باچا خان کی تعلیمی اصلاحات

تحریر: نواب علی یوسفزئی

خان عبد القیوم خان سواتی ممبر صوبائی اسمبلی

جناب والا! آج کے دن میں اپنے صوبے کیلئے ایک نہایت مبارک دن خیال کرتا ہوں، جمعہ کا دن ہے جو اسلامی نقطہ نگا ہ سے بھی مبارک دن ہے اور بہت مدت کے بعد ہمارے صوبہ کی وہ خواہش آج کے دن پوری ہو رہی ہے جس کیلئے ہم مدت سے سوچ رہے تھے ، اور جدوجہد کر رہے تھے اور آج وہ خواہش ہمارے نوجوان آنربیل وزیر تعلیم کے ہاتھوں پوری ہوئی، ویسے بھی گزشتہ سال بھر میں یہ دعوے سے کہہ سکتاہوں کہ انہوں نے تعلیمی ادارے میں اس قدر انقلاب پیدا کر دیا ہے کہ صوبہ سرحد کے تمام باشندوں کو اس پر فخر و ناز ہو گا، میں آئربیل وزیر تعلیم کو مبارک باد دیتاہ وں اور اس کے ساتھ میں یہ عرض کرنا چاہتا ہوں کہ اس بل کی تیاری کے واسطے ہمارے آنربیل وزیر تعلیم نے جو کمیٹی مقرر کی تھی اس کے ممبران نے جو کا م کیا ہے میں اس سے بھی واقف ہوں، ان میں سے دو صاحب کا شکریہ ادا کئے بغیر نہیں رہ سکتا ہوں کہ انہوں نے اس بل کی تیاری میں سب سے زیادہ کام کیا ہے، ایک تو پرنسپل ایڈورڈ کالج پشاور ہیں اور دوسرے اسلم خان ایڈوکیٹ پشاور جنہوں نے نا صرف پشاور کے اندر بلکہ تمام ہندوستان کی یونیورسٹیوں اور ان کے قوانین دیکھنے کے لئے دورے کئے اور اپنا قیمتی وقت ہمارے لئے صرف کیا اور ہر یونیورسٹی جا کر بذات خود اس جگہ کے کارکنان سے تبادلہ خیال کیا جس سے ہمارا یہ بل تیار ہوا، ان کے ساتھ اس بل کی تیاری میں ایک دوسری قابل ترین ہستی بھی شامل ہے جس پر ہمارا صوبہ جتنا بھی فخر کرے وہ کم ہے ، وہ شیخ عبدالحمید صاحب موجودہ سینئر سب جج پشاور جس کی ذات کسی تعارف کی محتاج نہیں، اس صوبے کا ہر ایک با شندہ ان کو جانتا ہے اگرچہ وہ باہر دورے پر تشریف تو نہیں لے گئے مگر انہوں نے اس بل کی تیاری میں دوسرے دو ممبران سب کمیٹی سے مل کر نہ تو اپنی صحت کی پرواہ کی اور نہ ہی آرام کیا جس کا نیتجہ یہ ہے کہ یہ بل آپ کے سامنے پیش ہو رہا ہے،

میں یقین دلاتا ہوں کہ اس یونیورسٹی کے آئندہ مدراج طے کرنے کے ساتھ ساتھ جب آنربیل ممبران اس بل کا ملاحظہ فرمائیں گے تو ان کو معلوم ہو گا کہ ہم کیوں اس قدر اپنی جدا یونیورسٹی کی ضرورت محسوس کرتے تھے، اس لئے کہ جب بھی ہم اپنے نوجوانوں کے داخلوں میں ناکام ہوتے تھے حالانکہ اس انقلاب کے زمانے میں جو دنیا میں آ رہا ہے اور ہندوستان اور خود ہمارے صوبے میں بھی آ رہا ہے ہمیں سب سے زیادہ انقلاب کی ضرورت تعلیم کی ہے جس کو ہماری اپنی یونیورسٹی کا قیام ہی پورا کر سکتا ہے اور اپنی یونیورسٹی اور اس کے ماتحت تمام شعبہ جات تعلیم کے کالجوں کے قیام سے ہم باقی صوبوں کی محتاجی سے بچ سکتے ہیں، جب میں نے پوسٹ وار پلانز پر نکتہ چینی اس نظریہ کی بناء پر صوبے کی بہتری کے لئے تھی، چاہتا ہوں کہ ہمارا صوبہ ہندوستان میں کسی سے پیچھے نہ رہے، ان الفاظ کے ساتھ اس بل کے پیش کرنے کی تحریک کی تائید کرتا ہوں، اور اپنے تمام دوستوں سے عرض کرتا ہوں کہ وہ بھی میرے ساتھ اس میں شریک ہوں، اور آنربیل وزیر تعلیم کو مبارک باد دیتا ہوں۔


خان صاحب سردار اسد اللہ جان خان


جناب والا! میں نہیں جانتا کہ میں اپنے آپ کو مبارک باد دوں یا پھر صوبہ سرحد کو مبارک باد دوں، جو احسان ہمارے صوبے پر ہمارے آنربیل وزیر تعلیم یحی جان خان نے یہ علیحدہ یونیورسٹی بنا کر کیا ہے تو محض میں اتنا کہتا ہوں کہ ہر ایک قوم ہر ایک علاقہ اور ہر ایک ثقافت کا ایک مزاج عقلی ہوتا ہے، اگر ہم صوبہ سرحد کے رہنے والے ہیں تو ہمارے مزاج عقلی اور پنجاب کا اور سی پی اور یوپی کا اور ہو گا گو کہ ہم قومیت میں ایک ہیں مگر اس حساب سے ان میں اور ہم میں زمیں آسمان کا فرق ہے، بطور مثال میں یہ عرض کروں گا کہ ایک نہایت سیدھے سے مذہب اسلام کو لیں، ملک حجاز میں اس مذہب نے ظہور کیا تو اس کی جو تعلیمات ہیں وہ حجازی ہیں، جب وہ تعلیمات عجم میں آئیں وہاں عجمیوں نے اس کی شکل بدل دی، جس وقت یہ مذ ہب ایران میں آی اتو اس نے یہاں اور شکل اختیار کر لی، جس وقت یہ افغانستان آیا یہاں کچھ اور ہوامگر جس وقت یہ مذہب ہندوستا ن میں آیا تو اس نے ایک اور شکل اختیار کر لی کہ اسلام صرف کتاب میں نظر آتا ہے، اس کا مطلب یہ ہے کہ ایک خیال اور ایک قوم سے ایک خطہ نکل کر دوسرے خطہ میں آتا ہے تو پھر وہ دوسری شکل اختیار کر لیتا ہے اپنی ذہنیت کے مطابق یعنی دوسری قوم اپنے مزاج عقلی کے سانچے میں ڈال لیتی ہے جس طرح ہم ڈیموکریسی کو لیتے ہیں، یورپ کی ڈیموکرسی کو دیکھ کر حیران ہوتا ہوں،

انگریز ہمیشہ کہتے ہیں کہ ہمارا ملک ڈیموکرٹیک ہے جبکہ اس کے ساتھ صفت اشرافیہ کی لگی ہے، ڈیموکریسی ہندوستانی کر سکتے ہیں مگر خالص ڈیموکرٹیک، جب ہم یونان روم میں انقلاب دیکھتے ہیں وہ اور جگہوں میں نہیں دیکھتے، انگریزوں نے اسے اپنے مزاج عقلی کے مطابق ڈھال دیا، یہ ہر ایک قوم کی خصوصیات میں ہوتا ہے، وہ چیز جوباقی ہندوستان کے صوبوں کیلئے انہوں نے تیار کی ہے ہماری ذہنیت اس کو سمجھ سکتی ہے اس لئے صوبہ سرحد کو اس چیز کی ضرورت ہے کہ ان کے سمجھنے کے لئے ایسی چیز ہو جو کہ یہ لوگ خود اسے سمجھ سکیں کہ جس سے یہ لوگ آشنا ہوں، یہ یونیورسٹی ہماری اپنی ہو گی، ہم اس کو سمجھ سکتے ہیں مگر وہ چیز محال ہے جو کہ ہمارے دماغ کی پیدوار نہیں ہم اس کو سمجھ نہیں سکتے، ایک چیز کوفالو کرتے ہیں مگر سمجھنے کی طاقت نہیں، عرض یہ ہے کہ یہ یونیورسٹی بل آنربیل وزیر تعلیم نے اتنی تکالیف کے بعد اپنے دوستوں کے ذریعے اس ایوان کے سامنے پیش کیا ہے تو یہ روزمبارک ہے، یہ بل مبارک ہے، اللہ کرے ہم تمام زندہ ہوں اور اس پر عمل درآمد کو دیکھیں، اس سے جو قو م چار سال کے اندر ترقی کرے صوبہ سرحد کے اندر ایک سال میں اُبھر آئے گی، یونان نے اتنی کم آبادی کے باوجود جو ترقی کی ہے تو محض طریقہ تعلیم تھا، کوئی قوم ترقی نہیں کر سکتی جس کا تعلیم کا طریقہ بہتر قسم کا نہ ہو، میرے خیال میں یونان کی طرح ہمارے خطے میں آدمی پیدا ہو سکتے ہیں، جوکمی یہاں تھی وہ پوری ہو گی میں ان الفاظ کے ساتھ آنریبل وزیر تعلیم کا شکریہ ادا کرتا ہوں۔


پیر شہنشاہ ممبر صوبائی اسمبلی :


جناب صدر! میں اپنے وزیر تعلیم اور خدائی خدمتگار وزیر علیٰ ڈاکٹر خان صاحب کا شکریہ ادا کرتا ہوں اور ان کو مبارک باد دیتا ہوں کہ ہمارے ایک خدائی خدمت گار کے ہاتھوں سے پشاور یونیورسٹی کی بنیاد رکھی گئی، ہمارے نوجوان وزیر تعلیم ہمیشہ اس فکر میں رہتے تھے اور ان کی یہ سوچ تھی کہ کسی طرح ہم اپنی ایک یونیورسٹی تعمیر کریں کیونکہ ہماری زبان رسم ورواج دوسروں سے جدا ہیں، صوبوں کے رسم وروج ایک دوسرے سے الگ ہیں تو ان کی طرح ہماری بھی یہ ضرورت تھی کہ ہم اپنی یونیورسٹی بنائیں اور ہماری قوم ترقی کی راہ پر چل پڑے۔ اللہ کا شکر ہے کہ آج ہماری یہ خواہش پوری ہو گئی، وہ بھی ایک خدائی خدمت گار کے ہاتھ سرانجام پائی جو ہماری روز اول سے خواہش تھی، میں امید کرتا ہوں جب یہ یونیورسٹی بن جائے گی تو ہماری قوم مختصر مدت میں ترکی طرح تعلیم یافتہ ہو جائے گی، جس طرح مصطفی کمال اتا ترک نے اپنی قوم کو تعلیم یافتہ بنایاتھا اس طرح صوبہ سرحد دوسرے صوبوں کے مقابلے میں علمی میدان میں بھی ترقی کرے گا، اس پر میں وزیر تعلیم کو ایک مرتبہ پھر دلی مبارک باد پیش کرتا ہوں۔


سردار رام سنگھ، ممبر صوبائی اسمبلی:


جناب صدر! ایوان میں ہر طرف سے آنریبل وزیر تعلیم کو یونیورسٹی بل پیش کرنے پر مبارک باد پیش کی جا رہی ہے تو میں بھی اس میں شریک ہوتا ہوں، ہماری مدت سے یہ خواہش تھی کہ سرحد صوبہ بھی اس قابل ہو کہ اس کی اپنی یونیورسٹی ہو، ہمارے لڑکے انجینئرنگ، میڈیکل اور ویٹرنری کے حصول تعلیم کے لئے باقی صوبوں کے کالجوں میں داخل ہوتے تھے تم ہم محسوس کرتے تھے کہ کبھی اپنے صوبے میں علیحدہ یونیورسٹی بنائیں گے جبکہ ہمارے لئے مواقع باقی صوبوں میں بند ہیں، کس طرح اس پر عبور کر لیا جائے آ ج خدا کا شکر ہے کہ پاپولر گورنمنٹ کے وقت آنریبل وزیر تعلیم کی وجہ سے جو تعلیم میں ماہر ہیں آج یہ موقع نصیب ہوا کہ ہم اس ایوان میں یونیورسٹی بل پیش کر رہے ہیں، جب آنریبل وزیر تعلیم نے ایجوکیشن ایڈوائزری کمیٹی مقرر کی تو میں ان کے ساتھ رابطہ میں تھا اور دیکھ رہا تھا کہ آنریل وزیر تعلیم کس طرح کوشاں ہیں کہ جلدی یونیورسٹی قائم ہو جائے، خان عبدالقیوم سواتی نے جس طرح کہا ہے کہ ایڈوائزری کمیٹی کے ممبران نے محنت سے کام کیا ہے تو میں کہتا ہوں کہ ایوان کو اس کا شکرگزار ہونا چاہیے، میں آنریبل وزیر تعلیم کو مبارک باد پیش کرتا ہوں، خدا کرے کہ وہ وقت جلد آئے کہ ہم یونیورسٹی کے امتحانات یہاں خود شروع کریں تو اس طرح میڈیکل او ر ویٹرنری کالج بھی کھول لیں گے۔خان عبدالعزیر خان ممبر صوبائی اسمبلی:


جناب صدر مجلس! جب یہ بل اس معزز ایوان میں پیش ہوا تو میرا ذہن فوراً اُس تقریر کی طرف گیا جو گزشتہ اسمبلی سیشن میں آنریبل وزیر تعلیم نے کی تھی، گزشتہ اسمبلی میں آنربیل وزیر تعلیم اپنی تقریر میں جو پروگرام پیش کر رہے تھے اور جب ہم اپنے صوبائی بجٹ کو دیکھ رہے تھے تو یہ پروگرام مجھے مشکل نظر آنے لگا لیکن جب اللہ مدد کرے تو مشکل کام بھی آسان ہو جاتا ہے، اسی تقریر میں ہم سے یہ بھی کہا گیا کہ تعلیم کی روشنی ہر پختون کے گھر تک پہنچائیں گے، جب بجٹ سیشن شروع ہوا اور میں نے محکمہ تعلیم کا پروگرام دیکھا تو فوراً میرے ذہن میں یہ بات آ گئی کہ جو تعلیمی پروگرام بنا ہے وہ پایہ تکمیل تک پہنچ جائے گا لیکن جب یونیورسٹی بل سامنے آیا تو میرا یقین پختہ ہوا کہ اب ہر پختون بچے کو علم کی روشنی پہنچ جائے گی۔ جناب صدر! اگرچہ ہم اپنے بچے پنجاب یونیورسٹی تعلیم حاصل کرنے بھیجتے تھے مگر وہاں ان کے ساتھ سوتیلی ماں جیسا سلوک ہوتا تھا، وہ ہمارے بچوں پر اتنی توجہ نہیں دیتے تھے جتنی توجہ پنجاب کے طالب علموں کو دی جاتی تھی۔ اب میں آنریبل وزیر تعلیم کا شکریہ ادا کرتا ہوں اور آئندہ کیلئے یہ توقع رکھتا ہوں کہ وہ اس یونیورسٹی کا نام سرحد یونیورسٹی رکھیں گے، ہم ان کے بہت مشکور و ممنون رہیں گے، آنریبل وزیر تعلیم کو اللہ پاک اپنے نیک ارادوں میں کامیاب کرے۔ (جاری ہے)

یہ بھی پڑھیں

”انجمن اصلاح الافاغنہ“ پہلی پختون اصلاحی اور تعلیمی تحریک

باچاخان ریسرچ سنٹر خان عبدالغفار خان یعنی باچا خان جس دور میں پیدا ہوئے اْس …