ڈاکٹر نجیب اللہ، نہ کوئی شمع نہ کوئی آنسو

تحریر: روخان یوسفزئی

افغانستان کے صدر شہید ڈاکٹر نجیب اللہ کی اپنی موت سے چند دن پہلے کہی باتیں آج سو فیصد درست ثابت ہو چکی ہیں، اب بھی کچھ ”قوتیں” افغانستان میں قیادت کا بحران پیدا کرنے کی کوشش کرتیں اپنے اپنے ”کھلاڑیوں” کو میدان میں اتارنا چاہتی ہیں جو مرنے اور مارنے کے سوا اور کچھ نہیں جانتے، جن ساتھیوں نے شہید صدر سے ان کی زندگی میں مُنہ موڑا تھا بھلا آج انہیں اپنے محسن کی یاد کیوں کر آ سکتی ہے؟

بقول شاعر کے
اے میں ولی تھا نہ پیامبر
مگر جو کچھ کہا
وہ ہو کے رہا
ہاں اب بھی ان کی وہ تمام تقریریں ریکارڈ پر موجود ہیں جن میں وہ ہر بار اپنے وطن افغانستان کے تمام باشندوں سے جھولی پھیلا کر یہی کہتے رہے کہ خدارا دشمنوں کے ہاتھوں میں مت کھیلو، خدارا اس ملک کے استحکام اور ترقی کی مخالف قوتوں کے پروپیگنڈے اور نرغے میں مت آؤ اور جو ہمارے افغان بھائی اپنی سرزمین چھوڑ کر دوسرے ممالک میں ہجرت اور تکلیف کی زندگی گزار رہے ہیں آئیں اور اپنے اس ملک کو پھر سے آباد اور خوشحال رکھنے میں ہمارا ساتھ دیں ورنہ بعد میں ہم سب بہت پچھتائیں گے، یہاں کوئی ایسا نظام یا دستور نہیں بننے اور چلنے دیا جائے گا جو ہمارے دین، ہماری روایات اور اقدار کے خلاف ہو، ہم تو اس نظام کی بات کر رہے ہیں اور وہ نظام یہاں قائم کرنا چاہتے ہیں جس میں اس ملک کے غریب، مزدور اور کسان کے تمام بنیادی انسانی حقوق ہوں، سرمایہ داروں، جاگیرداروں، سرداروں، بندوق برداروں اور مذہب کے مقدس نام پر آپ کا استحصال کرنے اور آپ کو مختلف ناموں سے تقسیم کرنے والوں کو مکمل لگام دینے کے لیے ہم سب کو ایک ہونا پڑے گا، جنگ کسی بھی مسئلے کا حل نہیں کہ جنگ بذات خود ایک مسئلہ ہے، آپس کے تمام معاملات، غلط فہمیوں اور مغالطوں کا واحد حل اور راستہ باہم مذاکرات ہیں۔


مگر افسوس کہ اس وقت کسی نے بھی ان کی بات نہیں سنی اور نہ ہی اس پر عمل کیا، عمل تو کیا کہ یقین تک نہیں کیا لیکن آج افغانستان کی اکثریت خصوصاً نئی نسل پر یہ راز کھل گیا ہے کہ جو کچھ شہید ڈاکٹر نجیب اللہ اپنی قوم سے کہہ رہے تھے وہ بالکل سچ کہہ رہے تھے اور وہ ہی اس وطن کے اصل رکھوالے اور سگے بیٹے تھے۔ خیر بھول چوک ہو جاتی ہے لہذا آج بھی
کچھ نقش تیری یاد کے باقی ہیں ابھی تک
دل بے سروساماں سہی ویراں تو نہیں ہے
آج ان کی برسی کے موقع پر تمام افغانیوں کو اس بات کا عہد کرنا ہو گا کہ افغانستان میں پائیدار امن، ترقی، خوشحالی اور آبادی کے لیے ہم سب اپنا اپنا کردار ادا کریں گیکیونکہ آج موقع بھی ہے اور دستور بھی۔
اور اب تو حالات بھی کافی تبدیل ہو چکے ہیں، دائیں بازو اور بائیں بازو کا فرق بھی تقریباً ختم ہو چکا ہے، بڑی طاقتوں کی عالمی سیاسی پالیسی بھی یکسر بدل چکی ہے، ساری دنیا آج روشن خیالی، اعتدال پسندی، لبرل ازم اور سیکولرازم کی حامی بھی بن چکی ہے، افغانستان میں جموریت پسند، لبرل اور روشن خیال حکمران مسند اقتدار پر براجمان ہو چکے ہیں۔ اب تو ترقی پسندوں، قوم پرستوں، سوشلسٹوں اور ”کامریڈوں” کی سرگرمیوں اور ان کے نظریات پر بھی کسی قسم کی پابندی نہیں ہے بلکہ آج تو پوری دنیا ان کے گُن گاتی ہے۔ مذہبی انتہاپسندی، جہادی کلچر، طالبانائزیشن اور جنونیت کو جڑ سے اکھاڑا جا رہا ہے لہذا ایسے حالات میں شہید ڈاکٹر نجیب اللہ کی تقاریر اور افکار سے روشنی حاصل کرنا ہو گی، اپنے دوست اور دشمن کو پہچاننا ہو گا، ان کی قبر پر پھولوں کی چادر چڑھانے یا اس پر شمعیں جلانے سے کہیں زیادہ بہتر یہ ہے کہ افغانستان میں پائیدار امن اور استحکام کے لیے عملی طور پر قدم اٹھایا جائے۔


وہ جو اپنی قوم اور اپنے وطن کو مزید آگ اور خون سے بچانے کی خاطرکرسی اقتدار سے بھی الگ ہو گئے تھے اور جن کے لبوں پر مرتے دم تک یہی ایک نعرہ تھا ”وطن یا کفن” ”سر ورکوو خو سنگر نہ ورکوو” وہ جنہوں نے اپنی موت سے چند ہفتے قبل اس بات کی پیشنگوئی کی تھی کہ ” ایک بات وثوق کے ساتھ کہتا ہوں کہ میرے بعد افغانستان میں قیادت کا ایک ایسا بحران آئے گا جس پر کوئی بھی قابو نہیں رکھ سکے گا، آج جو لوگ اسلام اور مذہب کے نام پر افغانیوں کو آپس میں لڑا رہے ہیں ان لوگوں کے بعد آنے والے زیادہ جنگجو خطرناک اور مرنے مارنے والے ہوں گے، جب تک افغانستان کے داخلی معاملات میں پڑوسی ممالک مداخلت سے باز نہیں آئیں گے تب تک یہاں امن و امان نہیں آ سکتا، مجھے جس بات کا افسوس ہو رہا ہے وہ یہ کہ دور حکمرانی میں میرے اردگرد شب و روز بیٹھے ہوئے اتنے سارے لوگ کہاں غائب ہو گئے، انہیں زمین کھا گئی یا آسمان نے نگل لیا؟ آج تک کسی نے بھی میرے حق میں ایک آواز تک نہیں اٹھائی، مجھ سے اپنے قریبی نظریاتی دوستوں نے بڑی بے وفائی کی، کس پر اعتماد کروں؟ اپنے فوجی جرنیلوں اور ساتھیوں نے ایک سازش کے تحت مجھے اپنے عوام سے دور رکھا اور مجھے کسی نے بروقت صحیح صورتحال سے آگاہ نہیں رکھا، سازشی عناصر نے میرے اردگرد حصار کھینچ رکھا تھا، مجھے اپنے عوام سے ملنے نہیں دیا گیا، مجھے دیگر مسائل اور الجھنوں میں ڈال دیا گیا تھا، سب نے مجھ سے آنکھیں پھیر لیں۔”


یہ باتیں افغانستان کے صدر شہید ڈاکٹر نجیب اللہ نے اپنی موت سے چند دن پہلے کہی تھیں جو آج سو فیصد درست ثابت ہو چکی ہیں۔ اب بھی کچھ ”قوتیں” افغانستان میں ایک قسم قیادت کا بحران پیدا کرنے کی کوشش کر رہی ہیں اور اپنے اپنے ”کھلاڑیوں” کو میدان میں اتارنا چاہتی ہیں جو مرنے اور مارنے کے سوا اور کچھ نہیں جانتے اور جن ساتھیوں نے ڈاکٹر نجیب اللہ سے ان کی زندگی میں مُنہ موڑا تھا بھلا آج انہیں اپنے محسن کی یاد کیوں کر آ سکتی ہے؟ جس وقت پورا افغانستان طالبان کے نرغے میں آیا، ہر طرف شورش برپا ہوا تو اقوام متحدہ کے دفتر میں ڈاکٹر نجیب اللہ کی حفاظت پر مامور افراد کا تعلق علاقہ پنج شیر سے تھا۔ جن دنوں طالبان تحریک نے بہت زیادہ زور پکڑا تو ان محافظین نے انہیں بتایا کہ پاکستان کی خفیہ ایجنسیوں کا منصوبہ یہ ہے کہ کابل میں داخل ہو کر آپ دونوں بھائیوں کو قتل کر دیا جائے جس کے جواب میں ڈاکٹر نجیب اللہ نے کہا کہ آپ انقلاب افغانستان کے مخالف لوگ رہے ہیں، ہمیں آپ لوگوں نے قید بھی رکھا ہے اور ہماری حفاظت بھی کر رہے ہو لیکن جس طالب کا آپ نام لیتے ہیں وہ طالب تو پختون ہے بھلا ایک پختون طالب ہمیں کیوں قتل کرے گا ؟ محافظ نے ڈاکٹر صاحب اور ان کے بھائی احمد زئی کو سمجھایا کہ جن لوگوں کو آپ پختون طالبان سمجھ بیٹھے ہو یہ پختون نہیں ہیں بلکہ ”کوئی اور” لوگ ہیں جنہوں نے بھیس بدل کر طالب کی شکل و صورت اختیار کر رکھی ہے۔


آخری دنوں میں ڈاکٹر صاحب کو یہ پیشکش بھی ہوئی کہ آپ احمد شاہ مسعود کے ساتھ چلے جائیں، وہ آپ کو ہندوستان بھیج دیں گے لیکن ڈاکٹر صاحب نے یہ پیشکش ٹھکراتے ہوئے اپنے بھائی احمد زئی کو کہا کہ آپ ایک دفعہ مرنا چاہتے ہیں یا دس مرتبہ؟ یہاں اقوام متحدہ نے ہماری حفاظت کی ذمہ داری لی ہے، مجاہدین بھاگ رہے ہیں، ان کی اپنی سرنوشت معلوم نہیں پتہ نہیں ہم دونوں پھر کس کس کے ہاتھ فروخت ہوں گے اور کن کن لوگوں کا سامنا کرنا پڑے گا۔ ببرک کارمل، رشید دوستم اور دیگر جفا کاروں کے چہروں پر نظر پڑے گی، ان لوگوں کے سامنے سر جھکا کر بیٹھنا پڑے گا، مجھے تو یہ موت سے بھی زیادہ خطرے والی بات نظر آتی ہے، جس وقت مجاہدین کابل چھوڑ کر بھاگ گئے تو پھر وہی عسکر (محافظین) ڈاکٹر صاحب کے پاس آئے اور انہیں نکل جانے کی پیشکش کی لیکن وہ نہیں مانے۔


کابل پر سکوت طاری تھا، ہر طرف خاموشی اور خوف کا عالم تھا، پورا کابل ویران اور سنسان پڑا تھا، کوئی بھی ڈاکٹر صاحب اور ان کے بھائی کو روک نہیں سکتا تھا لیکن ڈاکٹر صاحب اقوام متحدہ کے بارے میں بڑے خوش بین تھے اور اپنے فیصلے پر قائم رہے، جیسے جیسے 26 ستمبر 1996ء کی رات گزرتی جا رہی تھی پورے افغانستان پر ایک خوفناک ڈراؤنی تاریکی پھیلتی جا رہی تھی، رات کے ندھیرے میں مسلح نقاب پوش لوگ اقوام متحدہ کے دفتر میں داخل ہوئے اور ڈاکٹر نجیب اللہ اور ان کے بھائی احمد زئی کو نامعلوم مقام پر لے گئے، دونوں کو آریانہ چوک میں ایک کرین کے ساتھ آویزاں کر کے پھانسی دی گئی اور افغانستان کے لوگ اپنی جمہوریت، قوم پرستی، آزادی اور انقلاب کی علامت کی بے حرمتی کا تماشا دیکھ رہے تھے، اور جس غیرانسانی اور غیراسلامی انداز میں دونوں لاشوں کی بے حرمتی کی گئی اس نے لوگوں کے اذہان میں طرح طرح کے شکوک پیدا کیے کیوں کہ اپنے مخالف کو قتل کرنے کے بعد ان کی لاش کی بے حرمتی پختونوں کے اجتماعی مزاج، تاریخ، عقیدہ اور روایت سے کوئی تعلق نہیں رکھتی یہ روایت عربوں کی ہے جنہوں نے مقتول کے جگر کو بھی اپنے دانتوں سے چبایا ہے یا اپنے مخالف کو قتل کرنے کے بعد ان کی لاش (عبداللہ بن زبیر) کو آویزاں کیا ہے۔


ڈاکٹر نجیب اللہ کو بھی القاعدہ سے تعلق رکھنے والے جنونی عرب اور کسی دوسری زبان بولنے والے طالبان نے ” کسی” کے کہنے پر قتل کر کے ان کی لاش کو آویزاں کر دیا، یہ طریقہ واردات عربوں کا ہے پختونوں کا نہیں، پختون تو اپنے مخالف کو قتل کرنے کے بعد اس کی لاش پر چادر ڈالتے ہیں اور اگر اسے تیز دھوپ میں قتل کر دیں تو لاش کو بھی سائے تلے کھینچ لاتے ہیں یہاں تک کہ مقبرے میں کسی قبر پر پاؤں تک رکھنے کو بھی گناہ سمجھتے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں

”میڑنی دی چہ یادیگی، پہ سندرو ہم پہ ویر”

تحریر: روخان یوسفزئی معروف ادیب، محقق اور صوفی ڈاکٹر پرویز مہجور کی یاد میں منعقدہ …

%d bloggers like this: