12 اگست 1948 سے 8 اگست 2016 تک

 پشتونوں کے قتل عام کا نہ ختم ہونے والا سلسلہ ہنوز جاری ہے

تحریر:مابت کاکا

 8 اگست 2016 کو سول ہسپتال کوئٹہ میں پیش آنے والے انسانیت سوز سانحے کی چوتھی برسی کے موقع پر خصوصی تحریر

اس وقت تک پشتون قومی تحریک کے مدارج پورے نہیں ہوں گے جب تک کہ اس میں شہدا کا ذکر نہ ہو۔ باچا خان کی برپا کردہ تحریک اصلاح افاغنہ سے شروع ہو کر خدائی خدمتگار تحریک، پیپلز پارٹی، نیشنل عوامی پارٹی، نیشنل ڈیموکریٹک پارٹی اور موجودہ عوامی نیشنل پارٹی کی شکل میں رواں دواں ہے۔ اس پرخار راستے میں کارکنوں سے لے کر رہنماؤں تک نے ایسی لازوال قربانیاں دی ہیں جو شاید ہی دنیا کی کسی بھی تحریک کے کارکنوں نے دی ہو۔

ہم ایک ایسے معاشرے کا حصہ ہیں جہاں حق کا ساتھ دیتے ہوئے مظلوم کی آواز بننا اور ظالم کے خلاف کلمہ حق بلند کرنا معدوم تر ہوتا جا رہا ہے۔ ایسے میں وہ لوگ کبھی نہیں بھلائے جا سکتے جنہوں نے انفرادیت پر اجتماعیت کو ترجیح دی، ذاتی مقاصد اور فوائد کو پس پشت ڈال کر ہر موڑ اور ہر قدم پر حق اور سچ کا ساتھ دیتے ہوئے مظلوموں کی آواز بننے کو ترجیح دی۔ یقیناً ایسے لوگ پورے معاشرے کے ماتھے کا جھومر ہیں جن کی مثال ان چراغوں کی ہے جو خود جل کر اپنے گردوپیش کو روشن کرتے ہیں۔ افسوس کہ آج ہم ایسے ہی لوگوں کی چوتھی برسی منا رہے ہیں جن کا وجود معاشرے کے لئے چراغ کی مانند تھا۔

8 اگست 2016 وہ دن ہے جب ہم سے ہمارے پیارے ہی نہیں  بلکہ حق اور سچ کا ساتھ دینے والے فرزندوں کو ہم سے چھین لیا گیا اور روشن چراغ بجھا دیئے گئے۔ آج ان شہدا کی چوتھی برسی ہے جنہیں چار سال قبل آج ہی کے دن ایک افسوسناک اور ناقابل فراموش خونیں واقعے میں شہید کر دیا گیا تھا، اسی روز ہمارے کئی روشن چراغ ایک ساتھ بجھا دیئے گئے۔ وہ لوگ، وہ ہستیاں، وہ شخصیات جو صرف اپنے گھرانوں ہی کی نہیں بلکہ پورے صوبے کی امیدوں کا مرکز و محور بنی ہوئی تھیں۔ ایک سے بڑھ کر ایک بڑا نام، ایک سے بڑھ کر ایک نفیس شخصیت، اپنے شعبے کے نامور، معاشرے سے کمٹمنٹ رکھنے والی ہستیاں جن کی یاد ہمیشہ آتی رہے گی۔

8 اگست 2016 کا دن ہماری تاریخ کا وہ سیاہ دن ہے جب آگ اور خون کی ہولی کھیلی گئی۔ اس ہولی میں ہم سے ہمارے مستقبل کی کئی امیدیں ایک ساتھ چھین لی گئیں۔ کوئٹہ کے سول ہسپتال میں ہونے والے خودکش بم دھماکے سے صرف شہر کے درودیوار ہی نہیں ہلے بلکہ پوری دنیا میں انسانیت لرز کر رہ گئی۔ اس افسوسناک دھماکے میں ہمارا صوبہ ایک ساتھ درجنوں قابل وکلاسے محروم ہو گیا جن میں شہید باز محمد خان کاکڑ، قاہر شاہ ایڈووکیٹ، بیرسٹر عدنان کاسی، داد خان کاسی، بلال انور کاسی، سنگت جمالدینی، چاکر رند، عبداللہ اچکزئی، ایمل خان وطن یار، عین الدین نصر، عطااللہ کاکڑ، بشیر احمد زہری، بشیر احمد کاکڑ، امان اللہ لانگو، عبدالرشید، فیض اللہ خان سرگڑھ، فیروز خان، غنی جان آغا، غنی مشوانی، غوث الدین خان، جمال عبدالناصر، حفیظ اللہ خان مندوخیل، حفیظ اللہ مینگل، گل زرین کاسی، غلام فاروق بادینی، غلام محمد، قاضی جمیل الرحمان، نور الدین رخشانی، محمد علی ساتکزئی، اشرف سلہری، ایوب سدوزئی، ملک وزیر کاسی، منظر صدیقی، عمران شیخ، محمود احمد لہڑی، سلیم بٹ، محب اللہ خان، رحمت اللہ خروٹی، نقیب اللہ ترین، نصیر لانگو، منیر احمد مینگل، نور اللہ کاکڑ، غلام حیدر کاکڑ، قیصر شیرانی، قاضی بشیر، صابر علی، سرفراز شیخ، شیر گل داوی، ضیاالدین آغا، تیمور شاہ کاکڑ، وقاص جدون، عبدالناصر کاکڑ اور عسکر خان اچکزئی شہید شامل ہیں۔

یہ شہداء بھلے ہم سے جسمانی طور پر جدا ہو گئے مگر ان کی یادیں ہمیشہ ہمارے ساتھ رہیں گی۔ شہید عسکر خان اچکزئی عوامی نیشنل پارٹی کے صوبائی صدر اصغر خان اچکزئی کے چھوٹے بھائی اور شہید وطن شہید خان جیلانی خان اچکزئی کے چھوٹے فرزند تھے۔ بڑے بھائی کی طرح ہنس مکھ، ملنسار اور خدائی خدمتگار جنہوں نے ایک خدائی خدمتگار کی حیثیت سے جہاں مخلوق خدا کی خدمت کو اپنا مقصد اور نصب العین بنایا وہاں روایتی سوچ کے خلاف اٹھنے والی ہر آواز کے ساتھی رہے۔ شہید والد کے شہید صاحبزادے جن کی نماز جنازہ میں لوگوں کا ٹھاٹھیں مارتا سمندر یہ بتانے کے لئے کافی تھا کہ شہید مرتے نہیں بلکہ زندہ رہتے ہیں۔

                شہید عسکر خان اچکزئی کا تعلق جس گھرانے سے اور جس فکری و نظریاتی قافلے سے ہے ان کے لئے نہ تو جدوجہد کوئی نئی با ت ہے اور نہ ہی اس جدوجہد کی پاداش میں قربانیاں دینے کی روایت ان کے لئے نئی ہے۔ عوامی نیشنل پارٹی اس ملک کی واحد سیاسی جمہوری جماعت ہے جس نے دہشت گردی کی جنگ میں اپنے ہزاروں کارکن اور رہنماء کھوئے۔ شہید بشیر بلور سے لے کر عسکر خان اچکزئی تک عوامی نیشنل پارٹی کے ہزاروں کارکنوں اور رہنماؤں کی قربانیوں ہی کا نتیجہ ہے کہ آج جب پوری دنیا میں دہشت گردی اور انتہاپسندی کے خلاف جدوجہد کی بحث ہوتی ہے تو اس میں فخر افغان باچا خان کے جیالے کارکنوں کا ذکر ضرور ہوتا ہے۔ دراصل یہ فخر افغان باچا خان کی جدوجہد اور قربانیوں کا نتیجہ ہے کہ آج پشتون ملک اور بیرون ملک اپنی ایک الگ پہچان اور طویل سیاسی تاریخ رکھتے ہیں جو جدوجہد سے عبارت ہے۔ 12 اگست 1948 کے شہدائے بابڑہ سے لے کر اب تک عوامی نیشنل پارٹی کے کارکنوں نے اپنے خون سے جدوجہد اور قربانی کی ایک ایسی تاریخ رقم کی ہے جس کے بغیر جدید دنیا کی سیاسی تحریکوں کا تذکرہ مکمل نہیں ہوتا۔

شہید عسکر خان اچکزئی کے والد شہید جیلانی خان اچکزئی کی جدوجہد بھی کسی سے پوشیدہ نہیں۔ وہ اگر چاہتے تو دیگر خوانین اور قبائلی معتبرین کی طرح سیاست سے دور رہ کر مخصوص قبائلی سیٹ اپ کاحصہ رہ کر اعلی تعلیم حاصل کر سکتے تھے، وہ چاہتے تو خود کو ہر طرح کی جھنجھٹ سے دور رکھ کر اپنے اور اپنے بچوں کو دنیا کی ہر آسائش لا کر دے سکتے تھے مگر انہوں نے اس کی بجائے خدمت گاری کو اپنا مشن بنا لیا۔ قبائلی تنازعات ہوں یا سماجی مسائل بالخصوص پشتونوںکے اجتماعی قومی مسائل ان کے حل کے لئے جدوجہد، پشتونولی اور باچا خانی ان کا اوڑھنا بچھونا بن گیا۔ انتہائی ترقی پسند اور جدید خیالات رکھتے تھے، پشتونوں کے قومی مسائل اور قومی سوال کے حوالے سے بالکل پختہ ذہن کے مالک تھے، مقامی اور بین الاقوامی حالات پر گہری نظر رکھتے تھے، پشتونوں کے روشن مستقبل کے لئے کوشاں اور تن من دھن سے باچا خانی کے پرچارک بن گئے۔ ان کی شہادت کے بعد ان کے بڑے صاحبزادے اصغر خان اچکزئی نے ان کا مشن سنبھال لیا ہے۔ اصغر خان اچکزئی کی طرح عسکر خان اچکزئی بھی خدائی خدمتگاری کا جذبہ رکھتے تھے اور ہمیشہ مشکل میں لوگوں کے کام آتے رہے۔ وہ چاہتے تھے کہ عدل و انصاف سے لوگوں کے جھگڑے ختم کرائیں، مظلوموں کو ظالموں کے ظلم و ستم سے نجات دلائیں اور پسے ہوئے طبقات کو حاکم طبقات کے استحصال سے بچائیں۔ اس مقصد کے لئے وہ وکالت کے پیشے سے منسلک ہو گئے مگر 8 اگست کے سانحے میں وہ شہید کر دیئے گئے۔ شہید عسکر خان اچکزئی کی شہادت اصغر خان اچکزئی اور دیگر خدائی خدمتگاروں کے لئے ایک بہت بڑا اور ناقابل تلافی نقصان ثابت ہوا ہے جو کبھی پورا نہیں ہو سکے گا۔ ان کے بڑے بھائی اصغر خان اچکزئی کے لئے یہ غم پہاڑ جیسا تھا مگر انہوں نے اسے سہہ لیا ہے اور وہ چٹان کی طرح آج بھی میدان عمل میں موجو د اور پشتونوں کے روشن مستقبل کے لئے جدوجہد کر رہے ہیں۔

شہید عسکر خان اچکزئی کی طرح دیگر وکلا کی بھی اس شہر اور صوبے کے لئے بہت زیادہ خدمات تھیں۔ شہید باز محمد کاکڑ سے لے کر سنگت جمالدینی تک اور بیرسٹر عدنان کاسی سے لے کر گل زرین کاسی اور قاہر شاہ تک سبھی وکلا اور سبھی شہداء اس سرزمین کے بیٹے تھے جنہیں 8 اگست 2016 کو سفاک قاتلوں نے ہم سے چھین لیا۔ اس واقعے میں صرف پشتون اور بلوچ ہی نہیں بلکہ تمام زبانیں بولنے والے وکلا، صحافی اور عام شہری شہید ہوئے۔ ان خاندانوں کا غم بہت بڑا اور بیان سے باہر ہے۔

ہماری دعا ہے کہ اللہ تعالی شہداء کے اہلخانہ کو صبر جمیل عطا فرمائے اور شہدا کے درجات بلند فرمائے۔ آج ان شہداء کی چوتھی برسی ہے۔ آج شہداء کے گھروں میں ایک بار پھر اس واقعے کی خونی یا دیں تازہ ہوں گی، ایک بار پھر شہداء کے بچے اور اہلخانہ کے دلوں میں ایک سال قبل پیش آنے والا واقعہ نمودار ہو گا، ایک بار پھر وہ مغموم ہوں گے اور ایک بار پھر ان کے ذہن میں یہ سوال سرا ٹھائے گا کہ ہمارا قصور کیا تھا؟ بلا شک و شبہ 8 اگست کو کوئٹہ کے سول ہسپتال میں پیش آنے والا واقعہ ایک بہت بڑا سانحہ ہے جس کی تلخ یادیں ہمیشہ ہمیں درد و غم اور اذیت دیتی رہیں گی، اللہ تبارک و تعالی سے دعا ہے کہ وہ ہمیں امن نصیب فرمائے کیونکہ عوام اب ان واقعات سے تنگ آ چکے ہیں، وہ امن چاہتے ہیں۔ آج کے دن کی مناسبت سے عوامی نیشنل پارٹی کے زیراہتمام مختلف تقاریب کا اہتمام کیا گیا ہے جن سے پارٹی قائدین اور شہداء کے اہلخانہ اور دیگر مقررین خطاب کریں گے۔

نوٹ: مضمون نگار عوامی نیشنل پارٹی جنوبی پشتونخوا کے صوبائی جنرل سیکرٹری ہیں۔

یہ بھی پڑھیں

ٹرک آرٹ سے گھریلو اشیاء کی پینٹنگ تک کا سفر – تحریر: فیاض الدین

پشاور میں ٹرکوں پر اپنے برش سے رنگ بکھیرنے والے سیار خان کو جب کورونا …

%d bloggers like this: