غازی امان اللہ خان، سچے سپوت، بابائے استقلال – تحریر:عبدالحئی ارین

غازی امان اللہ خان نے بحیثیت حکمران نا صرف ملک کی آزادی حریت اور امن و امان کو برقرار رکھا بلکہ انھوں نے ملک کو ترقی کی راہ پر گامزن کرنے اور افغان ملت کو جدید دنیا کے ساتھ ھم آھنگ کرنے کیلئے بھی کئی تاریخی کارنامے سرانجام دیے

تاریخ گواہ ہے کہ جب بھی کسی قوم پر برے حالات آتے ہیں تو اس وطن کے سپوت اپنے جان اور مال کی قربانیوں سے اپنے وطن کو قبضہ گروں سے بچاتے آ رہے ہیں۔ ا پنے وطن کے دفاع کیلئے میروایس نیکہ، احمد شاہ بابا، دریا خان، ایمل خان، خوشحا ل خان ، بایزد روشان ، خان شھید، باچا خان ،صنوبر کاکا جی اور ہزاروں دیگر پشتونوں نے مغل اور انگریز حکمرانوں کے خلاف بغاوت کا علم بلندکر کے اپنی سرزمین کا دفاع کیا۔ امیر عبدالرحمن کی وفات کے بعد ان کے فرزند شہزادہ حبیب اللہ خان تخت نشین ہوئے۔ تاہم وہ بھی اپنے والد کی طرح انگریز سامراج کی استعماری پالیسیوں سے اپنے وطن کو آزاد نہیں کرا سکے۔
ایک دن امیر حبیب اللہ خان شکار کھیلتے ہوئے زخمی ہوئے جس کے بعد وہ جانبر نہ ہو سکے یوں وہ اپنے والد کی طرح انگریزوں سے اپنے مادر وطن کو آزاد کرانے کے ارمان دل میں لئے اس دار فانی سے رخصت ہوئے۔ ان کی موت کے بعد ان کے بیٹے شہزادہ امان اللہ خان جو کابل کا حکمران تھا افغانستان کے تخت پر جلوہ افروز ہوئے جنھوں نے بحیثیت افغان شہنشاہ کے اپنی پہلی تقریر میں تلوار میان سے نکالی اور افغانستان کی آزادی کا اعلان کرتے ہوئے کہا کہ یہ تلوار میں اس وقت تک میان میں نہیں رکھوں گا جب تک افغان سرزمین کو مکمل آزادی نہ دلاؤں۔


انگریز سرکارکو امیر امان اللہ کی یہ بے نیازی راست نہیں آئی اور انھوں نے 1919 میں افغانستان کے خلاف تیسری افغان اینگلو وار (جنگ) چھیڑ دی، تاہم شاہ امان اللہ خان کی ولولہ انگیز قیادت اور افغان قوم کے اتحاد و اتفاق نے انگریز فوج کو پسپا ہونے پر مجبور کر دیا اور اس طرح وہ ذلت آمیزشکست سے دو چار ہوئے۔ اور آخر کار 18 اگست 1919 کو برطانیہ کو افغانستان کی آزادی تسلیم کرنی پڑی۔ جنگ میں سرخرو ہونے کے بعد ناصرف افغان قوم نے امیر امان اللہ خان کو نجات دہندہ قرار دے دیا بلکہ انھیں شاہ کے لقب سے بھی نوزا۔
تاریخ نے قوموں کو یہ پیغام دیا ہے
حق مانگنا توہین ہے حق چھین لیا جائے۔؎


احمد فراز کے اس شعر کے مصداق بابائے استقلال غازی امان اللہ خان افغان ملت کی آواز پر لبیک کہتے ہوئے انگریز استعمار کے سامنے ڈٹ گئے اور انھوں نے انگلستان کو خبردار کیا کہ وہ آزاد افغانستان میں مداخلت سے باز رہے اور آپ نے اپنے والد اور دادا کے انگریزوں کے ساتھ افغان سر زمین کے حوالے سے کیے گئے تمام معاہدوں کو ماننے سے انکار کیا جس کی وجہ سے 1919 میں انگلستان نے افغانستان کے خلاف جنگ شروع کی۔ افغان ملت نے شاہ امان اللہ کا ساتھ دیتے ہوئے بالخصوص افغانستان کے وردگ اور ہزارہ قبائل نے سب سے پہلے اور پھر تمام افغان ملت نے بیک آواز اور متحد ہو کر انگریزوں کے خلاف اٹھ کھڑے ہوئے۔
اسی طرح پشتونخوا وطن اور نیم آزاد پشتونخوا وطن (فاٹا) سے بھی حریت پسند وطن دوست قوتوں نے شاہ کی مدد کیلئے لشکر تیار کیے جن میں خان شھید عبداصمد خان اسکزئی، عبدا سلام اسکزئی، مشو شیرانی، شیر علی کاکڑ، ازمیر خان مندوخیل، ساوون موسی خیل، باچا خان (خان عبدالغفار خان)، فقیر ایپی، عجب خان اپریدی، صنوبر کاکاجی اور ہزاروں افغانوں نے بھی امان اللہ خان کے ساتھ انگریزوں کے خلا ف آزادی کی جنگ شروع کی جن میں سے اکژ رہنماؤں کو انگریزسرکار نے جیلوں میں بند کرکے ان کے خلاف بغاوت کے مقدمات درج کئے۔ اور افغانوں کا یہ تاریخی اتحاد آخرکار رنگ لے آیا اور انگریز حکومت کو شاہ امان اللہ اور افغان قوم کے سامنے جھکنا پڑا، اور انھوں نے شاہ افغانستان کے استقلال کو تسلیم کیا۔


غازی امان اللہ خان نے بحیثیت حکمران نا صرف ملک کی آزادی حریت اور امن و امان کو برقرار رکھا بلکہ انھوں نے ملک کو ترقی کی راہ پر گامزن کرنے اور افغان ملت کو جدید دنیا کے ساتھ ھم آھنگ کرنے کیلئے بھی کئی تاریخی کارنامے سرانجام دیے جن میں کچھ کا مختصراً ذکر میں یہاں کرتا چلوں۔
غازی امان اللہ خان نے ایک موقع پر فرمایا تھا آزادی کا ایک لمحہ یہ بھی ہے کہ آپ عوام، علمائ، مشائخ، وکلاء اور ملت کے دیگر لوگ میرے حضور اپنی رائے اور افکار کا آزادانہ طور پر اظہار کر سکتے ہوں۔ امان اللہ خان جوکہ خود بھی ایک صحافی تھے وہ اور ان کی اہلیہ ملکہ ثریا سراج لاخبار نامی مشہور اخبار میں کام کرتی تھیں، اس ا خبارکے ایڈیٹر شاہ امان اللہ کے سسر محمود طرزی تھے۔ اسی طرح شاہ کے دور کے پہلے سال اپریل 1919 میں افغان کے نام سے ایک اخبار شروع کیا گیا جس کے سربراہ جعفر خان قندھاری تھے۔


اعلی حضرت شاہ امان اللہ خان اپنی ملت کی آراء و افکار بیان کرنے کی آزادی پر پورا یقین رکھتے تھے، چونکہ میڈیا کی آزادی بادشاہ اور عوام پر ایک چیک اینڈ بیلنس کی حیثیت رکھتا ہے۔ غازی امان اللہ خان نے اپنے دور کے پہلے ہی سال جرنلزم کی آزادی کا اعلان کیا اور امان افغان جریدہ نے سراج الاخبار کی جگہ لے لی۔ اس کے علاوہ ملک میں عام لوگوں نے مختلف اخبار و جرائد کی اشاعت شروع ہوئی۔ اس طرح ملک میں خواتین کے لئے ارشاد نسواںکے نام سے ایک میگزین بھی شروع ہوا جس کی مدیران غازی امان اللہ خان کی ساس اسما سیمی اور ایک دوسری خاتون محترمہ روح افزا تھیں۔
اس کے ساتھ ملک میں دیگر جرائد و اخبار مثلاً مجموعہ عسکریہ جسے بعد میں اردو اخبار کے نام سے منسوخ کیا گیا اس کے علاوہ آئینہ عرفان، مجموعہ صحیہ اور ثروت کے پروگرام شروع کئے گئے۔ اس طرح آزادی بیان اور جرنلزم کے حوالے سے 1924 میں مطبوعات قانون نافذ کیا گیا جس کے بعد ملک میں میڈیا نے زور پکڑ لیا اور افغانستان میں سیکڑوں اخبار، جرائد، پروگرام اور رسائل چھپنے لگے۔ اخوان افغان کے نام سے کابل میں پہلی پارٹی بنائی گئی اور غالباً یہ سیاسی پارٹی غازی امان اللہ خان کے سسر محمود طرزی نے بنائی تھی۔


افغانستان میں ریڈیو اسٹیشن بھی امانی دور میں قائم کیا گیا اور ملک کے کئی علاقوں شہروں اور خاص مقامات پر لاؤڈ اسپیکر بھی نصب کئے گئے تاکہ عوام ریڈیو کی نشریات سن سکیں اور اس طرح سیل سے چلنے والے ریڈیو سیٹ بھی عوام میں تقسیم کئے گئے۔ اور اس طرح جب امان اللہ خان نے ملک میں سینما گھروں کی ضرورت محسوس کی تو جب وہ یورپ کے دورے پر تھے اس دوران شاہ کے انگلستان کی سیاحت کے دوران فلم بند کئے گئے فلموں کی نمائش کابل کے مرکزی سینما گھرو ں میں شرع ہوئی اور یہ تمام سینما گھر امان اللہ خان نے یورپ کے دورے سے پہلے ملک میں قائم کئے تھے اور اس طرح امانی دور میں ملک کے کئی مشہور علاقوں میں چھاپے خانے بھی قائم کئے گئے۔


امان اللہ خان کے خاندان کو موسیقی کے ساتھ لگاؤ اور محبت تھی۔ ان کے دادا عبدالرحمان خان خود موسیقی کے دلدادہ تھے اور وہ موسیقی کے کئی الات بجا بھی سکتے تھے جبکہ امیر نے نورستان اور ہندوستان سے خاتون موسیقاروں کو اپنی محل میں جگہ دی تھی۔ اور ملک کے تمام موسیقاروں کو تنخواہیں یا خاص معاش ملتی تھی۔ امان اللہ خان کے والد حبیب اللہ خان بھی موسیقی سے لگاؤ رکھتے تھے اور افغانستان میں موسیقی کو پروان چڑھانے کے لئے ملک کے کونے کونے اور ہندوستان سے اچھے موسیقار بلائے گئے تھے تاکہ اچھی موسیقی کو ترقی دیا جا سکے۔


ازی امان اللہ خان نے اپنے دور میں موسیقی کو ملک کے تعلیمی اداروں میں بطور مضمون شامل کیا تھا جس کی ہفتے میں دو دن کلاسز ہوتی تھیں۔ جس کا ثبوت اس وقت کی تصانیف سے بھی عیاں ہے کہ غازی امان اللہ خان خود بھی شوقیہ گانے گاتے تھے اور وہ پیانو بجا نے پر مہارت رکھتے تھے۔ یہ ہنر انہوں نے اپنے والد کے دور میں استاد قاسم خان سے سیکھا تھا۔ اس سلسلے میں انھوں نے سینکڑوں نوجوانوں کو موسیقی کی تربیت کیلئے ترکی، ہندوستان، روس اور دیگر ممالک بھیجا تاکہ وہ وہاں سے موسیقی اور گلوگاری کی تربیت حاصل کر سکیں۔


انہوں نے غلامی نظام ختم کر دیا۔ ملک میں تمام قیدیوں کو آزاد کیا خاص کر وہ قیدی جو ان کے والد کے دور میں جیل میں رکھے گئے تھے۔ شاہ نے نہ صرف انہیں آزادی دی بلکہ اہم حکومتی عہدوں پر بھی فائز کیا۔ اس سے پہلے کہ امان اللہ خان انگلستان کے ساتھ اپنا حساب کتاب برابر کرتے امان اللہ خان نے اپنے ملک کے حالات تبدیل کرنے کے لئے ملک میں معاشرتی، معاشی، سیاسی تبدیلیوں اور اصلاحات شروع کیں۔ انہوں نے جلال آباد میں لویہ جرگہ بلا کر ا س میں ایک اساسی قانون بھی پاس کیا۔ امان اللہ خان نے مختلف ملکوں کے ساتھ معاہدے اور عہد نامے بھی کئے جن میں افغان روس عہدہ نامہ، افغان انگلستان عہد نامہ، افغان ترکی عہد نامہ اس طرح افغان ایران، فرانس، جاپان وغیرہ کے معاہدے شامل ہیں۔


امانی دور میں افغانستان کی قدیم تاریخ اور تاریخی مقامات پر ریسرچ کی گئی جس میں بگرام، بامیان، نوشیروان، غزنی، بلخ وغیرہ کے علاقے قابل ذکر ہیں۔ ان علاقوں میں قدیم تصاویر، نقشے، پتھر لکھ، میخی خط، زرتشی مذہب اور آرین تہذیب کے حوالے سے کافی معلومات حاصل ہوئیں اور یہی وجہ ہے کہ آج کے تاریخ کے علما نے انہی حقائق و معلومات کو بنیاد بنا کر پشتونوں کی اصل و نسل کی تاریخ رقم کی۔
1923 میں لویہ جرگہ میں اساسی قانون پاس کیا گیا جو ملک کا پہلا آئین بنا۔ امان اللہ خان نے دس سالہ دور میں ملک کو جدید انقلابی دور میں داخل کیا اور اپنی ان اصلاحات کی بنا پر وہ چاہتے تھے کہ ملک کو دنیا میں ایک اعلی اور بہتر مقام پر لاکھڑا کر سکیں۔ اس لئے اس دور کے پہلی اصلاحات تعلیم و تدریس کے مرحلے سے شروع ہوئیں جہاں پر بادشاہ نے ترکی، مصر اور فرانس سے اساتذہ بلائے اور پہلے ہی مرحلے میں ملک میں ترانوے مڈل سکول بنائے گئے اور اس طرح انیس سو بائیس میں پہلے امانیہ سکول کی بنیاد رکھی گئی جس میں فرانس کے اساتذہ تھے۔ انیس سو تئیس میں امانیہ کالج بنایا گیا اور ملک میں ہر جگہ تعلیمی ادارے کھولے گئے۔ اس طرح مذہبی درس و تدریس کو حکومت کے کنٹرول میں لایا گیا۔


امانی دور میں ہی کمیونی کیشن کے شعبے کو کافی ترقی دی گئی۔ ملک میں اہم قومی شاہراہیں کی تعمیر شروع کی گئی۔ آپ کے دور میں اہم اور بڑی قومی شاہراہوں کی تعمیرات، جدید ٹیلیگراف، ٹیلیفون لائنز، ٹیلیوژن، ریڈیو اسٹیشنز (1929 میں پہلا ریڈیو اسٹیشن قائم کیا گیا)۔ اسی طرح کابل سمت ملک کے کئی صوبوں میں سنیما گھر کھولے گیے جہاں بڑی سکرین پر ملک میں جاری ترقیاتی کاموں اور عوام کو شعور دینے والے فلمیں دکھائی جاتی تھیں۔

یہ بھی پڑھیں

روایتی مزدہ بسوں سے جدید ہائبرڈ بسوں تک کا سفر

تحریر: طارق اللہ ٹرک آرٹ ، گھونگھروں اور پھولوں سے سجھی لگ بھگ 50 سال …

%d bloggers like this: