اسٹیبلشمنٹ بمقابلہ جمہوریت – تحریر:محفوظ جان

اسٹیبلشمنٹ اور جمہوریت کے مابین جنگ میں جیت ھمیشہ اسٹیبلشمنٹ کی ہوئی ہے اور ہار ھمیشہ سیاستدانوں کی نہیں ملک کی ہوئی ہے، دیکھتے ہیں اس مرتبہ سیاستدان ماضی کی طرح سودا کرتے ہیں یا مستقل طور پر پارلیمانی جمہوریت اور بقاء کی خاطر کوئی ٹھوس لائحہ عمل ترتیب دے کر مستقل طور پر اسٹیبلشمنٹ کی عملداری سے نجات حاصل کر تے ہیں

آج ایک طرف عسکری سربراہان کہتے ہیں کہ ان کا سیاسی معاملات میں کوئی عمل دخل نہیں تو دوسری طرف ان کے سکہ بند ترجمان ٹی وی پر لائیو ٹاک شو میں دھمکیاں دے رہے ہیں کہ فوج ملک اور جمہوریت دونوں کو چلا رہی ہے اور اگر کسی نے جمہوریت کو نقصان پہنچانے کی کوشش کی تو مرغے کی طرح کان پکڑیں گے۔


آج تک اس ملک میں یہ پتہ نہیں چلا کہ ملک کے پہلے وزیر اعظم لیاقت علی خان سے لے کر فیروز خان نون تک اور ذوالفقار علی بھٹو سے لے کر نواز شریف تک کسی بھی وزیر اعظم کو کام کیوں کرنے نہیں دیا گیا، کوئی بھی وزیراعظم اپنا وقت پورا کیوں نہ کر پایا؟ اس کے برعکس ہر آمر بلا شرکت غیرے گیارہ گیارہ سال تک کیوں براجمان رہا؟ لیاقت علی خان کو کیوں قتل کیا گیا، ذوالفقار علی بھٹو کیوں پھانسی دی گئی، بینظیر کی دو حکومتیں کیوں اور کس نے برطرف کیں اور ان کو کس نے قتل کیا؟ نواز شریف تین مرتبہ منتخب وزیر اعظم ہونے کے باوجود کیوں معتوب ٹھہرے اور معزول ہوئے اور کس نے ملک بدر کیا، کس نے واپس بلایا اور کس نے جیل بھیجا؟
آخر وہ کون سے خفیہ ھاتھ ہیں جو کبھی پردے کے پیچھے اور کبھی پردے کے سامنے آ کر حکومتیں بناتے اور گراتے ہیں؟ یہ سب پراسرار کہانیاں حالات واقعات ہمارے سامنے دن دہاڑے رونما ہوئے مگر نہ کسی کو سوال اٹھانے کی اجازت نہ کسی میں جواب دینے کی جرات بس چلتی کا نام گاڑی۔


اسٹیبلشمنٹ سے نواز اور بینظیر تو کیا محمد خان جونیجو جیسا شریف اور بے دست و پا وزیراعظم بھی برداشت نہ ہو پایا جس کو وہ خود1985 میں ایک غیر جماعتی الیکشن کے ذریعے (جس کا تمام اپوزیشن پارٹیوں نے بائیکاٹ کیا تھا) لائے تھے، ان کو بھی ڈھائی سال برداشت نہ کر پائے اور مئی1988 میں ان کو گھر بھیج دیا گیا۔ خوش قسمت تھے جو پھانسی نہیں چڑھے اور نہ ملک بدر ہوئے۔


اس سے پہلے پاکستان بننے کے بعد قائداعظم کے ساتھ جو سلوک ہوا وہ ہماری تاریخ کا ایک سیاہ باب ہے کہ گورنر جنرل ہوتے ہوئے بھی ریلوئے پھاٹک پر ایک درخت کے نیچے ایمبولینس میں جان دے دی۔
وزیر اعظم لیاقت علی خان کو بھرے جلسے میں گولی مار دی گئی اور گولی مارنے والے قاتل سید اکبر کو انسپکٹر نجف خان نے موقع پر گولی مار کر ثبوت ختم کر دیئے۔ پھر لیاقت علی خان قتل کیس کے تحقیقاتی افسر کو جو پنڈی سے کیس سے متعلق اھم ثبوت اور دستاویزات ایک چھوٹے طیارے میں کراچی لے جا رہا تھا کہ اس کے طیارے کو ثبوتوں سمیت ہوا میں ہی اڑا دیا گیا اور آج تک لیاقت علی خان کیس کا پتہ نہیں چلا۔
پھر ایک اپاہج اور بزدل سول سرونٹ غلام محمد کو ملک پر مسلط کیا گیا جس نے ایوب خان اور سکندر مرزا کے ذریعے پاکستان کی ریاست و سیاست کی وہ مٹی پلید کی جس کا خمیازہ آج73 سال بعد بھی ملک و قوم بھگت رہے ہیں۔


غلام محمد نے تین وزرائے اعظم برطرف کئے۔ اسمبلی کے سپیکر مولوی تمیز الدین اپنا کیس لے کر سندھ ھائی کورٹ کے انگریز چیف جسٹس کی عدالت میں پہنچ گئے جس نے غلام محمد کے حکومت کی برطرفی کے فیصلے کو کالعدم قرار دیا تو غلام محمد فیڈرل کورٹ (سپریم کورٹ) پہنچ گئے جہاں سے جسٹس منیر کے بدنام مانہ نظریہ ضرورت کے تحت سندھ ھائی کورٹ کا فیصلہ کالعدم قرار دے کر وہ اپنے غیر آئینی اقدام کی توسیع لینے میں کامیاب ہوئے۔


اور پھر چل سو چل!1951 سے1958 تک چھ وزرائے اعظم خواجہ ناظم الدین، محمد علی بوگرہ، چوہدری محمد علی، حسین شھید سھروردی، آئی آئی چندریگر اور ملک فیروز خان نون برطرف کئے گئے جس پرھندوستان کے وزیراعظم جواہرلال نہرو نے پھبتی کسی کہ اتنے تو میں اپنی دھوتیاں نہیں بدلتا جتنے پاکستان میں وزیراعظم بدلتے ہیں۔ ان تمام ادوار میں ایوب خان، جو 1951 سے ملک کے کمانڈر ان چیف تھے حکومت کا حصہ بھی بنے رہے اور وفاقی کابینہ میں وزیر دفاع کے طور پر بھی براجمان رہے، غلام محمد اور سکندر مرزا کے ساتھ ان تمام کارستانیوں میں شامل جرم رہے اور بالآخر اکتوبر1958 میں پردے کے پیچھے سے نکل کر ملک میں مارشل لا نافذ کر کے زمام اقتدار خود سمنبھال لیا۔ پھر ایک رات صدر سکندر مرزا کی کنپٹی پر اس کی ایران النسل بیوی ناہید کے سامنے پستول رکھ کر صدارت بھی چھین لی اور خود بلاشرکت غیرے ملک کے سیاہ و سپید کے مالک بن بیٹھے۔


اس کے بعد تمام سیاسی قیادت کو ایبڈو (elected body disqualification order) کے ذریعے نااہل قرار دے کر ان کی سیاست میں حصہ لینے پر پابندی لگا دی گئی، ملک کو بغداد کے پیکٹ کے ذریعے امریکہ کی غلامی میں جھونک دیا گیا، امریکہ کو خفیہ فوجی اڈے فراھم کئے، پشاور کے قریب بڈہ بیر میں واقع خفیہ امریکی اڈے کا پتہ تب چلا جب روس نے امریکی ساخت کا U2 جاسوس طیارہ مار گرایا۔ اندرونی طور پر ایوب خان نے کنونشن مسلم لیگ کے نام سے اپنی سیاسی پارٹی بنائی اور1956 کا آئین منسوخ کر کے1962 کا اپنا آئین متعارف کرایا۔ مشرقی پاکستان (بنگال) کا معاشی ناطقہ بند کیا گیا جس سے وہاں محرومیاں بڑھنے لگیں اور علیحدگی کی تحریک دوام پکڑنے لگی۔ سندھ طاس منصوبے کے تحت اپنے تین دریا راوی، ستلج اور بیاس ھندوستان کو بیچ ڈالے۔


اپنی صدارت کو جواز فراھم کرنے کے لیئے جعلی ریفرنڈم کا ڈرامہ رچایا اور پھر1964 کے صدارتی انتخابات میں قائد اعظم کی بہن فاطمہ جناح کو بھارتی ایجنٹ اور غدار قرار دے کر جھرلو کے ذریعے ھرایا گیا۔ واقفان حال لکھتے ہیں کہ فاطمہ جناح کی بھی پراسرار موت واقع ہوئی جس کی حکومتی سطح پر کوئی تحقیق و تفتیش نہ ہو سکی۔ یاد رہے کہ فاطمہ جناح کی انتخابی مھم مشرقی پاکستان میں غدار شیخ مجیب الرحمان چلا رہے تھے اور مغربی پاکستان میں غدار خان عبدالولی خان چلا رہے تھے۔
1969 میں11 سال تک بلاشرکت غیرے اقتدار میں رہنے کے بعد جب اپنی بنائی ہوئی کنونشن مسلم لیگ کے سابق جنرل سیکرٹری اور وزیر خارجہ ذوالفقار علی بھٹو کے ہاتھوں شدید عوامی غیض و غضب کا سامنا کرنا پڑا تو خود ساختہ فیلڈ مارشل اور ڈکٹیٹر نے اپنے ہی بنائے ہوئے1962 کے آئین کی دھجیاں بکھیرتے ہوئے اقتدار قومی اسمبلی کے سپیکر کو سونپنے کی بجائے شباب و کباب کے رسیا فوج کے کمانڈر ان چیف جنرل یحیی کے حوالے کیا اور خود چلتے بنے۔


جنرل یحیی پاکستان کی تاریخ کے سب سے نااہل ترین جرنیل ہونے کے ساتھ ساتھ شرم و حیا سے عاری نہایت بدکردار شخصیت کے مالک تھے۔ ملک کی مشہور و معروف فحش عورتیں ان کی راتیں رنگین بنانے ایوان صدر میں براجمان رہا کرتی تھیں جن میں میڈم نور جہاں اور آج کے جانے پہچانے سنگر فخرعالم کی نانی بیگم اقلیم اختر المعروف جنرل رانی کا نام سر فہرست تھا۔


یہ جنرل یحیی کا ہی دور تھا کہ مشرقی پاکستان پر فوج کشی کی گئی اور ملک دو لخت ہوا۔ جس رات سقوط ڈھاکہ ہوا اسی رات جنرل یحیی لاھور کے گورنر ھاؤس میں میڈم نورجہاں کے ننگے بدن پر شراب انڈیل کر چاٹنے میں مصروف رہے۔ اس دور میں صدر یحیی کی رنگ رلیوں کے بارے میں دلچسپ کہانیاں زبان زد عام تھیں جن میں سے ایک یہ کہ ایک مرتبہ اداکارہ ترانہ صدر یحیی کو ملنے ایوان صدر جا رہی تھی تو گیٹ پر پولیس افسر نے روک لیا مگر اوپر سے حکم صادر ہونے پر ان کو اندر جانے دیا گیا۔ واپسی پر جاتے ہوئے اسی پولیس افسر نے ترانہ کو سلوٹ کیا جس پر ترانہ نے پوچھا کہ اب کی بار سلوٹ کیوں مار رہے ہو؟ تو پولیس افسر نے برجستہ جواب دیتے ہوئے کہا کہ اس وقت آپ صرف ترانہ تھی اور اب آپ قومی ترانہ بن چکی ہیں۔ آدھا ملک گنوا کر ذلیل و رسوا ہونے کے بعد جنرل یحیی رخصت ہوئے تو چار و ناچار لٹے پٹے ملک کو سیاستدانوں کے حوالے کر دیا گیا۔


سیاستدانوں نے اپنے تمام تر اختلاف کو پس پشت ڈال کر ملک کو پھر سے آباد کرنے کے لئے تنکا تنکا جوڑنا شروع کیا۔ ملک کو پہلا آئین دیا۔ بھارتی قید سے90 ہزار فوجی رہا کروا لائے اور ھندوستان سے اپنے مقبوضہ رقبہ جات بھی واہ گزرا کر لائے۔ بے شمار ترقیاتی منصوبوں کی بنیاد رکھ کر ملک کو ترقی اور استحکام کی راہ پر ڈال دیا گیا۔ اس دوران اپوزیشن اور بھٹو حکومت کے مابین چل رہے سیاسی محاذآرائی کا فائدہ اٹھاتے ہوئے صرف تین سال بعد پھر سے آئین توڑ کر ملک میں براہ راست فوجی آمریت مسلط کر دی گئی۔
بدترین ضیائی آمریت گیارہ سال تک چلتی رہی جس کے دوران ملک میں سیاست اور جمہوریت کا گلا گھونٹا گیا، سیاسی کارکنوں کو پابند سلاسل کرنے اور ان کو ٹارچر سیلوں میں شدید جسمانی تشدد کا نشانہ بنانے کے ساتھ ساتھ عوام الناس میں دہشت پھیلانے کی خاطر معمولی جرائم پر سر عام کوڑے مارے گئے۔ ملک کو لسانیت اور فرقہ واریت کی بھٹی میں جھونک دیا گیا۔ شیعہ سنی فسادات کروائے گئے۔ ایم کیو ایم کو وجود میں لا کر کراچی میں آگ و خون کا کھیل کھیلا گیا جس کے نتیجے میں ہزاروں بے گناہ لوگوں کو موت کی وادی میں دھکیلا گیا۔


مدارس اور تعلیمی اداروں میں مذہبی انتہا پسندی کو فروغ دے کر ملک میں جہادی کلچر کو فروغ دیا گیا۔ افغان جنگ میں کود کر امریکی اور سعودی پٹرول، ڈالر اور ہیروئن کے کاروبار کے ذریعے چند جرنیلوں اور ان کے حاشیہ برداروں نے اربوں ڈالر تو کما ڈالے مگر بدلے میں ملک و قوم کو جہادی جتھے، فرقہ واریت، مذہبی انتہا پسندی، قتل و غارت گری، ہیروئن اور کلاشن کوف کلچر تحفے میں دیئے۔ سیاہ چن کو بھارت کے حوالے کیا گیا۔


11 سال تک ملکی سیاست اور جمہوریت کا ستیاناس کرنے کے بعد جب امریکہ کے کسی کام کا نہ رہا تو17 اگست 1988 کی دوپہر بہاولپور کی فضاؤں پر اڑتے ہوئے ان کے سی ون تھرٹی طیارے کو ان کے گیارہ معتمد جرنیل ساتھیوں اور امریکی سفیر کے ہمراہ ہوا میں اڑا دیا گیا۔
اس کے بعد چار و ناچار اسٹیبلشمنٹ نے اپنے سرخیل غلام اسحاق کو آگے لا کر نومبر1988 میں جماعتی بنیادوں پر انتخابات کا انعقاد کیا۔ دھاندلی زدہ انتخابات کے ذریعے عوامی حکومت بننے میں رکاوٹیں کھڑی کی گئیں۔ پیپلز پارٹی کی بینظیر بھٹو سے ایک معاہدے کے ذریعے غلام اسحاق کو صدر، اسلم بیگ کو آرمی چیف، وی اے جعفری کو امور خزانہ اور صاحبزادہ یعقوب کو وزیر خارجہ تسلیم کروا کر بے دست و پا حکومت حوالے کر دی گئی۔


بینظیر بھٹو کے اختیارات کا یہ عالم تھا کہ ان کو امریکہ، کشمیر اور افغان امور میں مداخلت کی اجازت نہ تھی یہاں تک کہ وزیر اعظم ہوتے ہوئے بھی ان کو کہوٹہ ایٹمی پاور پلانٹ کا معائنہ کرنے سے روک دیا گیا تھا۔ ان سب پابندیوں کے باوجود اسٹیبلشمنٹ کو ایک بے دست و پا سیاسی حکومت ایک آنکھ نہ بھائی، انہیں کرپشن کے ساتھ ساتھ سکھ علیحدگی پسندوں کی لسٹیں راجیو گاندھی کے حوالے کرنے کے جھوٹے الزام لگا کر سکیورٹی رسک قرار دیا گیا اور پھر صرف بیس مہینے بعد اگست1990 کو آئی ایس آئی کے اسلام آباد کے بدنام زمانہ سٹیشن ڈائریکٹر میجر عامر کے زیر کمان آپریشن مڈ نائٹ جیکالز نامی کارروائی کے تحت ٹرپل ون بریگیڈ نے وزیراعظم ہاؤس کو قبضے میں لیا اور منتخب وزیراعظم کو گرفتار کر لیا۔ صدر غلام اسحاق نے حکومت اور اسمبلیاں برخاست کرنے کا حکم جاری کیا۔ بینظیر بھٹو کے ایک سابق انکل غلام مصطفی جتوئی کی قیادت میں نگران حکومت بنا ڈالی گئی۔


اس کے بعد اسٹیبلشمنٹ نے ملکی سیاست میں اپنا گھناؤنا کردار ادا کرتے ہوئے اپنے پرودرہ سیاسی فصلی بٹیروں کی کھیپ تیار کر کے آئی جے آئی کے پلیٹ فارم سے نواز شریف کی قیادت میں اپنی طفیلی حکومت بنا ڈالی اور ملکی اور بین الاقوامی سطح پر وہی کھیل جاری رکھا جو ضیاالحق ٹولے کا مشن تھا۔
وزیر اعظم نواز شریف جیسے جیسے اسٹیبلشمنٹ کی ریشہ دوانیوں اور ریاستی امور میں مداخلت کو سمجھنے لگے اور اپنی اتھارٹی منوانے کی کوشش کی ویسے ویسے وہ اسٹیبلشمنٹ کے دل میں کھٹکنے لگے، فاصلے اتنے بڑھنے لگے کہ ڈھائی سال بعد مئی1993 میں غلام اسحاق خان ہی کے ذریعے دوسری جمہوری حکومت گرا دی گئی۔ بینظیر بھٹو کے برعکس نواز شریف ایک پنجابی وزیراعظم ہونے کے ناطے جسٹس نسیم حسن شاہ کی سپریم کورٹ سے اپنے خلاف غلام اسحاق خان کے فیصلے کو کالعدم قرار دے کر اپنی حکومت بحال کروانے میں کامیاب تو ہو گئے مگر چند دنوں بعد چیف آف آرمی سٹاف جنرل عبدالوحید کاکڑ کی مداخلت پر ایک معاہدے کے تحت نواز شریف اور غلام اسحاق خان دونوں کو گھر بھیج دیا گیا اور امریکہ سے ایک گمنام شخص معین قریشی کو لا کر نگران حکومت بنائی گئی۔ 1993 میں اقتدار ایک مرتبہ پھر سے بینظیر بھٹو کی پیپلز پارٹی کو سونپ دیا گیا۔ کاش! یہ دو بڑی جماعتیں اقتدار کی خاطر اس وقت اسٹیبلشمنٹ سے سودے بازی نہ کرتیں تو آج ملکی حالات اور سیاسی اقدار و روایات اس سے مختلف ہوتے۔


پیپلز پارٹی اور اسٹیلشمنٹ کی مسلم لیگ (ضیا کی باقیات) کے درمیان اقتدار و اختیار کی رسہ کشی جاری رہی۔ سیاستدانوں کے خلاف روایتی ہتھیار کرپشن کے الزامات کو استعمال کرتے ہوئے پیپلز پارٹی کی حکومت کو بد نام کیا گیا، ان سے ان کے بڑے بڑے ساتھیوں کو جدا کیا گیا اور تو اور ان کے واحد زندہ بچ جانے والے بھائی میر مرتضی بھٹو کو سڑک پر مار دیا گیا، ان کے شوہر آصف علی زرداری کو کرپشن کا استعارہ بنا کر پیش کیا جانے لگا، ان کو مسٹر ٹین پرسنٹ کے خطاب سے نوازا گیا، سرے محل کے چرچے ہونے لگے اور بالآخر نومبر1996 میں پیپلز پارٹی کے اپنے ہی صدر سردار فاروق لغاری جو کہ ایک سابق سول سرونٹ تھے کے ذریعے ان کی حکومت گرائی گئی اور1997 کے انتخابات میں نواز شریف کو بھاری مینڈیٹ دے کر واپس وزیراعظم ہاؤس لایاگیا۔


کارگل آپریشن کی ناکامی پر نواز شریف نے ذمہ دار جرنیلوں کے خلاف کارروسئی کی ٹھانی تو فقط ڈھائی سال بعد اکتوبر 1999 میں جنرل مشرف نے ان کا بھی تختہ الٹ دیا۔ نام نہاد طیارہ سازش کیس میں ان کو اٹک قلعے میں بند کر کے عمر قید کی سزا سنوائی گئی۔ اس منتخب بھاری مینڈیٹ اور اپنے سابقblue eyed وزیراعظم کو جہاز کی سیٹ سے باندھ کر کراچی اور اسلام آباد کا سفر کرایا گیا۔
1999 سے2002 تک جنرل مشرف کی سربراہی میں ٹیکنو کریٹس کی حکومت رہی۔ اس دوران ایم ایم اے بنوائی گئی، مسلم لیگ ق بنوائی گئی اور2002 کے انجینئرڈ انتخابات میں چند مہینے پہلے بننے والے ق لیگ کی فقط ایک ووٹ کی برتری سے میرظفراللہ جمالی کی قیادت میں حکومت بنا ڈالی۔ یہاں بھی ایک سیاسی وزیر اعظم گو کہ اسٹیبلشمنٹ کے خاص آدمی تھے ظفر اللہ جمالی کو ڈیڑھ سال برداشت نہ کر سکے اور ان کی جگہ باھر سے لائے گئے آئی ایم ایف کے ڈائریکٹر شوکت عزیز کو وزیراعظم بنا دیا گیا۔


9/11 کے بعد امریکہ کی سیاسی اور تزویراتی ضرورتوں کی خاطر جنرل مشرف کے اقتدار کو دوام بخشا گیا جنہوں نے امریکی وزیر خارجہ کولن پاول کی ایک فون کال پر ملکی سالمیت اور بقاء داؤ پر لگا کر امریکہ کو اڈے فراھم کئے جس سے ملک خودکش دھماکوں اور دہشت گردی کی شدید لپیٹ میں آ گیا۔ انہی کے دور میں اکبر بگٹی کو مارا گیا اور بلوچستان میں علیحدگی پسند تحریک کی بنیاد ڈالی گئی۔ اس دوران سول اور ملٹری بیوروکریسی اور ان کے حاشیہ برداروں اور دسترخوانی قبیلے کی لوٹ مار کے علاوہ ملک کو ڈی پولیٹیسائز اور ریڈکلائزڈ بنانے کے لیئے مربوط پالیسیاں مرتب کی گئیں جن کا خمیازہ آج ہماری نسلیں بھگت رہی ہیں۔
بینظیر اور نواز شریف ایک دوسرے کے خلاف استعمال ہونے اور بار بار ایک ہی سوراخ سے ڈسنے کے بعد تھک ہار کر ایک دوسرے کے ساتھ بیٹھنے پر مجبور ہو گئے اور اسٹیبلشمنٹ کی ریشہ دوانیوں اور مداخلت کو روکنے کے لیئے لندن میں میثاق جمہوریت کے نام سے ایک تاریخی معاہدے پر دستخط کئے جس کے بعد جنرل مشرف نے مجبور ہو کر ایک معاہدے کے تحت جو کہ NRO کے نام سے مشہور ہے کے ذریعے دونوں راہنماؤں کو ملک آنے کی اجازت دی۔ بینظیر بھٹو شھید کو ڈرانے کی خاطر ان کے استقبالی جلوس میں کارساز کے قریب دھماکہ کروایا گیا جس میں52 بے گناہ افراد مارے گئے جس کے بعد جنرل مشرف نے کھل کر کہا کہ دونوں راہنماؤں کی سیکیورٹی مجھ سے کئے گئے معاہدے پر عمل کرنے سے مشروط ہے یعنی دونوں راہنماء عوام سے دور رہیں اور اسٹیبلشمنٹ کے پلان کے مطابق سیاست کریں مگر ججز بحالی تحریک میں دونوں راہنماؤں کی عوامی مقبولیت سے گھبرا دسمبر2007 کی ایک شام کو بینظیر بھٹو کو شھید کر دیا گیا۔ پہلے کہا گیا کہ ان کی موت گاڑی کے سن روف کے ہینڈل سے ٹکرانے سے واقع ہوئی۔ بعد میں ملبہ حکیم اللہ محسود پر ڈال کر اپنی ذمہ داریوں سے راہ فرار اختیار کی گئی۔


2008 کے الیکشن میں پیپلز پارٹی سید یوسف رضاگیلانی کی قیادت میں تیسری مرتبہ ایک مضبوط اتحادی حکومت بنانے میں کامیاب ہوئی، جنرل مشرف ناچار و ناچار صدارت سے استعفی دینے پر مجبور ہوئے اور آصف زرداری صدر مملکت منتخب ہو گئے۔ آصف علی زرداری نے کمال جرات دکھاتے ہوئے اپنے اتحادیوں، جن میں اے این پی سر فہرست تھی، کے ساتھ مل کر پارلیمانی جمہوریت کی مضبوطی اور آمریت کا راستہ روکنے کے لیئے اٹھارہویں ترمیم کے ذریعے اپنے صدارتی اختیارات پارلیمنٹ کو منتقل کئے، وفاق سے اکیس وزارتیں صوبوں کو منتقل کئے، صوبوں کو اپنے وسائل پر اختیار دے کر صوبائی خودمختاری دلائی، چین سے عظیم منصوبے سی پیک کی داغ بیل ڈالی اور اے این پی کی خواہش اور شرط مان کر صوبہ سرحد کا نام تبدیل کر کے خیبر پختونخواہ رکھ دیا گیا۔ اسی دور میں افغانستان میں امن کی بحالی کے سلسلے میں امریکہ کے ساتھ براہ راست حکومتی سطح پر رابطے بحال کئے گئے۔ زرداری کے یہ تمام اقدامات مقتدرہ کو ایک آنکھ نہ بھائے۔


اس دوران خیبر پختونخواہ میں عوامی نیشنل پارٹی نے ایک طرف اگر ملکی بقاء اور سالمیت کی خاطر قربانیوں کی لازوال تاریخ رقم کی تو دوسری طرف تعلیمی اداروں کا جال بچھایا گیا۔ نو بڑی بڑی یونیورسٹیاں بنائی گئیں۔ اس کے ساتھ ساتھ دہشت گردی کا بھی برابر مقابلہ جاری رکھا۔ بشیر بلور جیسے سپوت گنوانے علاوہ میاں افتخار حسین کے اکلوتے بیٹے سمیت ڈیڑھ ھزار سے زیادہ کارکنوں نے جان کے نذرانے پیش کئے مگر اس سب کچھ کے باوجود بھی اسٹیبلشمنٹ کے لے پالک اے این پی کی عوامی مقبولیت کو داغدار کرنے اور اس کی سیاسی ساکھ کو مجروح کرنے سے باز نہ رہے۔ ان پر کرپشن کے جھوٹے الزامات لگائے گئے اور ایزی لوڈ جیسے اصطلاحات گھڑی گئیں اور دبئی اور ملائشیا میں جائیدادوں کا خوب چرچا کیا گیا۔
اٹھارہویں ترمیم تمام سیاسی قوتوں کے اجتماعی شعور و تدبر کا مظہر تھا جو پارلیمانی جمہوریت کی مضبوطی، صوبوں اور مرکز کے درمیان اختیارات کے توازن اور سیاسی استحکام کا پیش منظر ثابت ہوا اور یہی بات مقتدرہ کو ہضم نہیں ہو پا رہی تھی لہذا افتخار چوہدری کی عدلیہ کے ذریعے زرداری حکومت پر زمین تنگ کی جانے لگی، ان پر مختلف کیسز بنائے گئے جن میں نام نہاد میمو گیٹ قابل ذکر ہے۔ میڈیا میں ان کی زبردست کردار کشی کی گئی۔ ایک اینکر نے تو یہاں تک کہہ دیا تھا کہ زرداری کو ایوان صدر سے اٹھوانے کے لئے ایمبولنس پہنچ گئی ہے۔ پھر سوئس بینک کیس میں سوئس حکام کو خط نہ لکھنے کی پاداش میں چیف جسٹس افتخار چوہدری نے وزیراعظم یوسف رضا گیلانی کو وزارت عظمی سے برطرف کر دیا۔ پیپلز پارٹی اور اتحادیوں نے راجہ پرویز اشرف کو نیا وزیراعظم بنا دیا جن کے خلاف بجلی کے پاور پلانٹ میں کرپشن کا شور مچایا گیا اور راجہ رینٹل کے نام سے مشہور کرایا گیا مگر حال ہی میں عدالت نے ان کو تمام الزامات سے باعزت بری کیا۔


اس دوران تمام جمہوری قوتوں کے خلاف اسٹیبلشمنٹ نے اپنی نئی بساط بچھانی شروع کر دی۔ تیاری کے مختلف مراحل سے گزارنے کے سالوں بعد اکتوبر2011 کو اپنے نئے پراڈکٹ کرکٹر عمران خان کو میدان میں اتار دیا گیا۔ لاھور کے مینار پاکستان پر نئے پاکستان اور تبدیلی کا کامیاب افتتاحی جلسہ کرایا گیا اور پھر یکے بعد دیگرے اسٹیبلشمنٹ کے تمام منظوری نظر سیاسی گھوڑے ایک ایک کر کے پی ٹی آئی میں شامل ہونا شروع ہوئے یہاں تک کہ شیخ رشید، غلام سرور اور شاہ محمود قریشی جیسے لوگ بھی عمران خان کے ساتھ ہو لئے۔


جنرل احمد شجاع پاشا کی جانب سے ایڑی چوٹی کا زور لگانے کے باوجود2013 میں ان کا گھوڑا بری طرح پٹ گیا۔ افغانستان مداخلت اور قبائلی علاقوں میں اپنی سٹریٹجک اثاثوں کی حفاظت کے لیئے صوبہ پختونخواہ میں اے این پی جیسی قوم پرست ترقی پسند پارٹی کو ایک خاص انتظام کے ذریعے ہٹا کر پی ٹی آئی کی حکومت قائم کی گئی۔ مرکز میں نواز شریف کی مسلم لیگ ن حکومت بنانے میں کامیاب تو ہو گئی مگر اسٹیبلشمنٹ نے اسے کبھی قبول نہیں کیا لہذا شروع دن سے چور اور مودی کے یار کا خطاب ملنا شروع ہوئے۔ سی پیک منصوبے میں مقتدرہ کو حصہ داری نہ دینے اور دفاعی بجٹ میں ضرورت سے زیادہ حصہ دینے پر انکار سے بات بگڑ گئی تو ڈان لیک ہوا۔ اسلام آباد میں126 دن کا سپانسرڈ دھرنا دیا گیا۔ سپریم کورٹ، پارلیمنٹ ہاؤس اور ٹی وی سٹیشن پر حملہ کیا گیا۔ طاہر القادری اور عمران خان کی آرمی چیف سے ملاقتیں کروائی گئیں اور امپائر کی انگلی سے پارلیمان کو ڈرایا دھمکایا گیا۔ دھرنا اے پی ایس کے سیکڑوں بچوں کی شھادت پر ختم ہوا۔


جب یہ تمام حربے ناکام ہوئے اور اس سے کچھ نتیجہ برآمد نہ ہوا تو پانامہ لیکس کی پٹاری کھولی گئی اور جب اس سے بھی کچھ حاصل نہ ہوا تو اقامہ پر نکال دیا اور پھر اپنے بیٹے سے تنخواہ نہ لینے کی پاداش میں نواز شریف کو جولائی2017 میں وزارت عظمی سے برطرف کر دیا گیا۔ مسلم لیگ ن نے شاہد خاقان عباسی کو نیا وزیر اعظم منتخب کروایا۔ اس دوران مسلم لیگ ن اور پیپلز پارٹی میں نقب زنی کی وارداتیں جاری رہیں۔ ان کے لوگ توڑ توڑ کر پی ٹی آئی میں بھرتی کرائے جاتے رہے اور پھر وقت آیا 2018 کے جھرلو الیکشن کا، عمران خان کا راستہ صاف کروانے کے لیئے الیکشن سے پہلے باپ بیٹی کو جیل میں ڈالا گیا اور پھر مسلم لیگ ن اور پیپلز پارٹی کے تمام اھم راہنماؤں پر نیب کے ذریعے کیسز بنوا کر دباؤ ڈالا گیا۔ الیکشن کے دن پولنگ سٹیشن کے اندر اور باہر باوردی لوگ تعینات کئے گئے جنھوں نے بکسے بدلے اور فارم45 پر دستخط لئے بغیر نتائج تبدیل کر کے جیتنے والے امیدواروں کی فتح شکست میں تبدیل کر دی۔ اس کے باوجود قومی اسمبلی میں تمام اتحادیوں کو اکٹھا کر کے صرف 4 ووٹوں کی برتری ثابت کر سکے۔
آج عمران خان کی دھاندلی زدہ الیکشن کے نتیجے میں قائم ہونے والی حکومت مکمل طور پر اسٹیبلشمنٹ کے رحم وکرم اور ان کی بیساکھیوں پر کھڑی ہے۔ جس دن اس نے نواز شریف اور زرداری کی طرح نا کہہ دی تو بیساکھی کھینچ کر منہ کے بل گرا دیا جائے گا۔


اسٹیبلشمنٹ اور جمہوریت کے مابین جنگ میں جیت ھمیشہ اسٹیبلشمنٹ کی ہوئی ہے اور ہار ھمیشہ سیاستدانوں کی نہیں ملک کی ہوئی ہے، دیکھتے ہیں اس مرتبہ سیاستدان ماضی کی طرح سودا کرتے ہیں یا مستقل طور پر پارلیمانی جمہوریت اور بقاء کی خاطر کوئی ٹھوس لائحہ عمل ترتیب دے کر مستقل طور پر اسٹیبلشمنٹ کی عملداری سے نجات حاصل کر تے ہیں۔ رہے نام اللہ کا!
نوٹ: مضمون نگار عوامی نیشنل پارٹی برطانیہ کے صدر ہیں۔

یہ بھی پڑھیں

تاریخی اور ثقافتی شہر تخت بھائی میں مسائل کے انبار‘منتخب نمائندے غائب – تحریر: مسلم صابر

تخت بھائی ایک تاریخی اور ثقافتی شہر ہے لیکن بدقسمتی سے وہ ترقی نہیں کی …

%d bloggers like this: