حکومت مہنگائی کو کنٹرول کرنے میں ناکام‘ذخیرہ اندوزوں نے عوام کو لوٹنا شروع کردیا

ضلعی انتظامیہ اوردیگر اداروں کی موجودگی میں ٹائیگر فورس کے جوان کس قانون کے تحت دُکاندار یا منافع خور تاجر وںسے باز پرس کریں گے؟

مسلم صابر تخت بھائی

جب سے موجودہ حکومت بر سراقتدار آئی ہے ملک میں مہنگائی کا ایک طوفان آچکا ہے اور اشیائے خوردونوش کی قیمتیں تاریخ کی بلند ترین سطح پر پہنچ گئی ہیں ‘ذخیرہ اندوزوں اور منافع خوروں نے عوام کو دونوں ہاتھوں سے لوٹنا شروع کر دیا ہے غریب عوام پہلے سے ہی بجلی اور گیس کے زائد بلوں اور پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں آئے روز اضافے سے تنگ آچکے تھے کہ حکومت نے آٹااور چینی کی قیمتوں میں بھی بے تحاشہ اضافہ کردیا جس سے عوام کی قوت خرید جواب دے گئی ۔حکومت کے بلند بانگ دعوئوںکے باوجود مہنگائی کیخلاف کوئی پیش رفت نہیں ہورہی اور ضروریات زندگی تقریباً عوام کی پہنچ دور ہوگئی ہیں ‘اب جب پی ٹی آئی حکومت نے انتظامیہ کے بر عکس مہنگائی کو کنٹرول کرنے کے لئے ٹائیگر فورس کوالرٹ کرنے کا فیصلہ کر لیا اس سے ثابت ہوتا ہے کہ حکومت کی رٹ کمزور ہوچکی ہے اور بیو رو کریسی کے سامنے موجودہ حکومت بے بس نظر آرہی ہے ۔

سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ ضلع اور تحصیل انتظامیہ موجود ہونے کے باوجود ٹائیگر فورس کے جوان کس قانون کے تحت کسی دوکاندار یا منافع خور تاجر سے باز پرس کریں گے اس سے یقینا انارکی پھیلنے کا خدشہ پیدا ہوگا لگتا یہی ہے کہ مرکزی اور صوبائی حکومتیں مہنگائی کو کنٹرول کرنے میں مکمل طورپر ناکام ہوچکی ہیں دوسری جانب آٹا اور چینی کی قلت نے بھی عوام کی پریشانی میں مزید اضافہ کردیا ہے ۔
نواز شریف کے دور حکومت اور موجودہ حکومت میں اشیائے خوردونوش کی قیمتوں میں زمین و آسمان کا فرق ہے گزشتہ حکومت میں 20کلو آٹے کا تھیلا 600روپے جبکہ تبدیلی سرکار کے دور میں 1500روپے میں فروخت ہورہار ہے ‘چینی 55روپے کی بجائے 110روپے فی کلو‘ گھی120کی بجائے 200روپے سے زائد‘دال چنا 65اوراب140روپے فی کلو ‘لوبیا 80روپے کی بجائے 220روپے فی کلو‘ دال مونگ 70روپے کی بجائے 200‘چاول100کی بجائے 170روپے‘ چائے کی پتی600کی بجائے 1000روپے‘ خشک دھنیا120کی بجائے 300روپے فی کلو ‘ مسور کی دال70کی بجائے 150روپے‘بیس 60کی بجائے 110‘ زیرہ200کی بجائے 600روپے فی کلو فروخت ہونے لگا ہے جبکہ اس کے علاوہ فی بوری سیمنٹ کی قیمت 460سے بڑھ کر 550روپے‘ سفید سیمنٹ1000روپے کی بجائے 1300روپے کی فی بوری‘سریا 70ہزار روپے فی ٹن سے ایک لاکھ 10ہزار روپے فی ٹن تک پہنچ گیا ‘جبکہ پٹرول65روپے فی لیٹر سے بڑھ کر 105روپے تک پہنچ چکا ہے سونے کی قیمت بھی 55ہزار روپے فی تولہ سے بڑھ کر 1لاکھ30ہزار روپے تک پہنچ گئی ہے جبکہ ڈالر 101/102سے بڑھ کر 170/175کا ہو گیا جو یقینا موجودہ حکومت کی ناکامی کا منہ بولتا ثبوت ہے ۔موجودہ دور میں غریب اور کمزور طبقہ ایک وقت کی روٹی کھانے پر مجبور ہو چکا ہے مہنگائی نے عوام کی چیخیں نکلوا دیں لیکن حکومت عوام کو ریلیف دینے کی بجائے اپوزیشن کو دیوار سے لگانے کی کوشش میں لگی ہوئی ہے ۔
غریب اور محنت کش طبقے کے وسائل انتہائی قلیل جبکہ مسائل پہاڑ کے برابر ہیں مہنگائی کے اس بدترین دور میںکمزورطبقے بچے تعلیم چھوڑ کر محنت مزدوری کرنے پر مجبور ہوچکے ہیں ۔آٹا، چینی، دالوں ،گھی، گڑ، سبزیوں، گوشت،انڈوں اور دیگر اشیاء و خورد ونوش کی قیمتوں میں کئی گنا اضافہ لمحہ فکریہ ہے  جس حکومت کی ناقص کارکردگی عوام کے سامنے ظاہر ہورہی ہے ‘موجودہ صورتحال سے صاف ظاہر ہورہا ہے کہ موجودہ حکومت کے پاس کوئی حکمت عملی نہیں اور نہ ہی کوئی مربوط پالیسی ہے حکومت کے اپنے وزراء اور کارندے بھی مہنگائی سے پریشان نظر آرہے ہیں او کابینہ اجلاس میں بار بار یہ بات سامنے آچکی ہے کہ مہنگائی کی وجہ سے پی ٹی آئی کے ارکان عوام کا سامنا کرنے سے کتراتے ہیں ۔ 
سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ اگر حکومت اور کابینہ مہنگائی کو کنٹرول کرنے میں ناکام رہی ہیں تو ٹائیگر فورس کے ذریعے مہنگائی پر کس طرح قابو پایا جاسکتا ہے البتہ موجودہ حکومت اپنے کارکنوں کو نوازنے اور انہیں راضی کرنے کیلئے ٹائیگر فورس استعمال کرسکتی ہے۔

یہ بھی پڑھیں

موجودہ حالات اور عوامی نیشنل پارٹی کے مطالبات – تحریر: شہباز ڈیسک

عوامی نیشنل پارٹی کی مرکزی مجلس عاملہ کا اجلاس10 اکتوبر 2020 کو کوئٹہ میں منعقد …

%d bloggers like this: