شہری دفاع کا عالمی دن اور خطرے کی گھنٹی

سید ساجد شاہ

تیسری جنگ عظیم کے خطرے کی گھنٹی بجنے والی ہے ایسے میں جب خدا نخواستہ بم، گیس اور بارود پھینکے جائیں گے تو انسانی زندگی کو بچانا کسی معمے سے کم نہیں ہو گا ایسے میں ان رضاکاروں کو بغیر کسی اجرت کے کام کو سراہنا اور ان کی استعداد کو بڑھانا ایک انتہائی ضروری عمل ہے جسے دنیا نے مل کر کرنا ہے، ان رضاکاروں کو عزت دینا اور ان کے جذبات کی قدر کرنا بھی بہت بڑی نیکی ہے ٭جب ہم یہ دن مناتے ہیں تو اصل میں ہم تجدید عہد کرتے ہیں کہ بغیر کسی معاوضے، بلا امتیاز اور محدود وسائل میں لوگوں کی خدمت کرنا اور وہ بھی مشکل کی گھڑی میں یعنی ایمرجنسی کی صورت میں، قدرت آفات جیسے زلزلہ، سیلاب، بارش اور طوفانوں میں زندگی کو برقرار رکھنے کی اپنی ہر ممکن اور بھرپور کوشش کریں گے، یہی اس تنظیم کا Motto بھی ہے۔


ہر سال یکم مارچ کو دنیا بھر میں شہری دفاع کا عالمی دن منایا جاتا ہے۔ اس دن ایک خصوصی آگاہی مہم کے ذریعے لوگوں میں شعور پیدا کرنے کی کوشش کی جاتی ہے کہ کس طرح اور کون سے طریقے سے وہ جنگ، مصائب، مشکلات اور آفات کے دور میں خود بھی بچیں اور دوسرے انسانوں کی زندگیاں بھی بچانے کی کوشش کریں بلکہ انسان سمیت دیگر ذی روح مخلوقات کی زندگیوں کو بھی بچائیں۔ اس وقت بھی آپ دیکھیں کہ دنیا کے بائیس ممالک میں جنگ چھڑی ہے، ہر ملک دوسرے ملک کو بزور طاقت زیر کرنے کی کوشش میں لگا ہوا ہے جس کا نتیجہ سب کے سامنے ہے۔

یمن میں دس لاکھ لوگ جنگ سے مرے، لاکھوں بچے بھوک سے مر رہے ہیں، دنیا نے جنگ کی وجہ سے امداد بھی بند کی ہے اور عالمی ادارہ صحت (WHO) نے بھی خوراک کی قلت اور عطیات میں کمی کی وجہ سے مزید ہلاکتوں کا خدشہ ظاہر کیا ہے۔ اسی طرح شام تو عرصہ چھ سال سے تباہی و بربادی کا شکار ہے جہاں قحط اور جنگ ساتھ ساتھ چل رہے ہیں اور لوگوں کی نقل مکانی نے دنیا کے سب سے بڑے exodus سے پیدا ہونے والی صورتحال سے نمٹنے سے معذرت کر لی ہے۔ کشمیر کو ہندوستان پاؤں تلے روندتا چلا جا رہا ہے جہاں کسی کی عزت و آبرو محفوظ نہیں، یہ انسانی آفت کی وہ گھڑی ہے جس میں خدمت، انصاف کا جذبہ ماند پڑا ہے۔ دنیا میں جنگ، قحط اور آفات مسلسل آنے کی وجہ سے لوگ ہمیشہ مشکل میں رہتے ہیں۔ دنیا کے ایک کونے میں سیلاب تو دوسرے میں زلزلہ آتا ہے، کہیں پر آتش فشاں پھٹتا ہے اور لاوا اپنی راہ میں پڑی ہر چیز کو جلا کر راکھ کر دیتا ہے تو کہیں پر آگ اور کہیں پر طوفانوں نے ڈیرے ڈال رکھے ہیں، ایسے میں شہری دفاع دنیا کی واحد تنظیم ہے جو ہر قسم کی جنگ اور آفت میں متاثرہ علاقوں اور لوگوں میں پہنچ جاتی ہے، جہاں اپنی مدد آپ کی تحت اس تنظیم کے رضا کار بغیر کسی معاوضے کے خدمات سر انجام دیتے ہیں۔ اگر دیکھا جائے تو شہری دفاع حقیقت میں ہر انسان کے ساتھ جڑی ہوئی ہے جس میں اس کی بقاء مضمر ہے اور دنیا کا ہر انسان حقیقت میں رضا کار ہی تو ہے۔

حالت جنگ اور مشکل کی گھڑی میں اپنے آپ، شہر، گاوں اور گھر کو بچانا ہر کسی کا فرض ہے مگر ہم اس concept سے نا آشنا اس لئے ہیں کہ ہم نے اس کو اس ذات تک محدود کیا ہے جو اس کے نرغے میں آتا ہے، وہ متاثر ہے حالانکہ یہ حالات تو کسی پر بھی آ سکتے ہیں۔ شہری دفاع نے عوامی خدمت کو ایک ٹھوس یعنی organise شکل دینے کی کوشش کی ہے تاکہ جنگ، قدرتی یا مصنوعی آفات میں انسانوں کو اور ان کی مال د دولت عزت و آبرو کو بچایا جا سکے۔ شہری دفاع کے تین بڑے حصے ہیں، اپنے آپ کو وقف کرنے کے علاوہ اپنی استعداد بڑھانا یعنی capacity building، متاثرہ علاقے میں سب سے پہلے پہنچنا یعنی فوراً response دینا اور ریکوری کرنا، مشکل میں پھنسے ہوئے لوگوں کو مشکل سے نکالنا، انہیں فسٹ ایڈ دینا اور فوراً ملحقہ ہسپتال پہنچانا بھی ان کی ذمہ داریوں میں شامل ہے۔ پہلے اس تنظیم کو محض Emergency operations میں استعمال کیا جاتا تھا جن میں Preventaion,Mitigation,preparation,response,rescue,emergency evocation کے areas شامل تھے اب یہ چیزیں crisis management,emergency management,emergency preparedness,contingency plan,capacity building,civil protection میں بدل چکی ہیں۔ حقیقت میں اہداف کو ایمرجنسی میں حاصل کرنا شہری دفاع ہے تاہم اس میں مزید وسعت کی ضرورت ہے جیسے اس میں لوگوں کی استعداد کو بڑھانا پہلی کوشش ہونی چاہیے، کس طرح آگ کی جگہ سے انسانوں کو باہر نکا لا جائے اور کس طرح زلزلے میں چھتوں کے اندر پھنسے ہوئے لوگوں کو نکالا جائے اس کیلئے استعداد ضروری ہے، پس رضاکاروں نے اپنا وقت تو دیا مگر اب انہیں زندگی بچانے کے طریقے سکھائے جائیں بالخصوص evocation,rescue&opearation میں، اس طرح کسی بھی ایمرجنسی سے نمٹنے کیلئے ان کے پاس پروفیشنل علم ہو اور techniques بھی، ان لوگوں کے پاس آنے جانے کیلئے کنوینس ہو، اوزار ہوں اور وسائل بھی تا کہ یہ لوگ اس مقام پر پہنچ کر Rescue and Operation کا حصہ بنیں اور اس طرح زیادہ سے زیادہ لوگوں کی زندگیوں کو بچا سکیں، یہی مدعا ہے۔ بے شک اس تنظیم کا آغاز بھی جنگ کے ماحول سے ہوا تاہم شہری دفاع کے نوجوان خود مسلح نہیں رہے، جنگ کے میدان میں بھی وہ خدمت کرنے اور لاشوں کو اٹھانے اور محفوظ مقامات پر پہنچانے کی کوشش کرتے رہے اس لئے انہیں ایک uniform بھی دیا گیا اور عہدے دے کر فورس بھی بنائی گئی کیونکہ command and control کے بغیر تو کوئی کام نہیں ہو سکتا اس لئے آج شہری دفاع کی اس تنظیم نے جو باقاعدہ شکل اختیار کی ہے اس میں بہت سارے لوگوں کی سوچ اور خون شامل ہے۔

جب ہم یکم مارچ کو یہ دن مناتے ہیں تو یہ اصل میں تجدید عہد کا دن ہے یعنی بغیر کسی معاوضے، بلا امتیاز اور محدود وسائل میں لوگوں کی خدمت کرنا اور وہ بھی مشکل کی گھڑی میں یعنی ایمرجنسی کی صورت میں، قدرت آفات جیسے زلزلہ، سیلاب، بارش اور طوفانوں میں زندگی کو برقرار رکھنے کی اپنی ہر ممکن اور بھرپور کوشش کرتے ہیں۔ یہی اس تنظیم کا Motto ہے۔ دنیا کے زیادہ تر ممالک میں ریفرنس، واک سیموپزیم، سیمینارز اس دن منعقد ہوتے ہیں، دنیا کے بڑے بڑے اخبار اور میگزین اس دن کی مناسبت سے آرٹیکل چھاپتے ہیں۔ پاکستان بھی دنیا کے ان 57 ممالک میں شامل ہے جو عالمی شہری دفاع کی تنظیم کا signatory ہے۔ ہر سال کیلئے اس کا ایک تھیم ہوتا ہے اس سال جو تھیم پیش ہوا ہے وہ انتہائی سخت ترین COVAID-19 سے پیدا ہونے والی صورتحال سے دنیا کو درپیش Economy کے بارے میں ہے، Strong Civil protection to preserve the national economy کیونکہ دنیا کے زیادہ تر غریب ممالک اس وقت بھوک و افلاس کی وجہ سے بدترین معاشی حالت سے گزر رہے ہیں یا جسے vulnerable کہا جاتا ہے، سمجھ لیجئے وائرس کی شکل میں اس عذاب نے دنیا کے لاکھوں انسانوں سے زندگی چھین لی اور کروڑوں انسان اس کی لپیٹ میں اب بھی ہیں۔ اگرچہ کوویڈ نائنٹین کی وجہ سے دنیا کے طاقتور اور مضبوط ممالک کو بھی انتہائی مشکل کا سامنا کرنا پڑا، اندازہ لگائیں سب سے زیادہ اموات یعنی قریباً ستاسی لاکھ لوگ، جس میں صرف چار لاکھ لوگ تو امریکہ میں مرے، اسی طرح یورپ کے باقی ممالک جن میں آسٹریا، ناروے، اٹلی، جرمنی اور روس متاثر رہے تاہم اس دورانیہ میں بھی سیول ڈیفنس کے رضا کار ان تمام طاقتوں کا مقابلہ خالی ہاتھ سے کر رہے تھے جس نے دنیا کو ملیا میٹ کر دیا۔

شہری دفاع کا مرکز دفتر سوئٹزر لینڈ جنیوا میں ہے۔ سول ڈیفنس کو پہلی جنگ عظیم کے بعد اس وقت قائم کیا گیا جب لاکھوں لوگ جنگ سے مرے یا زخمی و بیمار ہوئے۔ 1915 سے آگے 1931 یعنی اس تنظیم کے قیام تک دنیا پر قیامت گزری کیونکہ مارنے والے سب تھے لیکن بچانے والا کوئی نہیں تھا۔ اس تنظیم کے قیام کا عمل فرانسیسی جرنیل جارج سینٹ پال نے1931 میں کیا، اس کے بعد سول ڈیفنس آرگنائزیشن کو وقت اور حالات کے مطابق وسعت د ی گئی۔ 1972 میں اس تنظیم نے International Civil Defence Organisation کا روپ دھار لیا جس میں دنیا کے 57 ممالک شامل ہوئے جبکہ 18 ممالک نے بحثیت Observor اور 23 ممالک نے affiliated members کی حثیت سے اس تنظیم کو جائن کیا۔ دوسری جنگ عظیم میں جاپان کے دو بڑے شہروں ہیروشیما اور ناگاساکی پر ایٹم بم گرانے کے بعد اس تنظیم کی افادیت مزید بڑھی اور اب تیسری جنگ عظیم کے خطرے کی گھنٹی بجنے والی ہے ایسے میں جب خدا نخواستہ بم، گیس اور بارود پھینکے جائیں گے تو انسانی زندگی کو بچانا کسی معمے سے کم نہیں ہو گا ایسے میں ان رضاکاروں کو بغیر کسی اجرت کے کام کو سراہنا اور ان کی استعداد کو بڑھانا ایک انتہائی ضروری عمل ہے جسے دنیا نے مل کر کرنا ہے۔

ان رضاکاروں کو عزت دینا اور ان کے جذبات کی قدر کرنا بھی بہت بڑی نیکی ہے۔ اس وقت صوبہ خیبر پختون خواہ کے ڈائریکٹر سول ڈیفنس فہد اکرام قاضی کا پیغام پڑھنا ضروری ہے کہ سول ڈیفنس کی کوششوں کا مقصد کمیونٹیز کی صلاحیتوں کو بہتر بنانا ہے تاکہ ناگہانی اور قدرتی آفات کی صورت میں انسانی تباہ کاریوں سے نمٹا جا سکے۔ حکومت کو چاہیے کہ وہ اس دن کی مناسبت سے ان قومی رضا کاروں کے جذبے کو سراہے، ان کو جدیداوزار، سہولیات اور لوازمات دیئے جائیں، ان کی استعداد کو بڑھانے کے لئے تربیت کا اہتمام کیا جائے اور اگر ممکن ہو تو انہیں عزت دی جائے تاکہ ان کے حوصلے بلند ہوں اور وہ اپنے کام کو بہتر طریقے سے چلانے کے قابل ہو سکیں اور تباہ کاریوں و مشکلات سے نمٹ سکیں کیونکہ یہی رضا کار جو دنیا کے مقابلے میں خس و خشاک ہیں حقیقت میں آج کے اس مادی دور میں آپ سب کے حصے کی لڑائی لڑ رہے ہیں نہ کہ اپنی جنگ۔

یہ بھی پڑھیں

زرعی پیداوار میں جمود کے اسباب اور ان کا حل

تحریر: محمد سعید خان کیمیاوی کھادوں کے استعمال میں بتدریج اضافے کے باوجود زرعی پیداوار …