند اور کوالیفائیڈ اساتذہ کی ٹیم فراہم کی گئی اور نہ ہی اس حوالے سے علاقے کے لوگوں میں شعور بیدار کرنے کے لئے کوئی آگاہی مہم چلائی گئی۔ اس ٹیکنیکل کالج سے متعلق لنڈیکوتل کے تعلیم یافتہ افراد کی رائے ہے کہ اس وقت کے حکام بالا نے کالج کی فزیبیلیٹی اور جگہ کی موزونیت کے بارے میں کوئی سوچ بچار نہیں کیا تھا اور نہ اس حوالے سے علاقے کے عمائدین سے کوئی رائے لی تھی جس کی وجہ سے اس سے کوئی فائدہ نہیں لیا جا سکا اور ایک نامناسب جگہ پر اس کو تعمیر کیا گیا تھا۔

علاقے کے لوگوں کا یہ بھی کہنا ہے کہ شاید کک بیکس اور کمیشن کی خاطر اس وقت کے حکام بالا نے عجلت میں اس نا مناسب جگہ پر ٹیکنیکل کالج کو تعمیر کیا تھا۔ یہاں کے لوگوں کا یہ بھی کہنا ہے کہ نیب اس ٹیکنیکل کالج کی غیر فعالیت اور بے کار پڑا رہنے کے سبب معلوم کر کے ذمہ دار افسران کے خلاف انکوائری کریں۔ کم شلمان ٹیکنیکل کالج کی جگہ کے معائنے کے وقت معلوم ہوا کہ ابھی تک اس کالج پر چوکیداروں کو تنخواہیں تو دی جاتی ہیں لیکن عملاً اس سے کوئی مقامی باشندہ مستفید نہیں ہو سکا جس پر لوگوں نے افسوس کا اظہار کیا ہے۔

گزشتہ19 سالوں میں شلمان ٹیکنیکل کالج کی تزئین و آرائش اور اس کی مرمت پر بھی کسی نے توجہ نہیں دی ہے۔ جس کی وجہ سے ٹیکنیکل کالج کی دیواروں میں دراڑ یں پڑ گئی ہیں اور کالج کے کمروں اور ہالوں کو قریبی لوگ بطور گودام استعمال کرتے ہیں۔ جبکہ اس کالج کی کھڑکیوں اور دروازوں کے شیشے ٹوٹ گئے ہیں۔ مقامی لوگوں نے مطالبہ کیا ہے کہ چونکہ بہت بڑی عمارت خالی بیکار پڑی ہے اس لئے حکومت اور متعلقہ ادارے اس کو یا تو ہسپتال میں تبدیل کریں اور یا پھر اس کو لڑکیوں کے کالج میں تبدیل کریں تاکہ علاقے کے لوگوں کو کسی شکل میں اس کا فائدہ ملے۔

یہ بھی پڑھیں

اے این پی، قومی تحریک کا تسلسل

تحریر:مولانا خانزیب دنیا کی معلوم تاریخ میں پختونوں کی پہلی قومی تحریک جس نے اس …

%d bloggers like this: