”میڑنی دی چہ یادیگی، پہ سندرو ہم پہ ویر”

تحریر: روخان یوسفزئی

معروف ادیب، محقق اور صوفی ڈاکٹر پرویز مہجور کی یاد میں منعقدہ تعزیتی ریفرنس کی روداد

ایک جانب اگر یہ کہا جاتا ہے کہ ”پیار کبھی مرتا نہیں مرتے ہیں انسان” تو دوسری جانب صاحب سیف و قلم خوشحال خان خٹک فرماتے ہیں کہ
میڑنی دی چہ یادیگی
پہ سندرو ہم پہ ویر
مطلب یہ کہ بہادر اور نڈر ہوتے ہیں جو نغموں اور سسیکیوں میں بھی یاد کیے جاتے ہیں اور ان دونوں باتوں کی اصل حقیقت ہم پر گزشتہ دنوں علامہ اقبال اوپن یونیورسٹی میں پاکستانی زبانوں کے چیئرمین، پشتو اور اردو کے معروف ادیب، ماہر تعلیم اور دانشور ڈاکٹر عبداللہ جان عابد کے حجرہ ”ادب کور” (ادب گھر) بمقام خویشکی پایان میں منقعدہ تعزیتی ریفرنس میں کھلی جس کا اہتمام ڈاکٹرعبداللہ جان عابد اور ان کے چند دوستوں نے کیا تھا۔


تعزیتی ریفرنس پشتو کے بہت بڑے محقق، ادیب، بایزیدانصاری المعروف پیر روخان (پیر روشن) اور ان کی تحریک روشنائی پر ایک اتھارٹی سمجھنے والے مرحوم ڈاکٹر پرویز مہجور خوشیکی کی یاد میں منعقد کیا گیا تھا۔ تقریب کی صدارت پشتو کے بین الاقوامی شہرت یافتہ انقلابی شاعر و ادیب رحمت شاہ سائل نے کی جبکہ مہمان خصوصی پشتو کے معروف شاعر اور سابق صوبائی وزیر عبدالسبحان خان تھے۔ ان کے ساتھ دیگر اعزازی مہمانوں میں پروفیسر ڈاکٹر یار محمد مغموم، نورالبشر نوید، شیخ شوکت، فیض الوہاب فیض، پروفیسر اسیر منگل، شوکت حیات خان، نورالامین یوسف زئی اور آیازمندوخیل تھے، نظامت کے فرائض اقبال حیسن افکار نے ادا کیے۔


اس موقع پر ڈاکٹر عبداللہ جان عابد نے آنے والے تمام مہمانوں کو خوش آمدید کہا اور اپنے استاد و محسن ڈاکٹر پرویز مہجور کی ادبی خدمات پر روشنی ڈالی اور انہیں زبردست خراج عقیدت پیش کیا۔ انہوں نے کہا کہ ہمارے گاؤں کی تاریخ میں یہ پہلی ایک ایسی منفرد اور یادگار تقریب ہے جس میں صوبے کی نامی گرامی ادبی اور علمی شخصیات ایک ساتھ موجود ہیں جو ہمارے پورے گاؤں کے لیے بہت بڑا اعزاز اور مرحوم ڈاکٹر پرویز مہجور سے ان شخصیات اور شرکاء کی والہانہ محبت اور عقیدت کا مظہر ہے۔
تعزیتی ریفرنس سے سیدالامین احسن، ڈاکٹر جہان عالم، ڈاکٹر زیبر حسرت، ڈاکٹر بنارس، فرہاد غالب ترین، بہرمند خان اور خود راقم نے بھی خطاب کیا جبکہ خورشید ابن لبید اور ودود اشنغری نے منظوم خراج عقیدت پیش کیا۔ مقررین نے کہا کہ بایزید انصاری المعروف پیر روشن، ان کی تحریک اور مریدوں کے بارے میں جو غلط پروپیگنڈا کیا جا رہا تھا اور ان کے نظریات اور عقائد کے بارے میں جو غلط فہمیاں پھیلائی گئی تھیں ان تمام کے جوابات ڈاکٹر پرویز مہجور خویشکی نے بڑے تحقیقی انداز میں دلائل کے ساتھ دیے ہیں۔
مقررین نے کہا کہ ڈاکٹر پرویز مہجور نے جتنا بھی تحقیقی کام کیا ہے اس میں سچائی اور معیار کا خاص خیال رکھا گیا ہے۔ انہوں نے ذاتی طور پر ایک ادارے جتنا کام کر کے دکھایا ہے خاص طور پر بایزید انصاری، تحریک روشنائی اور اس کے عقائد اور نظریات پر پہلی بار اتنی علمی اور معیاری تحقیق کا سہرا ڈاکٹر پرویز مہجور کے سر سجتا ہے۔


ریفرنس میں سندھی زبان کے ادیب پروفیسر حاکم علی برڑو، بلوچی زبان کے دانشور ضیاء الرحمان بلوچ، کلثوم زیب اور فرحت بھی موجود تھیں۔ پروفیسر اسیر منگل نے ڈاکٹر پرویز مہجور سے وابستہ بہت سی یادیں بیان کیں۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ گورنمنٹ کالج نوشہرہ میں ابھی تک بی ایس کی کلاسیں شروع نہیں کی گئی ہیں ساتھ جہاں جہاں بھی پشتو کے اساتذہ نہیں ہیں وہاں فوری تعیناتی کے احکامات جاری کیے جائیں۔
ریفرنس سے مہمان خصوصی عبدالسبحان خان، صاحب صدر رحمت شاہ سائل کے علاوہ شوکت حیات خان، پروفیسر ڈاکٹر یار محمد مغموم خٹک، نورالبشر نوید، فیض الوہاب فیض، حق نواز تورخیل، نورالامین یوسف زئی اور فرہاد غالب ترین نے خطاب کرتے ہوئے ڈاکٹر پرویز مہجور کی ادبی اور علمی خدمات کو سراہا اور متعلقہ اداروں سے مطالبہ کیا کہ مرحوم کی غیرمطبوعہ تحریروں کو کتابی صورت میں شائع کیا جائے۔
ریفرنس میں پشتو اکیڈمی کے کسی بھی ذمہ دار نے شرکت نہیں کی جسے بہت زیادہ محسوس کیا گیا اور شرکاء میں ان کی عدم شرکت موضوع بحث رہی کیونکہ جس ادارے میں ڈاکٹر پرویز مہجور نے زندگی کا ایک لمبا عرصہ گزارا ہے اور بطور ریسرچ آفیسر جتنی زیادہ ادبی، علمی اور تحقیقی خدمات سرانجام دی ہیں، پشتو اکیڈمی کے لیے علمی اور تحقیقی کتابیں لکھی ہیں، اس ادارے کے دیرینہ ساتھیوں میں سے کسی نے بھی ان کی یاد میں منقعدہ تقریب میں شرکت تک گوارا نہیں کی جو متعلقہ ادارے کے ذمہ داروں کے لیے لمحہ فکریہ ہے۔


صوبے کے نامی گرامی لکھاریوں میں ڈاکٹر محب وزیر، ڈاکٹر ضیائ، ڈاکٹر مصطفی کمال، پروفیسر گوہر نوید، آفتاب گل بنڑ، فضل زمان شلمان، نورالرحمان سحر، محمد جان جہانگیر، ڈاکٹر فقیر محمد، حسین محمد مشال، ڈاکٹر نورالبصر، اسفندیار درانی، سلیم ناشاد، دلباز ثانی، احسان زرپان، مہران مومند، عاصم آفتاب، مشتاق احمد مشتاق، امین اللہ، خالد خوشیکی، فجی گل فجی، عابد ڈنڈوکہ، ڈاکٹر مراد علی کتوزئی سمیت میڈیا کے نمائندے بھی موجود تھے۔
ریفرنس میں ڈاکٹر پرویز مہجور کے شاگردوں سمیت گاؤں کے لوگوں کی کثیر تعداد بھی قابل ذکر اور قابل تعریف تھی جس کا سارا کریڈٹ ڈاکٹر عبداللہ جان عابد اور ان کے ساتھیوں کو جاتا ہے جنہوں نے اتنی کامیاب تقریب کا انعقاد کیا تھا اور مہمانوں کی پختون رویات کے مطابق مہمان نوازی کی۔


ڈاکٹر پرویز مہجور نے جتنا بھی تحقیقی کام کیا ہے اس میں سچائی اور معیار کا خاص خیال رکھا گیا ہے۔ انہوں نے ذاتی طور پر ایک ادارے جتنا کام کر کے دکھایا ہے خاص طور پر بایزید انصاری، تحریک روشنائی اور اس کے عقائد اور نظریات پر پہلی بار اتنی علمی اور معیاری تحقیق کا سہرا ڈاکٹر پرویز مہجور کے سر سجتا ہے۔
ریفرنس میں پشتو اکیڈمی کے کسی بھی ذمہ دار نے شرکت نہیں کی جسے بہت زیادہ محسوس کیا گیا اور شرکاء میں ان کی عدم شرکت موضوع بحث رہی کیونکہ جس ادارے میں ڈاکٹر پرویز مہجور نے زندگی کا ایک لمبا عرصہ گزارا ہے اور بطور ریسرچ آفیسر جتنی زیادہ ادبی، علمی اور تحقیقی خدمات سرانجام دی ہیں، پشتو اکیڈمی کے لیے علمی اور تحقیقی کتابیں لکھی ہیں، اس ادارے کے دیرینہ ساتھیوں میں سے کسی نے بھی ان کی یاد میں منقعدہ تقریب میں شرکت تک گوارا نہیں کی جو متعلقہ ادارے کے ذمہ داروں کے لیے لمحہ فکریہ ہے۔



بایزید انصاری المعروف پیر روشن، ان کی تحریک اور مریدوں کے بارے میں جو غلط پروپیگنڈا کیا جا رہا تھا اور ان کے نظریات اور عقائد کے بارے میں جو غلط فہمیاں پھیلائی گئی تھیں ان تمام کے جوابات ڈاکٹر پرویز مہجور خویشکی نے بڑے تحقیقی انداز میں دلائل کے ساتھ دیے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں

کورونا وائرس کے اثرات: شادیوں سے متعلق کاروبار بھی سخت مندی سے دوچار – تحریر: انیس ٹکر

شادی بیاہ سے متعلقہ کاروباری حضرات کا کہنا ہے کہ باقی کاروباروں کی نسبت ان …