اسلام اور اقلیتیں

تحریر:مولانا خانزیب

اسلامی حکومت کے تحت رہنے والی غیرمسلم رعایا کو مساوی قانونی حقوق حاصل ہوتے ہیں، ان کے مذہب سے کسی قسم کا تعرض نہیں کیا جا سکتا، ان کے اموال، جان اور عزت و آبرو کی حفاظت مسلمانوں ہی کی طرح اسلامی حکومت کی ذمہ داری ہوتی ہے، اسلامی حکومت انہیں انتظامی امور کے عہدے، جس قدر وہ اہلیت و استحقاق رکھیں، تفویض کر سکتی ہے، اپنے مذہبی نمائندے اور عہدے دار وہ خود متعین کرنے کے مجاز ہوتے ہیں، ان کی عبادت گاہیں قابلِ احترام ہیں اور انہیں مکمل تحفظ حاصل ہے

اسلام تمام نسل انسانی کے درمیان رواداری اور برداشت کا درس دیتا ہے جبکہ اقلیتوں اور اہل ذمہ کے حوالے سے خصوصیت کے ساتھ ان کے ان تمام معاشرتی و سماجی حقوق دینے کی تلقین کرتا ہے جو کسی بھی مہذب معاشرے کے شایان شان ہوں۔ ایک حدیث میں آتا ہے ”من قتل معاھدا لم یرح رائحة الجنة” جس نے مسلمانوں کے معاشرے کے اندر رہنے والے کسی  غیر مسلم (اہل الذمہ) کو قتل کیا تو اس قاتل پر جنت کی خوشبو تک حرام ہے۔ 

بدقسمتی سے اسلام کی اس رواداری اور معاشرتی حقوق کے ادائیگی کے حوالے سے مستند تاکیدات کے باوجود مسلمانوں میں بالعموم اور پختونوں کی معاشرتی اقدار کو سیاسی ضروریات اور مقاصد کے حصول کیلئے بالخصوص  ایک مذہبی جنونیت میں بدل دیا گیا ہے جس میں ممبر و محراب کے غیرذمہ دارانہ کردار کا بڑا عمل دخل ہے، جن کی تقاریر کی اکثریت جمعہ کے اجتماع کے روز اصلاح المعاشرت کے بجائے صرف جوش و تصنع سے لبریز ہوتی ہیں۔ پچھلے روز ضلع کرک میں ہندوؤں کے ایک مندر پر مشتعمل ہجوم نے دھاوا بول کر اسے جلا دیا۔ اس مندر کی توسیع کے حوالے سے عدالت میں کیس زیرِ سماعت تھا۔ ہجوم کے دوران کسی جنونی نے نعرہ تکبیر کے ساتھ یہ صدا بلند کی کہ اگر عدالتی فیصلوں کا انتظار کرو گے تو اس سے کچھ نہیں بنے گا اور اس کے ساتھ ہی لوگوں نے مندر پر دھاوا بول کر اس کو جلا ڈالا۔ ایک بات جس پر ہمیں بحیثیت مسلمان یا کسی قومی ریاست کے شہریوں کی حیثیت سے کلیئر ہونا چاہئے، یہی ہے کہ ہم اسلامی ریاست کے حوالے سے فقہی جزئیات اور آج کل کی قومی ریاستوں کے درمیان باہمی تعلق کے ربط کی باریکات اور اس کے مخصوص قوانین، اس کے تقاضوں اور لوازمات کے حوالے سے سیکھنے سمجھنے کے بجائے کنفیوژن کا شکار ہیں۔

قومی ریاستوں کی بنیاد ان اصولوں پر ہوتی ہے کہ اس میں رہنے والے تمام شہری مذہبی تفریق سے بالاتر ہو کر شہری، سماجی، معاشی، معاشرتی اور سیاسی حقوق کے حوالے سے مساوی حیثیت کے مالک ہوتے ہیں، انہی اصولوں کے تحت ہم مندروں، گرجا گھروں کی توسیع اور گستاخ رسول کے حوالے سے عدالت کا دروازہ بھی کھٹکٹاتے ہیں اور پھر انصاف میں تاخیر کا بہانہ بنا کر خود اس قانون کی دھجیاں بھی اڑاتے ہیں جس کا دورازہ ہم نے خود کھٹکٹایا ہوتا ہے۔ اسلام کا حکم موجودہ قومی ریاستوں کے اندر بحیثیت شہری کے فتاوی رشیدیہ کے فتوی کی روشنی میں  یہ ہے کہ جس ملک میں آپ رہائش پذیر ہیں اس ملک کے انتظامی قوانین کی پابندی آپ پر لازم ہے، اگر اس سے آپ انکار کرتے ہیں تو شرعاً قانون توڑنے کے مرتکب ہوں گے  اور پھر اس ریاست سے دلائل کی روشنی میں بغاوت کا اعلان کریں، اس کے عدالتوں میں مت جائیں تب کچھ امکان جواز کا پیدا ہو گا مگر اس ملک کے قوانین کی روشنی میں پھر بھی تم مجرم ہو گے۔

اسلام جذبات اور اشتعال کا دین نہیں ہے بلکہ ہم نے اپنی اشتعال انگیزیوں اور اخلاقی انحطاط کو اسلام کا حصہ بنایا ہے۔ اگر آپ پیغمبر خداۖ اور ان کے خلفائ کی تاریخ پڑھ لیں اور ہمارے ممبر و محراب کے پرجوش خطباء ذرہ  قرآن و احادیث  کی روشنی میں اسلام کے سماجی حقوق کے فلسفہ کو اپنی آراء اور تاویلات سے مبرا ہوکے بیان کر دیں تو بہت سے منفی سماجی رویوں کی اصلاح آج بھی ممکن ہے۔ بخاری شریف کی ایک روایت میں جناب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے یہودیوں کے ایک بیت المدراس میں تشریف لے جانے اور ان سے گفتگو کا تذکرہ ملتا ہے جبکہ تاریخی روایات بتاتی ہیں کہ امیر المومنین حضرت عمر بن الخطاب کے دور میں جب بیت المقدس فتح ہوا اور وہ اس کی چابیاں وصول کرنے کے لیے وہ خود وہاں تشریف لے گئے تو دیکھا کہ یہودیوں کی قدیمی عبادت گاہ کو عیسائیوں نے قبضے کے بعد مسمار کر کے وہاں کوڑے کرکٹ کا ڈھیر لگا رکھا تھا جو ان کی یہودیوں سے نفرت کا تیجہ تھا۔ حضرت عمر نے خود اپنے ساتھیوں کے ساتھ مل کر وہاں سے کوڑا کرکٹ اٹھایا اور اسے عبادت کے لیے صاف کیا۔ مگر جب نماز کا وقت آیا اور ساتھیوں نے حضرت عمر سے وہاں نماز ادا کرنے کے لیے کہا تو انہوں نے یہ کہہ کر انکار کر دیا کہ اگر میں نے یہاں نماز پڑھ لی تو تم لوگ اس پر قبضہ کر لو گے جبکہ یہ یہودیوں کی عبادت گاہ ہے۔ چنانچہ ایک اسلامی ریاست میں غیرمسلموں کو حاصل سیاسی اور شہری حقوق میں ان کی عبادت گاہوں کا تحفظ اور احترام بھی شامل ہے جو اسلام کی شاندار تعلیمات اور روایات کا روشن باب ہے۔

عہدِ نبوی میں اہلِ نجران سے ہونے والا معاہدہ مذہبی تحفظ اور آزادی کے ساتھ ساتھ جملہ حقوق کی حفاظت کے تصور کی عملی وضاحت کرتا ہے۔ اِسے امام ابو عبید قاسم بن سلام، امام حمید بن زنجویہ، ابن سعد اور بلاذری سب نے روایت کیا ہے۔ اِس میں حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے یہ تحریری فرمان جاری فرمایا تھا۔ ولِنجران وحاشِیتِہا ذِمة اللہِ وذِمة محمد النبِیِ رسولِ اللہِ، علی دِمائِہِم وانفسِہِم ومِلتِہِم وارضِہِم واموالِہِم ومِلتِہِم ورہبانیتہم واساقِفتِہِم وغائِبِہِم وشاہِدِہِم وغیرِہِم وبعثِہِم وامثِلتِہِم، لا یغیر ما کانوا علیہِ، ولا یغیر حق مِن حقوقِہِم ومثِلتِہِم، لا یفتن سقف مِن اسقفِیتِہِ، ولا راہِب مِن رہبانِیتِہِ، ولا واقف مِن وقافیتہ، علی ما تحت ایدِیہِم مِن قلِیلٍ او کثِیر، ولیس علیہِم رہق۔ اللہ تعالی اور اس کے رسول محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم، اہلِ نجران اور ان کے حلیفوں کے لیے ان کے خون، ان کی جانوں، ان کے مذہب، ان کی زمینوں، ان کے اموال، ان کے راہبوں اور پادریوں، ان کے موجود اور غیرموجود افراد ان کے مویشیوں اور قافلوں اور ان کے استھان (مذہبی ٹھکانے) وغیرہ کے ضامن اور ذمہ دار ہیں، جس دین پر وہ ہیں اس سے ان کو نہ پھیرا جائے گا، ان کے حقوق اور ان کی عبادت گاہوں کے حقوق میں کوئی تبدیلی نہ کی جائے گی نہ کسی پادری کو نہ کسی راہب کو، نہ کسی سردار کو اور نہ کسی عبادت گاہ کے خادم کو خواہ اس کا عہدہ معمولی ہو یا بڑا، اس سے نہیں ہٹایا جائے گا اور ان کو کوئی خوف و خطر نہ ہو گا۔

امام حمید بن زنجویہ نے بیان کیا ہے کہ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے وصال مبارک کے بعد بھی عہد صدیقی میں یہی معاہدہ نافذ العمل رہا، پھر عہد فاروقی اور عہد عثمانی میں حالات کی تبدیلی کے پیش نظر کچھ ترامیم کی گئیں مگر غیر مسلموں کے مذکورہ بالا حقوق کی حفاظت و ذمہ داری کا وہی عمل کامل روح کے ساتھ برقرار رہا۔ اِسی طرح حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فتح خیبر کے موقع پر بھی یہود کے اموال و املاک کے بارے میں اعلان فرمایا، جسے امام احمد، امام ابو داد، امام طبرانی اور دیگر ائمہ حدیث و سِیر نے روایت کیا ہے۔ عن خالِدِ بنِ الولِیدِ، قال: غزونا مع رسولِ اللہِ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم غزوة خیبر، فاسرع الناس فِی حظائِرِ یہود، فامرنِی ان انادِی الصلاة، ثم قال: ایہا الناس اِنکم قد اسرعتم فِی حظائِرِ یہود، الا! لا تحِل اموال المعاہدِین اِلا بِحقِہا۔ حضرت خالد بن ولید رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ وہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ غزوہ خیبر میں موجود تھے، لوگ (مجاہدین) جلدی میں یہود کے بندھے ہوئے جانور بھی لے گئے۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مجھے نماز کے لیے اذان دینے کا حکم فرمایا۔ نماز کے بعد آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا۔ اے لوگو! تم جلدی میں یہود کے بندھے ہوئے جانور بھی لے گئے ہو، خبرادار! سوائے حق کے غیر مسلم شہریوں کے اموال سے لینا حلال نہیں ہے۔

دورِ نبوی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم میں ان معاہدات، دستاویزات اور اعلانات سے اقلیتوں کے حقوق کا درج ذیل خاکہ سامنے آتا ہے۔ اسلامی حکومت کے تحت رہنے والی غیر مسلم رعایا کو مساوی قانونی حقوق حاصل ہوتے ہیں۔ ان کے مذہب سے کسی قسم کا تعرض نہیں کیا جا سکتا۔ ان کے اموال، جان اور عزت و آبرو کی حفاظت مسلمانوں ہی کی طرح اسلامی حکومت کی ذمہ داری ہوتی ہے۔ اسلامی حکومت انہیں انتظامی امور کے عہدے، جس قدر وہ اہلیت و استحقاق رکھیں، تفویض کر سکتی ہے۔ اپنے مذہبی نمائندے اور عہدے دار وہ خود متعین کرنے کے مجاز ہوتے ہیں، ان کی عبادت گاہیں قابلِ احترام ہیں اور انہیں مکمل تحفظ حاصل ہے۔

عہدِ صدیقی میں غیرمسلموں کے تحفظ کی قانونی حیثیت

غیرمسلم شہریوں کے جان و مال کی حفاظت کا یہ اہتمام صرف پیغمبرِ اسلام صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی زندگی تک ہی محدود نہیں رہا بلکہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی حیات ظاہری کے بعد خلفائے راشدین کے دور میں بھی یہ سلسلہ جاری رہا۔ اس کی تفصیل کچھ یوں ہے۔

سیدنا صدیق اکبر رضی اللہ عنہ کے دورِ خلافت میں غیرمسلم شہریوں کو مسلمانوں ہی کی طرح حقوق اور تحفظ حاصل تھا۔ آپ کے دور میں جب اسلامی لشکر روانہ ہوتا تو آپ سپہ سالار کو حسب ذیل احکام اور ہدایات ارشاد فرماتے۔ ولا تفسِدوا فِی الارضِ ولا تعصوا ما تمرون  ولا تغرِقن نخلا ولا تحرِقنہا، ولا تعقِروا بہِیم ولا شجر تثمِر، ولا تہدِموا بِیع، ولا تقتلوا الوِلدان ولا الشیوخ ولا النِسائ، وستجِدون اقواما حبسوا انفسہم فِی الصوامِعِ، فدعوہم، وما حبسوا نفسہم لہ۔ خبردار! زمین میں فساد نہ مچانا اور احکامات کی خلاف ورزی نہ کرنا، کھجور کے درخت نہ کاٹنا اور نہ انہیں جلانا، چوپایوں کو ہلاک نہ کرنا اور نہ پھلدار درختوں کو کاٹنا، کسی عبادت گاہ کو مت گرانا اور نہ ہی بچوں، بوڑھوں اور عورتوں کو قتل کرنا، تمہیں بہت سے ایسے لوگ ملیں گے جنہوں نے گرجا گھروں میں اپنے آپ کو محبوس کر رکھا ہے اور دنیا سے ان کا کوئی تعلق نہیں ہے، انہیں ان کے حال پر چھوڑ دینا۔

حضرت عمر نے شام کے گورنر حضرت ابو عبیدہ کو جو فرمان لکھا اس میں منجملہ دیگر احکام کے ایک یہ بھی درج تھا۔ وامنعِ المسلِمِین مِن ظلمِہِم والاِضرارِ بِہِم واکلِ اموالِہِم اِلا بِحِلِہا۔ (تم بحیثیت گورنر) مسلمانوں کو غیرمسلم شہریوں پر ظلم کرنے اور انہیں ضرر پہنچانے اور ناجائز طریقہ سے ان کے مال کھانے سے سختی کے ساتھ منع کرو۔ حضرت عمر بن الخطاب رضی اللہ عنہ کا یہ معمول تھا کہ جب بھی ان کے پاس اسلامی ریاستوں سے کوئی وفد آتا تو آپ اس وفد سے غیر مسلم شہریوں کے احوال دریافت فرماتے کہ کہیں کسی مسلمان نے انہیں کسی قسم کی کوئی تکلیف تو نہیں پہنچائی؟ اِس پر وہ کہتے: ہم اور کچھ نہیں جانتے مگر یہ کہ ہر مسلمان نے اس عہد و پیمان کو پورا کیا ہے جو ہمارے اور مسلمانوں کے درمیان موجود ہے۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ کو اپنی زندگی کے آخری لمحے تک اقلیتوں کا خیال تھا حالانکہ ایک اقلیتی فرقہ ہی کے فرد نے آپ کو شہید کیا۔ اس کے باوجود آپ رضی اللہ عنہ نے ارشاد فرمایا۔ اوصِی الخلِیفة مِن بعدِی بِذِمةِ اللہِ وذِمةِ رسولِہِ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم: ان یوفی لہم بِعہدِہِم، وان یقاتل مِن ورائِہِم، وان لا یکلفوا فوق طاقتِہِم۔ میں اپنے بعد والے خلیفہ کو اللہ تعالی اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ذمہ میں آنے والے غیرمسلم شہریوں کے بارے میں یہ وصیت کرتا ہوں کہ ان سے کیے ہوئے عہد کو پورا کیا جائے، ان کی حفاظت کے لیے بوقتِ ضرورت لڑا بھی جائے اور ان پر ان کی طاقت سے زیادہ بوجھ نہ ڈالا جائے۔

یہ بھی پڑھیں

باچا خان، ایک سوچ اور تحریک

تحریر:روخان یوسف زئی باچا خان ایک تصوراتی رہبر اور فلسفی نہیں تھے جو اپنے پیچھے …