خان شہید، جمہوریت کا استعارہ

تحریر: ولی محمد علیزئی

قیام پاکستان کے بعد آپ نے ورور پشتون، نیپ اور بعد میں پشتونخوا نیپ کے پلیٹ فارم سے ملک میں تاریخی پشتون علاقوں پر مشتمل متحدہ صوبہ ”پشتونستان“ کے قیام، ون یونٹ کے خاتمے، ون مین ون ووٹ، مارشل لا کی مخالفت اور ملک میں جمہوری اقدار کے فروغ کیلئے جدوجہد کی۔ اس جدوجہد کی پاداش میں آپ نے ایوبی مارشل لا کا پورا دورانیہ جیل میں گزارا اور اس مارشل لا کے سب سے آخری رہا ہونے والے سیاسی قیدی تھے

پشتونخوا وطن وہ مردم خیز سرزمین ہے جس نے اپنے وقت کے ہر اس جابر اور استعمار، جس نے اس وطن پر یلغار کی ہے، کے مقابلے کے لئے ایسی ہستیاں جنم دی ہیں جنہوں نے استعماریت اور ظلم و جبر سے وطن و قوم کو نجات دلانے کے لئے لازوال اور ناقابل فراموش جدوجہد کی ہے۔ پشتونخوا وطن کی ایسی ہی عظیم ہستیوں میں سے ایک نام خان شہید عبدالصمد خان اچکزئی کا بھی ہے جو پشتون قوم و دیگر محکوم اقوام کی تاریخ میں آزادی، قومی و انسانی حقوق کے حصول اور عوامی بالادستی کے لئے جہدِ مسلسل اور اس راہ میں جامِ شہادت نوش کرنے کی بدولت نا صرف عامیوں بلکہ خواص میں بھی دراز قامت نظر آتے ہیں۔
خان شہید ایک ہمہ جہت شخصیت کے مالک تھے۔ آپ سیاسی کارکن ہونے کے ساتھ ساتھ ایک سوشل ریفارمسٹ، ادیب، زبان دان، دینی علوم پر دسترس کے حامل اور ایک کہنہ مشق صحافی بھی تھے۔ پشتون بلوچ صوبے کے عظیم دانشور اور آپ کے رفیق سائیں کمال خان شیرانی آپ کی اس ہمہ جہت شخصیت سے پہلی ملاقات میں اتنے متاثر ہوئے کہ زندگی بھر آپ کو ”آئیڈیل خان“ کے نام سے پکارتے تھے۔ ویسے تو آپ کی جدوجہد کا ہر پہلو قابلِ ستائش ہے لیکن زیرِ نظر تحریر میں جمہور کی بالادستی اور جمہوریت کے لئے آپ کی انتھک جدوجہد پر روشنی ڈالی جائے گی۔


خان شہید نے ایک ایسے وقت میں جنم لیا جب انگریز استعمار نے بولان سے لے کر چترال تک کے تاریخی پشتون افغان علاقوں کو بزورِ طاقت اور گندمک اور ڈیورنڈ جیسے جبری نام نہاد معاہدوں کے ذریعے افغانستان سے علیحدہ کر کے ہندوستان میں شامل کر دیا تھا اور یہاں زبردستی اپنی حکومت قائم کر لی تھی۔ بیرونی حکمرانوں نے یہاں بسنے والوں کو اپنے آج اور آنے والی کل کا فیصلہ کرنے کے اختیار سے محروم کر رکھا تھا۔ باقی ہندوستان کے برعکس جہاں لوگ ووٹوں کے ذریعے اپنے نمائندے منتخب کرتے تھے برٹش بلوچستان میں بدنام زمانہ سیاہ قانون ایف سی آر (فرنٹیئر کرائمز ریگولیشن) لاگو تھا۔ فرنگی پولیٹیکل یہاں کا مطلق العنان حکمران ہوتا تھا اور سرکاری جرگے، جس کے اراکین خوشامد، کاسہ لیسی اور ضمیر فروشی کی بنیاد پر منتخب ہوتے تھے، کے ذریعے کارِ سرکار چلایا جاتا تھا جس کے نتیجے میں معاشرتی ارتقاء جمود کا شکار ہو چکا تھا اور لوگوں کی زندگیاں اجیرن بن چکی تھیں۔ مقامی باشندوں کو حق حکمرانی سے محروم رکھنے اور اپنی استعماریت کیلئے جواز تراشنے کے لئے انگریز یہ جھوٹا پروپیگنڈا کرتے تھے جو آج بھی کیا جاتا ہے کہ پشتون جمہوریت چلانے کے قابل نہیں ہیں۔


خان شہید اپنی سوانح عمری ”زما ژوند او ژوندون“ کی پہلی جلد صفحہ نمبر89-183 میں اس پروپیگنڈے کو بے بنیاد قرار دیتے ہوئے اور جمہوریت کی افادیت کے بارے میں اپنے گاؤں کے کاریز چلانے کے نظام کو بیان کرتے ہوئے لکھتے ہیں کہ کاریز کا یہ نظام تقریباً پچھلے سو برسوں سے چلا آ رہا ہے، اس کاریز میں امیر غریب، طاقتور کمزور، مسافر اور یہاں تک کہ یتیم بچے اور بیوہ عورتیں تک شریک ہیں لیکن مجال ہے کہ آج تک کسی ایک کی حق تلفی کی گئی ہو۔ کاریز کے منتظم کا انتخاب ووٹوں کے ذریعے عمل میں لایا جاتا تھا جو پانی کی تقسیم اور کاریز کے چلانے کے فیصلے کرتا تھا اور اس وقت تک اس منصب پر براجمان رہتا تھا جب تک شرکاء کا اس پر اعتماد قائم رہتا تھا۔ سال میں دو مرتبہ کاریز کے شرکاء کا اجلاس منعقد ہوتا تھا جس میں ہر شریک کو فیصلہ سازی میں برابر کا حق حاصل ہوتا تھا۔ ان بیٹھکوں میں کاریز کے پچھلے انتظام سے متعلق منتظم سے سوالات پوچھے جاتے تھے اور مستقبل کے فیصلے متفقہ طور پر کیے جاتے تھے۔ اس انتظام کی بدولت کاریز پر کاشت کی جانے والی فصلوں اور باغات کی حاصلات آس پاس کے کاریزات کے فصلات اور باغات کے حاصلات سے کئی گنا زیادہ ہوتی تھیں۔ آس پاس کے کاریزات کے شرکاء میں اکثر لڑائی جھگڑے چلتے رہتے تھے اور کاریز کے انتظام پر متفق نہ ہونے کی وجہ سے کاریزات اکثر بند پڑے رہتے تھے جس سے حاصلات کم ہوتی تھیں۔


کاریز کا یہ انتظام اس بات کی دلالت کرتا ہے کہ اس بے بنیاد پروپیگنڈے کے برعکس پشتون قوم کتنے بہترین طریقے سے کارِ سرکار کو جمہوری طریقے سے چلا سکتے ہیں اور جب عوام فیصلہ سازی میں شریک ہوں اور حکومتی نمائندے عوام کو جوابدہ ہوں تو حکومتی نظام کتنا زیادہ سود مند ثابت ہوتا ہے۔
جب حکمران بیرونی ہوں یا جمہور کی رائے کے بغیر بزور طاقت اور غیر جمہوری طریقے سے حکمرانی کرتے ہوں تو حکمرانوں اور جمہور کے مابین آقا اور غلام کا رشتہ جنم لیتا ہے۔ اول الذکر آخر الذکر کو جانوروں سے بھی کمتر سمجھتے ہیں اور ہر کام میں رعایا کی فلاح و بہبود کے بجائے مخصوص طبقے کے مفادات کا تحفظ کرتے ہیں۔ نتیجتاً لوگوں کی زندگیاں بد سے بدتر ہوتی جاتی ہیں۔


اس ضمن میں خان شہید اپنی سوانح عمریکی اول جلد کے صفحہ نمبر76-177 پر لکھتے ہیں کہ جب ”جرگے“ پر مضمون لکھنے کے سلسلے میں، میں نے تحقیق اور مطالعہ شروع کیا تاکہ جرگے اور اس کی اہمیت و افادیت اچھی طرح سمجھ سکوں تو مجھ پر ”پشتونوں کے جرگے“ اور ”انگریز سرکاری جرگے“ کا فرق اور انگریز سرکار کے نظامِ حکومت کے نقصانات آشکار ہوئے اور میں اس نتیجے پر پہنچا کہ ہمارے وطن اور پشتون قوم کی تمام بدبختیوں اور مصائب کا سرچشمہ انگریز سرکار ہے، وطن اور قوم کی بدبختی روز بروز اس وقت تک بڑھتی رہے گی جب تک ان بیرونی حکمرانوں سے آزادی حاصل کر کے یہاں کی عوام کی اپنی سرکار وجود میں نہیں آتی ہے، یہی تحقیق اور دیگر عوامل آنے والے وقت میں میرے قومی جدوجہد کا موجب بنے۔


اس وقت چونکہ برٹش بلوچستان میں آزادی یا سیاسی و قومی حقوق کے حصول کے لئے کوئی سیاسی پارٹی وجود نہیں رکھتی تھی تو قوم کو غلامی جیسی لعنت سے نجات دلانے اور یہاں بسنے والے باشندوں کی منشا سے وطن و ملت کی ترقی اور فلاح و بہبود کیلئے کام کرنے والی حکومت کی قیام کے لئے خان شہید نے قومی جدوجہد کا آغاز اپنے گاؤں کی مسجد میں تقریر سے کیا۔ سرکار کی سرزنش کے باوجود اس سلسلے کو بڑھانے کی پاداش میں خان شہید دوسری مرتبہ15 مئی 1930 کو قید کر دیے گئے۔ یاد رہے اس سے پہلے سال 1928 کو افغان مترقی بادشاہ غازی امان اللہ خان کے خلاف انگریز استعمار کے ایماء پر برپا کی گئی بغاوت کو کچلنے کے لئے جنگ میں شرکت سے روکنے کے سلسلے میں آپ کو28 روز قید میں رکھا گیا، قید و بند کا یہ سلسلہ وقتاً فوقتاً آپ کی شہادت تک جاری رہا لیکن تقیسم ہند کے بعد اس میں مزید شدت آ گئی۔
قیام پاکستان کے بعد بہت قلیل عرصہ خان شہید جیل سے باہر رہے اور سب سے لمبا عرصہ زندگی کے آخری چار سال آپ جیل سے باہر آزاد رہے۔ قیام پاکستان کے بعد آپ نے ورور پشتون، نیپ اور بعد میں پشتونخوا نیپ کے پلیٹ فارم سے ملک میں تاریخی پشتون علاقوں پر مشتمل متحدہ صوبہ ”پشتونستان“ کے قیام، ون یونٹ کے خاتمے، ون مین ون ووٹ، مارشل لا کی مخالفت اور ملک میں جمہوری اقدار کے فروغ کیلئے جدوجہد کی۔ اس جدوجہد کی پاداش میں آپ نے ایوبی مارشل لا کا پورا دورانیہ جیل میں گزارا اور اس مارشل لا کے سب سے آخری رہا ہونے والے سیاسی قیدی تھے۔


ون یونٹ کے خاتمے کے وقت اپنے منشور سے انحراف کرتے ہوئے نیپ کے پشتون اور بلوچ رہنماء جنوبی پشتونخوا کے علاقے بلوچستان اور اٹک اور میانوالی پنجاب میں شامل کرنے پر رضامند ہوئے اور خان شہید کا اصولی موقف اور احتجاج نظرانداز کر دیا تو آپ نے اصولی موقف اختیار کرتے ہوئے نیپ سے علیحدگی اختیار کی اور ”پشتونخوا نیپ“ کے نام سے ایک نئی سیاسی پارٹی بنائی۔
نوزائیدہ جمہوریت میں جب سیاسی قوتوں کے درمیان کشمکش بڑھی اور خان شہید کو احساس ہوا کہ اس کشمکش سے غیر جمہوری قوتیں فائدہ اٹھا سکتی ہیں، کیونکہ بد ترین جمہوریت بھی آمریت سے بہتر ہوتی ہے، تو آپ نے جمہوریت کی مضبوطی کے لئے ہزارہا خرابیوں کے باوجود ذوالفقار علی بھٹو کی حکومت کی حمایت کی۔8 دسمبر 1973 کے ”روزنامہ مساوات“ میں جوہر میر کی ایک رپورٹ شائع ہوئی کہ یکم دسمبر کی شام صحافیوں کی خان شہید سے ملاقات ہوئی، خان شہید نے ملک کے سیاسی حالات پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ کچھ عناصر پاکستان میں جمہوریت کے تجربے کو ہمیشہ ہمیشہ کے لئے ناکام بنا دینا چاہتے ہیں، ان حالات میں ضرورت اس امر کی ہے کہ جمہوریت کا تحفظ کیا جائے۔ اس سے اگلے دن 2 دسمبر کو آپ کو شہید کر دیا گیا۔


کبھی کبھار کسی سیاستدان کو اپنی غیر معمولی فہم و فراست کے مطابق ناگزیر حالات میں ایسے غیرمقبول فیصلے لینے پڑتے ہیں جس سے ایک طرف مخالفین کو اس پر کیچڑ اچھالنا کا موقع میسر آتا ہے تو دوسری طرف اس کے اپنے اس فیصلے کو سمجھنے سے قاصر ہوتے ہیں جو آنے والے وقتوں میں پھر سمجھ پاتے ہیں۔ اگر آج اس وقت کے حالات اور اس کے بعد بننے والے سیاسی حالات کا مخلصانہ جائزہ لیا جائے تو یقیناً خان شہید کے اس غیر مقبول فیصلے کو درست مانا جائے گا۔
خان شہید کے یہ خدشات اس وقت حقیقت ثابت ہوئے جب آپ کی شہادت کے چار برس بعد 1977 کو جنرل ضیاالحق نے ملک میں جمہوری نظام کا تختہ الٹ کر مارشل لا لگا دیا اور تمام سیاسی سرگرمیوں پر پابندی لگا دی۔


خان شہید کی شہادت کے سینتالیس برس بعد آج بھی ملک میں ایک مضبوط جمہوریت کا خواب شرمندہِ تعبیر نہ ہو سکا لیکن خوش آئند امر یہ ہے کہ ملک کی وہ تمام بڑی سیاسی قوتیں جو کبھی نہ کبھی اور کسی نہ کسی صورت میں غیر جمہوری قوتوں کی دستِ راست رہیں، آج پاکستان ڈیموکریٹک موومنٹ کے پلیٹ فارم پر یکجا ہو کر جمہوریت کی بحالی و تحفظ کے لئے جدوجہد کر رہی ہیں، سیاسی جماعتوں کا موجودہ جمہوری بیانیہ خان شہید کی جمہوری جدوجہد کی مرہون منت ہے اور آپ کی حقانیت اور راہ راست پر ہونے پر مہر تصدیق ثبت کر رہا ہے۔

یہ بھی پڑھیں

باچا خان اور موجودہ ملکی، علاقائی اور بین الاقوامی فضاء

تحریر:شمیم شاہد فخرِ افغان، بابائے امن نے جن جن واقعات اور حالات کے پیدا ہونے …