سعد اللہ جان برق کی یادوں کے جنازے

تحریر: شمس مومند

’’ڈاکٹر، پروفیسر‘ انجینئر حساب دان‘ سائنسدان پیسہ کمانے کی مشینیں تو بن جاتے ہیں لیکن انسان نہیں بنتے نہ بنائے جاتے ہیں بلکہ حتی الوسع کوشش ہوتی ہے کہ انسان کے اندر سے انسان کو نکال کر اسے حیوان یا مشین بنایا جائے‘ اب ظاہر ہے کہ مشینوں اور حیوانوں میں انسانیت ڈھونڈنا کار عبث کے سوا کچھ نہیں‘‘٭’’اشرافیہ خوب مزے میں ہے کیونکہ پریشر ککر کی بھاپ سیفٹی والو سے سیٹیاں بجا بجا کر نکل رہی ہے اور پریشر ککر کے پھٹنے کا کوئی خطرہ نہیں‘‘٭یہ اور اس قسم کی بے تحاشا انتہائی قیمتی اور فلسفیانہ باتیں بلکہ تلخ حقائق اور متعدد گلوکاروں‘ اداکاروں اور صحافی حضرات کے حوالے سے تلخ و شیریں یادیں جاننے کیلئے کتاب سے رجوع کیجئے کیونکہ یہ برق صاحب کی یادوں کے جنازے ہیں، اللہ نہ کرے جنازے کی یاد نہیں

ضلع نوشہرہ کے علاقے ڈاگ بے سود پبی سے تعلق رکھنے والے اسی سالہ سعد اللہ جان برق شعر و ادب، طنز و مزاح ڈرامے، صحافت، تصنیف و تالیف، ریڈیو، ٹی وی اور اخبار کی دنیا کے وہ بزرگ شہسوار ہیں جنہیں بجا طور پر اب تک پرائیڈ آف پرفارمنس اور لائف اچیومنٹ ایوارڈ سے نوازنا ان کا حق بنتا تھا کیونکہ بیک وقت اتنے بے شمار میدانوں میں مہارت اور طبع آزمائی کرنے والا ان کا کو ئی مدمقابل نہیں۔ لیکن بدقسمتی سے ہم مردہ پرست لوگ ہیں۔

ہم سے تعریف کروانے یا ایوارڈ لینے کے لئے بندے کو پہلے مرنا پڑتا ہے اور جب بندہ مرتا ہے تو پھر اس کی بے شمار خوبیاں گنوانے، تعریفیں کرنے اور ایوارڈز دینے اور دلانے والے درجنوں لوگ سامنے آ جاتے ہیں۔ بلکہ پھر ہم مرحوم کی خامیاں بھی تاویلیں کر کر کے خوبیوں میں شامل کرتے ہیں۔ لیکن پشتو کا ایک محاورہ ہے (چی اختر تیر شی نو نکریزے پہ دیوال اوتپہ)۔ اگرچہ میں سعد اللہ جان برق صاحب کو سالہاسال سے جانتا ہوں، دیکھتا ہوں، پڑھتا ہوں اور سنتا ہوں لیکن مجھے یقین ہے کہ انہیں زیادہ سے زیادہ میرا نام یاد ہو گا یا شاید وہ بھی نہیں۔ کیونکہ وہ لاپرواہ، اجڈ اور کسی حد تک۔۔ بلکہ نہیں حد سے زیادہ بے نیاز، بے پرواہ اور بے ریا بندہ ہے۔ بلکہ اگر میں بھی انہی کی طرح چند جملے کڑوا سچ بولوں تو وہ جدید دور کے مہذب تعلقات اور رسم و رواج کا بندہ ہی نہیں۔ کسی کا لحاظ رکھنے کے لئے بعض حقائق سے صرف نظرکرنا، کسی کا دل رکھنے کے لئے دو چار روایتی جملے کہنا، کسی کے منہ پر سخت جملے کہنے کی بجائے صبر یا برداشت سے کام لینا، یہ ان کا وطیرہ ہی نہیں۔ بلکہ اس کے برعکس سب کے سامنے جو دل میں آئے اپنی ساخت اور جسامت کی طرح انہی کرخت اور کھردرے الفاظ میں بیان کرنا ان کی پہچان ہے۔ لیکن میرے خیال میں اس کی بڑی وجہ ایک تو موصوف کی روایتی تعلیم کی کمی ہے کیونکہ وہ ساتویں جماعت کے بعد کسی سکول، کالج یا یونیورسٹی سے نہیں پڑھے، باقی تمام علوم ان کو زندگی کے تلخ تجربات نے سکھائے ہیں۔ اور یہ وہ نرالے علوم ہیں جو آکسفورڈ، کیمبرج اور ہارورڈ یونیورسٹیوں میں بھی نہیں پڑھائے جاتے ہیں۔

دوسری وجہ بچپن سے جوانی تک ان کے مایوس کن اور تلخ ماحول کا ان پر اثر ہے کیونکہ وہ تلخی ان کی رگ رگ میں سرائیت کر چکی ہے۔ وہ ان پڑھ کسانوں، مزدوروں، ڈرائیوروں، کنڈکٹروں، مدارس کے طالب علموں اور دکانداروں کے درمیان پلے بڑھے ہیں۔ زندہ رہنے اور آگے بڑھنے کے لئے انہوں نے بقول شخصے، وہ قرض اتارے ہیں جو واجب بھی نہیں تھے۔ اور یہ سب کچھ میں خود سے نہیں کہہ رہا بلکہ یہ سعداللہ جان برق کی شائع ہونے والی آپ بیتی (یادوں کے جنازے) کا نچوڑ ہے جو میں نے اپنے الفاظ میں بیان کیا۔ امید ہے کہ ان جملوں سے برق صاحب ناراض نہیں ہوں گے اور اگر ناراض ہو بھی گئے تو کوئی بات نہیں، انہوں نے اب تک کچھ کم لوگوں کو ناراض کیا ہے۔ میں تو پھر بھی ان سے مل کر معافی مانگ لوں گا۔

اللہ اللہ خیر صلا۔ جہاں تک برق صاحب کی آپ بیتی کا تعلق ہے اس میں نوجوانوں کے لئے پڑھنے سے زیادہ سیکھنے کے لئے بہت کچھ ہے کیونکہ دور حاضر کے نوجوان پلیٹ میں تیار ملنے اور کھانے کے عادی ہو چکے ہیں۔ حصول منزل کے لئے درکار محنت و مشقت ان کے بس کی بات نہیں۔ میں کتاب سے چند اقتباسات شامل کرنا ضروری سمجھتا ہوں کیونکہ ان موضوعات پر ایسا بے ساختہ بلکہ ننگا لکھنا صرف دور حاضر کے بہلول دانا برق صاحب ہی کے بس کی بات ہے جو پشتو محاورے کے مصداق (نہ پہ سر تار لری او نہ پہ چا کار لری)۔ ہم جیسے لکھاری اس کا سوچ بھی نہیں سکتے۔ مگر اقتباسات سے پہلے کتاب کے حوالے سے دو ایک باتیں ضرور عرض کروں گا۔ ایک یہ کہ کتاب میں پروف ریڈنگ کی بے تحاشا غلطیاں ہیں۔ ایک ایک صفحے پر پانچ پانچ اور چھ چھ غلطیاں نہ صرف پڑھنے کا مزہ کرکرا کر دیتی ہیں بلکہ بعض مقامات پر تو ان غلطیوں نے جملوں کے معنی تک تبدیل کر دیے ہیں۔ دوم یہ کہ برق صاحب یا پبلشر نے کتاب کی قیمت بہت زیادہ رکھی ہے۔ ہم پاکستانی نہ اتنے مالدار ہیں نہ پڑھنے کے اتنے شوقین کہ تین ہزار پانچ سو روپے کی کتاب خرید کر پڑھیں۔

اگرچہ میرے بالواسطہ پیغام یا شکایت پر پختونخوا میں اب کتاب ایک ہزار روپے میں دستیاب ہے مگر اس پر لکھی ہوئی قیمت اب بھی کتاب خریدنے کی راہ میں رکاوٹ اور دکاندار کے لئے موقع پا کر زیادہ کمانے کا وسیلہ ہے۔ اب آتے ہیں چند برقی نظریات، دعوؤں اور اقتباسات کی طرف۔ برق صاحب نے اسی سالہ زندگی پر محیط یادوں میں کئی ایک شخصیات کے بارے میں اظہار خیال کیا ہے۔ ویسے تو انھوں نے دعوی کیا ہے کہ ان کی شاعری کا زیادہ ترحصہ کئی ایک لوگوں نے اپنے نام کیا ہے یا میں نے اپنی مرضی سے دوسروں کے نام کروایا ہے کیونکہ مجھے اس کی پرواہ نہیں تھی۔ لیکن خاص کر شمس الزمان شمس کے حوالے سے ان کے خیالات کا لب لباب یہ ہے کہ وہ شاعر تھے ہی نہیں۔ وہ میرا دوست تھا اور میں کلام لکھ لکھ کر ان کو دیتا تھا۔ اور وہ اسے اپنے نام سے چھپواتا یا سناتا تھا۔ شمس الزمان شمس کے نام سے مشہور غزل جو کئی دہائیوں تک ریڈیو پاکستان سے آن ائیر ہوتی رہی (ہر یو گل دے پانڑے پانڑے نشتہ سا یوہ غوٹئی کی) کے حوالے سے بھی برق صاحب کا دعوی ہے کہ یہ ان کی غزل ہے جو بوجوہ شمس کے نام ہو گئی ہے۔ شاعری کے حوالے سے برق صاحب فرماتے ہیں۔ شاعری کے لئے کسی مطالعے علم یا محنت کی ضرورت نہیں پڑتی، نہ دلیل کی نہ معقولیت کی، آپ کچھ بھی کہہ سکتے ہیں۔ چاند پر چڑھ کر ستارے پکڑ کر لا سکتے ہیں، محبوب کی آنکھوں میں سو مٹکے شراب دیکھ سکتے ہیں وغیرہ وغیرہ جبکہ نثر کے لئے قاری کو کسی بھی موضوع پر قائل کرنے کے لئے دلیل اور منطق کی ضرورت ہوتی ہے اور اس کے لئے پہلے خود مطالعہ کرنا اور چیزوں کو سمجھنا پڑتا ہے۔ اگرچہ برق صاحب کے اس نظریے میں کافی حد تک سچائی ہے مگر اب وہ لوگ جن کی وجہ شہرت، عزت و تکریم بلکہ اوڑھنا بچھونا شاعری تک محدود ہے وہ برق صاحب کی اس رائے پر کیا ردعمل دیتے ہیں وہ جانیں اور سعد اللہ جان برق جانیں۔

پاکستانی سیاست کے حوالے سے برق صاحب کتاب کے صفحہ نمبر پانچ سو سترہ پر لکھتے ہیں کہ ہمارے سیاستدان پرانے زمانے کے مداریوں (جادوگروں) سے زیادہ تیز اور ماہر ہیں۔ وہ سانپ دکھانے کے وعدے کر کے تعویذیں اور دوائیاں بیچتے ہیں۔ کوئی مضبوط پاکستان کی دوائی کوئی نقش سلیمانی کی، کوئی نظریہ پاکستان کی تو کوئی روٹی کپڑا اور مکان کی، کوئی سب سے پہلے پاکستان کی تو کوئی صادق و امین، نئے پاکستان اور ریاست مدینہ کی دوائی بیچ رہا ہے مگر مجال ہے کہ حاضرین سوال اٹھا سکیں کہ بھئی ہم تو مدتوں سے تبدیلی نامی سانپ دیکھنے کے انتظار میں ہیں۔ کیوں؟ صرف اس لئے کہ وہ سب ہیپنٹائزڈ ہیں کیونکہ سالہاسال سے مداریوں نے انہیں مسحور کر کے ان کے دماغوں کو ماؤف کر دیا ہے۔ جدید دور کی آزادی نسواں کے حوالے سے برق صاحب صفحہ نمبر پانچ سو پینتیس پر لکھتے ہیں۔ موجودہ دور میں حقوق نسواں کی تنظیموں اور انوکھے لاڈلے (یعنی مرد) نے مل کر یہ جو آزادی نسواں کا طلسم ہوشربا پھیلایا ہے اس میں بھی عورت کو بحیثیت انسان آزادی نہیں دی گئی ہے بلکہ بحیثیت ایک (جسم) دی گئی ہے اور دی جا رہی ہے لیکن کمال کی ہنرمندی یہ ہے کہ عورت خود اس زمرد کے گلوبند کو آزادی سمجھ رہی ہے۔

یعنی وہ اتنی ہپنٹائزڈ ہے کہ وہ خود صرف نسوانی اعضاء کی آزادی اور برہنگی کو آزادی سمجھ بیٹھی ہے۔ اور خوشی خوشی آمدنی کا ذریعہ بن جاتی ہے اور انوکھا لاڈلا اپنے ہر کاروبار میں اسی سے تڑکا لگواکر کھیل رہا ہے۔ پاکستانی نظام تعلیم کے بارے میں لکھتے ہیں (انگریز سرکار کے لئے غلام یا پرزے پیدا کرنے والے لارڈ میکالے کے نظام تعلیم کو پاکستانی اشرافیہ نے مزید ڈویلیپ کر کے تین حصوں میں تقسیم کر دیا ہے۔ یعنی انگلش میڈیم جو وزیر، کبیر اور امیر پیدا کرتا ہے۔ سرکاری تعلیم جو غلام اور کارکن مکھیاں تیار کرتا ہے اور دینی مدرسے جو ہر طرح کے سپئیر پارٹس بناتا ہے۔ اور اس کا اولین و آخرین مقصد مسلمانوں کو کام نہیں کرنے دینا ہے اور ان کی توجہ صرف آخرت پر مرکوز کرانا ہے تاکہ (دنیا) اشرافیہ کی مارکیٹ بنی رہے۔ ان تینوں نظام ہائے تعلیم میں (علم) نام کی کوئی چیز ہوتی ہی نہیں۔ اس میں ڈاکٹر، پروفیسر، انجینئر حساب دان، سائنس دان اور پیسہ کمانے کی مشینیں تو بن جاتی ہیں لیکن انسان نہیں بنتے نہ بنائے جاتے ہیں بلکہ حتی الوسع کوشش ہوتی ہے کہ انسان کے اندر سے انسان کو نکال کر اسے حیوان یا مشین بنایا جائے۔ اب ظاہر ہے کہ مشینوں اور حیوانوں میں انسانیت ڈھونڈنا کار عبث کے سوا کچھ نہیں۔

جدید میڈیا اور اس کی نام نہاد آزادی کے حوالے سے سعد اللہ جان برق صاحب کا خیال ہے کہ اس کی مثال پریشر ککر کے سیفٹی والو سے زیادہ کچھ نہیں۔ اس کا مقصد اشرافیہ کی طرف سے عوام کو دل کی بھڑاس نکالنے کے لئے پلیٹ فارم فراہم کرنا ہے تاکہ شور شرابے اور گالم گلوچ میں کان پڑی آواز سنائی نہ دے اور اس شور شرابے میں اشرافیہ اپنا کام کرتی رہے اور حقیقی انقلاب کا راستہ روکا جا سکے۔ اور یہ جو سوشل میڈیا نام کی چیز ہے اسے عوام کے ہاتھ میں دے کر اپنے آپ پر استعمال کروانا شروع کر دیا۔ یا یوں کہیے کہ آوازوں کا ایک جنگل اگا کر اسے اپنے ہی آپ میں گم کر دیا۔ یہ زبردست سیفٹی والو اشرافیہ کے لئے باعث اطمینان ہے کیونکہ جس کا جو جی چاہے بولے اور جب سب بولنے والے ہوئے تو سننے والا بچا کہاں؟ اشرافیہ خوب مزے میں ہے کیونکہ پریشر ککر کی بھاپ سیفٹی والو سے سیٹیاں بجا بجا کر نکل رہی ہے اور پریشر ککر کے پھٹنے کا کوئی خطرہ نہیں۔ یہ اور اس قسم کی بے تحاشا انتہائی قیمتی اور فلسفیانہ باتیں بلکہ تلخ حقائق اور متعدد گلوکاروں، اداکاروں اور صحافی حضرات کے حوالے سے تلخ و شیریں یادیں جاننے کے لئے کتاب سے رجوع کیجئے کیونکہ یہ برق صاحب کی یادوں کے جنازے ہیں، اللہ نہ کرے جنازے کی یاد نہیں۔

یہ بھی پڑھیں

عبدالقیوم بلالہ، سوات تا کراچی سائیکل پر سفر کرنے والے سوات کے 83 سالہ بزرگ – تحریر:عصمت علی اخون

”میری عمر کے لوگ اکثر بیمار ہوتے ہیں لیکن میرے خیال میں میری سائیکل نے …