زبانوں کا عالمی دن اور معدومیت کے خطرے سے دوچار مادری زبانیں

تحریر: مولانا خانزیب

مادری زبانوں کو لاحق خطرات کے حوالے سے پاکستان دنیا میں 28ویں نمبر پر ہے جبکہ بھارت میں سب سے زیادہ196 زبانوں کو خطرات لاحق ہیں، امریکا کی 191، برازیل کی 190، انڈونیشیاء کی147 اور چین کی144 زبانوں کی بقاء کو خطرہ ہے
آکسفورڈ یونیورسٹی کی ایک تحقیق کے مطابق دنیا بھر میں تقریباً6 ہزار9 سو 12 زبانیں بولی جاتی ہیں جن میں سے516 ناپید ہو چکی ہیں، یونیسکو کے مطابق ہر14 دن بعد دنیا میں بولی جانے والی ایک زبان معدوم ہو جاتی ہے، اگلی صدی یا رواں صدی کے آخر تک دنیا کی نصف زبانیں ختم ہو جائیں گی، اقوام متحدہ کے مطابق دنیا بھر میں ہر2 ہفتے میں ایک زبان اپنی تمام تر ثقافت اور ادب سمیت متروک ہو جاتی ہے


17 نومبر 1999 کو یونیسکو نے یہ دن منانے کا اعلان کیا اور سن 2000 سے یہ پوری دنیا میں منایا جا رہا ہے۔ 2008 میں اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی نے اس حوالے سے قرارداد منظور کی اور 2008 کو ہی عالمی زبانوں کے سال کے طور پر منایا گیا۔ نیلسن منڈیلا نے کہا تھا، ”اگر تم کسی شخص سے اس زبان میں بات کرو جس کو وہ سمجھتا ہے تو وہ بات اس کے ذہن میں اتر جائے گی لیکن اگر تم اس سے اس کی (مادری) زبان میں بات کرو تو وہ اس کے دل میں اتر جائے گی۔”


مختلف زبانوں کی تخلیق و ترقی کا تجزیہ لسانیات کی مدد سے کیا جاتا ہے۔ عام طور پر زبانیں معاشرے کی ضرورت اور ماحول کے اعتبار سے ظہور پذیر ہوتی اور برقرار رہتی ہیں۔ انسانی سماج ہزاروں سال سے اشاروں کے زبان سے نکل کر باقاعدہ حروف کے اظہار کے ذریعے کلام کا ملکہ حاصل کرنے پر قادر ہوا ہے ۔ چیکوسلوواکیہ کی ایک کہاوت ہے کہ ایک نئی زبان سیکھو اور ایک نئی روح حاصل کرو۔ یہ ایک حقیقت ہے کہ زبان کا بہت گہرا تعلق انسان کے ذہنی ارتقاء سے ہے۔ اگرچہ زیادہ زبان جاننا بذات خود انسانی ارتقاء کے لیے ضروری نہیں لیکن انسانی ارتقاء کا تجربہ وہی لوگ کرتے ہیں جو ایک سے زیادہ زبانیں جانتے ہوں۔
زبان کی ابتدا کا پتہ لگانے کے لیے ہم پچاس ہزار سال سے اسی ہزار سال پہلے تک جا سکتے ہیں جہاں ممکن ہوا تھا کہ انسان نے اشاروں کے بعد بولنا سیکھا تھا۔ اکثر ماہر لسانیات کا خیال ہے کہ یہ اس سے کہیں پرانی بات ہو سکتی ہے۔ پروفیسر ٹالرمین کا کہنا ہے کہ ہم میں سے بہت سے سمجھتے ہیں کہ یہ بات پانچ لاکھ سال پہلے تک جا سکتی ہے۔ ہمیں اپنی زبان کی شروعات کے بارے میں جاننے کے لیے کتنے برس پیچھے جانا ہو گا؟پروفیسر فولی کا کہنا ہے کہ آج کی دنیا میں ہزاروں زبانوں کا ایک خزنیہ ہونے کے باوجود اس بات کا بہت قومی امکان موجود ہے کہ آج کے دور کی ہماری تمام زبانوں کا منبع ایک ہی ہو یا ایک ہی جد سے شروع ہوئی ہوں۔ اس کی تاریخ کا تعین کرنا کسی حد تک انسانی ارتقاء کی حیاتیات کی وجہ سے ممکن ہوا ہے۔ جنیات سے ہمیں علم ہوتا ہے کہ ہم سب افریقہ میں ایک چھوٹی سی آبادی سے نکلے ہیں۔ گو کہ ہماری نسل کے باہر بھی کئی زبانیں ہو سکتی ہے لیکن جو زبانیں آج ہم دیکھتے ہیں ان کا ماخذ غالباً ایک ہی زبان ہو جس میں جدتیں اور تبدیلیاں وقت کے ساتھ ہوتی رہی ہوں۔


جدید ماہرینِ لسانیات کا خیال ہے کہ زبانوں میں عقل کو چکرا دینے والا صوتی اور نحوی تنوع ہزاروں سال کے دوران رونما ہوا ہے جس سے اس بات کو تقویت پہنچاتی ہے کہ اس تمام تر رنگا رنگی یا انتشار کے باوجود ساری زبانوں کے ڈانڈے ایک ہی زبان سے ملتے ہیں۔ مصر کے مشہور ادیب ڈاکٹر احمد امین نے اپنی سوانح عمری میں لکھاہے کہ پہلے میں صرف اپنی مادری زبان (عربی) جانتا تھا۔ اس کے بعد میں نے انگریزی سیکھنا شروع کی۔ غیرمعمولی محنت کے بعد میں نے یہ استعداد پیدا کر لی کہ میں انگریزی کتب پڑھ کر سمجھ سکوں۔ وہ لکھتے ہیں کہ جب میں انگریزی سیکھ چکا تو مجھے ایسا محسوس ہوا گویا پہلے میں صرف ایک آنکھ رکھتا تھا اور اب میں دو آنکھ والا ہو گیا ں۔ یہ اللہ کا فضل ہے کہ میں اپنی مادری زبان کے علاوہ دوسری زبانیں سیکھنے کا موقع پا سکا۔ میں کم و بیش5 زبانیں جانتاہوں: اردو، عربی، فارسی، انگریزی اور ہندی۔ اگر میں صرف اپنی مادری زبان ہی جانتا تو یقیناً معرفت کے بہت سے دروازے مجھ پر بند رہتے۔
مادری زبان تہذیب و تمدن اورکلچر و ثقافت کا خزانہ ہے اور مادری زبان کی بدولت ہی انسان کا اپنی ثقافت اور تہذیب و تمدن سے اٹوٹ رشتہ قائم ہوتا ہے۔ کسی قوم کی مادری زبان ان کی پوری تاریخ اور ثقافت کی امین ہوتی ہے۔ مادری زبان قوم کو اپنی تاریخ، جغرافیے اور قدرتی وسائل سے جوڑتی ہے۔ زبان کی محکومیت اور بالادستی کا مسئلہ سیاسی اختیار سے جڑا ہوتا ہے۔ جو قومیں اپنی زبان سے دوری اختیار کر لیتی ہیں وہ سماجی، معاشی اور سیاسی طور پر مفلوج ہو جاتی ہیں۔ دنیا میں دو زبانیں ایسی ہیں جو ہر شخص بغیر کسی قسم کا علم حاصل کئے بول یا سمجھ سکتا ہے، ایک مادری زبان اور دوسری اشاروں کی زبان۔ اشاروں کی زبان کو یونیورسل لینگویج بھی کہا جاتا ہے۔ یہ دنیا کی وہ واحد زبان ہے جس کو سیکھنے کی ضرورت نہیں پڑتی۔ مادری زبان وہ زبان ہوتی ہے جو انسان رحمِ مادر سے لے کر ماں کی گود تک سیکھتا ہے یا اس ماحول سے سیکھتا ہے جس میں انسان پرورش پاتا ہے۔ مادری زبان صرف زبان یا لسانیت نہیں ہوتی بلکہ پوری ایک شناخت ہوتی ہے ایک پوری تہذیب ہوتی ہے، ایک تمدن، ایک ثقافت اور کسی قوم کے جذبات و احساسات کا حسین امتزاج ہوتی ہے۔

مادری زبان میں خیالات و معلومات کی ترسیل اور ابلاغ ایک قدرتی اور آسان طریقہ ہے۔ سوچنے اور سمجھنے کا عمل بھی، جو کہ سراسر انسانی ذہن میں تشکیل پاتا ہے، لاشعوری طور پر مادری زبان میں ہی پراسیس ہو رہا ہوتا ہے اور یہاں تک کہ انسان خواب بھی مادری زبان میں ہی دیکھتا ہے۔
اقوام متحدہ کے ادارے یونیسکو کے مطابق بچوں کی ابتدائی تعلیم کے لئے سب سے موثر زبان، مادری زبان ہے، مادری زبان ہی میں تعلیم سے بچوں کی تحقیقی اور تخلیقی صلاحیتوں میں اضافہ ہوتا ہے جبکہ مادری زبان میں تعلیم دیئے جانے میں ایک آسانی یہ بھی ہوتی ہے کہ بچے کے پاس اپنی زبان کے علم کا ایک ذخیرہ پہلے سے ہی موجود ہوتا ہے اس لیے دورانِ تعلیم بوریت کی بجائے بچہ خوشی اور آسانی محسوس کرتا ہے۔ صرف یہی نہیں بلکہ مادری زبان میں تعلیم سے بچوں کے ذہن پر کم بوجھ پڑتا ہے اور بچوں کے سکول چھوڑ نے کی شرح میں بھی حیرت انگیز کمی دیکھنے میں آتی ہے۔ مادر ی زبان میں تعلیم کے بارے یونیسکو کا کہنا ہے کہ برسوں کی تحقیق نے یہ ثابت کیا کہ جو بچے اپنی مادری زبان سے تعلیم کی ابتدا کر تے ہیں شروع سے ہی ان کی کارکردگی بہتر ہوتی ہے۔ ان کی یہ اچھی کار کردگی مسلسل قائم رہتی ہے بہ نسبت ان بچوں کے جو اپنی تعلیم ایک نئی زبان میں شروع کرتے ہیں۔


پشتو بولنے والوں کے لحاظ سے دنیا کی بتیس ویں زبان ہے۔ افغانستان کی ریاست کی قومی و دفتری زبان بھی ہے جبکہ تاریخی طور پر یہ زبان پانچ ہزار سال سے بھی زیادہ قدیم زبان ہے۔ پشتو میں یہ صلاحیت ہے کہ اس میں دنیا کے تمام علوم و فنون کو سمویا جا سکتا ہے، بہت بڑی مقدار میں ادبی لٹریچر اس زبان سے وابستہ ہے مگر بدقسمتی سے پاکستان میں دیگر قومی زبانوں کی طرح پشتو کے ساتھ بھی سوتیلی ماں کا ہی سلوک روا رکھا گیا اور آج بھی وہی سلوک کیا جا رہا ہے۔ ڈاکٹر شہید اللہ کا کہنا ہے کہ پشتو ہند یورپی زبانوں کے گروہ کی ہند آریائی شاخ سے تعلق رکھتی ہے اور ہند آریائی کی چوتھی شاخ ایرانی سے ماخذ ہے۔ اس میں دردی گروہ (باشگلی، وائے لا، دیرون اور تیراہی وغیرہ) کی بعض صوتی خصوصیات شامل ہیں۔ ایک روسی مسشترق وی اے ابائیف کا کہنا ہے کہ پشتو میں لثوی اصوات آریائی اصوات کا حصہ نہیں رہے ہیں، وہ لازمی دڑاوری زبان سے ماخذ ہیں۔ افغانستان شروع ہی سے قوموں کی گزر گاہ رہا ہے۔ یہ قبائل چاہے مشرق کی طرف چینی ترکستان کی طرف سے آئے ہیں یا مغرب میں یونان، ایران و عرب ممالک سے اور ان تمام قبائل تمام نے زبان کی تشکیل میں حصہ لیا ہے۔ ظاہر ہے ان قبائل کی مختلف زبانوں نے اپنا اثر چھوڑا ہے۔ ترخان میں بعض اوراق ایک اور زبان کے ملے ہیں جسے سغدی زبان قرار دیا گیا ہے اور یہ ہند سکاتی یا سکاتی گروہ سے تعلق رکھتی ہے جو مشرقی ایرانی زبانیں کہلاتی ہیں جن کی نمائندگی پشتو اور پامیر کی بعض زبانیں (سری، قولی، دخی وغیرہ) کرتی ہیں۔ سیکاتی یا سیھتی یا ساکا افغانستان کے شمالی علاقوں میں عہد قدیم سے پختونوں کے پڑوس میں آباد تھے۔ یہ آریوں کے ہم نسل تھے۔ یہ بعد کے زمانے میں افغانستان پر چھاگئے اور انہوں نے افغانستان پر حکومت بھی کی۔ ان کی حکومتیں افغانستان سے ختم ہو گئیں، مگر ان کے اثرات افغانستان پر بدستور قائم رہے۔ ساکا کے جہاں افغانستان پر گہرے اثرات پڑے وہاں ان کے اثرات مقامی زبانوں پر بھی پڑے۔ مثلاً پشتو میں دریا کو سیند بولتے ہیں یہ بھی ساکائی کلمہ ہے۔ آج شمالی برصغیر اور راجپوتانے کے اکثر دریاؤں نہروں اور نالوں کے نام سین، سون اور سندھ کی شکل میں ملتے ہیں۔


اکبر ہوتی ایڈوکیٹ کے مطابق خیبر پختونخوا میں26 مادری زبانیں بولی جاتی ہیں جن میں 72 فیصد افراد پشتو، 28 فیصد افراد ہندکو، سرائیکی، کوہستانی، کہوار، شینا طور والی اور گوجری وغیرہ بولتے ہیں۔ زبانوں پر تحقیق کرنے والے امریکی ادارے کے مطابق ملکوں کے حوا لے سے انگریزی سب سے زیادہ یعنی ایک سو بارہ ممالک میں بولی جاتی ہے جس کے بعد ساٹھ ممالک میں فرنچ، ستاون میں عربی، چواالیس میں ہسپانوی اور جرمن بھی چوالیس ممالک میں بولی جاتی ہے جبکہ اردو تئیس، ہندی بیس اور پنجابی آٹھ ممالک میں بولی جاتی ہے۔ ماہرین کے مطابق عالمی سطح پر گلوبلائزیشن پراسیس کے باعث بیشتر زبانوں کو لاحق خطرات میں یا تو اضافہ ہو رہا ہے یا وہ ناپید ہو چکی ہیں۔ رپورٹ کے مطابق دنیا میں بولی جانے والی36 فیصد مادری زبانوں کے خاتمے کا خدشہہ ہے۔ رپورٹ کے مطابق پنجابی دنیا میں بولی جانے والی12 ویں اور اردو20 ویں بڑی زبان ہے، دنیا میں سب سے زیادہ بولی جانے والی زبانیں چینی، ہسپانوی، انگریزی، عربی، ہندی اور بنگالی ہیں۔ سی آئی اے ورلڈ فیکٹ بک کے مطابق پاکستان میں48 فیصد آبادی پنجابی، 12فیصد سندھی، 10 فیصد سرائیکی، 8 فیصد پشتو، 8 فیصد ہی اردو، 3فیصد بلوچی، 2فیصد ہندکو ایک فیصد براہاوی جبکہ انگریزی اور دیگر چھوٹی زبانیں 8 فیصد بولی جاتی ہیں۔ ایک رپورٹ کے مطابق دنیا بھر میں صرف75 زبانیں ایسی ہیں جن کو بولنے والوں کی تعداد ایک کروڑ سے زائد ہے اور صرف8 زبانیں ایسی ہیں جن کو بولنے والے افراد کی تعداد10 کروڑ سے زائد ہے ۔ عالمی سطح پر صرف100 زبانوں کا استعمال تحریری شکل میں کیا جاتا ہے۔


یونیسکو کے مطابق1950 سے لے کر اب تک 230 مادری زبانیں ناپید ہو چکی ہیں جن کا بولنے والا اب کوئی نہیں ہے۔ ”اٹلس آف ورلڈ لینگویج اِن ڈینجر” کے مطابق دنیا کی 36 فیصد (2498) زبانوں کو اپنی بقاء کے لئے مختلف النوع خطرات لاحق ہیں، ایسے خطرات سے دوچار زبانوں میں سے 24 فیصد (607) زبانیں غیر محفوظ (جن کا استعمال بچے صرف گھروں تک کرتے ہیں) ہیں، 25 فیصد (632) ناپیدی کے یقینی خطرے (جنہیں بچے گھروں میں بھی مادری زبانوں کے طور پر نہیں سیکھتے) سے دوچار ہیں، اس کے علاوہ 20 فیصد(562) زبانوں کو خاتمے کا شدید خطرہ (دادا پڑدادا کی زبان جو ماں باپ جانتے ہیں مگر بچے نہیں بولتے) لاحق ہے،21.5 فیصد (538) زبانیں تشویش ناک حد تک خطرات (دادا پڑدادا میں بھی باقاعدگی سے نہ بولی جانے و الی زبان) کا شکار ہیں جبکہ 230 تقریباً (10 فیصد) زبانیں متروک ہو چکی ہیں۔ اقوام متحدہ کے ادارہ برائے تعلیم و ثقافت کی تحقیق کے مطابق پاکستان کے شمالی علاقہ جات، خیبر پختونخوا، بلوچستان، کشمیر، بھارت اور افغانستان سے ملحقہ سرحدی علاقوں میں بولی جانے والی 27 چھوٹی مادری زبانوں کو معدومیت کا خطرہ لاحق ہے۔ ان میں سے 7 زبانیں غیرمحفوظ گردانی جاتی ہیں جن کو بولنے والے 87 ہزار سے 5 لاکھ تک ہیں۔ اس کے علاوہ 14 زبانوں کو خاتمے کا یقینی خطرہ لاحق ہے جن کو بولنے والوں کی تعداد کم سے کم500 اور زیادہ سے زیادہ 67 ہزار ہے جبکہ6 زبانیں ایسی ہیں جن کو بولنے والے200 سے5500 کے درمیان ہیں۔ یہ زبانیں ختم ہونے کے شدید خطرے کا شکار ہیں۔ مادری زبانوں کو لاحق خطرات کے حوالے سے پاکستان دنیا میں 28ویں نمبر پر ہے جبکہ سب سے زیادہ196 زبانوں کو بھارت میں خطرات لاحق ہیں، امریکا کی 191، برازیل کی 190، انڈونیشیاء کی147 اور چین کی144 زبانوں کی بقاء کو خطرہ ہے۔ پاکستان میں بھی متعدد زبانوں کے معدوم ہونے کے خطرات موجود ہیں۔ ملکِ عزیز میں بھی26 ایسی زبانیں پائی جاتی ہیں جن کا مستقبل خطرے میں بتایا جا رہا ہے۔ ان زبانوں میں بلتی، بیٹرئی، بڈراہی، برہوای، برشسکی، چیلیسوسو، ڈیمیلی، ڈومکی، گوور بتی، گورو، کلشا، کوکالی، کٹی، کھوار، کلا مالہ، مایا، اورموری، فالورا، پرک، سوی، اسپیتی، وکولی، یوشوج، وققی، یدگھ اور زانگسکاری شامل ہیں۔
کسی قوم کی ثقافت، تاریخ، فن اور ادب اس کی مادری زبان کے مرہون منت ہوتے ہیں۔ کسی زبان کے متروک ہونے کا مطلب اس قوم کی پوری ثقافت کا متروک ہو جانا ہے۔ آکسفورڈ یونیورسٹی کی ایک تحقیق کے مطابق دنیا بھر میں تقریباً6 ہزار9 سو 12 زبانیں بولی جاتی ہیں جن میں سے516 ناپید ہو چکی ہیں۔ یونیسکو کے مطابق ہر14 دن بعد دنیا میں بولی جانے والی ایک زبان متروک ہو جاتی ہے۔ اگلی صدی یا رواں صدی کے آخر تک دنیا کی نصف زبانیں متروک ہو جائیں گی۔ اقوام متحدہ کے مطابق دنیا بھر میں ہر2 ہفتے میں ایک زبان اپنی تمام تر ثقافت اور ادب سمیت متروک ہو جاتی ہے۔


دنیا میں سب سے زیادہ زبانیں پاپوا نیوگنی میں بولی جاتی ہیں جہاں کل زبانوں کا12 فیصد یعنی860 زبانیں بولی جاتی ہیں، 742 زبانوں کے ساتھ انڈونیشیاء دوسرے،516 کے ساتھ نائیجیریا تیسرے،425 کے ساتھ بھارت چوتھے اور311 کے ساتھ امریکا پانچویں نمبر پر ہے۔ آسٹریلیا میں275 اور چین میں241 زبانیں بولی جاتی ہیں۔ مختلف اعداد و شمار کے مطابق دنیا میں سب سے زیادہ بولی جانے والی مادری زبان چینی ہے جسے1 ارب20 کروڑ افراد بولتے اور سمجھتے ہیں۔ اس کے بعد42 کروڑ50 لاکھ ہندی،43 کروڑ ہسپانوی،34 کروڑ انگریزی اور20 کروڑ افراد عربی بولتے ہیں۔ پنجابی11 ویں جبکہ اردو بولی جانے والی زبانوں میں 19 ویں نمبر پر ہے۔2000 زبانیں ایسی ہیں جن کے بولنے والے ایک ہزار سے بھی کم رہ گئے ہیں۔


یہ دن منانے کا مقصد ان زبانوں کی طرف توجہ دلانا ہے جن کی بقاء خطرے میں پڑی ہوئی ہے۔ ایک رپورٹ کے مطابق پاکستان میں74 زبانیں بولی جاتی ہیں جن میں سے66 مقامی زبانیں ہیں۔ اقوام متحدہ کے مطابق دنیا کی40 فیصد آبادی کو اپنی مادری زبان میں تعلیم حاصل کرنے کے مواقع دستیاب نہیں۔ اعداد و شمار کے مطابق دنیا میں سب سے زیادہ بولی جانے والی چین کی زبان مندرین ہے جسے تقریباً ایک ارب لوگ بولتے ہیں۔ اس کے بعد دوسرا نمبر ہسپانوی کا آتا ہے جسے تقریباً400 ملین لوگ بولتے ہیں اور تیسرا نمبر انگریزی کا ہے جسے بولنے والوں کی تعداد335 ملین کے نزدیک ہے۔اقوامِ متحدہ کے مطابق اقلیتوں کی شناخت قائم رکھنے کے لیے ان کی زبانیں قائم رکھنا بہت ضروری ہے۔ اس کے ادارے یونیسکو نے ایک ٹویٹ میں لکھا ہے کہ جب کوئی زبان غائب ہو جاتی ہے تو اپنے ساتھ پوری ثقافت اور انٹیلیکچول وراثت بھی لے جاتی ہے۔ تاریخ انسانی کا یہ مسلمہ امر ہے کہ زبان انسان کی ایک ایسی ناگزیر ضرورت ہے جس کے بغیر زندگی حیوانات جیسی ہو جائے۔ اسی لیے انسان حیوان ناطق کہلاتا ہے۔


ماہرین جینیات کی تازہ ترین تحقیقات کے مطابق زبان دانی کی تشکیل کی ذمہ دار ایف او ایکس پی (FOXP2) نامی جین انسان کے ہر خلیے میں پایا جاتا ہے جو ابتدائی الفاظ بنانے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ قوم اجتماعی طور پر جس زبان میں سوچتی ہے، اسی میں وہ اپنا مافی الضمیر بہترین انداز میں بیان کر سکتی ہے اور یہی زبان قوم کے اندر ایک روحانی اور اجتماعی احساس کا جذبہ پیدا کر سکتی ہے۔ زبان کے الفاظ اور جملے خوشی، سکون اور بے قراری کی حالت میں اِن کے دلوں کی عکاسی کرتے ہیں۔ ریاست قوم کے بطن سے رونما ہوتی ہے اور قوم کا تصور افراد کے آزادانہ اجتماعی شعور سے اپنی قوت اخذکرتا ہے۔ قوم کی تشکیل، نشوونما اور قومی شعور کے مرحلہ وار ادراک کے ساتھ ساتھ قوموں کی زبانیں بھی بتدریج نشوونما پاتیں اور ارتقاء کے عمل سے گزرتی ہیں۔ قوم اپنے اجتماعی شعور کی تعمیر، استحکام اور یکجہتی کے لیے اپنی مقامی زبانوں اور بولیوں میں سے علمی طور پر زیادہ ترقی یافتہ، مقبول اور یا مشترکہ زبان کو منتخب کر کے قومی ضروریات پوری کرنے کا فیصلہ کرتی ہے۔ یہ زبان ان کی قومی زبان اور زبان عامہ یعنی ”لنگوافرانکا” کا کردار ادا کرتی ہے کیوں کہ قومی زبان کسی قومیت میں بدلنے کے عمل میں ایک قوم ساز معاون کے طور پر سامنے آ چکی ہوتی ہے۔ چنانچہ اس زبان کا قوم کے ساتھ آئینی تعلق بن چکا ہوتا ہے۔

قومی زبان کے ساتھ قوم کی مجموعی ترقی کے کئی مقاصد وابستہ ہوتے ہیں جن میں سے سب سے بڑا مقصد تو قوم کی لسانی شناخت اور علمی و ادبی ترقی کا ہی ہوتا ہے۔ اسی سے وابستہ دوسرا مقصد قوم کی تہذیبی و تمدنی ترقی بھی ہے۔
آن لائن دی فری ڈکشنری پر امریکن ہیری ٹیج ڈکشنری کے حوالے سے ”لنگوافرانکا” کے لیے یہ الفاظ درج ہیں: ایک ایسی زبان جو مختلف مقامی زبانیں بولنے والوں کے درمیان مشترکہ زبان کے طور پر اختیار کر لی گئی ہو۔ وکی پیڈیا کے مطابق زبان عامہ نہایت منظم انداز سے استعمال ہونے والی ایک ایسی زبان ہوتی ہے جو بالخصوص مختلف النوع مادری زبانیں بولنے والوں کے مابین رابطے، مواصلت، ابلاغ اور تبادلہ خیال کو ممکن بناتی ہے جبکہ محوِگفتگو دونوں افراد کی مادری زبانوں سے یہ مختلف تیسری زبان ہوتی ہے۔ یہ اکثروبیشتر قومی ہی ہوتی ہے لیکن بعض اوقات اس کے مختلف ہونے کے بھی امکانات موجود ہوتے ہیں ایسا عموماً بین الاقوامی زبان کے کردار میں ہوتا ہے۔

یہ بھی پڑھیں

بونیر۔۔ پاکستان کی معاشی ترقی میں حصہ ڈال سکتا ہے

تحریر: شوکت حیات بونیری بونیر سنسکرت کے لفظ ”بن“ کی ایک شکل ہے جس کا …