ٹرک آرٹ سے گھریلو اشیاء کی پینٹنگ تک کا سفر – تحریر: فیاض الدین

پشاور میں ٹرکوں پر اپنے برش سے رنگ بکھیرنے والے سیار خان کو جب کورونا لاک ڈاؤن کی وجہ سے ٹرک نہ ملے تو انہوں نے اپنے فن کا رخ گھر کے سامان کی طرف موڑ دیا اور ان پر ایسے نقش و نگار مرتب کئے کہ اب ان کے گاہک ٹرک مالکان نہیں رہے بلکہ اب ان کے لئے مارکیٹ خاصی وسیع ہوگئی ہے

کرونا کی وباء آئی تو اس نے بہت سوں کی زندگیاں بدل دیں۔ جو کم ہمت والے تھے انہوں نے ہار مان لی لیکن ہار نہ ماننے والوں نے اس کے سامنے ہتھیار ڈالنے سے انکار کر دیا۔ پشاور میں ٹرکوں پر اپنے برش سے رنگ بکھیرنے والے سیار خان کو جب ٹرک نہ ملے تو انہوں نے اپنے فن کا رخ گھر کے سامان کی طرف موڑ دیا اور ان پر ایسے نقش و نگار مرتب کئے کہ اب ان کے گاہک ٹرک مالکان نہیں رہے بلکہ اب ان کے لئے مارکیٹ خاصی وسیع ہوگئی ہے۔


سیار خان کا کہنا ہے کہ کرونا کے بعد چونکہ ہر طبقے کے لوگوں کے لئے معاش کے بند راستوں کی بدولت زندگی گزارنا خاصا مشکل ہو چکا تھا اور میں خود بھی کنگال ہوگیا تھا مگر میں نے ہمت نہیں ہاری اور بند راستوں میں اپنے لئے آخر ایک الگ سا راستہ نکال ہی لیا اور اب میں اپنے دیگر ساتھیوں کے مقابلے میں زیادہ خوش اور مطمئن ہوں۔


پشاور کی ٹرک مارکیٹ میں سیار خان جیسے لوگوں کی تعداد شاید سینکڑوں میں ہے جو ٹرکوں پر نقش و نگار بنا کر گھر کی ہانڈی روٹی چلاتے تھے۔ ایک ایسے وقت میں جب گذشتہ سال دسمبر میں کرونا کی وجہ سے گاڑیوں کی تیاری کے ہر شعبے سے وابستہ ہزاروں لوگ گھر بیٹھنے پر مجبور ہوئے تو روزگار کا یہ سارا سلسلہ ہی ٹھپ ہو گیا اور وہ جو روزانہ ہزاروں اور ماہانہ لاکھوں کماتے تھے وہ سب زیرو پر آ گئے یہاں تک کہ لوگوں کو گھر کا سامان بیچ کر یا قرضے لے کر وقت گذارنا پڑا۔ پشاور میں گاڑیوں کی تیاری کی اس مارکیٹ میں پورے پاکستان سے گاڑیاں تیار کرنے کے لئے لائی جاتی ہیں بلکہ افغانستان کے لوگ بھی یہیں سے اپنی گاڑیوں کی مرمت اور ان کی تزئین وآرائش کرواتے ہیں۔ اس قبائلی معاشرے میں ٹرک ڈرائیور اور مالکان اپنے ٹرک کو اپنی سب سے قیمتی چیز کی طرح بنا کر سنگھار کر رکھتے ہیں اور اسے دوسروں سے بہتر بنانے میں فخر محسوس کرتے ہیں۔ اور یہی وجہ ہے کہ ان ٹرکوں پر نقش ونگار کے کام سے وابستہ سیار خان پر کام کا کافی بوجھ ہوتا تھا لیکن کرونا کے آنے کے بعد ان کا کام ماند پڑگیا۔


سیار خان کہتے ہیں کہ بچپن میں ان کی پڑھنے میں عدم دلچسپی کو دیکھتے ہوئے ان کے چچا انہیں بھی پشتہ خرہ میں اپنے ایک ایسے دوست کے پاس لے آئے جو ٹرک آرٹ کا کام کرتا تھا۔ پشتہ خرہ کے علاقے میں بے تحاشہ ٹرک اڈے ہیں جہاں پر ان ٹرکوں کو بنانے کے پہلے مرحلے سے لے کر آخر تک کا کام کیا جاتا ہے اوران کاموں کو کرنے والوں کی تعداد ہزاروں میں ہے جو پشاور کے مختلف ٹرک و بس اڈوں کے قریب پھیلے ہوئے ہیں۔ سیار خان کو یہ کام کرتے ہوئے تیس سال ہو چکے ہیں اور اب وہ ٹرکوں کو سنگھارنے کے کام میں مزہ لیتے ہیں۔ ان کی زندگی اچھی خاصی چل رہی تھی کہ کرونا کی وباء نے تمام اڈے بند کروادیئے اور ان کے برش گھر میں پڑے پڑے سوکھنے لگے تو انہوں نے ان کا ایک الگ مصرف نکال لیا، انہوں نے گھر کے برتنوں پر نقش ونگار بنانے شروع کر دیئے۔


سیار خان کے مطابق اس وقت تقریباً 700 کے قریب ٹرک آرٹسٹ پشاور کے مختلف اڈوں میں اس پیشہ سے وابستہ ہوں گے کیوں کہ یہ آرٹ بھی شاعری اور صحافت کی طرح حالات اور خیالات کے ساتھ ساتھ بدلتا رہتا ہے۔ انھوں نے کہا کہ ایک وقت تھا جب ٹرک مالک اپنے ٹرک پر فوجیوں کی تصاویر نقش کرتے تھے پھر مقامی گلوکاروں کا ایک دور تھا پھر سیاسی لوگ بے نظیر بھٹو، نواز شریف اور عمران کا زمانہ تھا اور اب مزاحمتی سیاست کرنے والی شخصیات کو لوگ پسند کرتے ہیں۔ انھوں نے کہا کہ ٹرک آرٹ تو پشاور میں خاصا پرانا ہے کیونکہ میرے استاد نے بھی تقریباً ستر سال پہلے ایک آرٹسٹ سے پشاور ہی کے اڈوں میں یہ ہنر یا کام سیکھا تھا۔


بچپن میں جب سکول میں سیار خان کے لئے کوئی دلچسپی نہ رہی تو ان کے چچا انہیں پشاور کے رنگ روڈ پر واقع پشتخرہ کے علاقہ، جہاں پر بے تحاشہ ٹرک اڈے ہیں، اپنے دوست ٹرک آرٹسٹ کے ہاں اس فن کو سیکھنے کے لئے لے آئے اور اب تقریباً تین دہائیوں سے سیار خان کی سب سے زیادہ یاری برش، رنگوں اور فٹ پاتھ پر کھڑے ٹرکوں کے ساتھ رہی ہے۔
ایک سوال کے جواب میں سیار خان نے بتایا کہ گھر کے سامان پر پینٹنگ اس لئے شروع کی کیونکہ میرے پاس اتنے پیسے نہیں تھے کہ باہر سے کچھ نیا لے سکوں اور اس پر اپنی پینٹنگ کر سکوں۔ انہوں نے یہ بھی بتایا کہ ایک تو میرا شوق تھا کیونکہ تین مہینوں سے میں نے کام نہیں کیا تھا اور دوسرا میں نے سوچ لیا کہ کیوں نہ اپنا فن دنیا کو دکھا دوں۔


پاکستان میں وزارت خزانہ نے جون کے مہینے میں ایک رپورٹ میں بتایا تھا کہ کورونا کی وجہ سے پاکستان میں تقریباً تیس لاکھ لوگ بے روزگار ہو چکے ہیں اور یہ اعداد و شمار چوبیس اعشاریہ دو چار سے بڑھ کر تینتیس اعشاریہ پانچ فیصد تک پہنچ سکتے ہیں جو کہ ایک خطرناک صورتحال ہے۔ اسی طرح ایک اور سروے میں بتایا گیا ہے کہ تقریباً 18 فیصد لوگوں کو نوکری سے فارغ کر دیا گیا ہے اور 54 فیصد لوگ جو نوکری کرتے ہیں ان کی تنخواہ یا تو آدھی کر دی گئی ہے اور یا انہیں نوکری سے ہی فارغ کر دیا گیا ہے۔
اسی طرح حکومت نے بھی کورونا پر قابو پانے کے لئے پورے ملک میں لاک ڈاؤن نافذ کر دیا تھا۔ غریبوں کو بھوک سے بچانے کے لئے مرکزی حکومت نے احساس ایمرجنسی پروگرام شروع کیا جس میں غریب لوگوں کو بارہ ہزار مہینہ دیئے جاتے تھے اور پختونخوا کی حکومت نے غریب لوگوں کیلئے راشن کا منصوبہ شروع کیا تھا تا کہ جن لوگوں کا کاروبار کورونا کی وجہ سے بند ہوا تھا وہ اپنے گھر کا چولہا چلا سکیں۔ اسی طرح ورلڈ اکنامک آؤٹ لک دو ہزار بیس کے مطابق پاکستان میں اس وقت چارط سے پانچ فیصد لوگ بغیر نوکری کے زندگی گزار رہے ہیں۔


سیار خان کا کہنا ہے کہ جب میں نے گھر میں، برتن، پنکھوں وغیرہ پر پینٹنگ کر کے ان کی تصاویر سوشل میڈیا پر اپ لوڈ کیں تو بیرون ممالک سے لوگوں نے مجھ سے رابطے شروع کئے، امریکہ سے ایک آرڈر آیا اور جو کام میں نے کورونا کے دوران کیا تھا جس میں گھر کے سارے سامان شامل تھے تو وہ سارے ایک ہی آرڈر میں میں نے بیچ دیئے۔


انہوں نے مزید یہ بھی بتایا کہ کورونا سے پہلے میں ٹرک اڈے پر کام کرتا تھا تو روزانہ کی بنیاد پر مجھے دیہاڑی ملتی تھی اور میں خوش تھا اوراب کورونا کے بعد جب میں نے سوشل میڈیا کے ذریعے اپنی مہارت دکھا دی تو اب میں بہت زیادہ خوش ہوں کیونکہ اس میں ایک تو میرا شوق پورا ہو جاتا ہے اور دوسرا لوگ مجھے اپنی خواہش کے مطابق آرڈرز دیتے ہیں اور میں انتہائی شوق سے کام کرتا ہوں، اس کے ساتھ ساتھ جب میں ٹرک اڈے پر کام کرتا تھا تو ادھر کوئی مجھے یہ نہیں کہتا تھا کہ اسے ایسا کرو بس ھم ٹائم پاس کرتے تھے اور اب میں شوق سے اس لئے کام کرتا ہوں کہ ایک تو کسی گاہک کو ناراض نہیں کرنا چاہتا اور دوسرا یہ کہ میرا شوق بھی پورا ہو رہا ہے۔


اس کے ساتھ ساتھ سیار خان اپنی دکان پر مدرسے کے طالب علموں کو خوشخطی بھی سکھا رہے ہیں اور تقریباً بیس طالب علم اس وقت ان سے خوشخطی سیکھ رہے ہیں۔
ورکرز فیڈریشن خیبر پختونخواہ کے جنرل سیکرٹری شوکت انجم نے بتایا کہ مجھے تو صحیح تعداد معلوم نہیں لیکن اس وقت میں بنوں میں موجود ہوں جہاں ایک کمپنی میں پوری ایک شفٹ کو بند کیا گیا ہے اور اس ایک شفٹ میں تین سو لوگ موجود تھے، اسی طرح تقریباً ہر کمپنی میں یا تو آدھے اور یا پورے کے پورے نوکروں کو فارغ کر دیا گیا ہے، بہت سے لوگوں کے کام بند ہونے کا ہمیں اس لئے بھی علم نہیں کہ وہ اپنی لاعلمی کے باعث ہم تک پہنچ ہی نہیں پا رہے۔


ان مزدوروں کے لئے کوئی جامع پروگرام یا ان کی مدد کرنے کے حوالے سے ایک سوال کے جواب میں شوکت انجم نے کہا کہ ھم نے ابھی تک اس پر کام اس لئے نہیں کیا کہ مزدور تنظیم بہت کمزور ہے اور ہماری کہیں بھی شنوائی نہیں ہوتی، خود ہمارے پاس وسائل بھی کم ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ متاثرہ مزدوروں کی بے روزگاری کی شرح اتنی زیادہ ہے کہ کوئی بھی ان کی مدد نہیں کر پا رہا۔ ہاں البتہ ہم نے عالمی ادارہ محنت سے اپیل کی ہے کہ یہ پوری دنیا کا مسئلہ ہے چنانچہ عالمی ادارہ صحت کو ھم نے بار بار اپیل کی ہے کہ آپ حکومت پر زور دیں کہ وہ صنعت کاروں پر زور ڈالے تاکہ وہ لوگوں کو نوکریاں دیں۔ دوسری طرف شوکت نے بتایا کہ صنعت کاروں کو اس لئے ھم کچھ نہیں کہہ سکتے کہ ان کا کاروبار بھی بند پڑا ہے بھلا وہ دوسروں کو کیسے نوکریاں دے سکتے ہیں۔
انہوں نے مزید یہ بھی کہا کہ ہمارا آئندہ کا لائحہ عمل یہ ہو گا کہ ھم ورکرز ایسوسئیشن کو تنظیمی شکل دے دیں تاکہ مستقبل میں مزدور طبقے کیلئے کچھ کر سکیں، پورے ملک میں ورکرز ایسوسی ایشنز بہت کمزور ہیں کیونکہ زیادہ تر لوگ رجسٹرڈ نہیں ہیں۔

یہ بھی پڑھیں

بیرون ممالک میں پاکستانیوں کو یتیم کیوں سمجھا جاتا ہے؟

تحریر: امان علی شینواری ”ہر ملک اپنے شہری کے لئے وکیل فراہم کر لیتا، کیسز …

%d bloggers like this: