روایتی مزدہ بسوں سے جدید ہائبرڈ بسوں تک کا سفر

تحریر: طارق اللہ

ٹرک آرٹ ، گھونگھروں اور پھولوں سے سجھی لگ بھگ 50 سال سے پشاور کی سڑکوں پر چلنے والی مزدہ اور راکٹ بسیں اب بس ریپیڈ ٹرانزٹ (بی آرٹی بس سروس) کے بعد ختم ہو جائیں گی ۔ بی آر ٹی کے افتتاح کے بعد حکومتی فیصلے کے مطابق ان پرانی بسوں اور ویگن آر گاڑیوں کو سکریپ کیا جائے گا جبکہ اس کے عوض بس مالکان کو 8 سے 15 لاکھ جبکہ ویگن مالکان کو8 سے10 لاکھ روپے دیئے جائیں گے۔ صوبائی حکومت نے ان پرانی گاڑیوں سے وابستہ لوگوں کو بی آر ٹی میں ایڈجسٹ کرنے کا وعدہ بھی کیا تھا اور تمام بس اور ویگن آر ڈرائیوروں کی ڈیٹا لسٹ بھی بنا لی تھی لیکن تاحال ان کا کچھ نہیں ہو سکا جس کی وجہ سے 2 ہزار سے زائد خاندان متاثر ہوئے ہیں


مزدہ بس ایسوسی ایشن کے صدر الماس کے مطابق 1976میں فورڈ ویگن پشاور لائی گئی تھی جو کم وقت میں کافی زیادہ مشہور ہوئی کیونکہ اس میں سفر کرنا آرام دہ تھا ۔ برطانوی کمپنی بیڈ فورڈ وہیکل چھوٹی بڑی گاڑیاں بناتی ہے جس نے منی بسیں بنانا بھی شروع کیے تھے۔ 1985میں ان بسوں کو کراچی سے پشاور پبلک ٹرانسپورٹ کے لئے لایا گیا جس کا مقصد شہر کے ٹرانسپورٹ نظام کو بہتر بنانے اور عوام کو سہولیات فراہم کرنا تھا۔ 1986 میں جب ان کا کارخانہ میں بند ہو گیا تو مزید بسیں بننا بھی بند ہوئیں لیکن پشاور میں صدیاں گزرنے کے بعد بھی یہ بسیں پشاور کی سڑکوں پر چلتی ہوئی نظر آتی رہیں۔80 سالہ بزرگ عاشق علی مزدہ بس سٹیشن کمبو اڈہ میں اپنی مزدہ بس کے پاس زمین پر بیٹھے ہاتھ میں قہوا کی پیالی لئے سوچوں میں مگن تھے، انہوں نے بتایا کہ وہ 1976سے پشاور کی سڑکوں پر مختلف گاڑیاں چلا چکے ہیں، اس وقت کرایہ آدھ آنہ ہوا کرتا تھا جبکہ اب اس مزدہ بسوں کا کرایہ ایک سٹاپ سے دوسرے تک 15سے 35 روپے تک ہے۔ انہوں نے بتایا کہ اس وقت امن و امان تھا اور پاکستان کے کونے کونے سے یہاں تک کہ باہر ممالک کے لوگ بھی یہاں پشاور کاروبار کے لئے آتے تھے اور سفر کے لئے ان بسوں میں جانے کو ہی ترجیح دیتے تھے کیونکہ ان بسوں کی سجاوٹ کی وجہ سے اور پشاور کے مختلف مقامات سے گزرنے کی وجہ سے پورے پشاور کی سیر ہو جاتی تھی۔ انہوں نے بتایا کہ اس وقت راکٹ بسیں، مزدہ بسیں اور ویگن آر، وینز، رکشے پبلک ٹرانسپورٹ کے لئے استعمال ہوتے تھے، یہ بسیں ٹرک آرٹ اور ڈیکوریشن کے مختلف سامان سے سجیں ایک ڈولی کی طرح نظر آتی تھیں۔ یہ سجاوٹ سیاحوں کو اپنی طرف متوجہ کی ضامن اور اس پر لاکھوں روپے خرچ ہوتے تھے۔

مزدہ بسیں پشاور میں کب آئیں؟

ان بسوں میں لوگ پشاور کمبو اڈے سے لے کر کارخانو، حیات آباد، بڈھ بیر اور کوہاٹ روڈ تک سفر کرتے تھے۔ سورایاں کچھ بیٹھ کر جبکہ بعض کھڑے ہوکر سفر کرتے تھے، ان بسوں میں خواتین کیلئے ڈرائیور سیٹ سے لے کر پہلے دروازے تک کی سیٹیں ہوا کرتی تھیں۔ دو یا تین کنڈکٹر، دو دروازوں میں اور ایک بیچ میں کھڑے ہوتا تھا۔ دروازوں میں کھڑے کنڈکٹرز تیز آواز سے بورڈ، تہکال، شیرپاؤ اور کارخانو مارکیٹ کے علاوہ دیگر جگہوں کی آوازیں لگاتے تھے۔ اس وقت پشاور بیڈ فورڈ کی400 بسیں مختلف سڑکوں پر چلتی تھیں۔ وقت گزرنے کے ساتھ بعض بسیں پرانی اور خراب ہونے کی وجہ سے سکریپ ہو گئیں اور بعض بچ گئیں، چائے کی چسکی لیتے ہوئے انہوں نے بتایا کہ پرانا پشاور بہت پیارا تھا، سڑکوں کے بیچ میں پھول اور کھلی کھلی سڑکیں ہوا کرتی تھیں، زیادہ رش نہیں ہوتا تھا اور لوگوں کا پشاور آنا جانا بھی کافی زیادہ تھا۔ اس کے علاوہ باہر ممالک سے آئے ہوئے سیاح بھی زیادہ ہوتے تھے، وقت گزرنے کے ساتھ پشاور بدامنی کے دور سے بھی گزرا لیکن حالات ٹھیک ہونے کے بعد لوگوں کا پشاور آنا جانا پھر سے شروع ہو چکا ہے اور پھر سے باہر ممالک سے آئے ہوئے سیاح بھی پشاور کی سیر کر رہے ہیں۔بس رپیڈ ٹرانزٹ سروس کا آغاز اور مزدہ گاڑیوں کو سکریپ کرنے کا فیصلہ13نومبر2017 کو خیبر پختونخوا میں تحریک انصاف کی حکومت نے بی آر ٹی پراجیکٹ شروع کیا جس کا مقصد پشاور میں رش کو کم کرنا اور عوام کو بہتر سہولیات فراہم کرنا تھا۔

یہ جدید ہائبریڈ بسیں آرام دہ اور ماحول دوست بھی ہیں۔ حکومت نے یہ فیصلہ بھی کیا تھا کے اس سروس کے بعد پشاور کی پرانی ٹرانسپورٹ گاڑیوں کو سکریپ کردیا جائے گا تاکہ رش اور ماحول کو صاف کیا جا سکے۔ بی آر ٹی26 کلومیٹر طویل روٹ ہے جس میں31 سٹیشن اور 68 کلومیٹر فیڈر بس روٹ شامل ہے۔ پاکستان تحریک انصاف کا یہ منصوبہ ایشیائی طرقیاتی بینک کی مدد سے 61 ارب روپے کی لاگت سے بن رہا تھا جس میں 35 ارب روپے سے زائد ایشیائی ترقیاتی بینک بطور قرضہ دے رہا تھا۔ اکتوبر میں اس پر کام شروع ہونے کے بعد حکومت نے یہ وعدہ کیا تھا کہ اس منصوبے کو 6 مہینوں میں مکمل کرے گی لیکن ناکام رہی۔ بی آر ٹی میں مسلسل بے ضابطگیوں کی پر2019 میں وزیراعلی محمود خان نے ایک تحقیقاتی کمیٹی بنائی جس کی رپورٹ کے مطابق بی آر ٹی سٹیشنوں کے گرد سڑکوں میں 40 فیصد تک کمی آ گئی ہے۔ رپورٹ میں یہ بھی بتایا گیا کہ بی آرٹی کے لئے کوریڈور بلند ہونا چاہئے کیونکہ ابھی جہاں پر سٹیشن بنائے گئے ہیں وہاں پر لائنوں کو کم کیا گیا ہے جس سے ٹریفک کا مسئلہ مزید سنگین ہو گیا ہے۔ مسلسل طوالت اور لاگت میں بے تحاشہ اضافے کے باعث یہ منصوبہ مہنگا ترین منصوبہ بن چکا ہے، حکومت کے اندازے کے مطابق 70 ارب روپے کی لاگت سے بننے والے خیبر پختونخوا کے اس میگا پراجیکٹ سے روزانہ 4 لاکھ سے زائد لوگ فائدہ اٹھائیں گے جبکہ اس منصوبے سے سالانہ 40 ملین ڈالر یعنی 6 ارب سے زیادہ آمدنی حاصل ہو گی۔ بی آر ٹی کی سرکاری دستاویز کے مطابق بی آر ٹی چلنے کے بعد اس کے آپریشن اور مینٹی ننس کے لئے سالانہ تقریباً 5 ارب روپے درکار ہوں گے جبکہ ان اخراجات میں سالانہ اضافہ بھی ہو گا، دستاویز میں یہ بھی شامل ہے کہ ایشیائی طرقیاتی بینک کی مدد سے بنی بی آر ٹی سروس کے آپریٹنگ اخراجات بی آر ٹی کو چلانے والی کمپنی ٹرانس پشاور ادا کرے گی جس میں ڈرائیوروں کی تنخواہیں، گاڑیوں کی مینٹی ننس، کرایوں کے سسٹم یعنی ٹکٹ مشینوں اور تیل وغیرہ

شامل ہے۔ اس منصوبے میں سائیکل ٹریک ، پارکنگ پلازے وغیرہ شامل ہیں جس پر تاحال کام شروع نہیں ہوا لیکن پھر بھی اس پراجیکٹ کا افتتاح 13 اگست2020 کو وزیر اعظم عمران خان نے کر دیا اور اسے عوام کے لئے کھول دیا گیا۔ ابھی اس کا ایک مہینہ بھی نہیں گزرا تھا کہ بسوں میں آگ لگنے کے واقعات سامنے آنا شروع ہوئے جس پر بس سروس کو کچھ دنوں کے لئے معطل کیا گیا ہے۔ اس حوالے سے ٹرانس پشاور کے ترجمان محمد عمیر خان نے بتایا کہ بس بنانے والی کمپنی کی سفارش اور عوام کے تحفظ کو پیش نظر رکھتے ہوئے بی آر ٹی سروس معطل کی گئی ہے تاکہ تمام بسوں کا معائنہ کر کے مسئلہ حل کیا جا سکے، چین سے ٹیم پہنچ چکی ہے اور مسئلہ حل ہونے کے بعد سروس کو پھر سے عوام کے لئے کھول دیا جائے گا ۔ محمد عمیر پبلک ٹرانسپورٹ کو بند کرنے اور اس کی وجہ سے ہزاروں لوگوں کا روزگار متاثر ہونے اور گاڑیوں کے مالکان کو پیسے دینے کے حوالے سے پوچھا گیا تو انہوں نے بتایا کہ500 ٹرانسپورٹ مالکان نے درخواستیں دی ہیں جن کے ساتھ بیٹھ کر طے شدہ ریٹ کے حساب سے ان گاڑیوں کے عوض انہیں پیسے دیئے جائیں گے۔

بے روزگار ہونے والے لوگوں کے بارے میں ان کا کہنا تھا کہ ایسا کچھ بھی نہیں ہے حکومت نے بیروزگاری نہیں پھیلائی بلکہ روزگار کے مواقع فراہم کیے ہیں، حکومت کی نجی ٹرانسپورٹ کمپنیوں کے ساتھ بات ہوئی ہے جس میں اولین ترجیح ان پرانی گاڑیوں سے متاثر ہوئے لوگوں کو دی جائے گی۔پشاور کمبو اڈہ، مزدہ بسوں کے انچارج انعام جان سے پرانے عوامی ٹرانسپورٹ کو ختم کرنے کے حوالے سے جب بات ہوئی تو انہوں نے بتایا کہ وہ گذشتہ25 سالوں سے مزدہ بسوں کے ساتھ منسلک ہیں، لوگوں کے کاروبار پر کافی برا اثر پڑا، مزدہ بس والوں کا روزگار بھی کافی زیادہ متاثر ہوا ہے۔ پرانی گاڑیوں کو سکریپ کرنے کے فیصلے کی وجہ سے گاڑیوں کے مالکان نے اپنی بسیں کھڑی کر دیں اور بعض نے اسی وجہ سے اس میں کام کرنا چھوڑ دیا کہ یہ تو ویسے بھی سکریپ ہونے والی ہیں تو اس پہ روپے کیوں خرچ کریں۔ انہوں نے بتایا کہ حکومت نے پرانی گاڑیوں کو سکریپ کرنے اور ان کے مالکوں کو پیسے دینے کا جو فیصلہ کیا تھا تو اس کے لئے پانچ مہینے پہلے ہی ان سے ڈیٹا لیا گیا ہے جس میں تقریباً500 چھوٹی بڑی گاڑیوں کے مالکان شامل ہیں جبکہ بہت سے لوگوں نے اس وجہ سے فارم جمع نہیں کیا کیوں کہ جو روپے وہ دے رہے ہیں وہ کم ہیں۔

انہوں نے بتایا کہ اسی وجہ سے دو ہزار سے زائد خاندان متاثر ہو چکے ہیں کیونکہ ہر گاڑی کے ساتھ ایک ڈرائیور، دو تین کنڈکٹر ہوا کرتے تھے، اس کے علاوہ ان گاڑیوں سے منسلک مستری، ٹرک آرٹ و دیگر دکانداروں کا کاروبار بھی خراب ہو چکا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ پہلے بدامنی کی وجہ سے روزگار کو کافی نقصان پہنچا تھا اور جب حالات ٹھیک ہو گئے اور روزگار تھوڑا چل پڑا تو حکومت نے ان سے ان کا روزگار ہی چھین لیا۔ حکومت نے بے روزگار لوگوں کو بی آر ٹی میں نوکریاں دینے کا جو وعدہ کیا تھا وہ بھی پورا نہیں کیا کیونکہ بی آر ٹی منصوبے کو شروع ہوئے ایک مہینے سے زیادہ گزر چکا ہے لیکن تاحال حکومت کی طرف سے ان کو کوئی پیغام نہیں بھیجا گیا۔ فتح خان، جو کہ40 سال سے مزدہ بس ڈرائیور ہے، آٹھ بچوں کا باپ ہے اور پچھلے پانچ مہینوں سے بے روزگار ہے، نے بتایا صرف گاڑی چلانا ہی آتا تھا جس میں وہ اپنے گھر کے اور بچوں کے سکول کے اخراجات پورے کرتا تھا لیکن جب سے بی آر ٹی اور گاڑیوں کو سکریپ کرنے کی باتیں شروع ہوئیں تو ان کا روزگار روز بروز خراب ہوتا گیا کیونکہ جب بھی گاڑی میں کوئی مسئلہ آتا اور مالک سے اس کا ذکر کرتا تو وہ یہی جواب دیتا تھا کہ ویسے بھی ان بسوں کو ختم کیا جائے گا تو بے جا اس پر روپے خرچ نہ کیا کرو اور آخر وہی ہوا گاڑی اب کھڑی کھڑی کباڑ بن چکی ہے، روزی روٹی کمانے کے لئے اب وہ کبھی دیہاڑی کرتا ہے تو کبھی چوکیداری۔ ہزاروں ایسے افراد اور بھی ہیں روز بروز جن کے حالات خراب ہو رہے ہیں لیکن حکومتی نمائندے یہ سب دیکھتے ہیں نہ ہی ان کے بارے میں سوچتے ہیں۔


مزدہ بسیں پشاور کی سڑکوں پر پھر سے کیوں چلنا شروع ہو گئیں؟
بی آر ٹی کے افتتاح کے بعد ایک ماہ میں4 بسوں میں آگ لگنے کے واقعات سامنے آئے تو حکومت نے بی آر ٹی بس سروس کو کچھ دنوں کے لئے معطل کر دیا تاکہ اس مسئلے کو حل کیا جائے، جب سروس بند ہوئی تو عوام نے پھر سے مزدہ بسوں، ویگن آر اور رکشے وغیرہ میں سفر کرنا شروع کر دیا ہے جس کی وجہ سے مزدہ بسیں پھر سے پشاور کی سڑکوں پر چلنا شروع ہو گئی ہیں۔ اب بی آر ٹی سروس کی بحالی کے بعد ہی دیکھا جائے گا کہ ان مزدہ بسوں کا کیا ہو گا۔

یہ بھی پڑھیں

موجودہ حالات اور عوامی نیشنل پارٹی کے مطالبات – تحریر: شہباز ڈیسک

عوامی نیشنل پارٹی کی مرکزی مجلس عاملہ کا اجلاس10 اکتوبر 2020 کو کوئٹہ میں منعقد …

%d bloggers like this: